علمی فائلیں

رمضان فولڈر

زکاۃ(صدقہ) فطر کے فوائد واحکام

جمع وترتیب:محمد بن عبد العزیزشمالی

تمام تعریفات اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اور درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ،آپ کے خاندان اور تمام اصحاب پر۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

ان ایام مبارکہ  جس میں مسلمان ماہ رمضان کو الوداع کہنے والے ہیں ہم ایک ایسے موضوع کے بارے میں گفتگو کریں گے جو اس ماہ کے آخر میں فرض کیا گیا ہے اور وہ صدقہ فطر ہے۔

اس مادہ کو میں نے اہل علم کی کتابوں سے جمع کیا ہے، اور میں نے اس کو ترتیب دینے کے بعد اس کا مناسب عنوان قائم کیا ہے تاکہ قاری کے لیے اس کا مطلب جاننے میں آسانی ہو، مولائے کریم سے تمام لوگوں کے لیے قبول  اور توفیق کا طالب ہوں۔

زکاۃ فطر کا معنیٰ:

۱۔خالص اللہ کے لیے زکاۃ  کے ادا کرنے میں نفس کا تزکیہ ہے، اورنفس کو آلائش  وگندگی سے پاک کرنا ہے،اور عمل کے لیے اسے بڑھانا ہے، اور اس  کے کمی کی تلافی کرنا ہے۔

۲۔فطر:  اس لیے کہ یہ فطر کے وقت کا ایک عطیہ ہے جس سے اللہ سے ثواب کا ارادہ کیا جاتا ہے۔

اور فطر کی طرف اس کی اضافت کسی چیز کا اس کے سبب کی طرف اضافت کے قبیل سے ہے،کیونکہ اس کے وجوب کا سبب ۔ ماہ کی تکمیل کے بعد اس کے ہلال  کا مشاہدہ  کرکے ۔رمضان  سے فطر ہے،چناں چہ اسی کی طرف اس کے سبب واجب ہونے کی  وجہ سے اضافہ کردیاگیا۔

صدقہ فطر کے نام:

صدقہ فطر  ۲۔زکاۃ فطر ۳۔زکاۃ صوم ۴۔صدقہ رمضان

             اور تمام ناموں کا ذکر نصوص میں آیا ہوا ہے۔

صدقہ فطر کی  مشروعیت کی تاریخ:

   صیام رمضان کی فرضیت کے ساتھ سن دوہجری  میں یہ فرض ہوئی۔

صدقہ فطر کا حکم: فرض عین ہے،اور ابن المنذر اور دیگر علما نے اس کے وجوب پر اجماع نقل کیا ہے۔

صدقہ فطر کے وجوب کی دلیلیں:

۱۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى، وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى)(1)

’’بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا ۔‘‘

۲۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے رمضان کی تکمیل پر صدقہ فطر  ہر ایک مسلمان  شخص پر آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا  ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو  فرض کیا ہے۔ (2)

 سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:’’ ہم (رسولﷺ کے زمانے میں)صدقہ فطر نکالتے تھے ایک صاع طعام کا (یعنی گیہوں کا) یا ایک صاع جَو کا یا کھجور کا یا پنیر کا یا انگور کا۔(3)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔‘‘(4)

زکاۃ فطر کی  مشروعیت کی حکمت:

۱۔نفس کو گندگی   ،بخیلی اور دیگر برے اخلاق سے پاک کرنا

۲۔روزے کو متاثر کرنے والی اور اس کے ثواب کو کم کرنے  والی لغووبے ہودہ بات  اوررفث (جماع  ومقدمات جماع) وغیر ہ سے پاک کرنا

۳۔اجر کی تکمیل کرنا اور عمل صالح کو بڑھانا

۴۔فقراء ومساکین کی خبر گیری کرنا،اور روزعید انہیں سوال کرنے اور حاجت کی ذلّت سے بے نیاز کرنا۔

۵۔ماہ  رمضان کے روزے کی تکمیل اور اس کے قیام پر بندے کا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرنا، اور جو کچھ نیک اعمال میسرہوں اسے بجالانا۔

۶۔مسلم سماج کے لوگوں کے درمیان محبت  ومودّت کو فروغ دینا

وکیع بن جراح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ماہ رمضان کے لیے صدقہ فطر نمازکے لیے سہو کے دوسجدوں کی طرح ہے، صدقہ فطر سے روزہ کی کمی پوری ہوتی ہے اسی طرح سجدہ سہوسے نمازکی کمی پوری ہوتی ہے۔

صدقہ فطر کس پر واجب ہوتا ہے؟

ہرمسلمان ، خواہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، آزاد ہو یا غلام۔

اور یہ مالد ار شخص  پر واجب ہوتا  ہے اور وہ ایسا شخص ہے:جس کے پا س  عید  کے دن اوراس کی رات ،اس کے اور اس کے اہل وعیال  اور جن پر اس کا نان ونفقہ واجب ہے  کی خوراک سے  ایک صاع یا اس سے زیادہ غلہ ہو۔

زکاۃ فطر کن لوگوں کا نکالنا ضروری ہے؟

آدمی اپنے ، اپنی بیوی۔اگرچہ وہ مالدارہے۔،اپنی اولاد،اور اپنے فقیر والدین اور اس بیٹی کی طرف سے جس سے اس کے شوہر نے دخول نہ کیا ہو،اور اگر اس کا بیٹا مالدار ہے تو اس پر اس کی طرف سے نکالنا واجب نہیں ہے،اور شوہر اپنی مطلقہ رجعیہ بیوی کی طرف سے نکالے گا نہ کہ نافرمان  اور  طلاق بائن والی عورت کی طرف سے۔

جنین(ماں کی پیٹ میں موجود بچہ) کی طرف سے زکاۃ فطر نکالنا:

بعض علماء نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فعل کی وجہ سے جنین کی طرف سے زکاۃ فطر نکالنے کو مستحب گردانا ہے۔

زکاۃ فطر میں نکالا جانے والا غلہ:

بہتر یہ ہے کہ حدیث میں موجود اصناف کی موجودگی میں اسی پر اکتفا کیا جائے جب  اس کے لینے والے پائے جائیں اور وہ خوراک میں سےہوں  ،چناں چہ ان میں سے عمدہ اور فقیروں کے لیے نفع بخش غلہ نکالے گا۔

لہذا ان اصناف میں سے کسی ایک کو لینے والا مل جائے اور وہ خوراک میں سے ہو تو اس کا نکالنا بہتر ہے،کیونکہ اس میں سنّت کی موافقت اور دینی طور پر احتیاط ہے، پس اگر یہ نہ  موجود ہو تو  شہر میں جو بھی (قسم) غذا وخوراک کا کام دے  اس کا نکالنا جائز ہے۔

ابن قیم۔رحمہ اللہ۔ کہتے ہیں:’’یہی  صرف درست قول ہے، کیونکہ اس سے مقصود عید کے دن مسکین کی مدد کرنا  اور اس جنس (کے غلہ )سے ان کی خبر گیری کرنا جو ان کے لیے خوراک کا کام کرے۔‘‘

صدقہ فطر میں واجب مقدار:

صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع ہے، اور صاع سے مراد: صاع نبویﷺ ہے(اور ایک صاع چار مد ہوتاہے، اور ایک مُد کی مقدار:  اوسط درجے آدمی کے دونوں ہتھیلیوں   کے مقدار بہترین گیہوں یا دیگرغلہ،جس کا وزن تقریبا ڈھائی کلو ہے،اور جو اس سے زیادہ ہو اس سے عام صدقہ کی نیت کرے۔

زکاۃ فطر کے نکالنے کا وقت:

زکاۃ فطر نکالنے کے تین اوقات ہیں:

اوّل:افضل وقت ،یہ عید کی رات غروب شمس سے شروع ہو کر نماز عید تک رہتا ہے، اور اس  کا افضل وقت  نماز فجر  اور نماز عید کا درمیانی وقفہ ہے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے:’’رسولﷺ نے حکم دیا کہ اسے لوگوں کا نماز کی طرف نکلنے سے پہلےپہلے ادا کردیا جائے۔‘‘

دوم: وقت اجزاء(کفایتی وقت): یہ عید سے ایک یا دو دن پہلے کا وقت ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں  ہے: ’’صحابہ کرام   اسے(صدقہ فطر) فطر(عید) سے ایک یا دودن پہلےمسکینوں کو دیتے تھے(5)۔‘‘

چناں چہ صحابہ کرام کا اس پر اجماع تھا۔

سوم: وقت وجوب:اور عید کی رات سورج کے غروب  کا وقت ہے۔

صدقہ فطر کے مستحقین:

ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے ۔‘‘

چناں چہ اس حدیث کی روشنی میں اسے صرف مساکین کو ہی دیا جائے گا۔

شیخ محمد ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:  زکاۃ فطر کے مستحق فقراء ہیں، یا وہ لوگ جن پر قرض ہے اور اس کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتے، یا ان کی تنخواہ آخر ماہ تک کافی نہیں  ہوتی، چناں چہ وہ مسکین ومحتاج ہیں اور انھیں اس میں سے ان کی ضرورت کے بقدر دیا جائے گا۔اور اس کے دینے والے کے لیے اس شخص سے خریدنا درست نہیں ہے جس کو اس نے دیا ہے۔‘‘

صدقہ فطر کی تقسیم:

جماعت یا گھر والوں کا کا  کسی ایک مسکین کوزکاۃ فطر دینا درست ہے، اور کسی سخت ضرورت کے پیش نظر ایک شخص کے صدقہ کو کئی مسکینوں کے درمیان تقسیم کرنا بھی درست ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ایک صاع کا کسی جماعت کو دینا اسی طرح کئی صاع  کو ایک شخص کو  دینا جائز ہے۔

امام مالک  کہتے ہیں: آدمی کا اپنے اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے صدقہ فطر ایک مسکین کو  دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اور جب کسی فقیر کو ایک صاع سے کم دے تو اس کو باخبر دے کیونکہ بسا اوقات فقیر اپنی طرف سے نکال سکتا ہے۔

اور فقیر کے لیے جب کسی شخص سے صدقہ فطر لے اور وہ اس کی ضرورت سے زیادہ ہوجائے تو اس کا اپنی طرف سے، یا اس شخص کی طر ف سے جو اس کے ماتحت ہیں نکالنا جائز ہے جب اسے یقین ہو کہ یہ مکمل اور کفایت  کرنے والی ہے۔

زکاۃ فطر میں قیمت نکالنا:

زکاۃ فطر میں غلہ کے بجائے قیمت نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے قیمت موجود ہونے کے باوجود خوراک وغلہ کے اقسام کی  وضاحت فرمائی ہے۔لہذا اگر قیمت کافی ہوتی تورسولﷺ ضرور اسے بناتے،کیونکہ ضرورت کے وقت   سے بیان کو مؤخر کرنا درست نہیں ہے۔

اسی طرح کسی صحابی رسولﷺ کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ انہوں  نےصدقہ فطر میں قیمت دیا ہو،جبکہ اس زمانے میں اس چیز کا امکان تھا۔حالانکہ وہ نبیﷺ کی سنّت کو زیادہ جاننے والے تھے اور آپ ﷺکے طریقے کی اتباع کے زیادہ حریص تھے۔

اور قیمت کے نکالنے میں اس عظیم شعار کا چپھانا لازم آئے گا، اور لوگ اس کے احکام سے  جاہل ہوجائیں گے،اور اس کو حقیر سمجھنے لگیں گے۔

صدقہ فطر نکالنے کی جگہ:

اصل یہ ہے کہ آدمی زکاۃ فطراس شہر کے فقراء کو دے جس پر زکاۃ واجب ہے اور وہ وہاں موجود ہے،اور یہ عید کی رات غروب شمس سے واجب ہوتا ہے۔

والله أعلم وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

حواشی:

(1) سورة الأعلى (14-15)

(2) صحیح بخاری -ن - (2 / 547)صحيح مسلم-ن - (2 / 677)

(3) صحیح بخاری ت - (3 / 577) صحيح مسلم - (3 / 69)

(4) سنن  نسائی(1 / 380) سنن أبى داود-ن - (2 / 25) البانی نے اسے حسن کہا ہے .

(5) صحیح بخاری ت - (3 / 586)

 

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث