علمی فائلیں

 

رمضان فولڈر

 

رمضان کی آمد پر (امام کعبہ) شیخ ڈاکٹر صالح بن طالب کا خطبہ
پہلا خطبہ

 

حمد و صلوٰۃ کے بعد :

 

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا‘‘ [آل عمران : 102] اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، ﴿وَاخْشَوْا يَوْمًا لا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلا تَغُرَّنَّكُمْ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا (یاد رکھو) اللہ کا وعدہ سچا ہے (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔‘‘ [لقمان : 33]، یقیناً آپ جان لیں! کہ لمبی زندگی گزارنے کے بعد آپ اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جائیں گے اور پھر آپ کا ٹھکانہ جنت ہوگا یا جہنم ہوگا۔

 

اے مسلمانو! ماہِ رمضان المبارک کے پہلے دن  ہی ہم اپنے آپ کو اور تمام مسلمانوں کو  اس عظیم ماہ کی آمد کی مبارکباد دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس ماہِ مبارک کو امتِ اسلامیہ اور مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں کے لیے بابرکت بنائے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے اوپر امن و ایمان، سلامتی و اسلام، مدد و سربلندی اور مسلمانوں کی مضبوطی کے ساتھ طلوع فرمائے۔

 

اے مومنو!امت اس محبوب زائر کا استقبال نہایت فرحت و مسرت اور شادمانی سے کر رہی ہے۔ اے رمضان ہم تیری آمد سے بہجت و سرور محسوس کر رہے ہیں۔ بے شک تیری آمد کا دن وہ دن ہے جس کے لیے ہمارے قلوب و صدور وا ہیں۔ تمہارے استقبال کے لیے ہمارے دل فرحت و مسرت سے معمور اور بشارت و شادمانی سے لبریز ہیں۔ تو نے ہمیں اپنی پاکیزہ فضا کی واپسی کی خوش خبری دی ہے، ایسی پاکیزہ فضا کی خوش خبری جس کی فرقت و جدائی کے بعد  ہماری روحیں اسی سے وابسطہ رہتی ہیں۔ طویل مدت و جدائی کے بعد طاعت و بندگی کی پرُمسرت گھڑیوں کی بشارت ہمیں ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے ساتھ اچھا سلوک و برتاؤ کرنے اور اس پر فدا ہونے کی توفیق ارزانی بخشے۔  کتنی ہی روحیں ہیں جو تیری شوقین ہیں اور تیرے اذان کی خوش کن آواز سے کان اٹھ کھڑے ہوئے تیرے بدلیوں کی موسلا دھار بارش سے رحمت و غفران کی امید لگائی اور تیری آمد پر ہاتھ اور نفوس متحرک ہو گئے اور احسان و برّ کا فیضان شروع کر دیا۔

 

جب سے رمضان کا چاند طلوع ہوا اور آسمان اپنی بلندیوں کے ساتھ روشن و تاباں ہوا رمضان ایک عظیم بشارت بلکہ پوری کائنات میں ایک نور عام ہو گیا اور ان ایام میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رمضان کی آمد کو ہمارے لئے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے اور ہم تمام مسلمانوں کے لیے اس کے فیوض و برکات کو مزید بڑھا دے۔ پس رمضان ایام کا سردار اور لوگوں کی پیشانیوں کے چمک کا ذریعہ ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ رمضان ہمارے مساجد کی زندگی، ہمارے بازاروں کا سرمایہ، میناروں کی زینت، منبروں کی آواز اور آنکھ و کان کے بھرنے کا ذریعہ ہے۔ اے اللہ جیسے تو نے ہمیں رمضان کا مہینہ عنایت فرمایا ایسے ہی اِتمام و قبول کے نوازش کی ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں۔

 

اللہ کے بندو! مسلمانوں میں سے کون ہے جو اس مہینے کی فضیلت اور اس کی قدر و منزلت سے واقف نہ ہو؟ یہ تمام مہینوں کا سردار اور سب سے بہتر مہینہ ہے : ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ ’’ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔‘‘ [البقرۃ : ۱۸۵]، جو کوئی اس مہینے کا روزہ رکھے گا اور قیام اللیل کرے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، صحیحین میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے جس نے ایمان کے ساتھ اور حصولِ ثواب کی خاطر رمضان کا روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، اور جس نے ایمان کے ساتھ اور حصولِ ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، اور جس نے ایمان کے ساتھ اور حصولِ ثواب کی خاطر شبِ قدر کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (1)

 

یہی وہ رمضان ہے جس میں انتہائی قربت والا عمل روزہ رکھنا ہے جسے حصولِ تقویٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ [البقرۃ : ۱۸۳]، پس یہ نفوس کی تزکیہ اور تربیت کا مہینہ ہے، تقویٰ ضمیر کی حساسیت، شعور کی بالیدگی، نفس کی شفافیت اور اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا نام ہے، اور روزہ مراقبہ کے ذریعہ شعور کو بالیدگی عطا کرتا ہے اور طاعت و بندگی کے ذریعہ نفس کا تزکیہ کرتا ہے۔

 

روزہ داروں کا ثواب رب کریم خود عطا فرمائے گا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزو جل فرماتا ہے: انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کے لیے ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہیں کرنی چاہئے اور نہ شور مچانا چاہیے، اور اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑنا چاہے تو اسے صرف یہ کہنا چاہیے: میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہوگی، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں: ایک تو جب وہ افطار کرتا ہے تو افطاری کی وجہ سے اسے خوشی حاصل ہوتی ہے، اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔‘‘ اس حدیث کی روایت بخاری و مسلم نے کی ہے۔ (2) اور بخاری و مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ : ’’اس نے اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہشات کو میری وجہ سے چھوڑا ہے‘‘ (3) اور صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے جو اس کے بیچ میں سرزد ہوں بشرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچے۔‘‘ (4)

 

پس اے وہ لوگو!جو گناہوں سے نبرد آزما ہوں  اور جو نافرمانیوں کی وجہ سے کوتاہی و تساہل کا شکار ہوں، انھیں چاہیے کہ رات کی تاریکی میں دستِ دعا دراز کرنے میں جلدی کریں، اور اس رب کریم کی رحمت سے مایوس نہ ہوں جو آیاتِ صیام کے بیچ میں فرماتا ہے : ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِي إِذَا دَعَانِي فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾ ’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں، اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘ [البقرۃ : ۱۸۶]، اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جو رمضان کو پائے اور اس کی بخشش نہ ہو، کیوں کہ اس ماہِ مکرم میں رحمت و بخشش کی ایسی عطر بیز ہوا چلتی ہے جس سے وہی شخص محروم ہوتا ہے جو خود کو اس سے محروم رکھے۔ صحیحین میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے توجنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ (5)

 

رمضان کا مہینہ قیام و تراویح اور ذکر و تسبیحات کا مہینہ ہے، پس رمضان کی راتوں کو نماز و دعا اور قرأتِ قرآن سے معمور کریں، بسااوقات نصف رات میں کی جانے والی سچی دعا اوپر اٹھ کر آسمان کو تجاوز کر جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے آپ کے لیے دنیا و جہان کی سعادت لکھ دیتا ہے۔

 

رمضان قرآن کا مہینہ ہے، جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن پڑھاتے : ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنْ الْهُدَى وَالْفُرْقَان﴾ ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہےاور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔‘‘ [البقرۃ : ۱۸۵]، سلف صالحین رحمہم اللہ کا طرزِ عمل تھا کہ جب رمضان آتا تھا تو وہ حدیث کو چھوڑ کر اپنے آپ کو قرأتِ قرآن کے لیے فارغ کر لیتے تھے، اور ماضی قریب کی ان کی سیرت اس بات کی شاہد ہے کہ ان میں سے کتنے ہی لوگ ایک دن میں یا تین دن میں یا اس سے زائد میں قرآن ختم کرتے تھے۔ اللہ آپ لوگوں کی حفاظت فرمائے آپ لوگ اپنے رب کی ذکر کے شوقین و دلدادہ بنیں اور اپنی زبان کو اس کے کتاب کی تلاوت سے تر رکھیں، کیوں کہ اس کی وجہ سے نفوس کا تزکیہ ہوگا، دلوں کو اطمنان حاصل ہوگا اور  اور عظیم اجر و ثواب حاصل ہوگا۔

 

اے مسلمانو! سخاوت و انفاق قرآن کریم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سخاوت رمضان کے مہینے میں اور بڑھ جاتی تھی، اس طرح کہ جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے آتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن کا دور کراتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصاً اس دور میں جب جبرائیل علیہ السلام روزانہ آپ سے ملاقات کے لیے آتے تو آپ خیرات و برکات میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔(6) اور رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و مغفرت، جہنم سے آزادی، رزق اور فضل و مہربانی کی سخاوت کرتا ہے، اس لیے جو کوئی اللہ کے بندوں پر سخاوت کرے گا اللہ اس پر سخاوت کرے گا۔

 

موجودہ دور میں داد و دہش کے بہتیرے چشمے خشک ہو چکے ہیں، کون ہے جو فقیروں،  مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں پر صدقہ و خیرات کرنے والا ہے؟  جنھیں لڑائیوں نے مغلوب اور جنگوں نے پزمردہ کردیا ہے عنقریب ہی اللہ تعالیٰ ان کی قحط و پریشانی کو دور فرمائے گا، ایسے لوگ آپ کے دینی بھائی ہیں، اللہ کے بعد آپ کے سوا ان کا کون مددگار ہے؟  کیا ہم اس مقدس مہینے میں بر و احسان کی تجدید کریں گے؟

 

پس اے وہ مالدارو! جن پر اللہ تعالیٰ نے بست و کشادگی کی ہے، بے شک اللہ ہی وہ ذات ہے جو دیتا اور روکتا ہے، وہی پست و بلند کرتا ہے، وہی وہ ذات ہے جو تمھیں پورا پورا بدلہ دے گا اس خرچ کرنے کے بدلے جو تم اس کی دی ہوئی روزی سے کرتے ہو، تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو، اور مومن بروزِ قیامت اپنے صدقہ کے سائے میں ہوگا: ﴿وَمَا أَنفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ ’’تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔‘‘ [سبا : ۳۹]، اور مالدار شخص صدقہ و خیرات کے دینے سے کبھی محتاج نہیں ہوگا جس کی معرفت  وہ خود رکھتا ہے یا قابلِ اعتماد ذرائع سے جانتا ہے۔

 

اے مسلمانو! روزے کے اندر بہت سی حکمتیں اور أسرار پائے جاتے ہیں۔ انھیں حِکَم و اسرار میں سے یہ بھی ہے کہ : مشروع چیزوں سے دوری، اور بھوک کے ذریعہ نظم و ضبط اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع و خضوع کا پایا جانا، شفقت کو ابھارنا، صدقہ کی تلقین، کِبر و گھمنڈ کو توڑنا، صبر کا درس دینا، نیکی کے ذرائع کو نافذ کرنا،  یہاں تک کہ جو شکم سیری کی لذت سے مانوس ہو اگر وہ بھوکا ہوگا اور لذت و تفریحی اسباب سے محروم  کیا جائے گا تو وہ محرومی کی لذت سے آشنا ہوگا اور اسے معلوم ہوگا کہ بھوک کیسی ہوتی ہے اور اس کے درد و الم کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔

 

اے مومن روزہ دارو! رمضان فتوحات اور کامیابیوں کا مہینہ ہے، جس قدر ہم اس کی بشارتوں سے مستفید ہوں گے اور جس قدر ہم امیدیں وابسطہ رکھیں گے اللہ تعالیٰ امت کی حالت کو عزت و نصرت اور مضبوطی میں تبدیل کردے گا، اور اللہ امت کو بہترین بدلہ دے گا، وگرنہ رمضان ہمیں اسی حالت میں رکھے گا  اور امت کی حالت زخموں سے چور اور آلام و مصائب میں گھری ہوئی ہوگی۔ رمضان المبارک جلوہ فگن ہو رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرگاہ (بیت المقدس) ناپاک رذیلوں کے قبضہ میں ہے، جن کی پلیدگی سے روئے زمین کے گوشے دوچار ہیں۔  رمضان کی آمد ہورہی ہے جب کہ مومنوں کے مجاہدین بیت المقدس کے اطراف میں مارے جارہے ہیں، بے گھر کئے جا رہے ہیں ، ان کے گھروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے، ان کی زمینوں کا صفایا کیا جارہا ہے، ان کی جماعتوں کو منتشر کیا جارہا ہے، اور یہ سب کچھ ان ظالموں کی سرپرستی میں کیا جارہا ہے جو سرزمیں عراق میں لوگوں کو اسی طرح کی طغیان و سرکشی اور مزاحمت میں مشغول کیے ہوئے ہیں، ہم اللہ ہی سے شکوہ کناں ہیں۔ اس ماہِ مقدس میں تمھارے ان بھائیوں کا تم پر تھوڑا سا یہ حق ہے اور یہ معمولی نہیں ہے، کہ تم انھیں اپنی سچی دعاؤں میں یاد رکھو، اور تم ان کے لیے اپنے سجدوں اور رات میں کی جانے والی دعاؤں میں دعا کرو، ان کے معاملات میں شریک ہو اور ان کے حالات کا جائزہ لو، اور جو کوئی مسلمانوں کے بارے میں پروا نہیں کرتا ہے وہ ان میں سے نہیں ہے : ﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلاً﴾ ’’بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ  کافروں کی جنگ کو روک دے اور اللہ تعالیٰ سخت قوت والا ہے اور سزا دینے میں بھی سخت ہے۔‘‘ [النساء : ۸۴]۔

 

بے شک رمضان انابت و توبہ کا فصلِ بہاراں ہے، کیا امت پر ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے خالق کی سچی بندگی بجالائے،  اور اپنے وجود بخشنے والے معبود پر بھروسہ کرے، اور آسمان سے فتح و نصرت کے اسباب نازل کروائے اور صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اس کے سوا کسی اور کی طرف رخ نہ موڑے؟ یقیناً آرزوئیں بہت زیادہ ہیں،  اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ و اعتماد ہے اور وہی مددگار ہے اور پہنچانا اسی کی ذمہ داری ہے۔

 

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ *أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ *شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنْ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمْ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمْ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ میں مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں : ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی کو پورا کرلے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمھارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔ ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمھارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔‘‘ [البقرۃ : ۱۸۳ تا ۱۸۵]

 

اللہ ہمارے لیے اور آپ کے لیے قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے،  اور اس میں موجود آیتوں اور باحکمت ذکر سے ہمیں اور آپ کو نفع پہنچائے، میں یہی دعا کر رہا ہوں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر ایک گناہ اور خطا سے استغفار طلب کرتا ہوں، آپ لوگ بھی اسی سے بخشش طلب کریں  اور اسی سے توبہ کریں، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

 

حوالہ جات :

 

(1)   صحيح البخاري: كتاب الإيمان (35، 37، 38)، صحيح مسلم: كتاب صلاة المسافرين (759، 760).

 

(2)   صحيح البخاري: كتاب الصوم (1904)، صحيح مسلم: كتاب الصيام (1151).

 

(3)   صحيح البخاري: كتاب الصوم (1894)، صحيح مسلم: كتاب الصيام (1151).

 

(4)   صحيح مسلم: كتاب الطهارة (233) عن أبي هريرة رضي الله عنه.

 

 (5) صحيح البخاري: كتاب الصوم (1898، 1899)، صحيح مسلم: كتاب الصيام (1079) عن أبي هريرة رضي الله عنه.

 

(6)   صحيح البخاري: كتاب بدء الخلق (3220). وأخرجه مسلم أيضا في كتاب الفضائل (2308).

 

 

 

دوسرا خطبہ

 

إنّ الحمدَ لله، نحمدُه ونستعينُه ونستغفِره، ونعوذُ بالله من شُرورِ أنفسِنا وسيّئات أعمَالنا، من يهدِهِ الله فلا مضلَّ له، ومَن يضلِل فلا هاديَ له، وأشهد أن لا إلهَ إلا الله وحدَه لا شريكَ له، جلّ عن الشبيه وعن الندِّ وعن النظير، ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ﴾ [الشورى:11]، وأشهد أنَّ محمّدًا عبده ورسوله الهادي البشير والسراج المنير، بلَّغ الرسالَةَ، وأدَّى الأمانة، ونصَح الأمّة، صلّى الله عليه وعلى آله وأصحابه صلاةً وسلامًا دائمين إلى يوم البعث والنشور.

 

أمّا بعد:

 

بے شک ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے،  ہم اس کی حمد و تعریف بیان کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفوس کے شرور اور اپنے برے اعمال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اللہ بزرگ و برتر مشابہت، ہمسر اور نظیر سے پاک و بلند ہے : ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِير﴾ ’’اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ [الشوریٰ : ۱۱]، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، رہنمائی کرنے والے، بشارت دینے والے اور روشن چراغ ہیں، آپ نے رسالت کو پہنچا دیا، امانت کو ادا کردیا، امت کی خیرخواہی کی، آپ پر اور آپ کے آل اولاد اور ساتھیوں پر ہمیشہ ہمیش کے لیے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک درود و سلام کا نذرانہ پیش ہو۔

 

حمد و صلوٰۃ کے بعد :

 

اے مومنو! جب مسلمان موسمِ خیر کا استقبال کرتے ہیں، وہ اس کی حاصل شدہ غنیمت کی امید کرتے ہیں، کیوں کہ ابتدا ہی میں ان پر واجب ہے کہ وہ اس میں اپنے آپ کو لگادیں اور اپنے عمل کا جائزہ لیں تاکہ کوئی چیز مشتبہ ہوکر ان کے اور اس موسم کے درمیان حائل اور رکاوٹ نہ بنے، جو کہ ان کے اور قبولِ عمل کے درمیان حائل ہو جائے یا اس کی وجہ سے ان کے ثواب میں نقص و کمی آجائے،  پھر تو اس محنت کا کیا فائدہ جس کا اجر رائیگاں جائے اور اس عمل کا کیا فائدہ جو ثواب کی امید سے کی جائے اور وہ گناہ شمار کی جائے؟ اسی لیے اللہ کے دین میں تفقہ اور گناہ و معصیات سے اجتناب نیز اعمال کو کھا جانے والے امور اور جوارح کو ناجائز کاموں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

 

 ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’جان لو کہ حالتِ صیام کے علاوہ میں اصلاً مباح خواہشات کے ترک کرنے سے اللہ تعالیٰ کی قربت نہیں حاصل ہوتی ہے مگر یہ کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو ترک کردیا جائے، مثلاً  : جھوٹ، ظلم اور لوگوں کے مال و جان نیز عزت و آبرو سے متعلق عدوان و سرکشی۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جو شخص (حالتِ صیام میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نیز جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا شخص اپنا کھانا پینا چھوڑے‘‘ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے‘‘ (1)

 

اے مسلمانو! یقیناً صیام کا مقصد اللہ کی بندگی پر نفس کی تربیت کرنا، صبر کے ساتھ نفس کا تزکیہ کرنا، تقویٰ کو بڑھاوا دینا اور شہوات و خواہشات پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔جس طرح جسم کو بعض مباحات سے روکا جاتا ہے اعضاء و جوارح کو بھی حرام چیزوں سے روکنا افضل ہے۔ یقیناً رمضان کا وقت اس بات سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے کہ اسے خالی رت جگا میں یا بازاروں میں وقت گزاری کرنے میں یاٹیلی ویزن وغیرہ کے دیکھنے میں ضائع و برباد کیا جائے، کیوں کہ ان چیزوں میں محو ہونا رمضان کے قیمتی وقت کو برباد کرنا ہے اور اگر معاملہ ایسا نہیں ہے تو رمضان اس کے لیے کافی ہوگا، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ وہ اس کی بھر پور کوشش کررہا ہے اور مردود شیطان کو جکڑ دیا گیا ہے؟

 

اخیر  میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو رمضان کی حفاظت کرتے ہیں، گویا کہ رمضان ان کے لیے مدتوں بعد آنے والا نہایت محبوب زائر ہےجو عبادت سے مغفول لوگوں کو عبادت میں مشغول کرتا ہے، اس طرح وہ اس بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ کاش رمضان ان کے پاس دائمی طور پر رہے۔ اور کچھ دوسرے ایسے لوگ ہیں جو رمضان کو خواہشات کی تکمیل کا موسم سمجھتے ہیں اور توبہ و انابتِ الٰہی میں کوتاہی کرتے ہیں اور بکثرت غلطیاں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے گناہوں کے بوجھ میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا ہے اور ان بابرکت ایام کے ذریعہ وہ گھاٹے ہی کا سودا کرتے ہیں اور یومِ حشر کے لیے کوئی زاد و توشہ نہیں تیار کرتے ہیں۔ پس اے اللہ ! اپنے ذکر و شکر اور بہترین عبادت پر ہماری مدد فرما۔

 

یہ چند باتیں ہیں۔  اور درود و سلام نازل ہو اللہ کے رسول، روشن چہرے اور منور پیشانی کے مالک رسولِ رحمت و ہدایت محمد بن عبداللہ پر۔

 

اے اللہ! درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں تیرے بندے اور رسول محمد پر، ان کی آل و اولاد پر اور ان کے ساتھیوں پر، ہمیں حوضِ کوثر نصیب فرما، اے ارحم الراحمین اپنی رحمت سے ہمارا حشر ان کے زمرے میں فرما۔

 

اے اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، اے اللہ! اسلام کو سربلندی عطا کر اور مسلمانوں کی مدد فرما، نیز شرک اور مشرکین کو ذلت سے دوچار کر۔۔۔ 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث