علمی فائلیں

رمضان فولڈر

صیامِ رمضان کی فضیلت

بے شک ہم پر مبارک ماہ  اور عظیم موسم سایہ فگن ہے، اس میں اللہ اجر کو بڑھاتا ہے اور خوب عطیات سے نوازتا ہے، اور ہر رغبت رکھنے والے کیلیے   اس میں خیر کے دروازے کو کھول دیتا ہے، یہ خیرات وبرکات اور انعام وعطیات کا مہینہ ہے:{ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ  } [سورة البقرة: 185]

’’ ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے وا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔‘‘

یہ ایسا ماہ ہے جو رحمت ومغفرت اور جہنم  کی آزادی سے گھرا ہوا ہے،اس کے فضائل احادیث میں  مشہور ہیں،اور اس کے بارے میں آثار تواتر سے موجودہیں۔

اس ماہ کی چند ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے لیے جمع کیاہے، اور تمام امّتوں کے درمیان اس سے تمہیں مخصوص کیا ہے، اور اس کے ذریعہ اس نے تم  پر احسان کیا  تاکہ وہ  اس کے ذریعہ تم پر  اپنی نعمتوں کو پورا کرے، اور تم پر اللہ کے کتنے انعامات واحسانات ہیں { كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ } [سورة آل عمران: 110]

’’ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

خصائل صیام میں سے: روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کے خوشبو سے اچھی ہے(۱) ،اور (خلوف) خاء کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ منھ کے  بُو کی تبدیلی کا نام ہے جو معدہ کے خوراک سے خالی ہونے پر ہوتا ہے۔ اوریہ لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ بو ہے لیکن اللہ  تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے کیونکہ اللہ کی عبادت وطاعت سے پیدا ہوئی ہے۔اورہروہ چیز جو اللہ کی طاعت وعبادت کے نتیجے میں پیدا ہو وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہوتی ہے اوراس   بو کے بدلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے اچھی وبہتر چیز عطا کرتا ہے،کیا تم اس شہید کو نہیں دیکھتے جو اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لئے  اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاتا ہے  وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا زخم سے خون جاری  ہوگا اور اس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور اس کی بومشک کی خوشبو کی طرح ہوگی؟ اسی طرح حج کے اندر اللہ رب العالمین اہل موقف(عرفہ میں وقوف کرنے ) والوں کے بارے میں اپنے فرشتوں کے سامنے  فخرکرتا ہے اور فرماتا ہے:

’’میرے ان بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پراگندہ اور غبارآلود شکل میں حاضر ہوئے ہیں‘‘۔ (اسے احمد اورابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے )۔(2)

اس مقام پر  یہ پراگندہ پن اللہ کو بہت زیادہ محبوب ہے کیونکہ یہ محظورات احرام سے اجتناب کرکے اور خوشحالی وعیش کوشی کو ترک کرکے اللہ رب العالمین کی اطاعت  سے پیدا ہوئی ہے۔

۔اور انہی  خصائل میں سے: سرکش شیاطین کا زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑدیا جانا ہے، چناں چہ وہ اپنے ارادہ  کے مطابق اللہ کے نیک بندوں کو راہ حق سے گمراہ اورخیرسے ہٹا نہیں سکتے۔

اور یہ اللہ کی طرف سے ان کی اعانت ونصرت ہے کہ  ان سے ان کے دشمن کو روک دیا ہے جو اپنی جماعت کو کونارجہنم کی طرف بلاتا ہے۔

اسی لیے آپ  نیک لوگوں کے یہاں اس  ماہ میں خیرکی طرف رغبت اور برائی سے دوری دوسرے ماہ کی بہ نسبت زیادہ پائیں گے۔

چناں چہ صحیحین میں ہے: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔‘‘(۳)

اس ماہ میں جنت کے دروازے نیک اعمال کی کثرت اور عاملین کو اس کی ترغیب دلانے کے لیے کھول دیاجاتا ہے، اور جہنم کے دروازے  اہل ایمان کی طرف سے معاصی کی کمی کی وجہ سے بند کردیا جاتا ہے، اور شیاطین کو قید کرکے جکڑ دیا جاتا ہے لہذا وہ اس ماہ میں اتنا گمراہ نہیں کرپاتے جو دیگر ماہ میں کرتے ہیں۔

۔اور انہی خصائل  میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے اجرکو دوگنا کیا ہے اور اس ماہ میں ان کے درجات کو بلند کیا ہے  جب وہ اس مبارک ماہ  میں صیام وقیام کو صحیح طریقے سے بجالائیں۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ثواب  کے ذریعہ اپنے بندوں پر تین طرح سے  احسان کیا ہے:

پہلی صورت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کے لئے ایسے نیک اعمال مقرر فرمائے  جو ان کے گناہوں کی بخشش اور ان کے درجات کے بلندی کا سبب ہیں۔اگراللہ تعالیٰ اسے مشروع نہ کرتا تو ان کے لئے اس کے ذریعہ اللہ کی عبادت کرنا درست  نہیں تھا۔کیونکہ عبادت صرف وحی الہی کے ذریعہ رسولوں تک پہنچائی جاتی ہے، اسی لئے اللہ رب العالمین نے اپنی طرف سے عبادت کو جائز کرنے والوں پر نکیر کیا ہے، اور اسے شرک کی  قسم میں سے جانا ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

{أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ وَلَوْلاَ كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّـلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } [الشورى: 21].

’’کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان ) ظالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے ‘‘۔[شوری:۲۱]

دوسری صورت:رب العالمین نے انہیں نیک عمل کی توفیق دی ،اوراسے بہت سارے لوگوں نے چھوڑدیا، اگران کےساتھ اللہ کی توفیق ومدد شامل حال نہ ہوتی تو وہ اسے انجام نہیں دے پاتے، لہذا اس پر اللہ کا فضل واحسان ہے۔{يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُواْ قُل لاَّ تَمُنُّواْ عَلَىَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَداكُمْ للإيمان إِنُ كُنتُمْ صَـادِقِينَ } [الحجرات: 17].

’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو‘‘۔[سورہ حجرات:۱۷]

تیسری صورت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں بہت زیادہ اجر سے نواز ا ہے،ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا سے بھی زیادہ دیا ہے،لہذا اس عمل کی توفیق پر اور اس کا اچھا بدلہ دینے پر اللہ کا فضل واحسان ہے، اور ہرحال میں تمام تعریفات کا مستحق صرف پروردگار ہے۔

اورانہی خصائل میں سے ہے کہ: روزہ افضل عبادات اور عظیم طاعات میں سے ہیں،جس کی فضیلت کے بارے میں آثار وارد ہیں، اوراس کے بارے میں لوگوں کے درمیان اخبار(احادیث) منقول  ہیں۔

روزہ کے فضائل میں سے:اللہ نے اسے تمام امتوں پر  واجب وفرض کیا ہے۔

} يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ } [سورة البقرة: 183].

’’ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

اوراگریہ عظیم عبادت نہ ہوتی جس کی تعبد سے  مخلوق کوبے نیازی نہیں،اور اس پر جو ثواب مرتب ہے

تو اللہ اسے تمام امتوں پر فرض نہ کرتا ۔

اوررمضان میں روزے کے فضائل میں سے ہے: کہ یہ گناہوں کی مغفرت اور برائیوں کے کفارے کا سبب ہے،چناں چہ صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:’’جس نے ایمان واحتساب کی  نیت سے روزہ رکھا اس کے پچھلے(صغیرہ)  گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔‘‘(4)

یعی: اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے،اورفریضہ صوم سے رضامندی اختیارکرتے ہوئے اور احتساب اجرکی نیت کرتے ہوئے رکھا نہ کہ اس کی فرضیت کو مکروہ  جانتے ہوئے، اور اس کے ثواب میں شک کرتے ہوئے، تو ایسی صورت میں اللہ اس کے پچھلے گناہ بخش دے گا۔

اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:  

’’پنج وقتہ نمازیں،ایک جمعہ سے آئندہ جمعہ،اور ایک رمضان سے  دوسرا رمضان   ان کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، بشرطیکہ  کبائر سے اجتناب کیا جائے۔‘‘(5)

اور صوم کے فضائل میں سے ہے کہ اس کے ثواب کی کوئی تعداد متعین نہیں ہے، بلکہ روزہ داربےحساب ثواب دیا جائے گا۔چنانچہ صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ابن آدم کا ہرعمل اس کے لئے ہے مگرروزہ یہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں، روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے، اور نہ ہی شور و غل مچائے، اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے تو اس سے کہے: میں روزہ دار آدمی ہوں (گالی گلوچ مار پیٹ نہیں کر سکتا)، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزہ دارکے منھ کی بواللہ رب العالمین کے نزدیک کستوری کی خوشبوسے بھی زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے‘‘۔

اورمسلم کی ایک روایت میں ہے:

ابن آدم کا ہرعمل بڑھادیا جاتا ہے اس طرح کہ ایک نیکی   کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک ہوجاتا ہے،  اللہ عزوجل  فرماتا ہے مگر روزہ سو وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دیتا ہوں ،کیونکہ بندہ اپنی بھوک پیاس اور شہوت کو صرف میرے لئے ترک کرتا ہے۔(6)  

یہ عظیم حدیث روزہ کی فضیلت کے بارے میں مختلف وجوہ سے دلالت کرتی ہے:

پہلا سبب: اللہ نے تمام اعمال کے درمیان روزہ کو صرف اپنے لیے خاص کیا ہے، اوریہ اللہ کے نزدیک اس کے شرف وبلندی اوراس سے محبت کرنے، اوراس میں اللہ کے لیے اخلاص کا اظہار پائے جانے کی وجہ سے ہے،کیونکہ روزہ  اللہ اور بندہ کے درمیان ایک راز ہے جس سے صرف اللہ ہی آگاہ ہوسکتا ہے، اس لیے کہ روزہ دارلوگوں سے الگ تنہائی میں روزے کی حالت میں حرام کردہ چیزوں کے استعمال پر قادر ہوتا ہے لیکن اس کا استعمال نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو اس کی خلوت وتنہائی سے واقف ہے، اوراس نے اس پر اس کو حرام قراردیا ہے، چناں چہ وہ عذاب الہی کے خوف اور ثواب کی چاہت میں اس کو ترک کردیتا ہے، اسی وجہ سے اللہ نے اس کے اس اخلاص کو قبول فرمایا اور روزہ کو تمام اعمال کے درمیان اپنے لیے خاص کیا، اسی لیے فرمایا: ’’ کہ بندہ اپنی خواہشات اور بھوک کو صرف میری خاطر ترک کرتا ہے۔‘‘

اوراس اختصاص کا فائدہ روز قیامت ظاہر ہوگا جیسا کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا محاسبہ فرمائے گا اوراس کےخلاف جومظالم ہوں گے اس کے تمام عمل سے چکائے گا یہاں تک کہ صرف روزہ باقی رہ جائے گا تو اللہ عزوجل خود ہی باقی مظالم کی ذمے داری لے لے گا،اوراس روزہ کے بدلے اسے جنّت میں داخل کردے گا‘‘۔

دوسرا سبب:  اللہ نے روزہ کے بارے میں فرمایا: «وأنا أجزي به».اورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔

چناں چہ   اپنی ذات کریمہ کےلیے بدلہ دینے کی نسبت کی ہے، کیونکہ نیک اعمال  تعداد کے اعتبار سے بڑھائے جاتےہے، ایک نیکی کا ثواب دس  سے لے کر  سات سوگنا اوراس سے زیادہ ہوجاتا ہے، لیکن  اللہ نے روزہ  کا  اپنی طرف بلاتعداد بدلہ دینے کی نسبت کی ہے،اوراللہ سبحانہ کی ذات  سب سے زیادہ کریم اور سب سے زیادہ سخی ہے، اور عطیہ  اس کے دینے والے کے بقدر ہوتا ہے، لہذا  روزہ دار کا ثواب بہت زیادہ  اور بے حساب ہوگا۔

اورروزہ  میں اللہ کی اطاعت پر صبر،اوراللہ کے محارم  سے صبر ،اور اللہ کے  ان اقدار پر صبر کرناہے جو بھوک،پیاس اور جسم وجان کی کمزوری سے تکلیف لاحق ہوتی ہے۔ چناں چہ روزہ کے اندر صبرکی تینوں قسمیں جمع ہوگئی ہیں، اوریہ ثابت ہوگیا کہ روزہ دار صبرکرنے والوں میں سے ہے۔ اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ } [سورة الزمر: 10]

’’بے شک صبر والوں کو بے حساب اجر سے نواز ا جاتا ہے۔‘‘

تیسرا سبب: روزہ ڈھال ہے، یعنی بچاؤ اور پردہ ہے جو روزہ دار کو لغو اور فسق وفجور سے محفوظ رکھتا ہے، اسی لیے آپﷺ نےفرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو  تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے، اور نہ ہی شور و غل مچائے۔‘‘

اورروزہ اسے آگ سے بھی بچاتا ہے،اسی لیے امام احمد نے حسن سند سے جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی  حدیث لائے ہیں جس میں نبیﷺ نے فرمایا:

’’روزہ ڈھال ہے جس کے ذریعہ بندہ آگ سے بچتا ہے۔‘‘(7)

چوتھا سبب: روزہ دار کے منھ کی بو اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی بو سے بہتر ہے، کیونکہ یہ روزے کے آثار میں سے ہے، چناں چہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک یہ پاکیزہ اور محبوب ہے، اور یہ اللہ کے نزدیک روزہ کے مقام کی عظمت پر دال ہے، یہاں تک کہ لوگوں کے نزدیک   مکروہ  وناپسندیدہ چیز اللہ کے نردیک محبوب  وپاکیزہ  بن جاتی ہے  کیونکہ  اللہ کی اطاعت روزہ  کے سبب  نکلی ہے۔

پانچواں سبب: روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں:ایک خوشی اسے افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی۔

افطار کے وقت  روزہ دار کو حاصل ہونے والی خوشی تو اللہ نے اسے روزہ کے عبادت کی توفیق دے کرجوانعام کیا ہے،کیونکہ روزہ بہترین نیک اعمال میں سے ہے۔ اورکتنے لوگ ہیں جو اس انعام سے محروم ہیں اور روزہ نہیں رکھتے۔

اسی طرح روزہ دار  پر دوران صیام جو کھانا ،پینا اور نکاح حرام تھا اسے جائز قراردئیے جانے پر خوش ہوتا ہے۔ 

اور رہی بات رب سے ملاقات کے وقت خوشی ملنے کی تواسے اپنے روزہ سے اس وقت خوشی ہوگی جب وہ اللہ تعالیٰ کےیہاں اپنے روزے کا بھرپور بدلہ پائے گا  جس وقت وہ اس کا کافی حاجت مند ہوگا ،اورجس وقت کہا جائے گا:

’’روزے دار کہاں ہیں تاکہ جنت میں ریان دروازہ سے داخل ہوں جس سے ان کے علاوہ کوئی نہیں داخل ہوسکے گا۔‘‘ (8).

اس حدیث میں روزہ دارکو اس بات کی ہدایت ہے کہ جب کوئی شخص  اس سے گالی گلوچ یا لڑائی کرے توروزہ کا احترام کرتے ہوئے اس کےجیسا جواب نہ دےتاکہ گالی دینے والا اور لڑائی کرنے والا مزیدسرکش نہ ہوجا جائے،لیکن اس کے سامنے خاموش بھی نہ رہے بلکہ اس سے کہے کہ وہ روزہ سے ہے،یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ روزہ کی احترام کی وجہ سے اس برائی کا بدلہ اسی جیسے برائی سے نہیں دے رہا ہے نہ کہ وہ اس کا بدلہ دینے سے عاجز ہے، تو اس وقت گالی دینے والا اور لڑائی والا رک جائے گا۔

 { ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ } [سورة فصلت: 34، 35]

’’ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا۔‘‘

۔اور روزہ کے فضائل میں سے ہے : روزہ قیامت کے دن روزہ دار کے لیے شفاعت کرے گا،چناں چہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:  

’’بروز قیامت روزہ اور قرآن بندے کے حق میں سفارش کریں گے،روزہ کہے گا :اے رب ! میں نے اسے دن  میں کھانے اور پینے سے روکے رکھا تھا، اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کو نیند سے روکے رکھا تھا لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما ،چنانچہ دونوں کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا‘‘۔اسے احمد نے روایت کیا ہے۔(9)

میرے بھائیو!

روزے کی فضیلت اس وقت تک نہیں حاصل کی جاسکتی جب تک کہ روزہ داراس کے آداب کو نہ بجالائے، لہذا روزوں کو اچھی طرح سے رکھو اوراس کے حدود کی پابندی کی کوشش کرو، اوراس میں کوتاہی کرنے پر اپنے رب سے توبہ کرو۔

اے اللہ ہمارے روزے کی حفاظت فرما، اوراسے ہمارے لیے سفارش کا ذریعہ بنا، اورہمیں،ہمارے والدین،اورتمام مسلمانوں کو بخش دے۔

وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه.

 

حواشی:

 (1) صحيح  بخاری (1904) و صحيح مسلم (1151)

 (2) صحيح ابن حبان (3925 ، 3926)، ومسند أحمد 2/224  اور یہ شواہد کی وجہ سے صحیح ہے۔

 (3) صحيح  بخاری (1899) و صحيح مسلم (1079) بلفظ: "سلسلت الشياطين" ،اور مسلم کی ایک روایت میں "وصفدت"ا و رصحيح ابن خزيمہ  (1883)  میں: " وصفدت الشياطين مردة الجن" لفظ کے ساتھ ، اورنسائی(2079)  کی ایک روایت میں" وتغل فيه مردة الشياطين" ہے اور سب ابوہریرہ کی حدیث سے ہیں۔ 

(4) صحيح  بخاری (38) و صحيح مسلم (760)

(5) صحيح مسلم (233)

(6) صحيح  بخاری (1904) و صحيح مسلم (1151)

(7) مسند أحمد 3/341  اور اس کے  ابتدا  ئی (جملے کی) صحیین کی سابق  حدیث میں شاہد موجود ہے۔

 (8) صحيح  بخاری (1797) و صحيح مسلم (1152)

(9) مسند أحمد 2/174 ومستدرك الحاكم 1/554  اور کہا: مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور منذری نے کہا: اس کے رجال   سے صحیح میں حجت حاصل  کی گئی ہے۔ 

أضف تعليق

كود امني
تحديث