اعتکاف میں نبیﷺ  کا طریقہ

 

سابقہ مضمون  میں ہم آخری عشرے،شب قدر کے بارے میں گفتگو کرچکے ہیں ،اوریہ کہ اس مبارک ماہ کو نبیﷺ کس قدر غنیمت جانتے تھے،اوراس عظیم عشرے میں مولائے  کریم سبحانہ کے کس قدر عطیات نازل ہوتے ہیں۔لیکن ہم یہاں اعتکاف کے بارے میں نبی کریمﷺ کے طریقے کو بیان کریں گے۔

علامہ ابن قیم ؒ  اعتکاف میں نبی کریمﷺ کے طریقے کو بیان  کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’قلب کی اصلاح اور استقامت اللہ کی  طرف لے جانے والی راہ، ذات الہی پر اعتماد کلی سے حاصل ہوتی ہے،رب کی طرف رغبت ہی دل کی بے کلی کو دورکرسکتی ہے، کیونکہ خدائے بزرگ وبرتر کی طرف میلان ہی دل کے روگ کا تنہااور شافی علاج ہے، اورچونکہ خوردونوش میں زیادتی لوگوں سے بیکار ملنا جلنا،لغوگوئی،اور زیادہ سونا ایسے افعال ہیں جن سے (قلب) کی پریشانی بڑھتی اور تشتت وافتراق واقع ہوتا ہے۔یہ چیزیں اللہ کے راستے میں آڑ بنتی یا اس میں ضعف وکجی پیدا کرتی ہیں،اسی لیے پروردگار عزیز ورحیم نے بندوں پر اپنی رحمت کے باعث روزہ فرض کردیا کہ کثرتِ خوردونوش میں کمی ہوجائے اور قلب سے شہوانی اخلاط ہٹ جائیں۔ جو اللہ کی طرف رغبت کرنے میں مانع ثابت ہوتی ہیں یہ چیزیں  بندے پر خود اسی کی بھلائی ،فائدے اور مصلحت کے لیے فرض کیں،کہ وہ دنیا وآخرت میں ان سے متمتع ہو۔

نیز اعتکاف مشروع فرمایا جس کا اصل مقصد دل کا اللہ کی طرف راغب ومتوجہ ہونا ہے، وہ اس پرجمے رہنا اور مخلوقات کی مصروفیات سے علیحدہ ہوکر صرف اللہ عزوجل کی (عبادت میں) مشغول ہوناہے۔ اس طرح کہ قلب گہوارہ افکارو آلام نہیں رہتا ، ذکرومحبت الہی کا نشیمن بن جاتا ہے ،پھریا الہی کے سوا کوئی اوریاد باقی نہیں رہ جاتی،بس یہی خیال رہتا ہے کہ اللہ کی رضا اورقرب حاصل ہو، چنانچہ وہ مخلوق کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اُنس حاصل کرتا ہے۔ اور اللہ بھی اسی سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے جس دن قبر میں وحشت ہوگی۔ اور کوئی انیس نہ ہوگا اور نہ سامان فرحت ہوگا وہاں پر وہ اس کا انیس ہوگا۔

در اصل اعتکاف کا سب سے بڑا مقصود یہی ہے ،اور چونکہ یہ مقصد اسی طرح حاصل ہوسکتا ہے  ۔کہ اعتکاف روزے کے ساتھ ہو۔ اسی لیے اعتکاف کو بھی رمضان کے آخری عشر ہ میں مشروع کیا گیا جوروزے کے باقی تمام ایام سے افضل ہے۔

نبی کریمﷺ سے یہ منقول نہیں ہے کہ آپ نے کبھی بھی افطار کی حالت میں اعتکاف کیا ہو۔بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ’’روزے کے بغیر اعتکاف ہوتا ہی نہیں۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ نے بھی روزے کے ساتھ ساتھ ہی اعتکاف کا ذکر فرمایا ہے۔ نیز نبیﷺ نے بھی ہمیشہ روزے کی حالت ہی میں اعتکاف کیا، اسی لیے جس مسئلہ پر جمہورسلف قائم  ہیں وہی ترجیح رکھتا ہے، یعنی ’’اعتکاف میں روزہ شرط ہے‘‘ اور شیخ  الاسلام  ابوالعباس ابن تیمیہ ؒ بھی اسی مسلک کو ترجیح دیا ہے۔

رہا کلام۔ تو امّت پر لازم کیا گیا کہ زبان کو ہراس بات سے روکے ۔جس کا آخرت میں کچھ فائدہ نہیں۔

اور کثرت نوم کے علاج کے لیے قیا م لیل  مشروع ہوا۔ جو بیکار جاگتے رہنے سے افضل ہے۔ اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے۔ (قیام اللیل) معتدل قسم کی بیداری ہے جس میں قلب وجسم کو تقویت ملتی ہے۔ اور بندے کے ذاتی مصالح میں رکاوٹ بھی نہیں پیدا ہوتی ،پس ارباب ریاضت وسلوک کا مدار بھی یہی ارکان اربعہ ہیں، اس سے بڑھ کر خوش بخت کون ہے جو نبیﷺ کے طریقۂ مسنونہ پر گامزن ہو۔اورغلو کرنے والوں یا ازحد کاہلوں اور کمی کرنے والوں کے طریقہ پر نہ چلے۔‘‘

پھر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’آپ ﷺرمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ  نے آپﷺ کو اپنے پاس بلالیا ۔ایک بار آپ نے اعتکاف چھوڑ دیا لیکن شوال میں اس کا قضا کیا۔ ایک بار آپﷺ نے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا۔ پھر درمیانی عشرہ میں پھر آخری عشرہ میں۔ آپ لیلۃ القدر کی تلاش کررہے تھے۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ آخری عشرہ میں ہے۔ چنانچہ آپ نے (اسی عشرہ) میں اعتکاف پر مداومت فرمائی۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جاملے۔

اعتکاف کے لیے آپ خیمہ گاڑدینے کا حکم فرماتے۔ چنانچہ آپ کے لیے مسجد میں خیمہ گاڑدیاجاتا۔ جس میں آپﷺ اپنے خدائے رحیم وکریم کے ساتھ تنہائی اختیار کرتے۔ جب آپﷺ اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھتے ،پھرخیمہ لگا نے کا حکم فرماتے،چنانچہ (خیمہ) لگادیا جاتا۔ پھرآپ نے اپنی ازواج مطہراتؓ کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ ا ن کے خیمے بھی لگادئیے گئے۔چنانچہ جب آپﷺ نے فجرکی نماز پڑھی  اور ان خیموں کو دیکھا ۔تو پنے خیمے کے متعلق حکم دیا کہ اسے اُکھاڑ دیا جائے!

اورایسا بھی ہوا کہ ماہ ِ رمضان میں آپ نے اعتکاف ترک کردیا۔اورشوال کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا۔ آپﷺ ہرسال دس دن اعتکاف میں بیٹھا کرتے تھے جس سال آپ کی رحلت ہوئی ،اس سال آپ بیس دن اعتکاف میں بیٹھے تھے۔اورہرسال ایک بارحضرت جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دورکرتے(دہراتے) لیکن اس سال دومرتبہ دہرایا۔ آپﷺ بھی حضرت جبریل علیہ السلام کو قرآن مجید سناتے اوراس سال دوبار سنایا۔

جب آپ اعتکاف میں بیٹھتے تو اپنے خیمہ میں تنہا داخل ہوجاتے اور اعتکاف کی حالت میں انسانی ضروریات کے سوا آپ گھرتشریف  نہ لے جاتے۔ آپ مسجد سے اپنا سر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف باہرنکالتے۔ تو وہ آپ کا سر دھوتیں اور کنگھی کرتیں۔اور آپ مسجد میں ہی تشریف فرما ہوتے،اور(ام المومنین) ایام حیض سے ہوتیں۔ نیز بعض دوسری ازواج مطہرات ؓ آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوتیں اورآپ اعتکاف میں ہی ہوتے۔ جب وہ واپس ہوتیں تو آپ بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے۔آپ ان کو الوداع کہتے اور (اس وقت رات ہوتی   بہ حالت اعتکاف آپﷺ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ مباشرت نہ کرتے اورنہ ہی تقبیل( بوس وکنار)کرتے۔ جب آپ اعتکاف میں بیٹھے ہوتے تو آپ کابستربچھا دیا جاتا ۔اورمعتکف میں آپ کی چارپائی رکھ دی جاتی،اورجب کسی ضرورت سے باہر تشریف لے جاتے اورکسی مریض کے پاس سے گزرتے تواس سے کچھ نہ پوچھتے  اورنہ دم کرتے۔ ایک مرتبہ آپ ترکی قبہ میں معتکف ہوئے ۔اوراس پرچٹائی ڈال دی یہ تمام باتیں اس لئے تھیں تاکہ اعتکاف کا اصل مقصد اور روح حاصل ہو، بخلاف آج کل کے جہلا ء کے کہ اپنی جائے اعتکاف  کو عیش وآرام جگہ اور زائرین کا جمگھٹ بنالیتے ہیں،اورآپس میں گپ شپ کرتے ہیں،تویہ ایک الگ رنگ ہے، لیکن نبیﷺ کا اعتکاف ایک(خاص) رنگ رکھتا تھا۔‘‘(۱)

اورحکمت ودانشمندی  کی بات ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کے اعتکاف  کے طریقے سے دروس وعبرتیں حاصل کریں، لہذا معتکف کے لیے مناسب ہے کہ اپنے اعتکاف کو دنیاوی امورکے ذریعہ مکدر وفاسد نہ کرے، اوراپنی جائے اعتکاف کو زائرین کا مرکز نہ بنائے جہاں دنیاوی امور سے متعلق باتیں ہوں جو دل  میں تشویش پید ا کرتی ہوں اور اس عبادت کی روح کو فاسد کرنے والی ہوں۔یا اپنے جائے اعتکاف کو لذیذ ذائقے دار ماکولات ومشروبات پیش کرنے کی جگہ  نہ بنادے،اورخاص طور سے مسجد حرام میں،یا اپنے جائے اعتکاف کو آراء ومذاہب اور اقوال  پیش کرنے کے لیے،یا  کمزور  بے سود وبے فائدہ  بات چیت  اورنوک جھوک میں داخل ہونے کے لیے جنگ وجدال اور کشتی کا اکھاڑا نہ بنادے۔یااپنے جائے اعتکاف کو  نمازیوں کے سامنے کپڑے وملابس پیش  کرنے کی نمائش گاہ نہ بنادے،یا   اسے اپنے پڑوسی کو آواز بلند کرکے تکلیف دینے کی پرواہ نہ ہو،یاان کے راستوں اوراگلی صفوں کی جگہوں میں سوتا پھرے، یا انہیں اپنی ناپسندیدہ بدبو سے تکلیف پہنچائے،یا اس کے علاوہ کام کرےجو اعتکاف کے منافع کو کم کرنے والی یا باطل کرنے والی ہو۔

ہمارے لیے رسولﷺ تمام امور میں سے ہر امر میں بہترین نمونہ ہیں۔

ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے سوال کرتے ہیں  کہ ہماری   اپنے نفسوں کے خلاف مدد فرمائے، اورہمارے  طاعات کو قبول فرمائے، اورہمیں اپنی پسندیدہ چیزوں کی توفیق دے، اوردنیا وآخرت میں ہماری تمناؤں کی تکمیل کرے،بے شک اللہ سبحانہ بہت زیادہ سخی کرنے والا، بہت زیادہ سننے والا ،قریب اور قبول فرمانے والا ہے۔

حواشی:

_______

 

)۱)۔ملاحظہ فرمائیں(زاد المعاد مترجم ج۱،ص۵۳۱،معمولی تصرّف کےساتھ)

أضف تعليق

كود امني
تحديث