ماہِ رمضان کے روزے کا حکم

 

بے شک رمضان کے روزے اسلام کے ارکان اور اس کے عظیم مبانی میں سے ایک ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:}شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ{[سورة البقرة: 183-185]

ترجمہ:’’ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والاہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو ‘‘۔

اور نبیﷺ کا فرمان ہے:(بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وحج البيت، وصوم رمضان)، متفق عليه. ولمسلم: (وصوم رمضان وحج البيت) (1).

ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں،اورمحمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، بیت اللہ کاحج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہ متفق علیہ روایت ہے، اورصحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے’’رمضان کا روزہ رکھنااورحج کرنا ‘‘۔

  رمضان کے روزے کی فرضیت پر تمام مسلمانوں کا  قطعی طورپر اجماع ہے جو بدیہی طور پر دین اسلام سے معلوم ہے، جس نے اس کے وجوب کا انکار کیا تو اس نے کفر کیا،ایسے شخص سے توبہ کرایا جائے گا، اگر توبہ کرلیتا ہے  اور اس کے وجوب کا اقرار کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ اسے کافرہونے کی وجہ سے قتل کردیا جائے گا  اوراسلام سے مرتد شمارہوگا،اسے نہ غسل دیا جائے گا  نہ کفن ،اورنہ ہی اس کا جنازہ پڑھا جائے گا،اور نہ ہی اس کے لیے رحمت کی دعا کی جائے گی، اورنہ ہی مسلمانوں کی قبرستان میں دفن کیا جائے گا،بلکہ اسے کسی دور جگہ میں گڈھا کھود کر دفن کردیا جائے گا، تاکہ اس کی بدبو سے لوگوں کو تکلیف نہ ہو،اور اس کے گھر والے اس کے مشاہدہ سے اذیت  نہ محسوس کریں۔

ماہ رمضان کا روزہ سن دو ہجری میں فرض کیا گیا ،چنانچہ آپﷺنے نو سال روزہ رکھا۔

روزہ کا ثبوت مہینہ کے داخل ہونے سے ہوگا،لہذا دخول  ماہ سے پہلے(بطوراستقبال) روزہ نہیں  رکھا جائے گا، نبیﷺکے اس فرمان کی وجہ سے:(لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم) رواه البخاري (2).  

ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے، البتہ جو اس سے پہلے (اس دن) روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے ‘‘۔اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔

ماہ رمضان کا دخول دو امور میں  سے  کسی ایک سے ہوگا:

پہلا: چاند کا دیکھنا ،اللہ تعالی ٰ کے اس قول کی وجہ سے:} فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ{

’’ جوشخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے۔‘‘ اور نبیﷺ کے اس فرمان کی  وجہ سے:   (إذا رأيتم الهلال فصوموا) متفق عليه (3). ’’جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو۔‘‘ اوریہ شرط نہیں لگائے جائے گی کہ ہرکوئی اسے خود دیکھے،بلکہ جب اسے ایسا شخص دیکھےجس کی شہادت  سے دخول ماہ کا اعتبار ہوتا ہے  تو تمام لوگوں پر روزہ رکھنا واجب ہوگا۔

 اورجو یقینی طورپر چاند دیکھے اس کے لئے ولی امر  کو بتانا واجب ہے، اسی طرح ہلال شوال اور ذی الحجہ کاچاند دیکھنے والے کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ اس کے مشاہدے پر روزہ ،فطر،اورحج  کا وجوب مرتب ہوتا ہے،اور۔جس چیز سے واجب کی تکمیل ہو وہ بھی واجب ہے۔،اورگرکوئی شخص کسی دور جگہ پر تنہاچاند دیکھے  جہاں سے حاکم وقت کو خبر دینا ممکن نہ ہو تووہ روزہ رکھے اور حسب استطاعت حاکم وقت تک خبر پہنچانے کی کوشش کرے۔

اورجب حکومت کی جانب سے ریڈیو یا کسی اور ذرائع سے ماہ کے ثبوت کا اعلان کیا جائے تو اس خبر کے ذریعہ ماہ کے دخول وخروج کا اعتبار ہوگا چاہے رمضان میں ہو یا غیر رمضان میں،کیونکہ حکومت کی جانب سے اعلان کرنا  شرعی حجّت ہے جس کے مطابق عمل کرنا واجب ہے۔اسی لیے نبیﷺنے دخول رمضان کے ثابت ہونے پر حضرت  بلال رضی اللہ عنہ کو لوگوں میں ماہ رمضان کے ثبوت کا اعلان کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگ روزہ رکھیں،اور اس خبر کو ان کے روزہ رکھنے کے لیے لازم قراردیا۔

جب شرعی طور سے ماہ کے دخول کا ثبوت ہوجائے توچاند کے منازل کا کوئی اعتبار نہیں،کیونکہ نبیﷺ نے حکم کو چاند کی رویت سے معلق کیا ہے نہ کہ اس کے منازل سے۔چنانچہ آپﷺ کا فرمان ہے:(إذا رأيتم الهلال فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا) متفق عليه (4).

ترجمہ:’’ جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب (شوال) کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو‘‘۔یہ متفق علیہ روایت ہے۔

دوسری بات: جس سے مہینہ    کا ثبوت ہوتا ہے اس کا تیس دن مکمل ہونا ہے کیونکہ قمری ماہ تیس دن سے زیادہ نہیں ہوتا  اورنہ ہی ۲۹ دن سے کم ہوتا ہے۔

پس جب پچھلا مہینہ تیس دن ہوجائے تو شرعی طور پربعد  میں آنے والے مہینہ  کے بارے دخول ماہ کا حکم لگایا جائے گا، گرچہ چاند نظر نہ آئے، نبیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے:

(صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غمي عليكم الشهر فعدوا ثلاثين)رواه مسلم، ورواه البخاري بلفظ: فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين) (5).

’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کرافطار کرو،پس اگر تمہیں مہینہ کے پورا ہونے میں بد لی ہوجائےتوتیس دن مکمل کرو‘‘۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور بخاری کے لفظ میں ہے: اور اگر بادل ہوجائے تو شعبان کے تیس روز پورا کرو۔‘‘

ان احادیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ  چاند دیکھنے سے پہلے رمضان کا روزہ نہیں رکھا جائے گا، پس اگر چاند نہیں دکھا تو شعبان کے تیس دن پورا کرنا ہوگا،اورنہ ہی تیس تاریخ کو روزہ رکھا جائے گا چاہے رات صاف ہو یا بدلی ہو، عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی وجہ سے: «من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه وسلم» رواه أبو داود والترمذي والنسائي وذكره البخاري تعليقا (6).

’’جسنے شک کے دن میں روزہ رکھا توگویا اس نے ابوالقاسمﷺ کی نافرمانی کی۔‘‘

اسے ابوداود،ترمذی،نسائی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے تعلیقا ذکر کیا ہے۔

روزے کے احکام کے سلسلے  میں لوگوں کے قسمیں:

پہلی قسم: مسلمان،بالغ،عاقل،(روزہ پر)قادر،موانع سے پاک  شخص کی ہے ان پر رمضان کا روزہ اس کے وقت پر بطورادا رکھنا  کتاب وسنت اور اجماع کے دلائل کی روشنی میں واجب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: }شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ {[سورة البقرة: 183]

ترجمہ:’’ ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے وا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے‘‘۔اور نبیﷺ کا فرمان ہے:

:(إذا رأيتم الهلال فصوموا) متفق عليه

ترجمہ:’’ جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو  ‘‘۔یہ متفق علیہ روایت ہے۔

اورتمام مسلمانوں کا صیام کے وجوب کی ادائیگی پر اجماع  ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔

اورکافرشخص پر روزہ واجب نہیں ہے، اورنہ ہی اس  کا روزہ صحیح ہے کیونکہ وہ عبادت کا اہل نہیں ہے، اگروہ ماہ رمضان  کے درمیان اسلام لے آئےتواس پر پچھلے دنوں کی قضاء لازم نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: }قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ{[سورة الأنفال: 38]

ترجمہ:’’آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے ۔‘‘

اور اگر رمضان کے کسی دن کے درمیان  میں اسلام لے آئے تو اسے بقیہ دن  امساک (کھانے پینے وغیرہ سے رکنا)  لازم ہوگا کیونکہ اسلام لانے کے وقت سے وہ اہل وجوب میں سے ہوگیا البتہ اس پر اس دن کا قضا لازم نہیں ہوگا کیونکہ امساک کے وجوب کے وقت وہ اہل وجوب میں سے نہیں تھا۔

دوسری قسم: صغیر(کم سن بچہ ،بچی)کی ہے بالغ ہونے تک اس پر روزہ واجب نہیں ہے نبیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: (رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصغير حتى يكبر وعن المجنون حتى يفيق) رواه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه الحاكم (7).

ترجمہ:’’ تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے :ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ ہوش میں  آ جائے۔ اسے احمد،ابوداود،نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قراردیا ہے۔

لیکن اگر وہ بچہ طاقت رکھتا ہے تو سلف صالحین رضی اللہ عنہم کی اقتدا  کرتے ہوئے اس کا سرپرست اسے طاعت پر مشق کرانے کے لیے روزہ  رکھنے کا حکم دے گا تاکہ بلوغت کے بعد وہ روزہ رکھنے سے مانوس ہوجائے ۔چنانچہ صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین اپنے چھوٹے بچوں کو روزہ رکھواتے تھے اورانہیں مسجدوں میں لے جاتے تھے اوران کے لیے اون وغیرہ کی گُڑیا  بنادیتے تھے پس جب وہ بھوک  کی وجہ سے روتے تو اسی گڑیا کو دے دیتے تھے تاکہ اسی سے کھیلنے میں مشغول ہوجائیں۔

اور موجودہ دور میں بہت سارے سرپرست اس چیز سے غافل ہیں،اوروہ اپنے بیٹوں کو روزہ رکھنے کا حکم  نہیں دیتے،بلکہ بعض اپنے بچوں کو ان کی رغبت کے باوجود بھی روزہ رکھنے سے روکتے ہیں  اوریہ گمان کرتے ہیں کہ ایسا وہ ان پر بطور رحمت کرتے ہیں۔جبکہ حقیقت میں ان کے ساتھ رحمت ان کی اسلامی شعار اور اس کے بلند تعلیمات پر  تربیت کرنا ہے۔لہذا جس نے انہیں اس چیز سے روکا یا اس سلسلے میں کوتا ہی کی تووہ ان کے ساتھ  اور اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہوگا۔۔۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اگر روزہ  رکھنے کی وجہ سے ان کو تکلیف پہنچتا ہے  تواسوقت انہیں (روزہ  رکھنے سے) منع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تیسری قسم: پاگل فاقد العقل شخص  کی ہےاس پر روزہ واجب نہیں ہے،جیسا کہ نبیﷺ کاقول گزرچکا ہے:(رفع القلم عن ثلاثة..) الحديث (8).

’’تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے....‘‘اوراس کا روزہ رکھنا صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے پاس عقل ہی نہیں ہے جس سے وہ عبادت کا شعور اور اس کی نیت کرسکے،اور عبادت بغیر نیت کے صحیح نہیں ہے، نبیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے:( إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرأ ما نوى..) (9)

ترجمہ: ’’ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے۔‘‘

پس اگروہ کبھی پاگل ہوجاتا اورکبھی ہوش میں آجاتا ہے تو افاقے کی حالت میں  اس پر روزہ رکھنا لازم ہوگا نہ کہ جنون میں،اور اگر دن کے درمیان اس  پرجنون  طاری ہوا تو اس کا  روزہ باطل نہیں ہوگا جیسے کہ وہ کسی بیماری وغیرہ کے سبب بے ہوش ہوجائے،کیونکہ اس نے روزہ کی نیت صحت وعقل کی حالت میں کی ہے۔اوراس کے بطلان کی کوئی دلیل نہیں ہے خاص کر جب یہ معلوم ہو کہ یہ پاگل پن خاص گھڑیوں میں ہی لاحق ہوتا ہے۔اسی بنیاد پر اس پر جنون  لاحق ہونے والے دن کی قضا لازم نہیں ہوگی۔

اور اگر مجنون  رمضا ن کے دن کے دوران کسی وقت افاقہ پاجائے تو ایسی صور ت میں  اس کو بقیہ دن امساک کرنا(کھانے پینے وغیرہ سے رکنا) لازم ہوگا،کیونکہ وہ اہل وجوب میں سے ہوگیا اور اس پر اس  دن کی قضا ضروری نہیں ہوگی بچہ کی طرح  جب وہ بالغ  ہوجائے اور کافر  کی طرح جب وہ اسلام لے آئے(تواس دن  کا قضاان پر لازم نہیں ہوگا،البتہ کھانےپینے سے بقیہ دن رکے رہیں گے)۔

چوتھی قسم: بوڑھا  معمر شخص جو ہذیان کی کیفیت کو پہنچ گیا ہو اور تمییز کرنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہو تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس کی طرف سے کھانا کھلانا واجب ہوگا، کیونکہ تمییز کے مفقود ہونے کی وجہ سے اس سے تکلیف(شرع) ساقط ہوگیا،تو اس طرح وہ تمییز سے پہلے بچہ  کے مشابہ ہوگیا۔

اور اگرکبھی تمییز آجائے اورکبھی اس پر ہذیان(یاوہ گوئی) طاری رہے تو تمییز کی صورت میں اس پر روزہ  رکھنا واجب ہے نہ کہ ہذیان میں۔اور نماز،روزہ کی طرح ہے حالت ہذیان میں اس پر لازم نہیں ہوگا، لیکن حالت تمییز میں اس پر لازم ہوگا۔

پانچویں قسم: روزے سے برابرعاجز وقاصر رہنے والے شخص  کی  جس  کےعجز کے ختم  ہونےکی امید نہ ہو، جیسے بوڑھا اورایسا  بیمار شخص جس کے شفایابی کی امید نہ ہو(یعنی دائمی بیماری ہو)، جیسے کینسر میں مبتلاشخص وغیرہ۔تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے کیونکہ  وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا‘‘۔ اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ  کا ارشاد ہے:}فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ{[سورة التغابن: 16]’’ پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو‘‘ نیز فرمایا:

}لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا{[سورة البقرة: 286] ’’ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا‘‘۔

لیکن اس  پر ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہے،کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کھانا کھلانے کو روزہ  کے مساوی قراردیا  ہے اسوقت جب پہلے پہل روزہ فرض ہوا تھا تو ان دونوں کے درمیان اختیاردیا گیا تھا تو  یہ متعین ہوگیا  کہ روزہ سے عاجز ہونے کےوقت کھانا روزہ کے بدل ہوگا کیونکہ یہ اس کے مساوی ہے۔

اورکھانا کھلانے میں یہ اختیار ہے کہ اسے چاہے تو مسکینوں  کو غلہ کی شکل میں دےیعنی ہرمسکین کو ایک مد گندم جوصاع نبوی کے چوتھائی ہو ،یا کھانا تیار کرائے اور ایام کے مطابق مسکینوں کو بلا کر کھلائے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: رھا بوڑھا شخص جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتا تو انس رضی اللہ عنہ  جب معمر ہوگئے تو ایک یا دوسال تک ہر مسکین کو روٹی وگوشت کے شکل میں کھانا کھلایا،اور روزہ نہیں رکھا۔‘‘

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما  روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے بوڑھے مرد اوربوڑھی عورت کے بارے میں فرمایا: وہ دونوں ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔(10).

چھٹی قسم:مسافر شخص  کی ہے جب وہ اپنے سفر سے فطر کرنے(روزہ توڑنے ) کا حیلہ وبہانہ نہ کرے، پس اگر وہ اپنے سفر سے فطر کا حیلہ کرتا ہے تو اس کے لیے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے،بلکہ حرام ہے،اوراس وقت اس پر روزہ رکھنا واجب ہے۔

اگر وہ حیلہ نہیں کرتا تو روزہ رکھنے اورتوڑنےمیں اختیار ہے چاہے لمبی سفر ہو یا مختصر،چاہے اس کا سفر کسی  عارضی غرض سے ہو یا مستمر(دائمی) ۔ جیسے کہ جہاز کے کیپٹن اور ٹکیسی ڈرائیور ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے :} وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ{ [سورة البقرة: 185] ترجمہ:’’ ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں‘‘۔

اور صحیحین  میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: كنا نسافر مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم (11).

ہم نبیﷺکے ساتھ سفر میں ہوتے تو ہم میں سے روزہ رکھنے والاافطار کرنے والے کو عیب نہیں لگاتا اور نہ ہی افطارکرنے والا روزہ رکھنے والے کو عیب لگاتا۔‘‘

اور صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: يرون أن من وجد قوة فصام فإن ذلك حسن، ويرون أن من وجد ضعفا فأفطر فإن ذلك حسن (12).

’’صحابہ کرام کا یہ خیال تھا کہ جس میں قوت ہو وہ روزہ رکھے یہ بھی خوب ہے اور جس میں ضعف ہو وہ افطار کرے یہ بھی خوب ہے۔‘‘

لہذا اگر ٹیکسی ڈرائیورپر رمضان میں سفرمیں گرمی کی وجہ سے روزہ رکھنا شاق گزرتا ہے تو اس کے لیے روزہ کو موسم کے ٹھنڈا ہونے تک مؤخر کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس میں روزہ رکھنا میسرہوجائے۔

اورمسافر کے لیے افضل یہی ہے کہ روزہ اور فطرمیں سےجو زیادہ آسان ہو اپنائے،پس اگردونوں برابر ہوں تو روزہ رکھنا افضل ہے کیونکہ اس میں ذمے داری سے جلدی عہد برآہونا ہے،اورلوگوں کے ساتھ روزہ رکھنے میں زیادہ نشاط ہے، کیونکہ یہ نبیﷺ کا فعل ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في رمضان في حر شديد، حتى إن كان أحدنا ليضع يده على رأسه من شدة الحر، وما فينا صائم إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم وعبدالله بن رواحة (13).

’’ ہم رسول اللہ کے ساتھ ماہ رمضان میں سخت گرمی میں نکلے ،یہاں تک کہ ہم میں سے بعض اپنا ہاتھ گرمی کی سختی سے سر پر رکھے ہوئے تھا ، اور ہم میں سے کوئی روزہ دار نہ تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔‘‘

اورجب رسولﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ صحابہ پر روزہ شاق گزررہا ہے تو آپﷺنے ان کی رعایت کرتے ہوئے روزہ توڑدیا۔

اورجابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ: رسول اللہ فتح مکہ کے سال (رمضان میں) مکہ کے لیے نکلے، تو آپ نے روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے،اوروہ آپ  ﷺکی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کیا کرنے والے ہیں(یعنی آپ کے حکم کے منتظرہیں)، تو آپ ﷺنے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا، پھر پانی پیا، اور لوگ دیکھ رہے تھے۔‘‘  اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

اورجب مسافر پر روزہ شاق گزرے تو وہ روزہ توڑ دے گا اورسفر میں روزہ نہیں رکھے گا،جیسا کہ جابررضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث میں ہے  کہ جب نبیﷺ نے لوگوں پر روزہ شاق گزرنے کی وجہ سے روزہ توڑدیا تو آپﷺ کو یہ خبردی گئی کہ: کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں،توآپﷺ نے فرمایا: (أولئك العصاة، أولئك العصاة) رواه مسلم (15).

وہ لوگ نافرمان ہیں،وہ لوگ نافرمان ہیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

اورصحیحین میں جابر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سفرمیں تھے  کہ ایک بھیڑ دیکھا اورایک شخص کو دیکھا کہ اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ ﷺنے فرمایا’’یہ کیا ہے‘‘؟ لوگوں  نے کہا کہ:’’ یہ روزہ سے ہے‘‘، توآپﷺ نے فرمایا:(ليس من البر الصيام في السفر) (16).’’سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔

اورجب روزہ دار دن کے دوران سفر کرے اور اس پر روزہ مکمل کرنا شاق ہوجائے تواس کے لیے فطرکرنا جائز ہے جب وہ اپنے شہر سے نکل جائے،کیونکہ نبیﷺ روزہ سے تھے اور لوگ بھی ساتھ میں روزےسے تھے یہاں تک کہ کراع الغمیم (مقام پر)پہنچے،اورجب آپﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ لوگوں پر روزہ رکھنا شاق ہوگیا ہے تو آپﷺ نے روزہ توڑدیا اور آپﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ توڑدیا، اورکراع الغمیم ایک کالا پتھرہے جوحرہ کے کنارے غمیم نامی وادی تک پھیلاہوا  ہے اور یہ عسفان اور مرّ الظہران کے درمیان واقع ہے۔

ساتویں قسم: ایسا بیمار شخص جس کے شفایابی کی امید ہو،اس کی تین حالتیں ہیں:

اول: ایسا بیمار جس پر روزہ گراں نہ گزرے اور نہ ہی اس سے کوئی تکلیف ہو، توایسی صورت میں اس  پر روزہ رکھنا واجب ہے کیونکہ اس کےپاس کوئی ایسا عذر نہیں ہے جس سے روزہ توڑنا جائز ہو۔

دوم۔اس پر روزہ رکھنا گراں گزرے لیکن اسےکوئی نقصان نہ ہو تو ایسی صورت میں افطار کرے گا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: }ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر{[سورة البقرة: 185]’’ ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے۔‘‘

اورمشقت کے ساتھ اس کا روزہ رکھنا مکروہ ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رخصت کو نہ لینا ہے اوراپنے نفس کو عذاب میں مبتلا کرنا ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ: إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يكره أن تؤتى معصيته» رواه أحمد وابن حبان وابن خزيمة في صحيحيهما (17) .

’’بے شک اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو لیا جائے جیسے اس بات کو ناپسند جانتا ہے کہ اس کی معصیت کا مرتکب ہوا جائے۔‘‘ اسے احمد نے مسند میں، اورابن حبان وابن خزیمہ نے اپنی  اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

سوم:اس کو روزہ کی وجہ سے تکلیف ہو تو ایسی صورت میں اس کا روزہ توڑنا واجب ہے ،اس کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے:}وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا{ [سورة النساء: 29] ’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے‘‘۔ اوراللہ کا فرمان:} وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ { [سورة البقرة: 195]

’’ اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو ‘‘۔

اورنبیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے  کہ: إن لنفسك عليك حقا) رواه البخاري (18).

’’بے شک تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔

اوراس کے حق میں سے  ہےکہ اللہ سبحانہ کی رخصت ہوتے ہوئے اسے تکلیف میں مت ڈالو۔

اورآپﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: «لا ضرر ولا ضرار» أخرجه ابن ماجه والحاكم. قال النووي وله طرق يقوي بعضها بعضا (19).

’’نہ خود نقصان اٹھاؤ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ‘‘۔ اسے ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیا ہے، نوویؒ فرماتے ہیں کہ: اس حدیث کے کئی طرق ہیں ان میں سے بعض بعض کو تقویت دیتے ہیں۔

اوراگر رمضان کے درمیان کوئی مرض لاحق ہوجائے اور وہ روزہ سے ہو ،اور اس کا روزہ پورا کرنا مشکل ہوجائے تو اس کے لیے روزہ توڑنا جائز ہے کیونکہ فطر کو جائز قراردینے والی (سبب) موجود ہے۔

اسی طرح اگر طب سے یہ ثابت ہوجائے کہ روزہ     رکھنے سے بیمار ہوجائے گا،یا بیمار کی شفایابی میں تاخیر ہوگی تو صحت کا خیال کرتے ہوئے بیماری سے بچاؤ کے لیے اس کا روزہ توڑنا جائز ہوگا۔

اور اگراس اندیشہ کے زائل ہونے کی امید ہو تو کچھ انتظار کرے  یہاں تک کہ یہ زائل ہوجائے پھر جو روزہ توڑا ہے اس کی قضا کرے گا، اور اگر شفایابی کی امید بالکل نہ ہو تواس کا حکم پانچویں قسم میں بیان کردہ حکم ہوگا یعنی روزہ  نہیں رکھے گا،اورہردن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔

آٹھویں قسم:حائضہ  عورت کی ہے اس پر روزہ رکھنا حرام ہے،اور اس کا روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے ،عورتوں کے بارے میں بنیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: (ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهب للب الرجل الحازم من إحداكن، قلن: وما نقصان عقلنا وديننا يا رسول الله؟ قال: أليس شهادة المرأة مثل نصف شهادة الرجل؟ قلن: بلى. قال: فذلك نقصان عقلها، أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم؟ قلن: بلى. قال: فذلك من نقصان دينها) متفق عليه (20).

 ’’ باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو لے جانے والا نہیں دیکھا، عورتوں نے عرض کی کہ: ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ نے فرمایا: بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ: یہی اس کے دین کا نقصان ہے‘‘۔یہ متفق علیہ روایت ہے۔

اورحیض یہ طبعی خون ہوتا ہے جس کا عورت اپنے معلوم دنوں میں عادی ہوتی ہے۔

اگر عورت روزہ سے ہے اور غروب سے ایک سکنڈ قبل ہی اسے حیض آجائے تو اس دن کا روزہ باطل ہوجائے گا،اوراس پر اس دن کی قضا لازم ہوگی،الا یہ کہ اس کا روزہ رکھنا تطوع(نفل) کے طور پرہو،تو اس کا قضاکرنا تطوع ہے واجب نہیں ہے۔

اسی طرح اگر دوران رمضان حیض سے  پاک ہوجائے تو اس کا بقیہ دن  کا روزہ رکھنا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ یہ  اس کے حق میں ابتدائےدن   سے روزہ شروع ہونے کے مخالف ہے۔

اسی طرح اگر رمضان کی رات  میں فجر سے کچھ پہلے پاک ہوجائے تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہوگا کیونکہ یہ اہل صیام میں سے ہے اوراس کے پاس کوئی ممانعت نہیں ہے،لہذا اس پر روزہ  رکھنا واجب ہے، اوراس وقت اس کار وزہ رکھنا صحیح ہوگا، اگرچہ طلوع فجر کے بعد ہی غسل کرے جیسے جنبی شخص روزہ رکھے اور  اور طلوع فجر کے بعد غسل کرے تواس کا روزہ صحیح ہوگا عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان کی وجہ سے :(كان النبي صلى الله عليه وسلم يصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصوم في رمضان) متفق عليه.

’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے، اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے، پھر (غسل کرتے )اور اپنا روزہ پورا کرتے۔‘‘ یہ متفق علیہ روایت ہے۔

اور ان تمام   بیان کردہ   امور  میں نفاس والی عورتوں کا وہی حکم ہے جو حائضہ کا ہے۔

اورحائضہ پر چھوٹے ہوئے ایام کی قضا ضروری ہے، اللہ کے ا س فرمان کی وجہ سے کہ: } فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ { [سورة البقرة: 184]’’ اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے ‘‘۔

اورعائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ :کیا بات ہے کہ حائضہ روزہ کی قضا کرتی ہے اور نماز کی نہیں کرتی؟ فرمایا: «كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة» متفق عليه (21) .

’’ہمیں حیض آتا تھا  توہم کو روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں ہوتا۔‘‘یہ متفق علیہ روایت ہے۔

نویں قسم:دودھ پلانے والی یا حاملہ عورت کی ہے جب وہ اپنے نفس کے بارے میں ڈرے یا روزہ کی وجہ سے بچہ کے بارے میں خوف کر ے تو افطار کرے گی، انس بن مالک کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی وجہ سے جس میں رسولﷺ نے فرمایا ہے: (إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة وعن المسافر والحامل والمرضع الصوم أو الصيام»  أخرجه الخمسة وهذا لفظ ابن ماجة(22).

’’اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے، اور مسافر، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) سے روزہ معاف کر دیا ہے۔‘‘ اسے پانچوں(احمد ،ابوداود،نسائی،ترمذی،ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور یہ ابن ماجہ کے الفاظ ہیں۔

اورجتنے ایام  اس نے روزے توڑے ہیں میسر ہونے  اور خوف کے زائل ہونے پر ان کی قضا کرنی لازمی ہوگی مریض کی طرح جب وہ شفا پاجائے(تواس پر قضالازم ہوتی ہے)۔  

اورہروہ شخص جس کے لئے گزرے سبب کی بنا پر فطر کرنا جائز ہے توفطرکے سبب ظاہر ہونے پر اس کا فطر کے اعلان کرنے پر انکار نہیں کیا جائے گا جیسے بیمار اور بوڑھا شخص جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتا ۔

اور اگر فطر(روزہ توڑنے ) کا سبب خفیہ ہو جیسے حائضہ  عورت تو وہ خفیہ طور پر روزہ توڑے گی اوراپنے فطر کا اعلان نہیں کر ے گی تاکہ اس کے نفس  کے ساتھ تہمت نہ جڑ جائے اور جاہل اس بات سے دھوکہ نہ کھاجائیں کہ بغیر عذر کے فطر  کرنا جائز ہے۔

اورسابقہ قسموں میں سے جس پر بھی قضا لازم ہے تو اس کو افطارکیے ہوئے ایام کی قضا کرنی ہوگی ،اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: }فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ { [سورة البقرة: 184]’’ اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے ‘‘۔

اوربہتر یہ ہے کہ عذر کے ختم ہوتے ہی قضا کی طرف جلدی کرےکیونکہ اس میں خیر وبھلائی  کی طرف سبقت کرنا اور ذمے داری سے جلد ہی  عہدہ برآ ہونا  ہونا ہے۔

اوراس قضا کو مؤخر کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس رمضان اور دوسرے رمضان کے درمیان اتنے ایام ہوں جن  کی قضا کرنی ہے،اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کیوجہ سے:}فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ{’’ اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں۔‘‘

اورآسانی کے تکمیل میں سے  اس کا اپنے قضاء کو مؤخر کرنا ہے۔لہذااگراس پر رمضان کے دس دن رہ گئے ہیں تو اس کے لیے اس کو اس وقت تک مؤخر کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوسرے رمضان کے مابین دس دن رہ جائیں۔

اور بغیر عذر کے قضاء کو دوسرے رمضان تک مؤخر کرنا جائز نہیں ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان کی وجہ سے: (كان يكون عليّ الصوم من رمضان فما أستطيع أن أقضيه إلا في شعبان) رواه البخاري (23)

’’میرے ذمے رمضان کے روزے رہتے تھے لیکن میں انہیں شعبان میں ہی قضا کر پاتی تھی۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔

اوراس لیے بھی کہ اسےدوسرے رمضان تک  مؤخر کرنے میں بہت سارے روزے جمع ہوجائیں گے ،اورممکن ہے کہ وہ اس کے رکھنے سے عاجز ہوجائے ،یا اس کی وفات ہی ہوجائے۔اوراس لیے بھی کہ روزہ باربار آنے والی عبادت ہے لہذا نماز کی طرح پہلے کو دوسرے کے وقت تک مؤخر کرنا جائز نہیں ، لیکن اگر اس کا عذر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس پر دوسرے دنوں میں تکمیل کو واجب کیا ہے، اور وہ اس کی تکمیل نہیں کرسکا لہذا اس سے وہ واجب ساقط(معاف) ہوگئی،جیسے وہ شخص جوماہ رمضان کے داخل ہونے سے پہلے ہی وفات پاگیا تو اس پر اس کا روزہ رکھنا لازم نہیں ہے۔لیکن اگر وہ قضاء پر قادر تھا لیکن اس نے کوتا ہی سے کام لیا یہاں تک کہ وفات پاگیا تو اس کی طرف سے اس کا ولی  تمام چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گا ،نبیﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے :(من مات وعليه صيام صام عنه وليه) متفق عليه (24).

’’جوشخص مرگیا اور اس کے ذمےروزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی رکھے گا۔‘‘یہ متفق علیہ روایت ہے۔

  اور اس کا ولی اس کا وارث یا اس کا قریبی شخص ہے۔اوراس کی طرف  سے اس کے چھوٹے ہوئے روزوں کو  ایک دن میں پوری جماعت کی طرف سے رکھنا جائز ہے،امام بخاریؒ فرماتے ہیں:حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ: اگر اس کی طرف سے تیس  لوگ ایک دن میں روز ہ رکھیں تو جائز ہے‘‘۔

اور اگر اس کا کوئی ولی نہ ہو،یا ولی تو ہو مگراس کی طرف سے روزہ نہ رکھنا چاہتا ہو تو اس کی طرف  سے اس کے ترکہ میں سے ان ایام کے برابر ہردن ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، ہرمسکین کو ایک مد گندم جس کا وزن اچھے گندم کے اعتبار سے  آدھا کلو اور دس گرام(510gm) ہوگا۔

میرے بھائیو: شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے  حکمت ورحمت ہے جس کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے، کیونکہ یہ آسانی و رحمت، پختگی اور حکمت پر مبنی شریعت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے مکلفین میں سے ہرشخص پراس کے حال  کےمطابق واجب کیا ہے تاکہ ہرشخص اپنے اوپر واجب  کردہ امور کی ادائیگی کرے،اور اس سے اس کا سینہ منشرح ہو،اوراس کا دل مطمئن ہو،اوراللہ کورب  ،اسلام کو دین اور محمدﷺ کو نبی مان کر خوش ہو۔

لہذا اے مومنو: اس بہترین دین پر اوراس عطا کردہ ہدایت کی نعمت پر اللہ کی تعریف کرو،جبکہ بہت سارے لوگ اس ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے موت تک اس پر ثابت قدمی کی سوال کرتے رہو۔

حواشی:

(1) صحيح البخاري (8) و صحيح مسلم (16) .

(2) صحيح البخاري (1914) و صحيح مسلم (1082) .

(3) صحيح البخاري (1900) و صحيح مسلم (1080 ـ 1081) .

(4)(5) سبق تخريجه .

(6) سنن أبي داود (2334) والترمذي (686) والنسائي (2190).

(7) سنن أبي داود (4398) والنسائي (3432) ومسند أحمد 6/ 100 ومستدرك الحاكم 2/59 اوراسے مسلم کی شرط پر صحیح قراردیا ہے۔

(8) سبق تخريجه .

(9) صحيح البخاري (1) و صحيح مسلم (1907) .

(10) صحيح البخاري (4505 ) .

(11) صحيح البخاري (1947) و صحيح مسلم (1118) .

(12) صحيح مسلم (1116) .

(13) صحيح مسلم (1122)  .

(14)(15) صحيح مسلم (1114)  .

(16) صحيح البخاري (1946) و صحيح مسلم (1115) .

(17) مسند أحمد 2/108 و صحيح ابن حبان (2797) و صحيح ابن خزيمة (950) اس کی سند میں کچھ اضطراب پایا جاتا ہے لیکن حدیث اور اصول شریعت میں اس کےشواہد موجود ہیں۔

 (18) صحيح البخاري (1153) .

(19) سنن ابن ماجه (2341) ومسند أحمد 1/313 من حديث ابن عباس، وسنن ابن ماجه (2341) ومسند أحمد 5/326 من حديث عبادة بن الصامت ، ورواه الحاكم 2/57 ـ 58 من حديث أبي سعيد الخدري.

(20) صحيح البخاري (304) وصحيح مسلم (79).

(21) صحيح البخاري (321) و صحيح مسلم (335).

(22) مسند أحمد 4/347و5/29 وسنن أبي داود (2408) والترمذي (715) والنسائي 4/190 وابن ماجه (1667و3299) وهو حسن.   

(23) صحيح البخاري (1950) وصحيح مسلم (1146) .

(24) صحيح البخاري (1952) وصحيح مسلم (2692) .

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث