حلقہ (۴)

حیا کی تعریف

حیا   ایسی گرہ ہے جسے انسان اپنی نفس میں پاتا ہے اور اسے قبیح وعیب زدہ چیز اپنانے سے روکتی ہے،اور اسکی ضد معاملات میں انبساط ہے اور قبیح وعیب زدہ چیزوں کی کوئی پرواہ نہ کرنا ہے۔

اور وہ دونوں فطری اور کسبی ہیں، لیکن لوگ ان دونوں سے حاصل ہونے والے مقدار میں مختلف ہوتے ہیں،بعض تو ان میں سے بہت زیادہ شرمیلے پیدا ہوئے ہیں،اور بعض کم ،اور ان میں سے بعض بہت زیادہ منبسط ہوتے ہیں اور بعض کم،۔اور پھر دونوں قسموں  میں سے زیادہ والے بھی (کئی ) درجات پر ہیں،اسی طرح کم والے بھی،اور بسا اوقات دونوں قسم کے لوگ کثرت سے ہوجاتے ہیں  یہاں تک کی اسکی ضد بالکل معدوم ہوجاتی ہے،اور پھر یہ فطری (حیا)کسبی  (حیا)کے حاصل کا سبب ہوتی ہے، لہذا جس نے  شرم وحیا کو اپنایا اس نے بڑی کامیابی حاصل کی،اور جس نے اسے چھوڑدیا تو جو چاہے کرے ، اور وہ دنیا وآخرت کی بھلائی سے محروم ہوجاتا  ہے’’۔ (1)

اور حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

حیا  کی دو قسمیں ہیں:

حیا کی پہلی قسم وہ ہے : جو فطری طور پر ہو نہ کہ کسبی،اور یہ اخلاق میں سب سے بہترین ہے جسے اللہ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور اس پر پیدا فرماتا ہے، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کہ:

" الحياء لا يأتي إلا بخير"(2)

’’حیا صرف بھلائی لاتی ہے ‘‘۔

کیونکہ حیا انسان کو بری چیزوں کے ارتکاب اور گھٹیا ورذیل اخلاق  کے اپنانے سے باز رکھتی ہے، اور مکارم اخلاق اور اس کی بلندی  پر ابھارتی ہے، لہذا اس اعتبار سے حیا ایمان کی خصلتوں میں سے ہے۔

حیا کی دوسری قسم  وہ ہے: جو انسان کا رب کی معرفت،اسکی عظمت کی معرفت  اور اسکا بندہ سے قریب ہونے،اور انکے احوال سے باخبر ہونے،اور سینوں کے اسرار  اور آنکھوں کی خیانتوں  کے جاننے سے ہوتی ہے،تو یہ  ایمان کی بلند ترین عادتوں میں سے ہے، بلکہ یہ احسان کے بلند ترین مراتب میں سے ہے۔

اور کبھی اللہ  کی حیا اسکی نعمتوں میں غورکرنے اور اس  کی شکر میں کوتاہی  کرنے سے پیدا ہوتی ہے، لہذا جب بندہ سےکسبی  فطری حیا  چِھن جائے تو جو چاہے بُری عادت اورگھٹیا اخلاق   کا ارتکاب کرے، گویا کہ  وہ بے ایمان ہوجاتا ہے۔(3)

اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ حیا ایمان سے ہے، چنانچہ ابن عمررضی اللہ عنہما  سے روایت کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کا  انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے بھائی کو حیا کے سلسلہ میں نصیحت کررہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اسے چھوڑ دے،کیونکہ حیا ایمان سے ہے‘‘۔(4).

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ایمان کی ساٹھ سےکچھ زیادہ شاخیں  ہیں، اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے ‘‘۔(5).

فوائد حدیث:

1۔حیا  پسندیدہ صفت ہے جسکی اچھائی اور اسکی طرف ترغیب دینے پر تما م شریعتیں متفق ہیں،اور عقل اور فطرت بھی اس کے فضل پر دلالت کرتی ہے، لہذا مسلمان کو اس  سے متصف  ہونا چاہئے ، اور اپنے تمام امور میں اسکو لازم پکڑناچاہئے، کیونکہ حیا  مکمل طور پر بھلائی ہے۔

2۔جس شخص سے حیا  فوت ہو جائے   تو وہ ہر ظاہری وباطنی برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے ، اور اسے کوئی چیز بھی نہیں روک سکتی، کیونکہ حیا ہی وہ چیزہے جو برائیوں کے ارتکاب سے روکتی ہے، لہذا جب  حیا اللہ کی وجہ سے ہوگی تو وہ  ان برائیوں سےرک جائے گا جس کی مذمت دین اسلام نے کی ہے،اورجب  حیا لوگوں  کی وجہ سے ہو گی تو وہ  ان برائیوں سےرک جائے گا جسے لوگ برا سمجھتے ہیں، اورجب  حیافوت ہوجائے  تو  وہ جو چاہے کرےاسے کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں۔

3۔مسلمان شخص کو ان نیک عادات کو اسکے اسباب اختیار کرکے اپنے اندر پروان چڑھانا چاہئے، اور ان  اسباب  میں سے:

1۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی معرفت اور اسکی اقتدا کرنا ہے 

2۔ اہل علم کی مجلسوں   اور ذکر کے حلقات کی ملازمت اختیار کرنا ہے

3۔نیک لوگوں کی صحبت اپنانا ہے۔

حواشي:

(1) فيض القدير للمناوي، 1/ 43- 44) .

 (2) اسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے،، رقم: (6117).

 (3) جامع العلوم والحكم، لابن رجب، ص: 379.

 (4) صحيح البخاري، برقم:(24)، وصحيح مسلم، برقم:(36).

 (5) صحيح البخاري، برقم:(9)، وصحيح مسلم، برقم:(35).

 

 

التعليقات  

#1 حیا کی تعریفBroderick ٤ رجب ١٤٣٨هـ
Very energetic article, I loved that bit. Will there be a part
2?

Review my web blog :: https://www.viagrasansordonnancefr.com/viagra-femme-prix-tunisie/: https://www.viagrasansordonnancefr.com/viagra-femme-prix-tunisie/
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث