ماہِ رمضان کی برکتیں

ڈاکٹر محمد بن عدنان السمّان(ایگزیٹو منیجر  آف سنت نبوی اوراس کے علوم کی ویب سائٹ)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ   کاہم پر یہ کرم واعزازہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک  جیسے عظیم مہینہ اور موسم پُر بہار تک پہنچایا،چنانچہ ہم رب کی عطیات ا وربے شمار نعمتوں  کے درمیان گھوم پھر رہے ہیں، حدیث قدسی میں رسولﷺ اللہ عزوجل سے روایت کرتے ہیں   کہ:    كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ) متفق عليه

ابن آدم کے ہرعمل کا بدلہ اس کے لئے ہے مگرروزہ یہ میرے لئے خاص ہے،اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اورروزہ (گناہوں سے بچنے کا) ڈھال ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو فسق وفجور اور شوروشرابہ سے دوررہے، پس اگراسے کوئی گالی دے یا قتال کرے تواس سے کہہ دے میں روزہ سے ہوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے،بےشک روزہ دار کے منھ کی بو اللہ عزوجل کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے، اور روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں: ایک خوشی تو اسے روزہ کے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی بروز قیامت رب سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی(متفق علیہ)

رمضان کا مہینہ مبارک مہینہ ہے،اور اس کا مصداق رسول ﷺ کا وہ فرمان ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ:(أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ ، وَتُغَلُّ فِيهِ مِرَدَةُ الشَّيَاطِينِ ، لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ )

 ’’تم پر ماہ رمضان سایہ فگن ہے، جو مبارک ماہ ہے جس کے روزے کو اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض قراردیئے ہیں،اس ماہ کے اندر آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، اوراس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں، اسکے اندر اللہ رب العالمین کی طرف سے ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے،جو شخص اس رات کی بھلائی سے محروم ہوگیا وہ حقیقی معنوں میں خیر سے محروم ہوا‘‘۔

نبیﷺ کا فرمان ’’تم پرماہ رمضان سایہ فگن ہے،اور یہ مبارک ماہ ہے‘‘ تواس میں اس بات  کا ثبوت  ہے کہ ماہ رمضان  کی فیوض وبرکات بہت زیادہ  ہیں، زیر نظرمقالہ میں  انہی چند فیوض وبرکات کا تذکرہ کیا جارہا ہے:

ماہِ رمضان المبارک کی  فیوض وبرکات:

ماہِ رمضان کی سب سے پہلی برکت یہ ہے کہ اسے اللہ عزوجل نے  خاص کیا ہے اور مہینوں کے درمیان بلند مقام سے نواز ا ہے وہ اس طور کہ اس کے روزے کو فرض  کیا ہے۔جیساکہ فرمان باری تعالی: ( شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْه) [ البقرة / 185]

’’ ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے وا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے۔‘‘

بلکہ ماہ رمضان کا روزہ رکھنا ارکان اسلام کا چوتھا رکن ہے،جیساکہ صحیحین میؓں عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ( بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله ، وأن محمدا عبد الله ورسوله ، وإقام الصلاة ، وإيتاء الزكاة ، وصوم رمضان ، وحج البيت )

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۱۔ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۲۔ نماز قائم کرنا  ۳ ۔ زکاۃ دینا  ۴۔ رمضان کے روزے رکھنا۵۔ بیت اللہ کا حج کرنا۔

بلکہ  ہمارے  نبیﷺ نے  ایمان واحتساب (ثواب کی نیت ) سے روزہ رکھنے والے کو گناہوں کی بخشش ومغفرت کا مژدہ سنایا ہے۔چنانچہ ارشاد رسولﷺ ہے:  ( من صام رمضان إيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ) متفق عليه

’’جوشخص ایمان واحتساب کی غرض سے روزہ رکھا تو اس کےپچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔‘‘ (اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے  ہیں کہ (ایمان سے مراد): اس روزے کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا ہے، اور (احتساب سے مراد) : اللہ تعالیٰ سے ثواب طلب کرنا۔ چنانچہ مومن  رمضان کا روزہ رکھتا ہے اور ا س پر اللہ عزوجل  سے ثواب کی امید رکھتا ہے اوراس بات کو یقینی طور سے جانتا ہے کہ روزہ کا فرض کرنے والا اللہ عزوجل ہے۔

ماہِ رمضان کی برکتوں میں سے ہے کہ اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، چنانچہ صحیح مسلم کے اندر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولﷺ کا ارشاد ہے: ( إذا جاء رمضان فُتّحت أبواب الجنة وغُلّقت أبواب النار ، وصُفّدت الشياطين )

’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ،اور شیاطین قید کردئیے جاتے ہیں۔‘‘

اور نبیﷺ کا فرمان:( إذا جاء رمضان فُتّحت أبواب الجنة وغُلّقت أبواب النار)

’’جب  رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں‘‘۔

توجنت کے دروازے    عمل کرنے والے مومنین کو نشاط دلانے کے لئے کھول دئیےجاتے ہیں تاکہ ان کے داخلے میں آسانی ہوسکے،اور اہل ایمان کو معاصی سے باز رکھنے کے لئے جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں تاکہ وہ ان دروازوں سے داخل نہ ہوں۔

اور اس عظیم ماہ کی برکات میں سے ہے کہ ’’اس کے اندر شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے‘‘، شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کلمہ (وصفدت الشیاطین) : ’’شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں‘‘ سے مراد: سرکش شیاطین ہیں ،جیسا کہ دوسری روایت میں (مردۃ)  کا لفظ آیا ہوا ہے یعنی: جوشیطانوں میں سب سے بڑے دشمنی رکھنے والے ہیں،اور بنی آدم کے ساتھ سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے ہیں۔

اور تصفید کے معنی غل ’’بیڑی‘‘ کے ہیں  ،یعنی ان کے ہاتھ باندھ وجکڑ دئیے جاتے ہیں تاکہ اس طرح کی سرکشی نہ کرسکیں جو غیر رمضان میں کرتے تھے، اور یہ ساری باتیں جس کی نبیﷺ نے خبر دی ہے حق ہیں اسے امّت کو بطورخیرخواہی کے بتلایا ہے ،اورا نہیں بھلائی پر ابھار نے اور برائی سے ڈرانے کیلئے کیا ہے۔

ماہ رمضان کی برکات میں سے ہمارے نبی محمد ﷺ پر قرآن کریم کا نازل ہونا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:( شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ) [ البقرة / 185]

’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جولوگوں کے لئے ہدایت کا سبب ہے اور اس میں ہدایت اور حق وباطل کے درمیان تمییز کی واضح نشانیاں ہیں۔‘‘

چنانچہ قرآن کریم  اور ماہ صیام کے درمیان ایک گہرا  ومضبوط ربط پایاجاتا ہے ،یہ ایسا تعلق ہے جسے ہرمسلمان شخص اپنے  نہاں خانے دل میں اس ماہ کے روزاول سے محسوس کرتا ہے۔

اوراس لئے کہ یہ ماہ قرآن ہے، چنانچہ جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور رمضان کی ہررات میں  قرآن کا دور کرتے  تھے جیسا کہ صحیحین میں ہے ۔آپ ﷺ ہرسال قرآن کا ایک بار دور فرماتے تھے،لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی  تو جبرئیل علیہ السلام پر دوبار قرآن کو پیش کیا۔

لہذا ہر مسلمان کو تلاوت  وحفظ ،تدبرا ورفہم  کے ذریعے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہونا چاہئیے  ،ہرآیت کے پاس رکے،اور اس میں جو نصیحتیں پوشیدہ ہیں ان سے عبرت حاصل کرے،اور اس کے اخلاق کو بجالائے اور اس کے احکام کو لازم پکڑے۔

ماہِ رمضان المبارک کی برکات میں سے وہ چیز بھی ہے جو صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے  مروی ہے کہ: (كان رسول الله صلى الله عليهم وسلم أجود الناس وكان أجود ما يكون في رمضان )

رسول اکرملوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت وفیاضی کرنے والے تھے،اورآپ ﷺ کی سخاوت رمضان میں زیادہ بڑھ جاتی تھی‘‘۔

چنانچہ ماہ رمضان کی برکت میں سے یہ ہے کہ یہ جود وسخاوت  کا ماہ ہے، اور ہمارے نبیﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے،اورآپ ﷺ کی سخاوت رمضان میں سب سے بڑھ کرہوتی تھی، چنانچہ آپﷺ کریم  ودینے والےتھے، آپﷺاپنے فعل وقول سے مال وعطا کے ذریعہ سخاوت کرتےتھے،اورآپﷺ اتنا کچھ دیتے کہ جس سے فقر کا اندیشہ نہیں رہتا‘‘۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ( من ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللّهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافاً كَثِيرَةً) { البقرة / 245 }.

ترجمہ:’’ ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے‘‘۔

یہاں تک کہ آپﷺ نے (جودوسخا کے) اس مفہوم کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں عملی طور پر راسخ کردیا تھا،آپ ﷺ نے ان سے ایک بار پوچھا کہ انسان کے نزدیک محبوب ترین مال کون سا ہے،ایا  اس کی اپنی کمائی کا مال ہے یا جو اسے ورثہ میں ملا ہے، پھر خود ہی آپﷺ نے ان کے لیے یہ وضاحت فرمائی کہ انسا ن کے لیے وہی ہے جو وہ خرچ کرے اور جسے وہ اپنی آخرت کے لیے پیش کرے یا آگے بڑھائے۔

اورآپ ﷺ نے اپنے قول کے ذریعہ بھی اس مفہوم کو بہت ساری حدیثوں میں بٹھایا ہے،انہی میں سے آپﷺ کا فرمان ہے: ( ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان , فيقول أحدهما اللهم أعط منفقاً خلفاً,ويقول الآخر: اللهم أعط ممسكاً تلفا) متفق عليه

’’ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روکنے والے اوربخیل کے مال کو تلف کر دے۔‘‘

ماہ رمضان المبارک کے برکات میں سے   وہ بھی ہے جس کی حبیب مصطفیٰﷺ نے اپنے قول سے صراحت کی ہے: ( تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً )

’’لوگو سحری کھایا کرو ،کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔‘‘ اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔

سحری کی برکت  میں سے یہ ہے کہ اس سے عبادت میں تقویت حاصل ہوتی ہے، اور دن میں اطاعت الہی پر مدد ملتی ہے، سحری کی برکت میں سے سنت یہ ہے کہ اسے رات کے آخری حصہ میں کیا جائے، اوریہ وقت   نزول الہی  کا وقت ہے، جس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ( من يدعوني فأستجيب له من يسألني فأعطيه من يستغفرني فأغفر له ) .’’ مجھے کون بلاتا ہے کہ میں اسے جواب دوں، مجھ سے کون مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں، مجھ سے کون مغفرت طلب کرتا ہے  کہ میں اس کی مغفرت کروں؟

مختصر یہ کہ یہ ماہ جیسا کہ نبیﷺ نے صراحت کیا ہے کہ ماہ مبارک ہے،اس کے دن ورات مبارک ہیں، اور اس میں سب سے افضل ایام ودن آخری عشرہ  ہے، اوران راتوں میں سب سے برکت والی وہ رات ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا، اوروہ ایسی رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار رات سے بہتر ہے، اور وہ شبِ قدر ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ( إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ . لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ . تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ . سَلامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) [ القدر / 1_5 ] .

’’ یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا،تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے،اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں،یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)‘‘۔

اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ( إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ) [ الدخان : 3]

’’ یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری عمروں اور اعمال میں برکت عطا فرمائے، اورہمیں اہل تقویٰ  اورمغفرت والوں میں سے بنائے ۔آمین

 

 

 

 

التعليقات  

#1 الهندمحمد ١٢ رمضان ١٤٣٨هـ
ماشاء الله،نفع الله بكم
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث