علمی فائلیں

رمضان فولڈر

کیا آپ جہنم سے آزادی چاہتے ہیں؟

ڈاکٹر محمد بن عدنان السمّان(ایگزیٹو منیجر  آف سنت نبوی اوراس کے علوم کی ویب سائٹ)

مسند احمد میں صحیح سند سے نبیﷺ کا یہ فرمان ہے:

’’بے شک اللہ تعالیٰ ہردن اور رات کو کچھ بندوں کو آزاد کرتا ہے ۔ ۔۔‘‘

کہاں  سے؟ جہنم سے۔

کب کرتا ہے؟ ماہِ رمضان میں۔

جہنم سے آزادی کا مطلب جہنم سے نجات حاصل کرنا  اور جنت سے سرفراز ہونا ۔اور یہ  بلند  امرسب سے بڑی  کامیابی ہے ۔ارشاد باری تعالی ٰ ہے: (فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ) .

ترجمہ:’’ جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا۔‘‘

(آل عمران:۱۸۵)

اور جب کہ ماہ رمضان کا ایک حصہ اور اس کے ابتدائی ایام گذر چکے ہیں ہم اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ: کیا ہم ابتدائی ماہ کی طرح  عبادت میں چستی ونشاط رکھتے ہیں؟!

مسلمان شخص کے لیے مناسب ہے کہ وہ اللہ کے پاس موجود (نعمتوں ) کی امید رکھے۔

اور مسلمان کو جو چیز (نیکیوں پر)ابھارتی ہے اور اس کے ہمت کو بلند اوراس کے عزائم کو حوصلہ دیتی ہے اس کا اس بات کو یاد رکھنا ہے کہ رمضان جہنم سے آزادی کی گھڑی ہے۔

 لہذا اسے اپنے عزم کی تجدید کرنا چاہیے اور اطاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے،اورخیرات کی طرف  مبادرت  کرنا چاہیے،اور اس عظیم موسم میں اور مبارک ماہ میں دوگنا اجروثواب سے فائدہ اٹھانے میں بڑھ چڑھ کر کام لینا چاہیے۔

جہنم سے آزادی  دلانے والی احادیث کے اسباب  میں غور وفکر کرنے والا بیس سے زائد سبب پائے گا،جسے ایک فاضل نے اپنے ایک  مقالہ میں جمع کردیا ہے، لیکن میں  ان میں سے صرف تین ایسے اسباب کو بیان کروں گا جن کا رمضان سے گہرا تعلق ہے:

اول: اخلاص جہنم سے نجات پانے کا سبب ہے:

رسولﷺ کا ارشاد ہے: [لن يوافي عبد يوم القيامة يقول : لا إله إلا الله يبتغي بها وجه الله إلا حرَّم الله عليه النار ] رواه البخاري[

’’جو بندہ روز قیامت اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس نے دنیا میں اللہ کی رضا کے لیے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم  کوحرام کردے گا۔‘‘

اخلاص  کا معاملہ عجیب ہے  اور یہی  ایک مسلمان شخص کے عمل  کے لیے اہم  فیصل ہے، اور ماہ رمضان کے صیام وقیام کی احادیث میں غور وفکر کرنے والا اس  اہم بات کا ملاحظہ کرسکتا ہے’’جس نے رمضان کا روزہ ایمان واحتساب کے ساتھ رکھا۔‘‘ ’’جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ  رمضان کا قیام کیا۔‘‘ ’’جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ لیلۃ القدر کا  قیام کیا۔‘‘

اس میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عمل میں اخلاص  کا پایا جانا  بندہ کے پچھلے گناہ کی بخشش کا سبب  بنتا ہے۔

دوسرا سبب: اللہ کی خوف سے رونا ہے۔ رسولﷺ کا ارشاد ہے:اللہ کےخوف سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، (اور یہ محال ہے)اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے۔(اسے ترمذی وغیرہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے)۔

  اور خشیت الہی  سے رونا جیسا کہ کسی سے مخفی نہیں ہے ایسا سبب ہے جس کی وجہ سے آدمی رحمن کے عرش کے سایہ میں ہوگا جس دن  کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا،چنانچہ اللہ کی راہ میں بہنے والا آنسو سب سے بہتر اور  سب سے نرم  آنسو ہے،یہ ایسا آنسو ہے جو سارے گناہوں کو دھو دینے والا ہے، یہ ایسا آنسو ہے جس میں رب جل جلالہ کی خوشنودی ہے۔ اور یہ  ماہ رمضان کی گھڑی ہے جو قرآن اور اس میں تدبر کرنے کا ماہ ہے، چناں چہ ہم اسے  مساجد اور مختلف ذرائع ابلاغ میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں ۔

لہذا مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ کلام اللہ میں تدبر حاصل کرے، اور اس کی آیتوں اور اس میں جو نصائح ہیں ان کے پاس ٹہرے،تاکہ قلوب متحرک ہوں،اور تاثر وخشوع  حاصل کریں۔

 

اور یہاں پر  مسلمان کو اس خالص آنسو کی بشارت ہو جو اللہ کے لیے خو ف الہی سے جاری ہو۔

تیسرا سبب: وہ ہے جو پیارے حبیب ﷺ کی حدیث میں آیا ہوا ہے جس وقت  آپ نے فرمایا کہ: ’’جس مسلمان نے اللہ سے تین بار جنت کا سوال کیا تو جنت کہتی ہے: اے اللہ اسے جنت میں داخل فرما، اورجو بھی مسلمان  اللہ سے تین بار جہنم سے پناہ طلب کرتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اسے جہنم سے پناہ دے۔‘‘ (اسے  امام احمد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے)

یہ دعا ہے  اور اللہ کی طرف تضرّع وگریہ زاری  اور التجا   کرنا ہے، اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔

 اور آپ کو تعجب ہوگا جب اللہ تعالیٰ روزے کے احکام کی آیات کے دوران ایسی آیت کو لایا ہے جو دعا کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ (وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ )

’’ جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔‘‘

اسی لیے امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’روزے کے احکام کے درمیان اللہ تعالیٰ کا  دعا کی ترغیب دینے والی آیت بیان کرنے میں  اس بات کی ہدایت ہے کہ روزہ کی تعداد مکمل ہونے پر ،بلکہ ہر افطار کے وقت دعا کا خوب اہتمام کرنا چاہیے۔‘‘  

اے اللہ ہمیں جنت میں داخل فرما، اے اللہ ہمیں جنت میں داخل فرما،اے اللہ ہمیں جنت میں داخل فرما۔ اے اللہ ہمیں جہنم سے محفوظ رکھ، اے اللہ ہمیں جہنم سے محفوظ رکھ، اے اللہ ہمیں جہنم سے محفوظ رکھ۔

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث