ماہِ  رمضان کی آمد

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد المرسلين وعلى آله وصحبه أجمعين وبعد:

ہر قسم کی تعریف صر ف اللہ  رب العالمین کے لئے ہے،اور درود وسلام ہو رسولوں کے سردار ،آپ کےخاندان  اور تمام اصحاب پر۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

پیارے مسلمان بھائیو!

اللہ عزّوجل کا تقویٰ اختیار کرو،اور اس بات کو جان لو کہ اس  دنیا کی زندگی میں  جو تم عمر گزار رہے ہو یہ انسان کی سب سے نفیس اورعمدہ چیز ہےجس کی  کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ، اور اس بات کو یاد رکھو کہ ہر کھوئی چیز دوبارہ مل سکتی ہے لیکن عمر  اگر ضائع وبرباد ہوجائے تو اس کے پلٹنے کی امید ختم ہوجاتی ہے، اسی لئے  مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس  عمر کی حفاظت کرے اور اس کو دنیا وآخرت کے فائدہ مند چیزوں میں ہی لگائے، اور لہو وغفلت سے اسے محفوظ رکھے، اور اس میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہ کرے۔

اور یہ عمر جسے ہم گزاررہے ہیں یہ ایک کھیتی ہے جس کا ثمرہ وپھل ہم آخرت میں چننے والے ہیں، لہذا جس نے بھلائی وعمل صالح سے کھیتی کیا  تو وہ سعادت وفلاح کو چنے گا، اور اس کا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنہیں آخرت میں پکارا جائے گا: (كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئاً بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ )[الحاقة:24]

’’ جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو‘‘۔[سورہ حاقہ:۲۴]

اور جیسا کہ وارد ہوا ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کی عمریں دیگر امتوں کے مقابلے میں کم  ہیں،چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: (أعمار أمتي ما بين الستين والسبعين، وأقلهم من يجوز ذلك). رواه الحاكم وصححه ووافقه الذهبي. ورواه الترمذي وابن ماجه.

’’میری امت کے لوگوں کی عمریں (عموما)ساٹھ اور ستّر سال کے درمیان ہوتی ہیں ،اور بہت کم لوگ ہیں جن کی عمریں اس سے تجاوز کرتی ہیں‘‘۔(اسے حاکم نے روایت کرکے صحیح قراردیا ہے، اور امام ذھبی رحمہ اللہ نے اس پر موافقت کی ہے، اورترمذی اورابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے)

حدیث کا مطلب : غالبا اس امت کے لوگوں کی عمریں ساٹھ اور ستّر کے درمیان ہوتی ہیں،اوران میں سے بعض لوگ اس سے زیادہ پاتے ہیں اور وہ بہت کم لوگ ہیں۔

اور موطا کے اندر امام مالک رحمہ اللہ سے مرسل  سند سے آیا ہے کہ: "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أُري أعمار الناس قبله أو ما شاء الله ذلك فكأنه تقاصر أعمار أمته ألا يبلغوا من العمل مثل الذي بلغ غيرهم في طول العمر فأعطاه الله ليلة القدر خيراً من ألف شهر"

’’رسولﷺ کو اپنے سے پہلے لوگوں کی عمریں دکھائی گئیں،یا جتنا اللہ نے چاہا، توآپﷺ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمرکو کم سمجھا،کیونکہ طول عمر کی وجہ سے اس امت کے لوگ ان کے عمل کو نہیں پہنچ سکتے تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو لیلۃ القدر عطا فرمائی جو ہزار رات (کی عبادت) سے بہترہے‘‘۔

اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی حکمت ومہربانی اور رحمت سے ہمیں  ایسے مواسم عطا فرمائے جن میں نیکیاں دگنی ہوجاتی ہیں اور اعمال میں برکت ہوتی ہیں، اورہمیں ثواب میں بڑھوتری کے مواقع عطافرمائے،اور انہی میں سے ماہ رمضان ہے ،مبارک مہینہ جو عظیم فضائل اور بہت سی خوبیوں کا حامل ہے، بلکہ وہ تما م مہینوں کا سردار ہے،جیسے کی سورج کو ستاروں کے درمیان مقام ورتبہ حاصل ہے، اس ماہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بہتر کتاب  قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: {شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن هدىً للناس وبينات من الهدى والفرقان} (البقرة:185)

’’ ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے وا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ‘‘۔[سورہ بقرہ:۱۸۵]

اور واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: (أنزلت صحف إبراهيم عليه السلام في أول ليلة من رمضان، وأنزلت التوراة لست مضين من رمضان، والإنجيل لثلاث عشرة خلت من رمضان، وأنزل الفرقان لأربع وعشرين خلت من رمضان) رواه أحمد.

’’ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات نازل کئے گئے،اورتورات چھ رمضان کو نازل ہوا، اور انجیل۱۳  ویں رمضان کو نازل ہوا،اور فرقان (قرآن) ۲۴رمضان کو نازل  ہوا‘‘[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے]

اور یہ ایسا   مہینہ ہے جس کے اندر اللہ رب العالمین نے صوم کو فرض قراردیا  ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: { يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون} (البقرة:183).

’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔[سورہ بقرہ:۱۸۳]

لہذا مسلمان کو ان لمحات کو غنیمت جاننا چاہئے اور اپنی عمر ان چیزوں میں استعمال کرنا چاہئے جس میں دین ودنیا کی بھلائی ہو۔

  ماہ رمضان المبارک کے فضائل:

امام احمد رحمہ اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بےشک  رسول ﷺ نے فرمایا:

«أُعْطِيَتْ أمَّتِي خمسَ خِصَال في رمضانَ لم تُعْطهُنَّ أمَّةٌ من الأمَم قَبْلَها؛ خُلُوف فِم الصائِم أطيبُ عند الله من ريح المسْك، وتستغفرُ لهم الملائكةُ حَتى يُفطروا، ويُزَيِّنُ الله كلَّ يوم جَنتهُ ويقول: يُوْشِك عبادي الصالحون أن يُلْقُواْ عنهم المؤونة والأذى ويصيروا إليك، وتُصفَّد فيه مَرَدةُ الشياطين فلا يخلُصون إلى ما كانوا يخلُصون إليه في غيرهِ، ويُغْفَرُ لهم في آخر ليلة، قِيْلَ يا رسول الله أهِيَ ليلةُ القَدْرِ؟ قال: لاَ ولكنَّ العاملَ إِنما يُوَفَّى أجْرَهُ إذا قضى عَمَلَه»

’’میری امت کو رمضان میں  پانچ ایسی خصلتیں دی گئی ہیں جس سے سابقہ امّتیں محروم رہیں،روزہ دار کے منہ کی بو اللہ رب العالمین کے نزدیک مشک عنبر سے بڑھ کرہے، اوران کے لئے افطار تک فرشتے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں،اوررب العالمین روزانہ جنّت کو مزیّن کرکے  کہتا ہے: قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنے بوجھ ومشقت کو دورکرکے تیری طرف آئیں گے، اس ماہ میں سرکش  شیاطین جکڑدیئے جاتے ہیں لہذا وہ اس مہینہ میں دیگرماہ کی طرح بندوں کو نہیں بہکا سکتے ،اوران روزے داروں کو آخری رات میں بخش دیا جاتا ہے، کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ کہا : نہیں لیکن جب عامل مزدور اپنا کام کرلے  تو اس کو پوری اجرت دی جاتی ہے‘‘۔

 ۱۔ رمضان  قرآن کا مہینہ ہے: (شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن" سورة البقرة: الآية (185).  

’’رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے‘‘۔[سورہ بقرہ:۱۸۵]

اور اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے سمائے دنیا(نچلے آسمان) پر نازل کیا گیا ہے جیسا کہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔

۲۔روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کے خوشبو سے اچھی ہے،اور (خلوف) خاء کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ منھ کے  بُو کی تبدیلی کا نام ہے جو معدہ کے خوراک سے خالی ہونے پر ہوتا ہے۔ اوریہ لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ بو ہے لیکن اللہ  تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے کیونکہ اللہ کی عبادت وطاعت سے پیدا ہوئی ہے۔اورہروہ چیز جو اللہ کی طاعت وعبادت کے نتیجے میں پیدا ہو وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہوتی ہے اوراس   بو کے بدلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے اچھی وبہتر چیز عطا کرتا ہے،کیا تم اس شہید کو نہیں دیکھتے جو اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لئے  اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاتا ہے  وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا زخم سے خون جاری  ہوگا اور اس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور اس کی بومشک کی خوشبو کی طرح ہوگی؟ اسی طرح حج کے اندر اللہ رب العالمین اہل موقف(عرفہ میں وقوف کرنے ) والوں کے بارے میں اپنے فرشتوں کے سامنے  فخرکرتا ہے اور فرماتا ہے: «انْظُرُوا إلى عبادِي هؤلاء جاءوني شُعْثاً غُبْراً». رواه أحمد وابن حبَّان في صحيحه،

’’میرے ان بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پراگندہ اور غبارآلود شکل میں حاضر ہوئے ہیں‘‘۔ (اسے احمد اورابن حبان نے روایت کیا ہے اور ابن حبّان نے اسے صحیح قراردیا ہے)۔

اس مقام پر  یہ پراگندہ پن اللہ کو بہت زیادہ محبوب ہے کیونکہ یہ محظورات احرام سے اجتناب کرکے اور خوشحالی وعیش کوشی کو ترک کرکے اللہ رب العالمین کی اطاعت  سے پیدا ہوئی ہے۔

۳۔رمضان صبر کا مہینہ ہے: کیونکہ روزہ کے علاوہ  صبر کا اظہار کسی بھی عبادات میں واضح طور پر نہیں ہوتا ،کیونکہ اس ماہ میں روزہ دار اپنے آپ کو کھانے پینے جماع وغیرہ سے دن کے اندر پوری ماہ روکے رکھتا ہے، اسی لئے صوم کو نصف صبر کہا گیا ہے،اور صبر کا بدلہ جنّت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب" سورة الزمر الآية: (10).

’’بے شک صبر والوں کو بے حساب اجر سے نواز ا جاتا ہے‘‘[سورہ زمر:۱۰]

4۔فرشتے روزے داروں کے لئے افطار تک مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں،اورفرشتے رب کے مقرّب بندے ہیں: {لاَّ يَعْصُونَ اللَّهَ مَآ أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ } [التحريم: 6].

’’وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ،اورجس چیزکا حکم دیا جاتا ہے اسے بجالاتے ہیں‘‘ [سورہ تحریم:۶]

تووہ اس بات کے زیاد ہ مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ روزے داروں کے لئے ان کی دعا کو قبول فرمائے جیسا کہ اس نے ان کو اس کا حکم دیا ہے۔اور  بے شک اللہ رب العالمین نے ان فرشتوں کو اس امت کے روزے داروں کے لئے استغفار کرنے کی اجازت ان کی شان ومرتبہ اور ان کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے دیا ہے، اور ان کے روزوں کی فضیلت کو بیان کرنے کیلئے دیاہے۔

اوراستغفار :بخشش طلب کرنے کو کہتے ہیں، اوریہ دنیا وآخرت میں گناہوں پر پردہ ڈالنے اور اس کو درگزر کرنے کا نام ہے۔اوریہ سب  سے بڑا مطلب اور سب سے اہم مقصد ہے کیونکہ سارے گنہگار اور اپنی نفسوں پر زیادتی کرنے والے بنی آدم  اللہ عزّوجلّ کی مغفرت  کے ضرورتمند  ہیں۔

۵۔جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں: اور شیاطین وسرکش جن جکڑ دئیے جاتے ہیں،جیسا کہ متفق علیہ روایت میں رسول ﷺ سے آیا ہے: إذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب النار وصفدت الشياطين"

’’جب رمضان(کا  مہینہ) آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں‘‘۔اور ایک روایت میں(سلسلت الشیاطین)) کا لفظ آیا ہے یعنی بیڑیوں اور زنجیروں میں قید کردئیے جاتے ہیں  لہذا رمضان میں( ورغلانے وغیرہ  کا)وہ کام نہیں کرسکتے ہیں جو عام دنوں میں کرتے ہیں،اسی لئے آپ پاو گے کہ شیطانی وسوسہ ومکر اور لوگوں کو دھوکہ دینا ماہ رمضان میں دیگر مہینوں کی بنسبت کم ہوجاتا ہے، اور اس کی سب سے بڑی دلیل  دیگرمہینوں کی بنسبت  ماہ رمضان میں نمازیوں سے مسجدوں کا کچھا کچھ بھرا  ہونا ہے۔

۶۔اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنّت کو اس ماہ میں مزیّن کرتا ہے اور فرماتا ہے: «يُوْشِك عبادي الصالحون أن يُلْقُوا عنهُمُ المَؤُونة والأَذَى ويصيروا إليك»

’’قریب ہے کہ میرے بندے اپنی بوجھ وتکلیف دور کرے تیری طرف آئیں‘‘۔

لہذا اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنّت کو اپنے نیک وصالح بندوں کے  استقبال وتیار ی میں مزیّن کرتا ہے،اور ان کو اس تک پہنچنے کی ترغیب دیتا ہے،اور فرماتا ہے کہ: «يُوْشِك عبادي الصالحون أن يُلْقُوا عنهُمُ المَؤُونة والأَذَى ويصيروا إليك»

’’قریب ہے کہ میرے بندے اپنی بوجھ وتکلیف دور کرکےتیری طرف آئیں‘‘۔یعنی دنیا کی بوجھ وتھکان اور تکلیف، اور ان نیک اعمال کے لئے اپنی کمرکس  لیں جس کے اندر انہیں دنیا وآخرت کی سعادت نصیب ہوگی،اور اس کے ذریعہ وہ سلامتی وکرامت کی جگہوں تک پہنچ سکیں گے۔

۷۔اللہ رب العزّت امّت محمدیہ ﷺ کی ماہ رمضان کی آخری شب میں مغفرت فرمادیتا ہے جب وہ  اس ماہ کے اندر صیام وقیام کو صحیح طور سے انجام دیتے ہیں اور اپنے کام کو پورا کرلیتے ہیں اور یہ رب العالمین کی طرف سے بطور فضل ومہربانی اور کرم کے ہوتا ہے کیونکہ جب مزدور اپنے کام کو مکمل کرلیتا ہے تو اسے پورا بدلہ دیا جاتا ہے ۔

رسولﷺ کا ارشاد ہے: :" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". رواه البخاري ، ومسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه.

’’جو شخص ایمان واحتساب(ثواب طلب کرنے) کی نیّت سے رمضان کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں،اورجو شخص ایمان واحتساب(ثواب طلب کرنے) کی نیّت سے رمضان کا قیام کرتا ہے تواس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں، اور جو شخص ایمان واحتساب(ثواب طلب کرنے) کی نیّت سےشب قدر کا قیام (بیدار ہوکر عبادت ) کرتا ہے تو اس کے پچھلے گنا ہ بخش دئیے جاتے ہیں‘‘۔(اسے امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  کیا ہے)۔

اور اللہ رب العالمین کی جانب سے  رمضان کی ہررات کو کچھ بندوں کو (جہنم) سے رہائی دی جاتی ہے۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ثواب  کے ذریعہ اپنے بندوں پر تین طرح سے  احسان کیا ہے:

پہلی صورت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کے لئے ایسے نیک اعمال مقرر فرمائے  جو ان کے گناہوں کی بخشش اور ان کے درجات کے بلندی کا سبب ہیں۔اگراللہ تعالیٰ اسے مشروع نہ کرتا تو ان کے لئے اس کے ذریعہ اللہ کی عبادت کرنا درست  نہیں تھا۔کیونکہ عبادت صرف وحی الہی کے ذریعہ رسولوں تک پہنچائی جاتی ہے، اسی لئے اللہ رب العالمین نے اپنی طرف سے عبادت کو جائز کرنے والوں پر نکیر کیا ہے، اور اسے شرک کی  قسم میں سے جانا ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

{أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ وَلَوْلاَ كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّـلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } [الشورى: 21].

’’کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان ) ظالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے ‘‘۔[شوری:۲۱]

دوسری صورت:رب العالمین نے انہیں نیک عمل کی توفیق دی ،اوراسے بہت سارے لوگوں نے چھوڑدیا، اگران کےساتھ اللہ کی توفیق ومدد شامل حال نہ ہوتی تو وہ اسے انجام نہیں دے پاتے، لہذا اس پر اللہ کا فضل واحسان ہے۔{يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُواْ قُل لاَّ تَمُنُّواْ عَلَىَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَداكُمْ للإيمان إِنُ كُنتُمْ صَـادِقِينَ } [الحجرات: 17].

’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو‘‘۔[سورہ حجرات:۱۷]

تیسری صورت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں بہت زیادہ اجر سے نواز ا ہے،ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا سے بھی زیادہ دیا ہے،لہذا اس عمل کی توفیق پر اور اس کا اچھا بدلہ دینے پر اللہ کا فضل واحسان ہے، اور ہرحال میں تمام تعریفات کا مستحق صرف پروردگار ہے۔

۸۔ماہ  رمضان شب قدر  کا مہینہ ہے:اور یہ ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ‌ خَيْرٌ‌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ‌تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَ‌بِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ‌  سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ‌ [ سورة القدر: 3-5]

’’شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہےاس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے(‘‘۔[سورہ قدر:۳۔۵]

اوربعض اہل علم نے ہزار رات کا شمار کیا تو اسے ۸۳ سال سے زیادہ پایا ۔

۹۔ماہ رمضان دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے: چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ جید سند کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے: "لكل مسلم دعوة مستجابة يدعو بها في رمضان"

’’ رمضان میں ہرمسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے۔‘‘

 اور بہت ساری حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ دعا افطار کے وقت ہوتی ہے، اس لئے بندہ کو افطار کے وقت جامع دعاؤوں کے ذریعہ رب العالمین سے تضرع وگریہ زاری کی حرص کرنی  چاہیے۔ یہ ماہ رمضان  المبارک کی چند فضیلتیں تھیں۔

ماہ رمضان میں نیکی کے کام:

۱۔اللہ تعالیٰ کے لئے توحید  کو صحیح طور سے قائم کرنا۔ارشاد رسولﷺ ہے: :" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ..

جس نے ایمان واحتساب(ثواب حاصل  کرنے) کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا تو اس کے پچھے گناہ بخش دئے جائیں گے...‘‘۔ لہذاصرف روزہ رکھنا کافی نہ ہوگا جب تک کہ ایمان واحتساب نہ پایا جائے۔

اور آپﷺ کا فرمان ہے: :( يقول الله تعالى: كل عمل ابن آدم له إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به, يدع طعامه وشرابه وشهوته من أجلي؛ للصائم فرحتان؛ فرحة عند فطره؛ وفرحة عند لقاء ربه؛ ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك )

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ابن آدم کا ہرعمل اس کے لئے ہے مگرروزہ یہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں،کیونکہ بندہ اپنی بھوک پیاس اور شہوت کو صرف میرے لئے ترک کرتا ہے، اور روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں:ایک خوشی اسے افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی،اور روزہ دارکے منھ کی بواللہ رب العالمین کے نزدیک کستوری کی خوشبوسے بھی زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے‘‘۔

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا محاسبہ فرمائے گا اوراس کےخلاف جو مظالم ہوں گے اس کے تمام عمل سے چکائے گا یہاں تک کہ صرف روزہ باقی رہ جائے گا تو اللہ عزوجل خود ہی باقی مظالم کی ذمے داری لے لے گا،اوراس روزہ کے بدلے اسے جنّت میں داخل کردے گا‘‘۔

۲۔پنجوقتہ نمازیں: انہیں ان کے وقت میں اداکرنے میں سبقت کرنا ،اور ان کو خشوع وطمانینت کے ساتھ ادا کرنا۔

 ۳۔قرآن کریم کی تلاوت:امام احمد رحمہ اللہ عبد اللہ بن عمرو سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا  ہے:

الصيام والقيام يشفعان للعبد يوم القيامة يقول الصيام: أي رب منعته الطعام والشراب بالنهار، ويقول القرآن: منعته النوم بالليل فشفعني فيه، فيشفعان(1)” .

’’بروز قیامت روزہ اور قرآن بندے کے حق میں سفارش کریں گے،روزہ کہے گا :اے رب ! میں نے اسے دن  میں کھانے اور پینے سے روکے رکھا تھا، اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کو نیند سے روکے رکھا تھا لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما ،چنانچہ دونوں کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا‘‘۔

اورسلف صالحین رحمہم اللہ قرآن کریم کی تلاوت میں بہت زیادہ اجتہاد سے کام لیتے تھے، چنانچہ بعض سلف کے بارے میں آتا ہے کہ وہ  ہرتین رات میں قرآن کو ختم کرتے تھے،اور بعض ہرسات دن میں ختم کرتے تھے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں آتاہے کہ وہ رمضان کے اندر ساٹھ مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے۔

رمضان میں سلف صالحین رحمہم اللہ کا طریقہ یہ تھا کہ سارے علوم کو چھوڑکر صرف قرآن کریم کی تلاوت کی طرف متوجہ ہوتے تھے، چنانچہ امام زہری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ماہ رمضان داخل ہوتا تو کہتے: یہ تو قرآ ن کی تلاوت کرنے اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔اور امام مالک رحمہ اللہ رمضان داخل ہوتے ہی درس حدیث اور اہل علم کی مجالست کو ترک کرکے مصحف سے قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہوجاتے ۔

لہذا مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو غوروفکرسے پڑھے  نہ کہ شعرکی طرح اسے جھوم کرپڑھے،کیونکہ امید ہے کہ اللہ  تعالیٰ اس پر ایسی چیز وا کر دے جسکا اس کے دل میں کبھی خیال نہ آیا ہو،اور یہی اس کے دل کو زندگی دینے کا سبب بن جائے۔

۴۔اذکار: مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ ذکر کولازم پکڑے،اوراپنی زبان کو ہمیشہ ذکرالہی (تسبیح،تحمید،تکبیر،استغفار) سے تازہ وآباد رکھے، کیونکہ ذکر  سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: (الَّذِينَ آَمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) [الرعد :28]

’’یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے‘‘۔[سورہ رعد:۲۸]

اور ذکر یہ آسان ومیسرہے،اس کے ترک کرنے میں کوئی عذر نہیں ہے کیونکہ اسے ہرچھوٹا بڑا متعلم اور غیر متعلم کرسکتا ہے، لہذا ذکرالہی سے اپنی زبان کی اصلاح میں کوشش سے کام لو۔اورصبح وشام کے اذکار بہت ہیں جن کو آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے

۵۔ایمان واحتساب(ثواب کے حصول کی غرض)  سے رمضان کا قیام کرنا:رسولﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ( من قام رمضان إيمانًا واحتسابًا غفر له ما تقدم من ذنبه ) متفق عليه.

’’جس نے ایمان واحتساب(ثواب حاصل کرنے ) کی نیت سے رمضان کا قیام کیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘۔ (متفق علیہ)

6۔روزہ دار کو افطار کروانا: رسولﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے : (من فطر صائماً فله مثل أجره ) صححه الألباني .

’’جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کو بھی اس روزے دار کے برابر ثواب حاصل ہوگا‘‘۔ (اسے البانی رحمہ اللہ نے صحیح قراردیا ہے)

۷۔کثرت سے صدقہ وانفاق کرنا: چنانچہ رسولﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ: (كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أجود الناس، وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل فيدارسه القرآن، وكان جبريل يلقاه كل ليلة فيدارسه القرآن، فلَرسول الله صلى الله عليه وسلم حين يلقاه جبريل أجود بالخير من الريح المرسلة ) متفق عليه .

’’رسولﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے، اورآپ کی سخاوت  سب سے زیادہ رمضان میں ہوتی جس وقت جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کرتے، اور جبرائیل علیہ السلام ہررات آپﷺ سے ملاقات کرتے اور قرآن کا دور کرتے ،چنانچہ جبرائیل امین علیہ السلام سے ملاقات کے وقت آپﷺ بھلائی میں تیز وتند ہواسے بھی بڑھ کر سخی ہوتے تھے‘‘۔ (متفق علیہ)۔

۸۔رمضان کریم میں عمرہ ادا کرنا: رسولﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ( العمرة في رمضان تعدل حجة، أو حجة معي ) متفق عليه .

’’رمضان میں عمرہ اداکرنے کا ثواب حج کے برابریا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے‘‘ (متفق علیہ)

لیکن ایک بات یادرہے کہ عمرہ   کے لیے جانے سے پہلے  اہل علم کی کتابوں سے جو کچھ میسر ہوعمرہ کے احکام کا مطالعہ کرنا نہ بھولو، تاکہ تمہارے قدم بھٹک نہ جائیں اور غلطی میں واقع ہوجاؤ، اور علم کا حصول اللہ کے فضل سے میسّر ہے، لیکن سستی وکاہلی،او رٹال مٹول   بہت سارے لوگوں اور علم وتفقہ فی الدین کے درمیان حائل ہوگئی۔

اسی طرح ان کتابوں کے مطالعہ سے  دل ودماغ کو حاضر رکھ کر اور تدبر وخشوع کے ساتھ عمرہ ادا کرسکو گے، اور  تمہارے دل ارکان وواجبات اور ان سنن واذکار سے  آگاہ ہوں گے  جو غفلت  منددلوں کو زندہ کرتی ہیں، اور اس کے ذریعہ بدعات کی جگہوں سے تم دور ہوگے، اور عبادات  کو ایسے تکلفاتّ اور سختیوں سے بوجھل نہ کرو جسے رب تعالیٰ نے مشروع نہیں فرمایا  ہے۔

۹۔نماز تراویح۔

۱۰۔رمضان میں نوکرچاکراور کام کرنے والوں   کے ساتھ آسانیاں وتخفیف سے کام لینا ،اور ان کے ساتھ رفق ومہربانی کرنا: رسولﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے : ( اللهم من ولي من أمر أمتي شيئا فشق عليهم فأشقق عليه . ومن ولي من أمر أمتي شيئا فرفق بهم ، فأرفق به) رواه مسلم .

’’اے میرے اللہ! میری امت  کے امور کے کسی بھی چیز کا جومالک ہوا ،اور ان پر سختی کیا  تو،توبھی اس پر سختی کرنا، اور جو میری امت کے کسی بھی معاملہ کا مالک ہوا، اور ان کے ساتھ مہربانی ونرمی سے کام لیا تو،توبھی اس کے ساتھ نرمی وآسانی فرما‘‘۔(اسے مسلم نے روایت کیا ہے)

۱۱۔بچوں کو روزے رکھنے کا عادی بنانا، اور اس ماہ کریم  کی تقدس اور اسکی فضیلت وعظمت کا احساس دلانا: ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ( فكنا نصومه بعد ، ونصوم صبياننا ، ونجعل لهم اللعبة من العهن ) رواه البخاري .

’’چنانچہ ہم خود بھی روزہ  رکھتی تھی،اورہمارے بچے بھی روزہ رکھتے تھے،اورہم ان کے(دل بہلانے اور بھوک سے روکنے)   کےلئے اون کی گڑیابنا دیتے تھے‘‘۔ (اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے)

۱۲۔والدین کے ساتھ بھلائی وسلوک کرنا:

والدین کے ساتھ بھلائی واحسان کرنا، اور ان کا قرب حاصل کرنا، ان کی ضروریات کی تکمیل کرنا اور ان کی اطاعت وپیروی کرنا، اور ان کے ساتھ مل کر افطار کی کوشش کرنا، اس لئے کہ بعض نوجوان  کو اکثراپنے گھریا اپنے دوستوں وساتھیوں کے گھر افطار کرتے دیکھو گے لیکن اپنے والدین کے ساتھ بیٹھتے اور ان کے ساتھ افطار کرتے بہت کم ہی پاؤگے، اوراس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ساتھ احسان وبھلائی کرنا اللہ کے تقرب حاصل کرنے  کا بہت بڑا ذریعہ ہے،اور ایسا کیونکر نہ ہو جب کہ خود رب العالمین نے اپنی توحید وعبادت کے ساتھ ان کے حق کو ملایا ہے۔

۱۳۔گناہوں کے چھوڑنے پر نفس کو ٹریننگ دینا:

ہم سب کو یہ بات جاننا ضروری ہے کہ روزہ کی حقیقت محض کھانے اور پینے کو ترک کر دینے کا نا م نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے روزہ کو تقویٰ وپرہیزگاری کے حصول کے لئے مشروع کیا ہے، اسی لئے حقیقی روزہ  معاصی وگناہ  سے رکے رہنے اور اور اس کو ترک کرنے اور بازرہنے کا نام ہے،اور وہ دل کا روزہ ہے، نہ کہ صرف اعضاء وجوارح کا روزہ ہے۔اور ہمارے اس قول پر عمومی وخصوصی طور سے سنت دلالت کرتی ہے، اور اس کی وضاحت اہل علم کے کلام میں بھی ملتی ہے۔چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا ہے: ( مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ )(2) رواه البخاري.

’’جوشخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوک وپیاس ترک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔(اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے)

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ )(3) رواه أحمد.

’’بسااوقات روزہ دار کو اس کے روزہ سے صرف بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بسااوقات قیام کرنے والے کو اس کے قیام سے بیداری کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ‘‘۔(اسے امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے)

اور صحابہ کرام اور سلف امّت رحمہم اللہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ان کے روزے دل وجوارح کی پاکیزگی کے لئے ہوں، اور گناہوں ومعاصی سے بچاؤ کے لئے ہوں۔

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: روزہ صرف کھانا پانی سے(رکے رہنے)کا  نام نہیں ہے،بلکہ جھوٹ ،باطل اور لغووبیہودہ بات سے بچنے کا نام ہے‘‘۔

اور جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کان،آنکھ اورزبان جھوٹ  وگناہ سے رکے رہیں، اور خادم کو تکلیف  دینےسے باز رہو،اورتمہارے روزہ رکھنے کے دن تم پر وقار وسکون اورمتانت ظاہر ہو، اورتم اپنے روزہ کے دن کو اور ا پنےافطار کے دن کو برابر نہ کردو‘‘۔

حفصہ بنت سیرین ۔جو تابعہ عالمہ تھیں۔فرماتی ہیں کہ: روزہ اس وقت تک (گناہوں سے)ڈھال ہے، جب تک کہ روزے دار اسکو غیبت کے ذریعہ پھاڑنہ دے‘‘۔

اور میمون بن مہران  رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’سب سے آسان روزہ کھانا اور پانی کا ترک کرنا ہے‘‘۔

اور یہ جان لینے کے بعد ہم کو کوئی تعجب نہیں ہے کہ بعض اہل علم نے  روزہ کی حالت میں معصیت کرنے والے کے روزہ کے بطلان کا فتویٰ دیا ہے، اگرچہ صحیح  یہ ہے کہ اس کار وزہ باطل نہیں ہوتا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے روزہ میں نقص ہوگا،اور روزہ کی حقیقت  کی مخالفت ہوگی۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

’’غیبت سے روزہ کو نقصان پہنچتی ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،اور اسی کو اوزاعی نے کہا ہے کہ: ’’غیبت روزہ کو توڑ دیتی ہے، اور اس دن اس پر قضاء واجب ہوتی ہے، اور ابن حزم ؒ نے مبالغہ سے کام لیتے ہوئے فرمایا ہے: روزہ کو ہر وہ معصیت باطل کردیتی ہے جس کو جان بوجھ کر اور روزہ کو یاد کرکے کیا جائے، چاہے  وہ معصیت قول ہو یا فعل ہو، رسول ﷺ کے اس قول کے عموم کی وجہ سے : ( فلا يرفث ولا يجهل ) ’’لہذا تم فسق وفجور اور جہالت  نہ کرو‘‘۔ اور رسولﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے : (من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه)’’جوشخص جھوٹ بات اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو ایسے شخص کے بھوک وپیاس ترک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ حافظ رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا‘‘۔

اورشیخ محمد بن صالحین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ بہرحال جس  سے صوم واجب ہوتا ہے:شاید تمہیں میری  یہ بات عجیب وغریب لگے  جب میں کہتاہوں کہ بے شک جس سے صوم واجب ہوتا ہے: یہ معاصی ہیں،انسان کے لئے معاصی سے رکنا ضروری ہے،کیونکہ صوم میں یہی سب سے پہلے مقصود ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) البقرة/183]

’’ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔[سورہ بقرہ:۱۸۳]

اللہ تعالیٰ نے  یہ نہیں کہا کہ: تاکہ تم بھوکے اور پیاسے رہو! یا تاکہ تم اپنی بیویوں سے رکے رہو، ہرگزنہیں،بلکہ فرمایا: تاکہ تم اللہ کا تقویٰ اورخوف اختیار کرو! اور یہی روزہ کا اولیں مقصد ہے، اور اسی کو نبیﷺ نے ثابت کرکے دکھایا ہے، اور اپنے اس قول کے ذریعہ اسی کی تاکید فرمائی ہے: (من لم يدع قول الزور والعمل به والجهل فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه )

’’جوشخص جھوٹ بات،اس پرعمل کرنے اور جہالت اختیار کرنے سے باز نہ رہے تو اللہ کو اس کے بھوک وپیاس ترک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔

اس لئے انسان  کے لئے اللہ عزّوجلّ کی نافرمانیوں سے رکنا ضروری ہے، اور یہی صوم حقیقی ہے، اوررہی بات صوم ظاہری کی تو: یہ مفطرات سے رکنا ہے، یعنی اللہ عزوجل کی عبادت کی خاطر طلوع فجرسے لیکر غروب شمس تک مفطرات (روزہ توڑنے والی چیزوں سے) رکے رہنا ہے ، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے:

فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ) البقرة/187

’’ اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو ‘‘۔[سورہ بقرہ:۱۸۷]

اس روزہ کو ہم ظاہری روزہ کا نام دیتے ہیں،  یعنی صرف جسم کا روزہ ، رہی بات صوم ِقلب (دلی روزہ کا )جو صوم کا مقصود اول ہے: تو یہ اللہ عزوجل کی معاصی ونافرمانیوں سے رکنے کا نام ہے۔

اور اسی بنیاد پر: جو شخص ظاہری و جسمانی طور پر روزہ رکھتا ہے اور دلی طور پر روزہ نہیں رکھتا  تو:اس کا روزہ ناقص ونامکمل ہوتا ہے۔

۱۴۔فجر کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا: نماز فجر کے بعد سورج کے نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا اور پھر دورکعت نماز ادا کرنا مکمل حج وعمرہ کے برابر ثواب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:(من صلى الفجر في جماعة، ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس، ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة تامة تامة تامة).

’’جوشخص جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کرے، پھرسورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھا رہے، پھر(سورج نکلنے کے بعد) دو رکعت نماز پڑھے تو اس کو مکمل  حج وعمرہ  کے برابر ثواب ملے گا‘‘۔

۱۴۔حیض ونفاس کے اوقات کو ذکر الہی اور نیکی کے کاموں میں گزارنا: اور ہمارے اندر ایسی ہمّت ہو کہ ہم حسن  بصری،فضیل بن عیاض اور سفیان  رحمہم اللہ سے تنافس رکھ سکیں۔

اور ہمارے اندر ابو ادریس خولانی تابعی رحمہ اللہ کی طرح ہمت ہو جو اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج جاتے تھے اور فرماتے: ’’ اللہ کی قسم! ہم محمد ﷺ کے صحابہ کی منافست کریں گے جس طرح وہ رسولﷺ کی منافست کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ لوگ جان لیں کہ انہوں نے اپنے پیچھے مردچھوڑے ہیں‘‘۔

لوگو! ان مبارک راتوں میں خوب اجتہاد سے کام لو، کثرت سے ذکر واذکار کروکثرت سے تلاوت قرآن کروکثرت سے نفل نمازوں اور صدقات کرو، کثرت سے روزے داروں کو افطار کراو

حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے: بے شک اللہ عزوجلّ نے ماہ ِ رمضان کو اپنی مخلوق کے لئے دوڑ کا میدان بنایا ہے،جس کے اندر  لوگ اس کی طاعت کے ذریعہ اس کی رضا کی طرف سبقت  ودوڑکرتے ہیں، چنانچہ کچھ لوگوں نے سبقت کیااور وہ کامیاب ہوگئے،اور کچھ پیچھے رہے اور وہ ناکام  ہوگئے‘‘۔

لہذا تعجب ہے ایسے شخص پر جو اس دن کو کھیل  وکود اور ہنسی میں گزارتا ہے جس  دن  میں  نیکیاں کرنے والے کامیاب ہوں گے اور باطل  پرست لوگ خسارہ میں ہوں گے۔

اور ہماری آخری دعا  یہی ہے کہ ساری تعریفات صرف دونوں جہاں کے پرودگار کے لئے ہے، اور درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد پر،ان کے آل پر اور  ان کےتمام صحابہ کرام پر۔

اعداد:  باسمہ جابری

حواشی:


(1)   (ح6626-11/199 )، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ترغبیب وترہیب میں صحیح قراردیا ہے (صحيح الترغيب والترهيب ح :984-1/238).

(2)  (ح: 1804 ).

(3)  (ح:8693)  ،اور ابن حبان نے اسے صحیح قراردیا ہے ( 8 / 257 )، اور علامہ البانی ؒ نے اسے صحیح ترغیب میں صحیح کہا ہے( صحيح الترغيب : 1 / 262 ) .

(4)  ان آثار کو : ابن حزم  رحمہ اللہ نے (المحلى : 4 / 308 )  میں ذکر فرمایا ہے۔

(5)  فتح الباري ( 4 / 104 )

 

 

التعليقات  

#1 الهندمحمد ١٢ رمضان ١٤٣٨هـ
ماشاء الله ،بارك الله فيكم،مقالة مفيدة
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث