رمضان میں کئے جانے والے بہترین اعمال

 

ہم یہاں ماہِ رمضان کی فضیلت،اوردیگرمہینے پر اس کی برتری  کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے، اور نہ ہی اس کے روزے کی فضیلت کے بارے میں کیونکہ  یہ تو ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، نہ ہی اس کے ظاہری اعمال  اوراس کے فضائل کے بارے میں بات کریں گے جیسے تراویح ،تلاوت قرآن وغیرہ۔ کیونکہ یہ اور اس جیسی چیزیں رمضان اور اس کے اعمال کا اہتمام کرنے والے ہر مسلمان شخص کے نزدیک معروف ہیں۔لیکن ہم یہاں چند ایسے اعمال کے بارے میں اشارہ کریں گے جن سے بہت سارے رمضان سے  محبت   کرنے والے، اس سے فائدہ اٹھانے والےاوراس میں منافست کرنے والے غافل ہیں، میں ان کی طرف چند اشارے ہی کروں گا کیونکہ ان کے اصل کی فضیلت معلوم ہے، لیکن  بہت سے ظاہری اعمال ہمیں ان  سے غافل کردیتے ہیں،یا ہم  پر ایک پہلو دوسرے پر غالب آجاتا ہے۔

یہ ایسے اعمال ہیں  جن کےثواب بہت  زیادہ اور لا محدود ہیں، ان سے آخرت سے پہلے دنیا میں ہی سعادت حاصل ہوتی ہے، ان کے فوائد یہ ہیں کہ ان سے نفس کو   حسی ومعنوی بیماریوں سے شفا حاصل ہوتا ہے، خاندان کے کلمے متحد ومربوط ہوتے ہیں، خاندان کی مدد ہوتی ہے،خیرومحبت اور انس وطمانینت عام ہوتا ہے، ان  میں اسلام اور مسلمانوں کی ایسی نصرت پائی جاتی ہے جس کا علم صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی کو ہے۔

ان اعمال میں سے چند اہم  درج ذیل ہیں:

۱۔رمضان کی آمد پر تم اس سے حقیقی  محبت کا احساس کرو اور اس سے خوش ہو

۲۔روزے  اور تمام واجبات  سے  تم اجر عظیم  پانے کا احساس  کرو

۳۔نبی کریم ﷺ کی طرف سے انجام دئیے جانے والے بعض  اعمال کے سلسلے میں نصوص میں وارد ثواب کثیر کا تم احساس کرو۔

۴۔رمضان کی پہلی رات میں اپنے دل پر لگے زنگ  کی اصلاح کے لیے اپنے نفس کے ساتھ معاہدہ کرو،لہذا  زندہ اورمردہ  دوسروں کے لیے تم دعا ئیں کرو۔

۵۔ اپنے نفس سے دوسروں سے عفوو درگزرکرنے کا عہد کرو  اور خاص کران سے جو تمہارے ساتھ بدسلوکی کیے ہوں،(اورمعاف  کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے)، اور روزے کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول ہے۔

۶۔اپنے دل کو خاص کرحسد سے پاک رکھو  کیونکہ  یہ شیطان کے داخل ہونے کے بڑے دروازے  میں سے  ہے،اورحسد کو رشک  اورنیک منافست سے بدلنا  نیک اعمال سے ہے۔

۷۔تمہارا اللہ تعالیٰ کے وعدوں پرمکمل بھروسہ رکھنا ہر اس چیز میں جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے آیا ہے یہ  اس کے استمرار وجاری رہنے کے سلسلے میں سب سے بڑا محرّک ہے۔

۸۔ہرظاہری خیروشر  کے وقوع پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھو،(میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں) 

۹۔اپنے  لیے یا دوسروں کے لیے   انجام دئیے جانے والےہر نیک عمل سے تم خوشی کا اظہار کرو۔

۱۰۔جتنا ہوسکےتم بھلائی کا کام کرو گرچہ ایک ذرہ(معمولی) ہی کیوں نہ ہو، اس چیز کو محسوس  کرو ،اور شیطان تمہیں اس (خیر)سے روکنے نہ پائے، کیونکہ بسا اوقات  یہ تم  کوایسی جگہ پہنچا سکتا ہے جس کی  تم  توقع نہیں کرسکتے،اورسیلاب نقظوں کے جمع ہونے  کانام ہے (قطرہ قطرہ دریا ہو جاتا ہے)۔

۱۱۔ ہرروز خرچ کرنے کے لیے کم سے کم ایک ریال خاص کرو،اور اگر ہر دن اورہر رات میں  دوسرا ریال   (جمع ہوجائے) تو یہ زیادہ بہتر ہے تاکہ رات ودن  اور خفیہ اور اعلانیہ  دونوںمتفق ہوجائیں۔

۱۲۔اس بات کی کوشش کرو کہ تکبیرات احرام چھوٹنے نہ پائے، کیونکہ رمضان ٹریننگ کا ایک ایسا عظیم میدان ہے جس  کے مثل  یونیورسٹیوں کے ٹریننگز عاجز ہیں۔

۱۳۔ دعا کی قبولیت کے اوقات میں دعا کرنا نہ چھوڑو۔

۱۴۔اپنے لیے خوب دعا کرو۔

۱۵۔اپنے والدین کے لیے خوب دعائیں کرو کیونکہ اللہ کے حقوق کے بعد ان کے حق سب سے بڑے ہیں۔

۱۶۔ اپنی بیویوں،اوراولادوں کے لیے خوب دعائیں کرو کیونکہ یہی تمہارے ثمرے اور امتدادوترقی کا ذریعہ ہیں۔

۱۷۔اپنے رشتے داروں ان میں قریب سے قریب کے لیے دعا کریں،کیونکہ بسا اوقات  ان میں  کسی  سے تمہاری قطع تعلقی  ہوتی ہے تویہ دعا  ان کے درمیان  ہمزۂ وصل کا کام کرتی ہے۔

۱۸۔ان لوگوں کے حق میں دعا ئیں کرو جن کا مسلمانوں پر حق ہے،جیسے حکام وسربراہ، علماء، اورامر بالمعروف  ونہی عن المنکر  وغیرہ  کا فریضہ انجام دینے والے حضرات۔

۱۹۔ اپنے جاننے والے دوستوں،اورمحبین کے لیے دعائیں کرو۔

۲۰۔ ضعیفوں،یتیموں، بیواؤں،مسکینوں اور ضرورتمندوں  کے لیے دعائیں کرو۔

۲۱۔مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں  کے بارے میں دعا ئیں کرو  کیونکہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کے حق میں دعا کرنے کے سبب اللہ تمہاری اولاد کی اصلاح کردے۔   

۲۲۔عام مسلمانوں اورمجاہدین کے لیے خصوصی طور سے دعا کرو،کیونکہ ممکن ہے کہ  تمہارےاس دعا کے ذریعہ ان کی مدد کرنے سے اللہ تمہاری مدد کرے،اوران  تمام دعاؤں میں سے  روزانہ کچھ حصہ مقرر کرلو۔

۲۳۔والدین کا اپنی اولاد کے لیے فارغ ہونا برخلاف  رمضان سے پہلے اور اس کے بعد کے۔

۲۴۔بیٹے اور بیٹیوں کا اپنے والدین کے لیے فارغ ہونا، خاص کر جب وہ  ان کےضرورت مندہوں۔

۲۵۔اللہ تعالیٰ   سے اور اس کے اجروثواب   سے اپنی امیدیں مضبوط رکھو۔

۲۶۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے وعید سے خوب زیادہ ڈرو۔

۲۷۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے خشوع وخضوع کی کوشش کرو،اوراپنے اعمال کو روٹینی نا بناؤ۔

۲۸۔اپنی کوشش کواس چیز کے تصوّر میں لگاؤ کہ وہ(اللہ) تمہیں دیکھ رہا ہے،  (نبیﷺکے اس فرمان کو ثابت کرتے ہوئے کہ: ’’اللہ کی حفاظت کرو وہ تمہاری حفاظت کرے گا‘‘، اوراسے اپنے سامنے اور بالمقابل پاؤگے۔

۲۹۔ہرروز کوئی نیا علمی مسئلہ سیکھو گرچہ یہ تمہارے جمع کردہ علمی خزانہ سے ہی کیوں نہ ہو۔

۳۰۔اپنے دن ورات کو منظم کرنے کی کوشش کرو تاکہ تم نیکیوں سے اپنا دامن بھرلو،اوربرائیوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔

۳۱۔کسی شخص  کا آپ پر کوئی حق ہے  تواس کو یاد کرو،اوراسے حلال کروالوگرچہ دعا  کے ذریعہ ہی نہ کیوں ہوـ

32۔ ہر ملنے والے سے سلام کرو۔

۳۳ًْ۔ہر ملنے والے سے مسکراہٹ کے ساتھ پیش   آؤ’’تمہارا اپنے بھائی کے سامنے  مسکرانا صدقہ ہے‘‘۔

۳۴۔اپنے نفس کو اس ماہ میں صبر کی تینوں قسموں (نفس کو طاعات پر لازم پکڑنے،معاصی کے ترک کرنے،تقدیر   سے لاحق ہونے والے امور  پر )صبرکرنے کی  ٹریننگ دو، تاکہ صبرکرنے والوں کے بے حساب اجر کے مستحق ہو، اور کیا ہی یہ بڑا اجر ہے۔

۳۵۔اپنے نفس کو شکر الہی کے تینوں قسموں کی ٹریننگ دو، شکراعتقادی: یعنی اس ماہ کے پانے اوراس میں روزہ رکھنے  اورتمام عبادات کو کرنے کی طاقت پر اللہ کے فضل وکرم کا اعتقاد رکھیں۔شکرقولی: یعنی زبان سے شکر کا اظہار کرو، شکرعلمی: یعنی نعمتوں کو اطاعت الہی  میں لگاؤ:’’ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا ‘‘۔

۳۶۔اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس ماہ میں ضرور ترقی کرو تاکہ شروع ماہ میں جو ہدف مقرر کیے ہو اس کا حصول ہوسکے اور اس وقت روزہ تمہارے حق میں رب کے یہاں سفارش کرسکے۔

۳۷۔دن کی ابتدا ذکر ودعا سے ہو،اوراس کی انتہا استغفار ودعا اور مخلوق  سے عفوودرگزر  کرکے ہو تاکہ تمہارے صفحات سفید  اورنیکیوں سے بھرے  جاری رہیں۔

۳۸۔اپنے دن ورات کے اعمال  میں تنوع پیدا کرو تاکہ تمہارا نفس طاعات وایجابیات کے لیے نشیط رہے اور مرور ایام  سے دھوکہ نہ کھاؤ۔

۳۹۔ اپنے مسلمان بھائیوں  کے تئیں ہرجگہ اپنے احساس کو  بیدار رکھو کیونکہ تمہارا ایجابی شعور ان کے لیے مدد کا سبب ہے، اور یہ اللہ کے درج ذیل قول میں داخل ہے:’’اگرتم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا‘‘۔

۴۰۔جب بھی کسی برائی   کے بارے میں شیطانی وسوسہ وکھٹک ہو ،یا تکبر،یا غرور،یا سستی،یا اکتاہٹ پیدا ہو تو توبہ واستغفار کرنے میں جلدی کرو، اور تسویف (تاخیروٹال مٹول)بازی  کو چھوڑدو تاکہ برائی  کے بدلہ نیکی لکھی جائے۔

۴۱۔اپنے رمضانی دفتر میں کسی مریض کی زیارت یا کسی جنازہ کی اتباع  میں چلنے کو درج کراو۔

۴۲۔جس کو آپ سلام یا نصیحت کرنا چاہتے ہو،یا کوئی جانکاری ہدیہ کرنا چاہتے  ہو تواس سے فون سے بات کرو یا جوال سے اسے  میسج کرو۔

۴۳۔اپنے چاہنے والوں کو کوئی رمضانی گفٹ دو،خاص کراپنے والدین،بیویوں اور بچوں وغیرہ  کو۔

۴۴۔اس بات کا احساس رکھو کہ  آپ چوبیس گھنٹہ  طاعت وقربت  کے کام میں ہو تو یہ طاعت وقربت  سونے کے حالت میں بھی ہوگی۔

۴۵۔اپنے شعور کو  اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ اپنے تمام افعال میں رسولﷺ کی اقتدا کرتے ہیں۔

یہ ان اعمال کے بارے میں صرف اشارے ہیں جن کو ہم عام طور پر کرتے ہیں،لیکن جب آپ  انہیں عبادات اورقربات(نیکی وطاعت)  کے خانہ میں رکھدیں گے تو یہ بھی  اسی طرح ہوجائیں گے،ان شاء اللہ۔خاص کر جب اچھی نیت پائی جائے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے خلوص پایا جائے ،اس وقت آپ ماہ کے اختتام پر خوشی محسوس کروگے، یعنی قبول ورضوان اورآرزوؤں کی حصول کے ساتھ اس  کےاختتام پر۔  اور روزے داروں کے ماتحت یہ لوگ بھی شامل ہیں:قیام کرنے والے، فرماں برداری کرنے والے ، رجو ع   کرنے والے،صدقہ دینے والے،صبر کرنے والے ،شکر کرنے والے،دعا اور  اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے،سحر کے وقت استغففار کرنے والے۔

اور کیا ہی   ان کےعظیم علامات وصفات  ہیں ،اوراس وقت اللہ تعالیٰ  کا یہ قول بطور مثال یاد آتا ہے:(قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ* لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ). 

’’ آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے ‘‘۔[سورۂ انعام:۱۶۲]

اللہ تعالیٰ ہمای اور آپ کی امیدوں کو پورا کرے،ہماری مدد فرمائے ،اور ہمیں اور تمام  مسلمان بھائیوں کو (بھلائی کی)توفیق دے ،بے شک وہ قریب ہے اور  قبول کرنے والا ہے۔

                             وصلى الله و سلم على نبينا محمد

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث