فضیلۃ الشیخ فالح الصغیر - حفظہ اللہ- کا میگزین’’الریاض‘‘کے ساتھ زکاۃ الفطر کے سلسلے میں ایک انٹرویو

ہرقسم کی تعریفات صرف اللہ کے لیے ہیں،اوردرود وسلام ہو ہمارے نبی محمد،آپ کے خاندان،اورآپ کے تمام اصحاب پر۔

محترم پروفیسر فالح الصغیر                                                                       حفظہ اللہ

السلام علیم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حمدو صلاۃ کے بعد:

سوال: چند دنوں کے بعد ہمارے دین حنیف کی ایک اہم شعائر آنے والی ہے اور وہ  زکاۃ الفطر(صدقۂ فطر) ہے، اوراس شعار کے تعلق سے افراد مجتمع  کی طرف سے متعدد سوالات کیے جاتے ہیں، اسی طرح اس شعار کے تعلق سے بعض افراد مجتمع  کی طرف سے ایسے افعال  سرزد ہوتے ہیں  جن میں سے بعض صحیح  منہج کے مخالف ہوتے ہیں۔ بنا برین  افراد مجتمع کے لیے اس شعار کے حکم کی وضاحت کی خاطر آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات کی امید کرتے ہیں:

سوال:  زکاۃ فطر  کا کیا  حکم ہے؟ زکاۃِ فطر کا وقت کیا ہے؟ زکاۃ فطر کس کی طرف سے واجب ہے؟

جواب:زکاۃ ِ فطر تمام عمر کے ہر مسلمان مردوعورت، چھوٹے بڑے،آزاد وغلام  پر فرض ہے۔ابن عمررضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث کی وجہ سے:’’ فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر من رمضان صاعاً من تمر، أو صاعاً من شعير ؛ على العبد والحر ، والذكر والأنثى ، والصغير والكبير من المسلمين، و أمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة "

اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔

اوریہ ماں کے پیٹ میں  جنین کی طرف سے واجب نہیں ہے۔

زکاۃ فطر کے وجوب اور اس کے  ادائیگی کا وقت:  ماہ رمضان کے آخری دن سورج کے غروب کے وقت سے واجب ہوتا ہے۔اور اس کے ادائیگی کا وقت صلاۃ(نمازِ) عید سے پہلے ہے، البتہ عید سے ایک یا دو دن پہلے نکالنا جائز ہے۔اور نماز عید سے اس کو موخر کرنا جائز نہیں  کیونکہ اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔

سوال: تمام مسلمانوں کے لیے محدود وقت  کے ساتھ زکاۃ فطر کی تقیید کی کیا حکمت ہے، اورمثال کے طور پرتاریخ میلاد سے اس کو  کیوں نہیں مرتبط  کیا گیا؟جیسا کہ مال کی زکاۃ سال سے مرتبط ہے؟

جواب:اس کی حکمتوں میں سے یہ ہے کہ زکاۃ ِ فطر ایک عظیم عبادت  صیام  رمضان کے ختم ہونے پر آتی ہے اور یہ اس کے اجر کی تکمیل کرنے والی ہوتی ہے اوراس ماہ میں جو(روزے کی حالت میں) کمی وغلطی واقع ہوئی ہے اس کا  کفارہ  بنتی ہے۔ اسی طرح اس    توقیت میں عید سے پہلے فقراء اورمحتاجین کے لیے وسعت پائی جاتی ہے، تاکہ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ عید  منا سکیں۔اور جیسا کہ اثر میں آیا ہے’’کہ یہ(صدقہ ٔ فطر) روزے دارکو لغو وبیہودگی سے پاک کرتی ہے‘‘۔

سوال: اگر مسلمان زکاۃ ِ فطر کو اس کے مقرر کردہ وقت سے نہ نکالے تو کیا اس پر یا جس کی وہ کفالت کررہا ہے کوئی کفارہ ہے؟

جواب: ۔جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے ۔ کہ زکاۃِ فطر کی ادائیگی کا وقت نماز عید کے شروع ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے، اور جو اس کے بعد ادا کرتا ہے وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ شمار ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث کی وجہ سے جس میں  رسولﷺ کا فرمان ہے: "فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات"

’’جس نے اسے نماز سے پہلے نکالا تو یہ مقبول زکاۃ ہے، اور جس نے اسے بعد میں نکالا تو صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔‘‘اسے ابوداود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

اورجو جان بوجھ کر ایسا کرے گا  تو وہ گنہگار ہوگا، اس پر توبہ واستغفار واجب ہوگا، اوراسے  کفارہ بھی  دیناہوگا۔ اور جو بھول کر  ایسا کرے گا اس پر نہ تو  گناہ ہوگا اور نہ ہی کوئی کفار ہ ہوگا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو کسی سبب کی بنا پر عید سے پہلے نہیں نکال سکا  تو اب وہ مطلق طور پر نہیں نکالے گا،بلکہ اس کو اسے نکالنا ہوگا۔

سوال: بعض لوگ زکاۃ فطر ایسے لوگوں کو دیتے ہیں جو زکاۃ فطر  کی فروخت کرنے کی جگہوں کے پاس موجود ہوتے ہیں حالانکہ ان کی حقیقت حال کا  انہیں پتہ نہیں ہوتا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب:مسلمان کو چاہیے کہ اس عظیم عباد ت کا اہتمام کرے، اوراسے اس کے حقدار کو دے،اور اس کی تاکید کرلے تاکہ  یہ زکاۃ اس کے مستحقین تک پہنچے،اور یہ صرف واجب سے نجات پانے کی بات نہیں ہے۔اور۔الحمد اللہ۔ اس ملک میں جمعیات پائی جاتی ہیں جو اس کے تقسیم کی نگرانی کرتی ہیں، اوریہ دینے والے کی طرف  سے وکیل ہوتی ہیں۔

اورجہاں تک زکاۃِ فطر کے پاس موجود لوگوں کو اسے دینے کی بات ہے  تو یہ ذمہ داری سے براءت نہیں کرنے والی ہے۔اوردوسری جانب یہ اس عبادت کے عدم اہتمام پر دلالت کرتی ہے۔اور عبادتوں کے ساتھ تعامل کرنے میں  ایسا کرنا درست نہیں ہے۔

سوال:بعض لوگ اپنے آپ کو محتاج ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس صدقہ کو سستے داموں میں فروخت کردیتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: یہ سابقہ سوال کے تابع ہے، پس جب زکاۃ دینے والا  زکاۃ  کے حقدار کی تاکید کرلے اور زکاۃ کو اسے دیدے تو اس کو اس میں تصرف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہ زکاتیں اس کی ملکیت میں ہوگئیں،اور اس کو اس میں بیع وغیرہ کے ذریعہ تصرف کرنے کا پوراحق حاصل ہے۔

سوال: تاجر شخص کا اس زکاۃ کو خریدنا کیسا ہے حالانکہ اسے علم ہے کہ یہ  تھوڑی دیر پہلے صدقہ کردہ ہے؟

جواب:جیساکہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ زکاۃ دینے والے کو چاہیے کہ  اپنے زکاہ کی تاکید کرلے اور اسکو  اس کی جگہ میں ہی رکھے۔لیکن  جب یہ صورت حال ہوجائے جیسا کہ آپ نے سوال میں بیان کیا ہے تو ایسی صورت میں یہ ہدایت ضروری ہے کہ زکاۃ فطر بائع اور فقیر کے درمیان حیلہ کا سبب نہ بن جائے، اورایسی صورت میں یہ زکاۃ اپنے   رول کو ادا کرنے والی نہیں ہوگی  اور نہ ہی اس کی حکمت  ظاہر ہوگی۔

سوال: بعض محتاج خاندانوں کے پاس پیش کردہ زکاۃ فطر کی مقدار ان کی ضرورت سے زیادہ ہوجاتی ہے، تو کیا ان کے لیے اسے بیچنا جائز ہے؟

جواب:جس کو صدقہ دیا گیا ہے اس کے لیے زکاۃ فطر کا بیچنا جائز ہے، کیونکہ وہ اس  کے قبضہ میں ہوگئی اور وہ اس کا مالک ہوگیا، اس کے لیے اس میں تصرف کا پورا حق  حاصل ہے، پس جب وہ اس کا مالک ہوگیا تو اب چاہے اسے کھائے،یا صدقہ کرے یا بیچ دے اسکے لیے سب جائز ہے کیونکہ وہ اس کا مالک ہے۔

سوال :جب فقیر اس حد کو پہنچ جائے جس میں زکاۃ کی حاجت ہو تو کیا اس پرلازم ہے کہ وہ  اس پیش کردہ  زکاۃ کو زکاۃ دینے والے کے پاس لوٹادے یا اسے لے لے جبکہ  وہ اس کے سال بھر کی ضرورت سے زیادہ ہو؟

جواب: مجھے جو لگتا ہے ۔واللہ اعلم۔ کہ فقیر کو اپنی ضرورت بھر لینا چاہیے، لیکن اس حاجت کی تحدید میں اختلاف ہے کہ آیا یہ سال بھر  کی ضرورت ہے یا ماہ کی ؟ اور اس سلسلہ میں تحدید کرنا بہت مشکل امر ہے، لیکن اہم یہ کہ  اس زکاۃ کو زیادتی  مال اور تجارت کا  میدان نہ بنائے، کیونکہ یہ زکاۃ وصدقہ ہے۔

سوال: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زکاۃ فطر ان مسلمانوں  کو تقویت پہنچانا ہے جو جنگ کے بحران کا شکارہیں، اورمناسب ہے کہ نقدی شکل میں دی جائے تاکہ ہتیار جیسی ضروریات  کے خریدنے میں آسانی ہو؟ تو کیا زکاۃ فطر کو نقد کی شکل میں دینا جائز ہے؟

جواب:شاید سوال کا صیغہ اصل مسئلہ کی طرف  لوٹتا ہے وہ یہ کہ کیا  زکاۃ فطر کا غلہ کے بدلے نقدی شکل میں دینا جائز ہے کہ نہیں قطع نظر اس کے کہ اس سے کوئی  چیز خریدنا مقصود ہو۔

تو اس مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، جمہور علماء مالکیہ،شافعیہ،حنابلہ   نقدی شکل میں نکالنے کو جائز نہیں قرار دیتے ابن  عمرر ضی اللہ عنہما کے اس فرمان کی وجہ سے: "فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعاً من تمر أو صاعاً من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة".

اوراہل مدینہ اسوقت درہم ودینار سے معاملہ دار ی کرتے تھے،پس اگر نقد دینا جائز ہوتا تو اس سلسلے میں کوئی نص ضرور موجود ہوتا، اور کسی بھی صحابی سے نقدی شکل میں نکالنا ثابت نہیں ہے۔اور یہی ہمارے ہاں(سعودی عرب میں) فتوی ہے۔

جبکہ احناف  نقدی شکل میں نکالنے کو کوئی حرج نہیں سمجھتے جب  کہ وہ فقراء کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو،اس لیے اصل یہی ہے کہ اسے غلہ کی شکل میں نکالا جائے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ لیکن ہر ملک کے علماء  کی نظر  اس چیز پر ہوتی ہے جو نفع مند ہو۔

سوال:بہت سارے لوگ زکاۃ فطر کے ضرورت مندوں کو نہیں جان پاتے اس لیے اسے خیراتی تنظیموں  اور نوجوانوں کی اسلامی عالمی تنظیم(ندوہ عالمیہ) وغیرہ جہات میں جمع کر دیتے ہیں، اور اسے  اندرون اور بیرون ملک  بھیجنے کا  پورا اختیار ہوتا  ہے؟ تو اسے  مملکت کے باہر میں تقسیم کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب:زکاۃ فطر کا معتمد جمعیات کو سونپنا جائز ہے، اور اصل یہ ہے کہ اسے روزہ دار کے ملک میں ہی نکالا جائے،اور اگر مسافر ہو تو اس کے لیے اپنے اصل ملک جہاں وہ مقیم ہے نکالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔نبی ﷺ کے اس فرمان کیو جہ سے جس میں معاذ رضی اللہ عنہ کو فرماتا تھا: ( فأخبرهم أن عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد في فقرائهم )

’’آپ انہیں باخبر کردیں  کہ ان پر صدقہ دینا  واجب ہے جسے مالداروں سے لیا جائے گا اور وہاں کے فقراء کے مابین تقسیم کردیا جائے گا۔‘‘لیکن اگراس  ملک میں اس صدقہ کی ضرورت نہ ہو  بلکہ دوسرے ملک میں اس کی ضرورت شدید ہو ،یا اس کے قریبی رشتے دار ہوں،تو ایسی صورت میں اس صدقہ کو منتقل کرنا درست ہے۔اوراسی کو محقیقین اہل علم نے ثابت کیا ہے۔

سوال:کیا اس  تعلق سے کچھ اور پوائنٹ ہیں جن کے بارے میں آپ گفتگوکرنا چاہتے ہیں اور ہما ری  اس تک رسائی نہیں ہوئی ہے۔

جواب: ۱۔ اس  انٹرویوکے لیے موقع دینے پرآپ کا شکریہ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام لوگوں کے صیام وقیام اور دیگر اعمالِ صالحہ کو قبول کرے۔آمین

۲۔آخر میں ہم اس بات کی طرف  اشارہ کریں گے کہ اس بات کو محسوس کیا جائے کہ صدقہ فطر ایک عظیم عبادت ہےجس کے ذریعہ ماہ رمضان میں روزہ دارسے سرزد ہونے والے گناہوں کی تلافی ہوجاتی ہے، ا س کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں اور اسے آلودگیوں کی آمیزش سے پاک کردیا جاتا  ہے۔لہذا  اس عبادت  کا احساس کرنا  رب تعالیٰ کے یہاں اس کے قبولیت کے اہم اسباب میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اس بات کی توفیق دے جس سے وہ راضی اور خوش ہو۔         

آپ کے برابر تعاون کا شکریہ،میری طرف سے پاکیزہ اور احترام سے بھر پور سلام  قبول فرمائیں۔

 

 

التعليقات  

#1 دلهي،الهندمحمد ١٢ رمضان ١٤٣٨هـ
نفع الله بكم، وتقبل الله جهودكم،آمين
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث