روزہ    اور تقویٰ

 

ازقلم:یاسین ہشام مہدی

 

قرآن کریم میں تقویٰ کا ذکر اس کے تمام مشتقات سمیت تقریبا ڈھائی سوبار ہوا ہے، یہ ایسا کلمہ ہے جس میں دنیا وآخرت کی تمام بھلائی ونیکی  کے امور جمع ہیں۔

 

گرچہ کتاب اللہ میں اس کا اطلاق متعدد معانی پر ہواہے پھر بھی وہ اپنے عام مدلول کے اعتبار سے خشیت الہی اوراس کے مراقبہ کرنے ، اوراس چیز کی پابندی کرنے جسے اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے  کے مفہوم سے خارج نہیں ہوتا ہے ، تاکہ دل میں اس چیز کا خوف پیدا ہو جس  دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

 

اوربعض آثار یہ اشارہ کرتے ہیں کہ کمالِ تقویٰ میں سے  ہے کہ انسان بعض حلال چیزوں کو حرام میں واقع ہونے کے اندیشہ سے ترک کردے۔چناں چہ مومن متقی صاحبِ زہد و ورع ہوتا ہے  اور چراگاہ کے قریب چکر نہیں لگاتا( یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکتا) ، شبہات  کے قریب نہیں جاتا اورشک والی چیزوں سے دوری اختیار کرتا ہے۔

 

اور اسی وجہ سے خلوت و جلوت میں اپنے  رب کی طرف جھک کراوراس سے ڈرکر جیتا  ہے۔اس کے رحمت کی امید رکھتے ہوئے اس کے عذاب وحساب سے خائف رہتا ہے۔

 

 یقینا تقویٰ خیر کا لباس اور دنیا وآخرت میں کامیابی کی راہ ہے،اورمتقیوں  پر اللہ تعالیٰ اپنی بہت  ساری ظاہری وباطنی  نعمتوں کو نچھاور کرتا ہے : }وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ{ (الأعراف:96) ترجمہ: ’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا ‘‘۔

 

}إِنَّ اللّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ{ (النحل:128) ترجمہ: ’’ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے ‘‘۔

 

اور اللہ تعالیٰ صرف پرہیزگاروں  کا ہی عمل قبول فرماتا ہے، کیوں کہ یہی صرف اپنے مولیٰ کے لیے خالص نیک عمل کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ کسی طرح کا شرک نہیں کرتے ہیں }إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ{ (المائدة: 27) ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے ‘‘۔

 

اورکوئی تعجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو ایسے باغات دے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اوراس میں وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے رہیں گے اور نیکوکاروں کا کیا ہی بہترین بدلہ  ہے۔

 

اور روزہ وہ عبادت ہےجسے اللہ تعالیٰ نے تمام فرائض وتشریعات کی طرح ایک پاکیزہ مقصد کے لیے  ہم پر فرض کیا ہے، ـجیسا کہ اللہ رب العالمین نے ہردین میں اپنے ایمان لانے والوں پر اسےفرض کیا تھاـ اوراس کا مقصد مومن کے دل میں تقویٰ کی تربیت  دینا،اوراپنے اس رب  کے شکر پر ابھارنا ہےجس نے اس پر ہر طرح کا انعام کیا ہے }يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ{ (البقرة: 183 ) ترجمہ:’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ‘‘۔

 

ابوحیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ کے دوفائدے ہیں:انسانی نفس کو شہوات پر کنٹرول کرنے کی مشق دینا اور حسبِ استطاعت فرشتوں کی اقتدا  کرنا ہے‘‘۔(البحر المحيط، ج2، ص 30)۔

 

بے شک روزہ  تقویٰ پر ابھارتا ہے ،اورپوشیدہ اور علانیہ طور پر اخلاص کی ترغیب دیتا ہے، اوراس کا اظہار متعدد وجوہ سے ہوتا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

 

اول: احکامِ الٰہی کی بجاآوری اور اس کے تقرب کے حصول کی خاطر بدن کی اہم خواہشات اور اس کی بنیادی ضروریات سے رکنا تقویٰ پر ابھارتا ہےاورہر وقت اللہ کی حدود کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 

اسی  طرح  دوسری جانب یہ امتناع (کھانے پینے سے رکنا) انسان میں جسمانی خواہشات کےتحکم کو کمزور بنادیتا ہے اور پھر یہ خواہشات اس پر مسلط نہیں ہونےپاتیں۔ اورشیخین (امام بخاری ومسلم) نے اپنی  اپنی صحیح میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ: ( يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ )ترجمہ: ’’اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہو گا “۔

 

اس  کا مطلب یہ ہے کہ: جو تم میں سے شادی کے اخراجات وبوجھ اٹھانے پر قادر ہو اسے شادی کرلینی چاہیے، اور جس کے پاس اس کی طاقت نہیں ہے تو وہ روزہ رکھے، کیوں کہ روزہ  اس کے لیے ڈھال اوربچاؤ کا ذریعہ ہے،اورڈھال کا عام مفہوم ہر برائی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔پس روزہ سے انسان اور معاشرہ ہر برائی سے محفوظ رہتا ہے،کیونکہ  روزہ شہوت کو توڑدیتا ہے اور اس کی طرف میلا ن کو کمزور بنادیتا ہے۔ اور انسان کو جسم کی غلامی اور غرائز (جبلّتوں)کےتسلط  سے نجات دلاتا ہے۔اورجب  ہم شہوات کے غلام بن گئے تو اسی وقت سے ہم اللہ عزوجل سے دور  ہوگئے۔

 

بعض  لوگوں کا کہنا ہے کہ بھوک وپیاس  کے ذریعہ روزہ شہوت کو ختم کردیتا  ہے کیونکہ یہ جسم کی اہم ضروریات سے محروم کردیتا ہے، اگریہ بات صحیح ہے تو روزہ ایک قسم کا سزا ہوگا نہ کی طاعت وعبادت   کا رنگ ہوگا، حالانکہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کہیں زیادہ مہربان ہے کہ  ان کے لیے ایسی چیزیں فرض کرے جس میں ان کے لیے مشقت وپریشانی ہو،اوران کی قوت کو کمزور بنانا ہو۔

 

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو نماز، روزہ، حج، زکاۃ فرض کیا ہے دلوں کے تقویٰ وپرہیزگاری میں بذات خود ان کا کوئی اثر نہیں ہے۔لیکن چونکہ  یہ ایسی عبادات ہیں جو مخلوق کو خالق سے جوڑتی ہیں، اوراس کو اللہ کے سلطان و بادشاہ ہونے کا احساس دلاتی ہیں تاکہ وہ گمراہ اور بدبخت نہ بنے۔

 

جیسا کہ نماز کے متعلق قرآن کریم میں وارد ہے: (تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ)’’فحش اور منکر کاموں سے روکتی ہے‘‘۔

 

جبکہ  یہ  بذات خود قیام،رکوع،سجود اور اللہ کی بعض آیتوں کی تلاوت کے اعتبار سےفحش اور منکر باتوں سے نہیں روکتی، لیکن چونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو ہردن پانچ مرتبہ مکرر ہوتی  ہے اورانسان ہربار اللہ کی خشیت  اوراس کے سامنے کھڑے ہوکر اس کے مراقبہ و نگرانی کا احساس کرتا ہے،تو یہ چیز اسے زلات (یعنی برائی میں واقع ہونے) سے محفوظ رکھتی ہے،اوراس طرح سے نماز اس کے اورفحش ومنکر کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔

 

اورروزہ  شہوت کو کچل دیتا ہے لیکن بھوک وپیاس کے ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی باطنی عبادت ہے جس کا کوئی خارجی مظہر نہیں ہے۔اوریہ باطن مومن کے دل میں سچے مراقبہ کے عنصر کو ظاہر کرتا ہے اس طرح کہ انسان اپنے نفس کا خود مالک ہوجاتا ہے اورشریعت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے نہ کہ شہوت کے مطابق۔

 

 اوربھوک بذاتِ خود روزہ کا اصل  نہیں ہے، اوریہ بھی درست نہیں کہ بھوک  روزہ کا طابع (چھاپ) ہے جو اس کی حکمت وفضیلت میں ظاہر ہو۔اورکتنا بہتر ہوتا کہ روزہ تمام خواہشات اور غلطیوں  سے روکنے والا بن جاتا  تاکہ ایک قسم کی ریاضت ہوتی  جو دلوں کی اصلاح کرتی،فرد وجماعت کے لیے نفع مند ہوتی،اور تمام اوقات میں عدم مراقبہ،یا سستی ،یا کمزوری کی وجہ سے  جن چیزوں پر مشق کرنا آسان نہیں تھا اسے آسان کردیتا ہے،اور اس اعتبار سے روزہ اس تقوی ٰ کے حصول کا ذریعہ بن جاتا جس کی قرآن کریم  نے امید ظاہر کی ہے۔

 

اور جس طرح روزہ دار  اپنی بشری ضروریات کھانا پانی وغیرہ سے جب رکے رہتا ہے توایک ایسی رغبت کا احساس کرتا ہے جو اس ضرورت  کی طرف اس کے انتباہ کو بھڑکاتا ہے،گویا کہ روز ہ انسانی ضرورت،بشریت کے وجود اور مادی ڈھانچہ کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے، لہذا روزہ دار کو فخر و غرور اور ظلم و استبداد سے دوررہنا چاہیے، اوراپنے ہر طرح کے کاموں کی انجام دہی میں بشری حدودکو پار کرنے سے بچنا چاہیے۔

 

بے شک ہر فرد گرچہ اس کا مطمح نظر کچھ بھی ہووہ اپنے سماج میں طغیان وسرکشی کے رنگ سے دوچار ہے جس میں وہ اپنے حدسے کسی نہ کسی طرح تجاوز کرجاتا ہے،پس جب روزہ اپنے مکرر تنبیہات کے ذریعہ انسان کے کھانے کی ضرورت کے بارے میں متنبہ کرتا ہے تو وہ روزہ کےذریعہ درست انسان بن جاتا ہے۔اوریہ ایک گہری فکر وسوچ ہے جو قابلِ غور وفکر  ہے،اس لیے کہ یہ اہم جسمانی خواہشات سے رکنے کو محض وقتی طور پر محروم نہیں کرتا کہ جو شہوات کی زیادتی  کی صورت میں حد سے تجاوز کر جائے،لیکن  اس کے باوجود اسے عبودیت کی نشانی اوربشری کمزوری کی دلیل بنا دیتا ہے،چنانچہ انسان اپنے نفس   کی قدر و قیمت اورزندگی میں اس کے پیغام کو   پہچان لیتا ہے۔

 

دوم: بعض عبادتوں مثلا نماز، حج، زکاۃ وغیرہ میں ریا ونفاق کے داخل ہونے کا اندیشہ ہے،کیونکہ یہ ایسے امور ہیں کہ ان کے بجالانے سےعام طور سے مخلوق  واقف ہوتی ہے،اور شکلی اعتبار سے اس کی ادائیگی میں مخلص، منافق، نیک و برے سب  برابر ہوتے ہیں ، اور اس کے بالمقابل روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریا کا دخل نہیں ہوتا،اورنہ ہی اس میں نفاق ثابت ہوتا ہے، چنانچہ اس کی بجاآوری ایسے امور کے ذریعہ ہوتی ہے جس سے  حق سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہوتا۔

 

اسی وجہ سے روزہ بندہ اور رب کے درمیان ایک راز ہے،اورایسا فریضہ ہے جس سے روزہ دار مخلوق کی نظروں سے دور رہ کر ،اللہ تبارک وتعالی ٰ کی  رضا چاہتے ہوئے اور اوراس کے اوامر کو بجالاتے ہوئے خالق کی رضا کا امیدوار ہوتا ہے۔ اورجس نےسچائی سے اللہ کے حکم کو بجالایا، اورطاعت وعبادت  سےاپنے رب کی خوشنودی کا قصد کیا  توگویا اس نے اپنے باری تعالیٰ کا تقویٰ حاصل کرلیا۔

 

 اسی طرح روزہ کو اللہ ر ب العالمین نے اپنے لیے خاص کیا ہے اوراپنی ذات کے لیے اسے منسوب کیا ہے جبکہ تمام عبادتیں بھی اللہ کے لیے ہیں،چنانچہ حدیث قدسی میں رسولﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کہتا ہے: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصَّوْمُ جُنَّةٌ ..." ، وفي حديث آخر: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ."

 

  ’’یعنی روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ  دوں گا، بندہ اپنے بھوک،پیاس اورشہوت کو صرف میری وجہ سے ترک کرتا ہے، روزہ ڈھال ہے…‘‘۔           

 

 اور ایک دوسری حدیث میں ہے:’’ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے سوائے روزہ کے،کیونکہ وہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔

 

اورتفسیر المنارج۲ص۱۵۹، میں آیا ہے: ’’جب انسان محض اپنے رب کے حکم کی بجاآوری اور اپنے دین کی ہدایت کی اتباع کرتے ہوئے سال  میں پورا ایک مہینہ اپنی ان لذات و شہوات کو ترک کردیتا ہے جو اسے سارے اوقات میں  پیش آتے ہیں، اورساتھ ہی ہر رغبت کے پیش ہونے کے وقت عمدہ کھانا اورمیٹھا وٹھنڈا پانی اورپکے میوے وغیرہ کا ملاحظہ کرتا ہے ،تو اگراس پر اللہ تعالیٰ کا مطلع ہونا اور اس کی نگرانی کا کا کامل تصور نہ ہوتا تو وہ اس کےتناول کرنے پر صبر نہ کرپاتا جبکہ وہ اس کا شدت سے مشتاق ہوتا ہے، اوربلاشبہ عمل کے لیے بار بار پائی جانے والی ان چیزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی کامل نگرانی کے تصور کا ملکہ حاصل ہوتا ہےاوراللہ سبحانہ وتعالیٰ سے حیا و شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ  وہ (اللہ) اسے  اس چیز کو کرتے دیکھے جس سے اس نےمنع فرمایا ہے۔

 

اور اس مراقبہ میں اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان،اوراس کی تعظیم وتقدیس میں مستغرق ہونا نفوس کےلیے سب سے بڑا سامان ہے اور آخرت میں روح کی سعادت کے لیے  اسے اس کا اہل بنانا ہے۔

 

سوم: روزہ انسانی ارادہ کو مضبوط کرتا ہے،اورمسلمان کو ایسا آدمی بناتا ہے جو آزاد ارادہ سے عزیمت  کو جاری رکھنے والا ہوتا ہے،اس سے شہوات ومیلانات  کھیل نہیں کرتے۔یہ اس لیے کہ جو جسمانی خواہشات ولذات  پر کنٹرول پالیتا ہے تو اس کا عقل اس کے خواہش نفس پر اوراس  کا ارادہ اس کی شہوت  پرغالب آجاتا ہے۔اور جو اس طرح ہو وہ اپنے نفس کے باگ ڈور کا مالک ہوجاتا ہے،اورایسے پختہ ارادہ والا انسان بن گیا  جو  برائی پر ابھارنے والی نفس  کی خواہش  کے طرف مائل نہیں ہوتا ہے،اورنہ ہی راہِ حق سے منحرف ہوتا ہے۔

 

اورتقویٰ اپنے اصل کے اعتبار سے اس مضبوط ارادہ کا نام ہے جودلوں کو گمراہ ہونے سے بچاتا ہے،اور اسے سچے اور رشد و ہدایت کے راستے پر چلاتاہے۔

 

اورارادہ کی حوصلہ افزائی ،نفس کا مجاہدہ ،اورشرومنکر  کے میلانات  کا مقابلہ کرنے میں روزے کے اثر کے لیے ہرسال میں ایک ماہ کا ہونا واجب تھا تاکہ انسان آزاد مضبوط ارادہ،باطنی صفائی اورعزیمت کو جاری رکھنے والا ہوجائے،جسے کوئی شہوت کمزور نہ کرسکے، اور کوئی منکر بات،یا خیال ووسوسہ جسے انسان وجن کے شیاطین میں سے کسی شیطان نے وحی و القا کی ہو اس کے دل کو فاسد نہ کرسکے،اورتاکہ وہ اپنے دین ودنیا میں کسی گھٹیاامور سے راضی نہ ہو،بلکہ وہ برابربلند ہمت والا رہے اورسطحی باتوں کو ناپسند کرے،اورعزت وفخر اور کرامت کی زندگی کا طالب ہو۔ رکوع کرے تو صرف اپنے پیدا کرنے والے کا،کسی باطل یاظلم پر کبھی خاموش نہ رہے۔ اوریہ اس لیے کہ ماہ (رمضان) کا باربار آنا روزے کے آثار کی تجدید کرتا رہتا ہے جو مرور ایام سے حاصل ہوتا ہے۔

 

اور نفس کےلیے روزے کاجسم کے ٹیکہ سے کیا ہی مشابہت ہے،پس جس طرح  ٹیکا جسم کوایسی قوت  فراہم کرتا ہے جو جراثیم وبیکٹریا کے دفاع پر قادرہو ،اسی طرح روزہ نفس کو وہ طاقت دیتا ہے جوگھٹیا خواہشات،اور برے حیوانی شہوات کے مقابلہ کرنے پر  اسےقادربناتا ہے۔اورجس طرح ٹیکہ متعینہ مدت گزرنے  پراس کو باربار لگوانا  واجب ہے تاکہ جسم کی قوت کی تجدید ہو اوراس کی طاقت کھو نے نہ پائے، اسی طرح ہرسال ایک مرتبہ رمضان کے روزے کی پریکٹس و مشق کو دھرانا ضروری ہے تاکہ نفس کی قوت کی تجدید ہوسکے اوراس کی طاقت کھونے نہ پائے۔

 

بے شک اسلام عزت  وقوت اور کرامت کا دین ہے، اسی لئے اس دین کے اندر جہاد قیامت  تک جاری رہے گا۔

 

اسلامی تعلیمات اورخاص طور سے صیام ایک نفسیاتی وعملی ٹریننگ ہے جو مسلمانوں کو ایسی دنیا میں عزت وکرامت  والی زندگی کے لیے تیار کرتا ہےجہاں جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔

 

بے شک روزہ، روزے داروں کو ایسا مضبوط ارادہ دیتا ہے جو ان پر ان کے مسلط شہوات  اور مستحکم رجحانات پر غالب آجاتی ہے، ایسا ارادہ جس  کا زندگی کی سختیاں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں نیز مشکلات  وکٹھنائیاں اسے روشن اور مضبوط بناتی ہیں۔اورجب مسلمان روزے کا حقیقی مفہوم سمجھ گئے تھے تو وہ مومنوں کے لیے نرم خو تھے اور کافروں کے لیے سخت تھے،اور وہ ایسی طاقت تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے، اور  ایسی عزیمت تھے جو ساری کھٹنائیاں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتےتھے۔

 

اسلام میں اس کے مشروع کردہ طریقہ کے مطابق فریضۂ جہاد کے قیام کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو پختہ عقیدہ وارادہ اور مستحکم شخصیت کے مالک ہوں۔ اور لوگوں کو جہاد وقتال کے لیے تیار کرنے میں روزہ بہت بڑا رول ادا کرتا ہے، کیونکہ روزہ تمام جسمانی ضروریات پر غلبہ کے ذریعہ انسانی ارادہ اورانسانی شخصیت کو مستحکم و پائدار کرنے کا میدان سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے اطاعت کی میعاد اختیار کرنے اوراس کے فرائض کے سامنے سرنگوں ہونے کا مجال سمجھا جاتا ہے، چاہےاس میں کوئی بھی محرومی  ہو۔اور یہ دونوں عنصر  نفوس کو جہاد فی سبیل اللہ کی مشقت برداشت کرنے کی تیاری میں لازم وضروری ہیں۔

 

  اوریہ الہی اتفاق کی بات ہے کہ تمام مشہور جنگیں جن میں مسلمانوں نے بہادری کے جوہر دکھائے اور شاندار غلبہ حاصل کیے، اور اس میں اسلامی پر چم کو بلند کیا سب کے سب ماہ رمضان میں ہوئیں۔

 

چہارم: اور چونکہ روزے کا وقت طلوع فجر سے لے کرغروب شمس تک  درازرہتا ہے ،اس لیے روزہ دار پورےدن اللہ کی عبادت وطاعت میں رہتا ہے،لہذا اس کی شان میں سے ہے  کہ روزے دار کے دل میں روزہ  کے اوقات یا اس کے علاوہ میں اللہ رب العالمین کے مراقبہ کا احساس پیدا ہو،اوراسی وجہ سےمقبول روزہ محض کھانا، پانی  اور اس کے ہم حکم چیزوں سے رکنے کا نام نہیں ہے،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز سے رکے رہنے کا نام ہےجو اس عبادت کی روح کو فاسد کردے، یا اس کے حقیقی پیغام کے درمیان حائل ہوجائے۔اگرچہ مادی اعتبار سے  یہ ایسا عمل ہے جس کا عبادت کی صحت اور اس کے جواز میں کوئی اثر نہیں ہے۔

 

جھوٹ ،غیبت اور رفث (جنسی خواہشات پر مبنی باتیں اور حرکتیں)  سے رکنے کے بارے میں (بہتیری) آثار مروی ہیں جو اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ جس شخص نے رمضان میں اپنے آپ کو رذائل وعیوب سے باز نہیں رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے کھانا پانی کے ترک کرنے سے بے نیاز ہے۔اوریہ ترک کرنا روزے کا سب سے آسان ومعمولی  بات ہے، اورروزے کا سب سے بلند و مشقت  ترین عمل تو ہر منکر اقوال وافعال کو چھوڑنا ہے۔

 

اوریہ اس لیے ہے تاکہ اس فریضہ کو  اس  کے اپنے مقصد اول   سے منحرف کرنے والے اسباب سے تحفظ فراہم کیا جائے، اور وہ اللہ کا خوف و تقویٰ نیز ہر وقت اور ہرحال میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا ہے۔

 

یہ مختصرصورتیں تھیں جن کے ذریعہ روزے دار کے لیے روزہ اپنے شامل وکامل مفہوم کے اعتبار سے تقویٰ کا ضامن ہوتا ہے، وہ تقویٰ جو آدمی اور اس کے رب  کو ناراض کرنے والے امور کے درمیان حائل ہوتا ہے، اوراسے ہر امر ونہی میں اپنے خالق کا عبادت گزار بندہ بنا دیتا ہے، اوراسے رحمان کے ان بندوں میں کر دیتا ہے جو زمین پر دھیمی ونرم چال چلتے ہیں،اور جب جاہلوں سے ملاقات کرتےہیں توسلام کہتے ہوئے گزرجاتے ہیں ،اوراپنے رب کے لیے سجدہ وقیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں، اورجو اپنے رب سے جہنم کے عذاب کو پھیرنے کا سوال کرتے ہیں،بے شک اس کا عذاب لازم ہے۔جو اپنی زندگی میں کسی بھی چیزمیں افراط وتفریط کو نہیں  جانتے، چنانچہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اسراف وبخیلی سے کام نہیں لیتے بلکہ اس کے درمیانی پہلو کو اپناتے ہیں، یعنی توسط واعتدال  کی راہ اختیار کرتے ہیں۔اورجو اپنے خالق پر سچی ایمان رکھتے ہیں جس میں شرک کا شائبہ تک نہیں ہوتا،اورکسی ایسے منکر یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے جو اس کے کرنے والے کو ہلاکت کی جگہوں میں رہنے اور روز قیامت دُہرے دائمی عذاب  کا سبب بن جائے۔

 

بے شک تقویٰ روزے کا اولین مقصد اوراس کے فرض ہونے کی بنیادی حکمت ہے، اور اس کے علاوہ جو دیگرحکمتیں اور فوائد جن کے بارے میں ریسرچر اور انشاء پرداز لوگ لمبی گفتگو کرتے ہیں تو یہ سب اسی تقویٰ کے تابع یا اسی سے مستنبط ہیں۔

 

بے شک تقویٰ یہ مضبوط کڑا ہے، اور کفروایمان کے درمیان حدِ فاصل ہے،اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے ہرمشکل سے آسان کرنے والا، اورہربھلائی کا دروازہ قراردیا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے: }وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ) {الطلاق (3-2:   ترجمہ:’’ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہےاور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو  ۔‘‘

 

}وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْراً){الطلاق: 4) ’’ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ‘‘۔

 

}وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْراً{ (الطلاق:5 ) ’’ اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناه مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔‘‘

 

اورموجودہ زمانے میں جب کہ اسلام کو مٹانے کے لیے خطرناک سازشیں رچی جارہی ہیں،یا اسے اس کے ماننے والوں کے درمیان ہی اجنبی بنایاجارہا ہے، یا اس کے ماننے والوں کو اس سے اجنبی بنایا جارہا ہے، ایسی حالت میں امّت اسلامیہ کو کتنی سخت ضرورت ہےکہ اس کا روزہ الہی تقویٰ کی راہ ہو،جس میں  وہ کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کرے، اور ہمیشہ اس کی رسی کو پکڑ ے رہے، اور آپس میں سخت اختلاف سے بچے، اور اپنے دین ودنیا میں گھٹیا پن سے راضی نہ ہو، اور اپنے عقیدہ اور اس کی کرامت  کے لیےاپنا سب کچھ قربان کرسکے، تاکہ کلمۂ حق  کو  ایسے عالم میں سیادت وقیادت حاصل ہو جہاں پر باغی قوت کی طوطی بولتی (حکم چلتی) ہو،جواغتصاب کو اپنا حق، اور (ناجائز) قبضہ اور دہشت گردی کی حامی ہو، اوراستغلال (ناجائز فائدہ اٹھانے)  اورعوامی دولتیں لوٹنے کو تعاون کا نام دیتی ہو۔

 

 اوراس طرح سے ہم خیر امت بن کر جئیں گے اور مومنوں کے لیے نرم  اور کافروں کے لیے سخت بن کرزندگی گزار سکیں گے: }وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ{ (المنافقون:8)۔ ترجمہ:’’ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں ‘‘۔

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث