سنّت کے اذکار واوراد(اذکاروظائف)

مقدّمہ

الحمد لله نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله- صلى الله عليه وسلم- وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.  

       ہر قسم کی تعریف صرف اللہ کے لئے لائق وزیبا ہے،ہم اسیکی تعریف بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اور اس سے بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنےنفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں،  اللہ جسے ہدایت دے اُسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا،  اور جسے گمراہ کردے اُسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،  اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی (برحق) معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں،  اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں، اور درود وسلام نازل ہوں آپ پر ، آپ کے خاندان پر ، آپ کے صحابہ پر اور قیامت تک ان کی سچی اتباع وپیروی کرنے والوں پر۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

     بے شک سب سے بہتر چیز جسے انسان اپناتا ہے، اور زبان سے اسے ادا کرتا ہے، کثرت سے اللہ  کی ذِکر وتسبیح  اور تحمید  بیان کرنا  ہے، اور اسکے  عظیم کتاب کی تلاوت کرنا ہے، اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے نذرانے پیش کرنا ہے، ساتھ ہی رب  سبحانہ وتعالیٰ سے  بکثرت دعا کرنا ہے،   اور اس سے دین ودنیا کی تمام ضرورتوں کا سوال کرنا ہے ،  اور   اس  سے مدد طلب کرنا  ہے ،   اور اُسی سے ایمانِ صادق،اخلاص وتواضعاورحضور قلب کے ذریعہ  التجا کرنا ہے،جس( التجا)   کے ذریعہ  داعی وذاکر اللہ کی عظمت ، ہر چیز پر اسکی قدرت  و معرفت اور اسی کے لئے عبادت کے استحقاق  کو (ذہن میں) حاضر رکھتا ہے۔

      اور ہم عنقریب  اس حلقہ میں صبح وشام  ، سونے جاگنے، گھر  میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے، مسجد میں داخل ہونے اور  اس سے نکلنے ، سفر  کیلئے جانے  اور اس سے واپس ہونے ، اور پنج وقتہ نمازوں کے  بعد وغیرہ   مناسبات سے متعلق درج ذیل منہج کے مطابق چند اذکار ود عائیں ذکر  کریں گے۔:

اذکاروادعیہ(ذکر کرنے) کا طریقہ کار:

۱۔ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ میں وارد دعاؤں پر اکتفا کرنا،کیونکہ اسی میں کفایت وبے نیازی ہے۔

۲۔ متقدمین ومعاصرین   ائمہ اَعلام کی تالیفات سے احادیث پرحکم لگانے ، باب قائم کرنے، اور فوائد وغیرہ کے تذکرہ کے سلسلے  میں استفادہ حاصل کرنا۔

۳۔ توثیق میں علمی منہج  کا اپنانا اور ویب سائٹ کے ضوابط کے مطابق (چلنا)۔

اور ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ اسکے ذریعہ نفع دے، اور اس  میں سے قاری کے لئے توشہ بنائے،   اور اسکے دینی ودنیوی مصالح میں معاون ومدگار ہو۔

اور درود وسلام کے نذرانے ہوں ہمارے نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)  پر ،انکے خاندان پر اور انکے اصحاب پر۔

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث