خُطبہ جُمعہ:حُسنِ اخلاق   

 

ہرقسم کی تعریف  اس اللہ کے لئے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، نہایت بردبار ،جاننے والا اورحکمت والا ہے،بلند وبرتراور عظمت والا ہے،  میں اپنے رب کی تعریف  بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اسی کی طرف پلٹتا ہوں اور اسی سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاو ہ کوئی سچا معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی وسردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ورسول ہیں،اور وہ  نہایت عمدہ اخلاق والے ہیں۔اےاللہ!تواپنے بندہ ورسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر،آپ کے خاندان پر ،اور سیدہی راہ پر قائم  آپ کےاصحاب پر  بہت زیادہ  درود وسلام  اور برکت نازل فرما۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

(لوگو!) اللہ  تعالی ٰکی اطاعت کرکے اس کا تقویٰ اختیار کرو، اور اس کی نافرمانی سے باز رہ کر اس کے عقاب سے بچو۔

مسلمانو! : اس بات کو جان لو کہ اسلام    ایک عظیم مقصداور بڑی ذمہ داری کو پورا کرنے  کے لئے آیا ہے اور وہ  ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا  قیام ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾ [النساء:36]

’’ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا ‘‘۔

اس عظیم مقصد کے علاوہ  جتنے دیگرمقاصد ہیں، مثال کے طور پر: زمین کی آبادکاری،حدودِ الہیہ کی تنفیذ اور ظلم وعدوان کی روک تھام وغیرہ، تویہ سب اس  عظیم مقصد یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد  کی ادائیگی کے تابع اور اس کی طرف پہنچانے کا ذریعہ وتمہید ہیں۔

حُسن اخلاق کی اہمیت: حُسن خلق حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی اساس وبنیاد ہے،  اگر ایمان کے ساتھ حسن خلق جمع ہوجائے تو یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد  ادا کرنے کی بنیاد بن جاتا ہے،جس کے نتیجے میں بندوں کے درجات بلند اور گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا  کہتی  ہیں کہ میں نے   رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:  «إنَّ المُؤْمِنَ ليُدرِكُ بِحُسنِ خُلُقِهِ درجةَ الصائِم القائِم»

’’بے شک حُسن اخلاق  سے ایک مومن  دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے کے مرتبہ کو پالیتا ہے‘‘۔اسے امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔

اور ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ»

 ’’روزِقیامت مومن بندہ کے میزان حسنات   میں حسن اخلاق سے بڑھ کرکوئی چیز نہیں ہوگی، اور اللہ فحش گوئی اور بدزبانی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے‘‘ ۔اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن صحیح  کہا ہے۔

 گویا حسنِ اخلاق تمام  بھلائیوں کی جامع اور اساس ہے۔

حُسن اخلاق کا  مفہوم اور اس کے زمرے میں شامل چیزوں کا بیان:

شریعت اور عقلِ سلیم کی نظر میں ہر اچھی صفت حسن اخلاق  میں داخل ہے۔

اور بعض اہل علم نے کہا ہے: ’’خیروبھلائی کا کام کرنا اور برائی سے رُکے رہنا  ہی حسن اخلاق ہے‘‘۔                                     اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ: ’’سخاوت وفیاضی کرنا اور تکلیف سے باز رہنا حسنِ اخلاق ہے‘‘۔

حُسن اخلاق کی جامع تعریف  : اللہ کے حکم کردہ تمام کام کو بجالانا اور اس کے منع کردہ تمام چیزوں سے باز رہنا حسن اخلاق ہے، جیسے:تقوی، اخلاص، صبر،حِلم وبردباری، میانہ روی، حیا،عفت وپاکدامنی،غیرت وحمیّت،والدین کے ساتھ حسن سلوک ،صلہ رحمی ، رحم دلی ،مظلوموں کی دادرسی ،شجاعت وبہادری،سخاوت وفیّاضی،صدق وسچائی،سلامت صدر(سینہ کی حقد وکینہ سے صفائی )،نرمی ، وفاداری،امربالمعروف(نیکی کا حکم دینا) نہی عن المنکر(برائی سےمنع کرنا)،حسنِ ہمسائیگی، تواضع وانکساری، تحمّل وبرداشت، رواداری ، امانت داری،مکروغداری سے اجتناب،خیانت  دھوکہ وفریب کاری سے دامن کشی،فحاشی وگناہ  کے کاموں سے گریز،حرام و خبیث مشروبات اور خبیث کھانے سے بچاؤ،حرام خوری، دروغ گوئی، بہتان تراشی،بخیلی وکنجوسی،بزدلی،ریاکاری، تکبّروگھمنڈ،خودپسندی وخودسری،ظلم وزیادتی، کینہ وحسد اور تہمت بازی سے کنارہ کشی اختیار کرنا وغیرہ حسن اخلاق کے ضمن  میں آتا ہے۔

حسنِ اخلاق سے مومن اور کافر کو حاصل ہونے والے فائدے:

حسن اخلاق مومن کو دنیا وآخرت  میں نفع  پہنچاتا ہے، اور اللہ کے نزدیک  اس کے مرتبہ کو بلند کرتا ہے، اور اس کے اخلاق سے  نیک وبد سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ کافر دنیا میں ہی اپنے اخلاق کا فائدہ اٹھالیتا ہے اور اس کو اسکا بدلہ مل جاتا ہے، لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصّہ نہیں ہوگا۔

امّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:اے اللہ کے رسول!عبداللہ بن جدعان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟،کیونکہ وہ مہمان  نوازی،غریب  پروری،محتاجوں کی داد رسی، اور زمانے کے ستائے ہوئے لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا، کیا اس کو اس  کے اعمال کا کوئی فائدہ حاصل ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:           

«لَا يَنْفَعُهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ»

’’نہیں، کیونکہ اس نے کسی بھی دن یہ نہیں کہا کہ :اے میرے رب! قیامت کے روز میرے گناہ کو بخش دینا‘‘۔

حسنِ اخلاق قرآن کے آئنہ میں:

اللہ تعالیٰ  نے اپنی عظیم کتاب قرآن   کریم کے اندر ہراچھے اخلاق کا حکم دیا ہے، اور ہر بری خصلت سے روکا ہے،اسی طرح سنت نبوی  نے ہر اچھی خصلت کا حکم دیا ہے،اور ہر بری وخبیث عادت سے منع کیا ہے۔

 اوراس مفہوم کی بہت ساری آیتیں ہیں، جن میں سے  بطور مثال چند آیات کا تذکرہ  کر رہا ہوں:

1۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ ﴾ [الأنعام:151]

’’ اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده ‘‘

2۔﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾[آل عمران:134]

"جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے"

3۔﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ ﴾ [الأعراف:199]

"آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں"

4۔﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ ﴾[النحل:127]

"آپ صبر کریں بغیر توفیق الٰہی کے آپ صبر کر ہی نہیں سکتے "

5۔﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾[فصّلت:34]

"نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست"

6۔﴿وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ [الشعراء:215]

"اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان نے وا ہو کر تیری تابعداری کرے"

7۔﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴾[القصص:83]

"آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں۔ پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمده انجام ہے"

8۔﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًاوَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاإِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًاوَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴾[الفرقان:63-68]

"رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے،اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں،اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے وا ہے،بے شک وه ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے،اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں،اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ئے گا"

9۔﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ ﴾[المائدة:1]

"اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو "

10۔﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ﴾[الحشر:7]

"اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ"

حُسن اخلاق  حدیث  کے آئنہ میں:

 حسن اخلاق سے متعلق بہت ساری احادیث ہیں جن میں سے بطور مثال  چند کا یہاں تذکرہ کررہا ہوں:

1۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے: «أنا زعِيم بِبيتِ في رَبَضِ الجنةِ، لمن تركَ المِراء وإن كان مُحِقَّاً، وببيتٍ في وسَطِ الجنةِ لمن تركَ الكذِبَ وإن كانَ مازحاً، وببيتٍ في أعلى الجنةِ لمن حسَّنَ خُلُقَه»

’’ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔اسے امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

2۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  «أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ، عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ»

’’میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتلاؤں جس پر آگ حرام ہے یا وہ آگ پر حرام ہے؟ ہروہ شخص جو لوگوں کے قریب  رہنے والا ہے،ان کے ساتھ آسانی کرنے والا،نرم دل،اور سہل  برتاؤ والا ہے‘‘۔اسے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن  میں روایت کرکے حسن قراردیا ہے۔

3۔عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ»

’’رفق ونرمی جس چیز کے اندر پائی جائے وہ اسے مزیّن وخوشنما بنادیتی ہے، اور جس چیز سے یہ صفت ختم ہوجائے تو اسے بدنما وعیب دار بنا دیتی ہے‘‘۔ اسے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔

4۔نوّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور برائی کے بارے میں دریافت کیا ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ»

’’نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور برائی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند کرو کہ کہیں لوگوں کو اس کے بارے میں واقفیت نہ ہوجائے‘‘۔اسے مسلم رحمۃ اللہ نے روایت کیا ہے۔

حسن خلق،صاحب اخلاق  کے لئے اور اس کے معاشرے کے لئے خیروبرکت اور نمووترقی کا سبب ہے۔حسن اخلاق عند اللہ بلندی درجات کا باعث اور مخلوق کےدلوں میں محبت کا ذریعہ ہے۔حسن خلق دلوں میں اطمینان وکشادگی لاتا ہے، معاملات کو آسان کرتا ہے، دنیا میں  ذکر خیرہوتا ہے،اور آخرت میں اچھا انجام ہوتا ہے۔

اس کے برعکس بدخلقی نحوست اور بے برکتی کا سبب ہے، مخلوق کے دل میں نفرت کا بیج بوتی ہے، دلوں میں ظلمت  وتاریکی پید کرتی ہے، اور دنیا میں بدبختی کا  باعث اور آخرت میں برے انجام کا ذریعہ ہے۔

صحابہ کرام رضوان  اللہ علیہم اجمعین حسن اخلاق کے پیکرونمونہ تھے:

  مسلمانو!   سلف صالح کی اقتدا کرو،جو حسن اخلاق  کی صفات سے متّصف تھے، جن کے اچھے اخلاق کی  خود خلاق وعلیم  رب نے  گواہی دی ہے  ،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ﴾[الفتح:29]

"محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثرسے ہے " نیز ارشاد فرمایا:

﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾[آل عمران:110]

"تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو، اگر اہل کتاب بھی ایمان تے تو ان کے لئے بہتر تھا، ان میں ایمان والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں"

پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کے لئے سب سے بہتر تھے۔

اور ارشاد باری  تعالیٰ ہے:

﴿ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾[الأحزاب: 23]

"جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی"

صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک شخص مکارم اخلاق  کے اعتبار سے اپنی ذات میں امّت تھا، وہ گھٹیا اور سطحی امور سے بہت دور تھے، جیساکہ یہ باتیں ان کی تفصیلی سیرت اور حالاتِ زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہیں۔

رسول  صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق میں سب سے بڑھ کر تھے:

اورہراچھے اخلاق اور ہر عظیم وقابل تعریف  صفت سے متصف ہونے میں سب سے بہترمثال خود سیدالبشرہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز میں مکمل آئیڈیل ونمونہ تھے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴾[الأحزاب:21]

"یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے"

اللہ تعالیٰ  نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی عمدہ تربیت فرمائی ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہراچھے کام اور عمدہ اخلاق کی تربیت اپنی امّت کو دی۔چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ»

’’بے شک میں نیک اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں‘‘ اسے امام احمد  رحمۃ اللہ نے اپنی مسند کے اندر روایت کیا ہے۔

اور خود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین تعریف فرمائی ہے ،ایسی تعریف کہ جو لوگوں کی سماعت سے باربار ٹکراتی  ہے،اور جسے فرشتے اور  مومنین جن وانس سب تلاوت کرتے ہیں،اور مرورزمانہ  اسے(دماغوں سے) بھلا نہیں سکا، اور وہ آیت کریمہ یہ  الہی ارشاد ہے:

﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴾[القلم:4]

"اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے"

﴿وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا  ﴾[الفتح:28]

"اور اللہ تعالیٰ گواہی کے لئے کافی ہے"

اورعائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو  انہوں نے فرمایا: «كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ»’’آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کا اخلاق قرآن تھا‘‘۔

ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ (اس آیت کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں): ’’ قرآن  کریم کے اوامرونواہی کی بجآوری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت بن گئی تھی،اور یہ چیز آپ کی فطرت میں شامل تھی کہ جس کام کا قرآن کریم  میں حکم ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بجالاتے،اورجس کام سے قرآن کریم نے روکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب نہ جاتے تھے۔حیاداری،کرم وسخاوت،شجاعت وبہادری،معافی ودرگزر اور ہر قسم کا بہتر اخلاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھا.اھ۔‘‘

حتیٰ کہ بعثت سے قبل بھی لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے اندر کوئی برائی واخلاقی گراوٹ کو نہیں پایا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سارے دشمن بھی تھے، اورساتھ ساتھ اسباب موجود تھے اور ان کی طرف سے حرص وکا وش  بھی پائی گئی تھی لیکن وہ کوئی (عیب نہ پا سکے)۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اچانک وحی آئی تو خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا:«لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي»، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا أَبْشِرْ، فَوَاللهِ، لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَاللهِ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ»

’’مجھے اپنی جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہے‘‘، تو خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے کہا:’’ ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم!اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی گفتگوکرتے ہیں، لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہین، اور زمانے کے ستائے ہوئے لوگوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔  اسے بخاری ومسلم  رحمہما اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

یہ بعثت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اچھے اخلاق  کا تذکرہ تھا،پھر بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نعمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کی تکمیل فرمادی۔

لہذا اے مسلمانوں کی جماعت! اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےاخلاق کو اپناؤ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دین پر مضبوطی سے قائم رہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی روشن شریعت پر کاربند رہو،اور اللہ سے ملی توفیق کے بقدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کو اختیار کرو،اور اپنے آپ کو  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج وطریقے پر ڈھالوجو صرف   اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق ہو، اور دین میں نئی ایجاد کے قبیل سے نہ ہو۔

 ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾[آل عمران:31]

"اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو،اللہ بھی تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے"کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے وا مہربان ہے"

اللہ کے بندو ! جان لو کہ خاطرومدارات بہترین اخلاق میں سے ہے، اور مداہنت وچاپلوسی برے اخلاق میں سے ہے۔ مدارات اچھی بات یا فعل کے ذریعہ برائی کا دفاع کرنا،اور محفوظ طریقہ سے حق کی تبلیغ کرنا ہے، اور یہ بعض حالات میں ہوتا ہے، اور مداہنت کہتے ہیں حق سے خاموشی اختیارکرنا، یا معصیت ونافرمانی میں لوگوں کی موافقت کرنا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾[الحج:77]

"اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ"

اللہ قرآن کریم میں میرے اور آپ کے لئے برکت عطافرمائے، اور اس میں جوکچھ نشانیاں اور حکمت ونصیحت کی باتیں ہیں  مجھے اور آپ کو فائدہ اٹھانے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اور سیدھی بات کی طرف رہنمائی فرمائے، میں اپنی اس بات کو کہتا ہوں اور ساتھ ہی  اللہ عظیم سے اپنے اور تمہارے  اور سارے مسلمانوں کے لئے تمام گناہوں سے بخشش طلب کرتا ہوں،سوتم بھی اس سے بخشش طلب کرو،بے شک وہ بہت زیادہ  بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہر قسم کی تعریف اس اللہ رب العالمین کے لئے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے، پرہیزگاروں کا ولی وسرپرست ہے، علم کے اعتبار سے ہر چیز کو محیط ہے، رحمت اوربردباری کے اعتبار سے ہرچیز کو وسیع ہے،میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اس کی بےپایاں نعمتوں پر تعریف بیان کرتا ہوں،اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اس کے بہترین نام ہیں،اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کی ہمارے نبی اور سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے برگزیدہ بندہ اور رسول ہیں،الہی!تواپنے بندہ ورسول محمد پر اور آپ کے آل واصحاب پر درود وسلام اوربرکت نازل فرما۔

 حمدوصلاۃ کے بعد:

(لوگو!)اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرو جیسا کہ اس نےحکم دیا ہے، اورہر اس  چیز سے دوری اختیارکرو جس سے اس نے  تمہیں روکا اور منع کیا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴾[النحل:90]

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اورظلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو"

یہ آیت تمام بہتراخلاق کی جامع اور ہر مذموم عادت  سے منع کرنے والی ہے۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اتَّقِ اللهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»

’’ جہاں کہیں بھی رہو اللہ سے ڈرتے رہو،اور برائی  ہوجانے کے بعد نیکی کرو، وہ اسے مٹاڈے گی،اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ‘‘۔  اسے امام ترمذی  رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔

اور ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے جنت میں لے جانے والےعمل کے بارے میں سوال کیا گیا  ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ، وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ: الفَمُ وَالفَرْجُ»

’’ اللہ کا تقویٰ اور حُسن خلق‘‘،اور کثرت سے جہنم میں لے جانے والےعمل کے بارے میں دریافت کیا گیا ،تو فرمایا:  ’’منھ (بدزبانی) اور شرمگاہ‘‘۔اسےامام  ترمذی  رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کرکے حسن صحیح  قراردیاہے۔

لہذا اے اللہ کے بندو !  اپنے دین میں ثابت شدہ اخلاق کو مضبوطی سے پکڑلو،اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ وسنّت کی محافظت کرو،تم دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب ہوجاؤگے

اللہ کے بندو!  

﴿ إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [الأحزاب:56]

"بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی(محمد  صلی اللہ  علیہ وسلم) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو"

لوگو! اوّلین وآخرین کے سردار اور امام المرسلین  محمد پر درود وسلام بھیجو۔ اے اللہ!  محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اورآپ کی آل پر اسی طرح  رحمت نازل فرما جس طرح تونے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل کی ہےبے شک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے آل پراسی طرح برکت نازل فرما جس طرح ابراہیم علیہ السلام اور ان کے آل پر برکت نازل کی ہے بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے،اور ان سب پر خوب خوب سلام نازل فرما۔

اے  اللہ! تمام صحابہ کرام، اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابوبکر،عمر،عثمان ،علی رضوان اللہ علیم اجمعین،اورآپ کے  تمام صحابہ،تابعین اور قیامت تک ان کی بھلائی کے ساتھ پیروی کرنے والوں سے راضی وخوش ہوجا۔اے سب سے زیادہ رحم کرنے  والے مالک اپنی رحمت وفضل سے توہم سے خوش ہوجا۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزّت وسربلندی  عطاکر، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزّت وسربلندی  عطاکر ، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزّت وسربلندی  عطاکر ۔اے دونوں جہان کے رب تو کفراور کافروں کو ذلیل کردے،اے اللہ ! توہرزمان ومکان میں اسلام اور مسلمانوں کو عزّت وسربلندی عطاکر،بے شک توغالب اورطاقتورہے۔اے اللہ ! ہمارے وطنوں میں امن عطاکر، اور ہمارے حاکموں کی اصلاح فرما، اے دونوں جہانوں کےمالک! انہیں بھلائی کے کاموں کی توفیق دے، اے اللہ! مسلمان مردوں اور عورتوں ،مومن مردوں اور عورتوں، ان میں سےزندوں اور مُردوں کی مغفرت فرما، اے اللہ! مسلمانوں کے قبروں  کو تو نور سے بھردے، اے اللہ! تو مسلمانوں کے زندہ لوگوں کی بخشش فرما اور ان کے معاملات کو آسان کردے،اے اللہ! مسلمانوں کے غمزدہ لوگوں کے غم کو دور فرما، اور ان کے پریشان حال لوگوں کی پریشانی وبے چینی کو دورکردے، اور قرض داروں کو قرض کے ادائیگی کی توفیق دے،اے اللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے مالک! تواپنی رحمت سے ہمارے بیماروں اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما، اے اللہ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے مالک! تواپنی رحمت سے ہمارے بیماروں اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے مالک! تواپنی رحمت سے ہمارے بیماروں اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما۔ اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں اور معاملات میں ہماری زیادتیوں کو بخش دے، اور ہمارے قدم کو مضبوط کردے،اے سب سے زیادہ رحم کرنے رب! کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔اے اللہ! ہمارے امام ورہبر کی حفاظت فرما،اور انہیں اس چیزکی توفیق عطا فرما جس سے تو راضی اور خوش ہو، اے اللہ! ان کے عمل کو بھلائی اورتقوی والا بنا،اے اللہ! انہیں ہدایت یافتہ اوررہنما بنا، اور دین ودنیا کے کاموں میں ان کی مدد فرما،اے رب العالمین! ان کے ذریعہ اپنے دین کی مدد فرما، اور ان کے ذریعہ اپنے کلمہ کو بلند کر،اے اللہ! اے بزرگ وبرترمالک! ہم تجھ سے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ توان کے رازدارکو اس چیز کی توفیق دے جس میں مسلمانوں کے لئے خیرو بھلائی ہو بے شک تو ہرچیز پر قادر ہے۔

اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کے اعمال کو ان کے قوم اور وطنوں کے لئے بھلائی والا بنادےبے شک تو ہرچیز پر قادر ہے۔اے اللہ!  اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سے تمام امور میں ہماری عاقبت کو درست فرما،اورہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ،اے اللہ ہمارے امن  اور ٹھکانوں کی حفاظت فرمابے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں اپنی شکر اورذکر اور اچھی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے، لہذا  اللہ کی عطاکردہ نعمتوں پر اس کا ذکر کرووہ تمہیں مزید نوازے گا، اور اس کا شکر کرو کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے شکر کرنے والے کے لئے زیادہ عطا کرنے کی ضمانت  دےرکھی ہے۔اور یاد رکھو اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

 

حرم نبوی شریف کا خطبئہ جمعہ بتاریخ: ۹/۳/۱۴۲۲ھ

خطیب ومقرّر: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی  حفظہ اللہ

                                                        امام وخطیب مسجد نبوی شریف

 

 

 

التعليقات  

#2 رد: خُطبہ جُمعہ:حُسنِ اخلاق مقرّر:امام وخطیب مسجد نبوی ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ بتاریخ:۹/۳/ ۱۴۲۲ھعبدالله سلطاني ٢٧ محرّم ١٤٣٧هـ
ماشاء الله بهت هي بهترين ويب سائت هي
الله جزاء خير عطا كري
اقتباس
#1 رد: خُطبہ جُمعہ:حُسنِ اخلاق مقرّر:امام وخطیب مسجد نبوی ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ بتاریخ:۹/۳/ ۱۴۲۲ھمحمد ٢٤ محرّم ١٤٣٧هـ
ماشاء الله بهت خوب الله مزيد ترقي دي
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث