رہنمائے حاج ومعتمر وزائرمسجد رسولﷺ

حج میں اسلامی آگہی

الحمد لله وكفى، وصلاةً وسلاماً على عباده الذين اصطفى، وبعد:

حج میں اسلامی بیداری (آگہی)پیدا کرنے کی کمیٹی اس بات کی خوشی محسوس کررہی ہے کہ آپ کی خدمت میں یہ مختصر گائیڈ پیش کرے جو مناسک حج وعمرہ  کے بارے میں  ایسےاہم امور پر مشتمل ہے جن کا حاجی کے لیے ضروری ہے۔

ہماری گزارش ہے کہ حج شروع کرنے سے پہلے اس کتابچہ کو ضرور پڑھیں تاکہ اس فریضہ کو آپ بحسن وخوبی ادا کرسکیں،ساتھ ہی اس بات کی امید کرتے ہیں کہ آپ اس کو حفاظت سے رکھیں،اوراس کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے بھائیوں کو بھی ہدیہ کریں تاکہ فائدہ عام ہوسکے۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کے حج کو مبرور(مقبول) بنائے،ہماری کوششوں کی قدر کرے، اورہمارے اعمال نیک ومقبول بنائے۔

[شیخ عبد العزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کےمقدمہ سے]

آپ حج وعمرہ کے مناسک کیسے ادا کریں گے اورمسجد رسولﷺ کی زیارت کیسے کریں گے؟

حج کی تین  قسمیں ہیں: تمتع،قران،افراد

تمتّع: حج کے مہینوں(شوال،ذوالقعدہ،اوردس ذی الحجہ) میں عمرہ کا احرام باندھنا،عمرہ سے فراغت کے بعد انتظار کرنااور اسی سال آٹھویں ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ یا اس کے قریب سے حج کا احرام  باندھنا۔

قران: حج کے مہینوں میں :حج اورعمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھنا،ایسی صورت میں حاجی قربانی کے دن ہی حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہوگا،حج قران کی دوسری صورت یہ ہے کہ: حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کا احرام باندھے،پھرطواف شروع کرنے سے پہلے حج کی نیت کرلے۔

افراد:  حج کے مہینوں میں میقات سے حج کا احرام باندھنا ،یا مکہ سے اگر وہ ہاں  مقیم ہو، یا کسی اور جگہ سے اگر وہ میقات کے (حدود کے) اندر ہو پھراگراس کے پاس ہدی(قربانی کا جانور) ہے تو دسویں تاریخ تک حالت احرام میں ہی باقی رہے گا،اوراگر قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا ہے توحج کی نیت کو عمرہ میں بدل دینا جائز ہوگا۔ایسی صورت میں طواف وسعی کے بعد بال کٹواکرحلال ہوجائے گا ا س لیے کہ جن لوگوں نے صرف حج کی نیت کی تھی  اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے ان کو اللہ کے رسولﷺ نے ایسا ہی حکم دیا تھا،اسی طرح حج قران کی نیت کرنے والے کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ بھی حج کی نیت کو عمرہ میں بدل سکتا ہے۔

اورسب سے افضل حج ،حج تمتع ہے،ان کے لیے جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لے گئے ہوں،اس لیے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو ایسا ہی حکم دیا اور اس کی تاکید فرمائی تھی۔

  عمرہ کا طریقہ:

میقات پر پہنچنے کے بعد غسل کرو اوراگرمیسر ہو توبدن میں(نہ کہ احرام کے کپڑوں میں) خوشبولگاؤ، اورپھراحرام کے کپڑے (لنگی اورچادر)پہن لو،بہتر یہ ہے کہ دونوں کپڑے سفید ہوں،عورتیں ہرقسم کا کپڑا پہن سکتی ہیں،مگرشرط یہ ہے کہ بے پردگی اوراظہارزینت نہ ہو (اور نہ ہی ان کپڑوں میں مردوں سے یا کافر عورتوں کے لباس سے کوئی مشابہت ہو)،پھرعمرہ کے احرام  کی نیت کرو اورکہو:

(لَبَّیک، اَللّٰهمَّ لَبَّیک، لَبَّیکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْم لَکَ وَالْمُلْک لَاشَرِيکَ لَک)

’’ میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بیشک تمام تعریفیں اور سب نعمتیں تیری ہی ہیں، ملک اور بادشاہت تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

مرد ان کلمات کو بآواز بلند کہے گا اورعورتیں آہستگی کے ساتھ، پھرزیادہ سے زیادہ تلبیہ ،ذکرالہی ،استغفار اوربھلائی کے حکم دینے اوربرائی سے روکنے میں مشغول رہو۔

۲۔مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرو،ابتدا  حجر اسود کے پاس سے تکبیر کے ذریعہ ہونی چاہیے اورانتہاء بھی وہیں ہوگی،طواف کے دوران ذکرالہی اورمختلف  مسنون دعاؤوں میں مشغوول رہنا چاہیے،اورسنت ہے کہ ہر چکر میں رکن یمانی اورحجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھو:

(رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَاعَذَابَ النَّار) ترجمہ:’’ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے ‘‘[البقرہ:۲۰۱]

پھر اگرممکن ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے ورنہ مسجد میں کسی دوسری  جگہ دورکعت نماز پڑھو۔

اس طواف میں مرد کے لیے اضطباع کرنا مسنون ہے یعنی اپنی چادر کا درمیانی حصہ دائیں بغل کے نیچے اور اس کے دونوں  کناروں کو بائیں کندھے کے اوپر کرلے ،اوریہ بھی مسنون ہے کہ صر ف ابتدائی تین چکروں میں رمل کرے(قدم سے قدم ملاکر تیزی سے چلنے کو رمل کہتے ہیں)

۳۔اس کے بعد صفا پہاڑی کی طرف جاؤ،اس پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کا یہ کلام  پڑھو:( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّـهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّـهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ(

ترجمہ:’’ صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں  ‘‘

پھر قبلہ کی طرف رخ کرو، اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرو اور دعا کرنے کی طرح دونوں ہاتھ اٹھا کر تین بار اللہ اکبر کہواوردعا کرو، دعا کو تین مرتبہ دہرانا سنت ہے ، اور یہ بھی تین بار پڑھو: (لاإلَهَ إِلاَّاللهُ وَحْدَهُ لاشَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ؛ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَعَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. لاإلَهَ إِلاَّاللهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَوَعْدَهُ وَنَصَرَعَبْدَهُ وَهَزَمَ الأحزابَ وَحْدَهُ) ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں،بادشاہی اورحمد اسی کے لیے ہےاوروہ ہرچیز پر قادر ہے اللہ کے سواکوئی معبود حقیقی نہیں وہ اکیلا ہے،اس نے اپنا وعدہ پورا کیا،اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا لشکروں کو شکست دی‘‘

ان مذکورہ دعاؤوں میں سے کچھ پڑھو اور کچھ چھوڑدو تو بھی کوئی حرج نہیں۔ پھر پہاڑی سے اتر کرعمرہ کے لیے سات بار سعی کرو، ہر بار دونوں ہرے نشانوں کے درمیان تیز چلو اور اس کے پہلے اوربعد میں حسب عادت چلو ۔پھرمروہ پہاڑی پربھی چڑھو،اللہ کی تعریف بیان کرو اور وہی کچھ کرو جو صفا پہاڑی پر کیا تھا  اوراگرممکن ہو تو اس(دعا) کو تین بار کہو۔

طواف اور سعی کے لیے کوئی ضروری مخصوص دعائیں نہیں ہیں بلکہ جو بھی ذکر وتسبیح اوردعا یاد ہو پڑھے اور قرآن کریم کی تلاوت کرے ،لیکن نبی کریمﷺ سے ثابت اذکار اور دعاؤوں کا خاص خیال رکھے۔

 ۴۔سعی پوری ہوجانے کے بعد سرکے بال منڈوادویا کتروادو،اب عمرہ پورا ہوگیا اوراحرام کی وجہ سے جوچیزیں حرام ہوگئی تھیں وہ سب حلال ہوگئیں،( اگرنیت حج تمتع کی ہے تو عمرہ کی سعی کے بعد بال کتروانا بہتر ہے تاکہ حج کا احرام کھولتے وقت منڈواسکو)۔

اگرنیت حج تمتع کی تھی یا قران کی تو قربانی کے دن ایک بکری یا اونٹ یا گائے کے ساتویں حصہ کی قربانی واجب ہوگی ،اگرکسی کو میسر نہیں تو دس روزے رکھنے ہونگے، تین دن حج کے دنوں میں اور سات دن وطن واپسی کے بعد، بہتریہ ہے کہ عرفہ کے دن سے پہلے تینوں روزے رکھ لیے جائیں،(اوراگر عید کے بعد تین روزے رکھے جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں) ۔

حج کا طریقہ:

۱۔اگرتم نے حج افراد یا حج قران کی نیت کی ہے تو حج کی نیت اس میقات (احرام باندھنے کی جگہ) کے پاس سے کرو جہاں سے تمہارا گذر ہو، اوراگرتمہاری جگہ حدودمیقات کے اندرہو تو اپنی جگہ سے نیت کرو، اوراگرنیت حج تمتع کی تھی تو عمرہ کی نیت اس میقات سے کرو جہاں سے تمہارا گذرہو، پھر(یوم ترویہ) یعنی آٹھویں ذی الحجہ کو اپنی جائے قیام سے ہی حج کی نیت کرو، ہوسکے تو غسل کرو اور خوشبو لگاؤ،اوراحرام کے کپڑے پہن لو پھر کہو: ( لبيك حجاً: لبيك اللهم لبيك... إلخ )

۲۔پھر منی کے لیے روانہ ہوجا،وہاں ظہر ،عصر،مغرب ،عشاء  اور فجر کی نمازیں  پڑھو، چار رکعت والی نمازیں دورکعت    ان کے وقتوں  میں بغیر جمع کیے ہوئے پڑھو۔

۳۔نویں تاریخ کو طلوع آفتاب کے بعد پرسکون انداز میں  عرفات کے لیے روانہ ہوجاؤ،دوسرے حاجیوں         کو ایذا نہ پہنچاؤ،وہاں ظہر کے وقت ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اوردو اقامتوں کے ساتھ ادا کرو(یعنی جمع تقدیم کرو)، پھرحدود عرفات میں داخل ہوجانے کا یقین کرلو اور نبی کریم ﷺ کی پیروی میں قبلہ رخ ہوکر دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر زیادہ سے زیادہ ذکر ودعا میں مشغول ہو جاؤ، میدان عرفہ پورا کا پورا مقام وقوف ہے، غروب آفتاب تک حدود عرفات میں ہی باقی رہو ۔

۴۔غروب آفتاب کے بعد تلبیہ پکارتے ہوئے پورے سکون اوراطمینان کے ساتھ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجاؤ اور اپنے مسلمان بھائیوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ،مزدلفہ پہنچتے ہی مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ قصرادا کرو اور اس کے بعد وہیں رہو، یہاں تک کہ فجر کی نماز پڑھو اور صبح کا اجالا اچھی طرح پھیل جائے،نماز فجر کے بعد نبی کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے قبلہ رخ ہوکر دونوں ہاتھ اٹھا کر خوب ذکر ودعا کرو۔

۵۔طلوع آفتاب سے پہلے تلبیہ پکارتے ہوئے منی کی طرف روانہ ہوجاؤ،عذروالے مثلا عورتیں اور کمزور لوگ آدھی رات کے بعد منی کے لیے روانہ ہوسکتے ہیں،اپنے ساتھ صرف سات کنکریاں لے لو تاکہ جمرہ عقبہ کی رمی کرسکو،باقی کنکریاں منی ہی  سے چن لو۔عید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے واسطے بھی کنکریاں منی سے لے سکتے ہیں۔

۶۔منی پہنچنے کے بعد مندرجہ ذیل کام کرو۔

أ۔جمرہ  عقبہ کی رمی کرو جومکہ کے قریب ہے،سات کنکریاں یکے بعد دیگرے مارواورہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہو۔

ب۔اگرتمہارے اوپر قربانی واجب ہو تو قربانی کرو،اس کا گوشت کھاؤ اور غریبوں کو کھلاؤ۔

ج۔سرکے بال منڈواؤ یا کترواؤ،منڈوانا افضل ہے ،عورت کےلیے انگلی کے ایک پورکے برابر بال کاٹ لینا کافی ہوگا،یہ سب کام اسی ترتیب سے کرنا زیادہ بہتر ہے،لیکن اگر تقدیم وتاخیر ہوجائے توکوئی حرج نہیں۔

جمرہ عقبہ کی رمی اور سر کے بال منڈوانے یا چھوٹا کروانے کے بعد احرام کی بندش ختم ہوگئی(تحلل اول ہوگیا) اب کپڑے پہن سکتے ہو اور عورت کے علاوہ احرام کی وجہ سے ممنوع ساری چیزیں حلال ہوگئیں۔

۷۔ اب مکہ جاؤ اور طواف افاضہ کرو،اگرحج تمتع کی نیت تھی تو طواف افاضہ کے بعد سعی بھی کرو،اگرحج قران  یا افرادکی نیت تھی اورطواف قدوم کے ساتھ سعی کی تھی تو طواف افاضہ کے بعد سعی کرنے کی ضرورت نہیں،اور اس کے بعد احرام کی وجہ سے ممنوع چیزوں کے حلال ہونے کے ساتھ عورت بھی حلال ہوجائے گی۔طواف افاضہ اورسعی جمرات کی رمی سے فارغ ہوکر ایام منی کے بعدبھی کیا جاسکتا ہے۔

۸۔قربانی کے دن طواف افاضہ اورسعی کرنے کے بعدمنی واپس جاؤ اور ایام تشریق یعنی گیارہ،بارہ  اورتیرہ کی راتیں وہیں گزارو،اگرکوئی بارہ تاریخ ہی کو رمی جمار کے بعد واپس آجائے تو بھی جائز ہےیعنی صرف دو رات بتائے  تب بھی جائز ہے۔

۹۔ان دونوں یا تینوں   دنوں میں زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں مارو،ابتداء پہلے جمرہ سے کرو جو مکہ سے باقی دونوں کی بہ نسبت زیادہ دور ہے ،پھر دوسرے کو اورپھر جمرہ عقبہ کو، ہرایک کوسات کنکریاں مارو اورہرکنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہو، (پہلے اوردوسرے جمرہ کورمی کرنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھائے ہوئے دعا کرو،البتہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد دعا کے لیے نہ ٹہرو)۔

اگرمنی میں صرف دوہی دن رہنا چاہو تو دوسرے دن غروب آفتاب سے قبل ہی  وہاں سے نکل جاؤ،اگرآفتاب منی میں ہی غروب ہوگیا تو تیسرے دن بھی قیام کرو اور کنکریاں مارو،بہرحال افضل یہی ہے کہ تیسری رات بھی منی میں گذاری  جائے،بیمار اور کمزور آدمی کے لیے جائز ہے  کہ کنکریاں مارنے کے لیے  کسی کو اپنا نائب بنادے،اورنائب کے لیے یہ جائز ہے کہ پہلے اپنی طرف سے اور پھر نائب بنانے والے کی طرف سے ایک ہی بار میں کنکریاں مارے۔

۱۰۔حج پورا ہوجانے کے بعد جب اپنے ملک واپس  جانا چاہو تو طواف وداع کرو، صرف حیض اور نفاس والی عورت اس سے مستثنیٰ ہے۔

 

 

محرم کے لیے ضروری باتیں

حج اور عمرہ کا احرام  باندھنے والوں کے لیے مندرجہ ذیل باتیں ضروری ہیں:

۱۔اللہ تعالیٰ نے جن اعمال کو فرض قراردیا ہے ان کا التزام کرے،مثال کے طور پر  پنجوقتہ نمازباجماعت ادا کرے۔

۲۔جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان سے دوررہے،یعنی بدکلامی ،فحش باتیں،فسق وفجور، جنگ وجدال اور معصیت سے بچے۔

۳۔اپنے قول وعمل کے ذریعہ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائے

۴۔احرام کی وجہ سے ممنوع کاموں سے بچے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

أ۔اپنےبال نہ کاٹے،ناخن نہ تراشے،اگراز خود کوئی بال گرجاتا ہے یا کوئی ناخن الگ ہوجاتا ہے تو کوئی بات نہیں۔

ب۔اپنے جسم ، یا کپڑے ،یاکھانے پینے کی چیزوں میں خوشبونہ استعمال کرے۔

احرام کی نیت کرنے سے سے قبل جو خوشبواستعمال کی تھی اگراس کا کوئی اثر باقی رہ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

ج۔کسی شکار کیے جانے والے خشکی کے جانور کو نہ مارے اورنہ بدکائے اورنہ ہی دوسروں کی اس کام میں مدد کرے۔

د۔کوئی بھی محرم یا غیرمحرم حدود حرم کے درخت اوراس کے ہرے پودے کو نہ کاٹے اورنہ ہی اس کی گری پڑی چیز کو اٹھائے،الا یہ کہ اس کا مقصد اس کے بارے میں اعلان کرنا اوربتلانا ہو۔کیونکہ رسولﷺ نے ان سب سے منع فرمایا ہے۔

ھ۔عورتوں کو شادی کا پیغام نہ دے،نہ اپنے یا کسی دوسرے کے عقد نکاح کا سبب بنے اورجب تک احرام میں ہوعورت سے ہم بستری اور شہوت کے ساتھ مباشرت نہ کرے ۔مذکورہ بالا باتوں میں عورت اور مرد برابر ہیں۔

ممنوعات احرام جو مرودوں کے ساتھ خاص ہیں

أ۔کسی چپکنے والی چیز سے اپنا سرنہ ڈھانکے،چھتری یا گاڑی کی چھت کے ذریعے سایہ حاصل کرنے اورسرپر سامان اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ب۔قمیص یا کوئی دوسرا سلا ہوا ایسا کپڑا جو پورے جسم یا جزوجسم کو ڈھانکتا ہو استعمال نہ کرے ،ٹوپی ،عمامہ،پائجامہ اور موزے بھی استعمال نہ کرے،اگرکسی کو لنگی میسرنہ آئے تو پائجامہ ،اورجوتے نہ ہوں توموزے پہن سکتا ہے۔عورت کے لیے احرام کے وقت دونوں ہاتھوں میں دستانے پہننا یا نقاب یابرقعہ کے ذریعے اپنے چہرے کو چھپانا ممنوع ہے، اگر                  اجنبی غیرمحرم مردوں کا سامنا ہورہا ہے تو پھرچہرہ کو اوڑھنی یا کسی اور چیز سے چھپانا ویسے ہی واجب ہوگاجیساکہ غیرحالت احرام میں چھپانا واجب ہے ،اگرمحرم بھول کریا جہالت میں سلاہوا کپڑا پہن لیتا ہے یا اپنے سرکوڈھانک لیتا ہےیا خوشبو استعمال کرلیتا ہے یا اپنا کوئی بال کاٹ لیتا ہے یا اپنا ناخن تراش لیتا ہے تو کوئی جرمانہ نہیں،البتہ جیسے ہی یا د آئے یا حکم جان لے تو اس کا ازالہ کرنا واجب ہے۔ چپل ،انگوٹھی،چشمہ،گھڑی،بیلٹ اور کوئی ایسی چیز جس میں پیسہ اور ضروری کاغذات وغیرہ محفوظ ہوں ان سب کا پہننا جائز ہے، اسی طرح کان کا آلہ استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

کپڑے بدلنا اورصاف کرنا ،سراورجسم کو دھونا جائز ہے، اگراس صورت میں بغیر قصد کے کوئی بال گرجاتا ہے توکوئی حرج نہیں، اسی طرح اگرمحرم کوکوئی زخم پہنچ جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

رسولﷺ کی مسجد کی زیارت کا طریقہ

۱۔مسجد نبوی کی زیارت اوراس میں نماز پڑھنے کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر مسنون ہے،اس لیے کہ اس کی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ تمام مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے

۲۔مسجد نبوی کی زیارت کے لیے احرام اور تلبیہ کی ضرورت نہیں، اورنہ ہی حج اوراس کے درمیان کوئی لازمی تعلق ہے۔

۳۔مسجد نبوی میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں بڑھاؤ اوربسم اللہ کہو اوردرود پڑھو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہارے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اوریہ دعا پڑھو:

 ( أعوذ بالله العظيم، ووجهه الكريم، وسلطانه القديم، من الشيطان الرجيم. اللهم افتح لي أبواب رحمتك )’’ میں عظمت والے اللہ کی اس کے کریم چہرے کی اوراس کی قدیم سلطنت کی شیطان مردود سے پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے‘‘۔

دوسری مسجدوں میں داخل ہوتے وقت  بھی یہی دعا پڑھنی چاہیے۔

۴۔مسجد میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھو،اگرروضہ میں جگہ مل جائے توبہتر ہے،ورنہ پھرمسجد میں کسی جگہ نماز پڑھ لو۔

۵۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی قبرکی طرف جاؤ اورقبرکا رخ کرکے کھڑے ہوجاؤ،پھرادب کے ساتھ دھیمی آواز سے کہو:( السلام عليكم أيها النبي، ورحمة الله وبركاته) اور درود پڑھو،یہ دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے:

( اللهم آته الوسيلة والفضيلة، وابعثه المقام المحمود الذي وعدته. اللهم اجزه عن أمته أفضل الجزاء )’’اے اللہ! محمدﷺ کو وسیلہ (مقام شفاعت) اورخاص فضیلت عطا فرما،اورانہیں مقام محمود پر مبعوث فرما،جس کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے،اے اللہ! ان کو ان کی امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرما۔‘‘

 پھرتھوڑا دائیں طرف بڑھ کرحضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی قبرکے سامنے کھڑےہوجاؤ،سلام کرو اوران کے لیے مغفرت ورحمت کی دعا کرو۔اس کے بعد کچھ دائیں طرف بڑھ کر حضرت عمررضی اللہ عنہ کی قبر کے سامنے کھڑے ہو،سلام کرواوران کے لیے بھی مغفرت ورحمت کی دعا کرو۔

۶۔وضو کرکے مسجد قبا جانا اوراس میں نماز پڑھنی سنت ہے، نبی کریم ﷺ نے خود ایسا کیا اوردوسروں کو اس کی ترغیب دلائی۔

۷۔قبرستان بقیع،قبرعثمان رضی اللہ عنہ اورشہداء احد اورحمزہ رضی اللہ عنہ  کے قبر کی زیارت کرنا مسنون ہے، ان سب کو سلام کرو اورا ن کے لیے دعا کرو، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ ان کی زیارت کرتے اوران کے لیے دعا فرماتے تھے ،اورصحابہ کرام کو سکھلاتے تھے کہ جب قبروں کی زیارت کرو تو یہ کہو:

(السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، نسأل الله لنا ولكم العافية)

’’مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان گھروالوں (یعنی مُردوں) پرسلام ہو، اگراللہ نے چاہا تو ہم یقینا تم سے ملنے والے ہیں،ہم اللہ سے اپنے لیے اورتمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔‘‘

مدینہ منورہ میں کوئی دوسری جگہ یا مسجد نہیں جس کی زیارت مشروع ہو، اس لیے اپنے آپ کو تکلیف  میں نہ ڈالو اورنہ ہی کوئی ایسا کام کرو جس کا کوئی اجرنہ ملے بلکہ الٹا گناہ کا خطرہ ہے۔اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔

  بعض حجاج کرام  سے صادر ہونے والی غلطیاں:

اول:احرام کی غلطیاں:

بغیر احرام باندھے میقات سے آگے گزرجانا یہاں تک کہ جدہ یا حدود میقات کے اندر کسی اور جگہ پہنچ کر وہاں سے احرام باندھنا ،یہ رسول کریم ﷺ کے اس حکم کے خلاف ہے کہ ہرحاجی کو میقات سے احرام  باندھ لینا چاہیے، اورجو کوئی حدود میقات سے تجاوز کرجائے تو اسے واپس جاکر یا تومیقات سے احرام باندھنا چاہیے یا ایک فدیہ دے جسے مکہ مکرمہ میں ذبح کرے اورسارا کا سارا فقراء کو کھلادے ،چاہے وہ (فضائی راستے) ہوائی جہاز سے آیا ہو یا خشکی کے راستے سے یا سمندر کے راستے سے۔

اگرمیقات کی پانچ مشہور جگہوں میں سے کسی بھی جگہ سے گزر نہ ہو تو جس میقات کا سامنا پہلے ہو وہاں سے احرام باندھ لے۔

دوم:طواف کی غلطیاں:

۱۔حجر اسود سے پہلے ہی طواف شروع کردینا، حالانکہ واجب یہ ہے کہ طواف کی ابتدا ء حجر اسود کے پاس سے ہو۔

۲۔کعبہ کی نامکمل دیوار(حِجر اسماعیلؑ) کے اندرسے طواف کرنا،جس نے ایسا کیا اس نے پورے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا،اس لیے کہ حجر کعبہ کا ایک حصہ ہے ، اس طرح اس کا ہروہ چکر باطل ہو جائے گا جو کعبہ کی دیوار کے اندر سے کیا ہو۔

۳۔طواف کے ساتوں چکروں میں تیز چلنا(یعنی رمل کرنا)، جبکہ ایسا کرنا طواف قدوم کے صرف تین ابتدائی چکروں کے ساتھ خاص ہے۔

۴۔حجراسود کوبوسہ دینے کے لیے شدت کے ساتھ مزاحمت کرنا،کبھی کھبی مارپیٹ اورگالی گلوچ کی نوبت آجاتی ہے ،ایسا کرنا ہرگز صحیح نہیں ،طواف کے صحیح ہونے کے لیے حجر اسود کوبوسہ دینا ہرگز ضروری نہیں ،بلکہ دور سے صرف اس کی طرف اشارہ کرنا اور اللہ اکبر کہنا کافی ہوگا۔

۵۔حجر اسود کو برکت کی نیت سے چھونا بدعت ہے، شریعت میں اس  کی کوئی دلیل نہیں،ممکن ہونے پرسنت صرف اس کا استلام اوربوسہ دینا ہے۔

۶۔خانہ کعبہ کے تمام گوشوں کا استلام ،اوربسا اوقات اس کی تمام دیواروں کا استلام اورچھونا ،نبی کریم ﷺ نے حجر اسود اوررکن یمانی کے علاوہ خانہ کعبہ کے کسی بھی جزء  کا استلام نہیں کیا۔

۷۔طواف کے ہرچکر کے لیے الگ الگ دعا مخصوص کرنا، یہ بھی رسولﷺ سے ثابت نہیں ،صرف اتنا ثابت ہے کہ جب آپ حجراسود کے پاس آتے تو تکبیر کہتے اور حجر اسود اوررکن یمانی کے درمیان ہرچکر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے:

(رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ) ترجمہ:’’  اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے ‘‘ [البقرہ:۲۰۱]

۸۔بعض طواف کرنے والے اورطواف کرانے والے حالت طواف میں اپنی آوازیں اتنی بلند کرتے ہیں کہ دوسرے طواف کرنے والوں کو تشویش ہوتی ہے، یہ بھی طواف کی غلطیوں میں سے ہے۔

۹۔مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کے لیے مزاحمت کرنا، یہ بھی خلاف سنّت ہے، اور اس سے طواف کرنے والوں کو اذیت پہنچتی ہے، مسجد میں کسی جگہ بھی طواف کی دو رکعتیں پڑھ لینی کافی ہونگی۔

سوم:سعی کی غلطیاں:

۱۔بعض لوگ صفا اورمروہ  پرپہنچ کرخانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہتے وقت اپنے ہاتھوں سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے نماز کے لیے تکبیر کہہ رہے ہوں، اسطرح اشارہ کرنا صحیح نہیں ،کیونکہ نبیﷺ اپنے دونوں ہتھیلیوں کو صرف دعا کے لیے اٹھاتے تھے۔

۲۔بعض لوگ سعی کے درمیان پورا وقت دوڑتے رہتے ہیں،حالانکہ سنت یہ ہے کہ صرف دونوں ہرے نشانوں کے درمیان دوڑے اورباقی چلتا رہے۔

چہارم:عرفات کی غلطیاں:

۱۔ بعض حجاج حدود عرفات کے باہر ہی پڑاؤ ڈال دیتے ہیں اور غروب آفتا ب تک وہیں رہتے ہیں اوروقوف عرفات کے بغیرہی مزدلفہ لوٹ آتے ہیں، یہ بہت بڑی غلطی ہے،اس سے حج فوت ہوجاتا ہے، اس لیے کہ حج وقوف عرفہ کا نام ہے، حاجی کے لیے ضروری ہے کہ حدود عرفات کے اندررہے، اگراژدحام کی وجہ سے یا کسی اوروجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو غروب آفتاب سے قبل داخل ہو اورغروب تک ٹہرا رہے۔ حدود عرفات میں رات کے وقت بھی داخل ہونا کافی ہوگا اور خاص کرقربانی کی رات میں۔

۲۔بعض حاجی غروب آفتاب سے قبل ہی عرفات سے لوٹ جاتے ہیں،ایسا کرنا صحیح نہیں، اس لیے کہ رسولﷺ عرفات میں اس وقت تک ٹہرے رہے جب تک آفتاب پورے طورپرغروب نہ ہوگیا۔

۳۔بعض لوگ جبل رحمت کی چوٹی تک پہنچنےکیلیے اژدحام اوردوسروں کی ایذارسانی کا سبب بنتے ہیں ،پورے میدان عرفہ میں کسی جگہ بھی وقوف صحیح ہے اور پہاڑ پرچڑھنا مشروع نہیں اور نہ ہی وہاں نماز پڑھنا صحیح ہے۔

۴۔بعض لوگ دعا کرتے وقت جبل رحمت کی طرف رخ کرتے ہیں،حالانکہ سنت قبلہ کی طرف رخ کرنا ہے۔

۵۔بعض لوگ عرفہ کے دن مخصوص جگہوں میں مٹی اور کنکریوں کا ڈھیربناتے ہیں، ایسا کرنا خلاف شرع ہے۔

پنجم:مزدلفہ کی غلطیاں:

کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں کہ مزدلفہ پہنچتے ہی مغرب اورعشاء کی نماز پڑھنے سے قبل کنکریاں چننا شروع کردیتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں کہ کنکریاں مزدلفہ  سے ہی ہونی چاہیے،حالانکہ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ کنکریاں حدودحرم میں کہیں سے بھی لی جاسکتی ہیں، بلکہ ثابت یہ ہے کہ رسولﷺ نے اپنے لیے جمرہ عقبہ کی کنکریاں مزدلفہ سے چننے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ صبح کو مزدلفہ سے واپسی کے بعد منی سے چنی گئی تھیں، اسی طرح باقی دنوں کی کنکریاں بھی منی سے لی گئی تھیں۔ کچھ لوگ کنکریوں  کو پانی سے دھوتے ہیں، یہ عمل بھی غیر مشروع ہے۔

ششم:رمی(کنکری) مارنے کی غلطیاں:

۱۔بعض لوگ کنکری مارتے وقت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ شیطان کو ماررہے ہیں ،اسی لیے رمی جمرات کے وقت غصہ کا اظہار کرتے ہیں اورگالیاں بھی دیتے ہیں ،حالانکہ رمی جمارکی مشروعیت  کا مقصد اللہ تعالیٰ کی یاد ہے ۔

۲۔رمی جمار کے لیے بڑے پتھر،جوتے یا لکڑی کا استعمال دین میں غلواورزیادتی ہے اوررسولﷺنے غلو سے منع فرمایا ہے ،اس طرح کرنے سے رمی بھی نہیں ہوگی،مشروع بات یہ ہے کہ چھوٹی کنکریاں استعمال کی جائیں جو بکری کی پیشگی سے مشابہ ہو۔

۳۔کنکریاں مارتے وقت دھکم پیل اورماردھاڑ کرنا خلاف شرع بات ہے، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بغیر کسی کو ایذا پہنچائے ہوئے کنکریاں مارے۔

۴۔تمام کنکریاں بیک مشت ماردینا صحیح نہیں ہے،علماء کا فتوی ہے کہ ایسی صورت میں صرف ایک کنکری شمار ہوگی ،اس لیے کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ کنکریاں ایک ایک کرکے ماری جائیں ،اورہرکنکری کے ساتھ تکبیر کہی جائے۔

۵۔باوجود قدرت وطاقت کے مشقت اوراژدحام سےڈرتے ہوئے کنکری مارنے کے لیے کسی دوسرے کو نائب بنانا صحیح نہیں، نہایت بیماری یا کسی اورمجبوری کی وجہ سے صرف قدرت نہ رکھنے کی صورت میں جائز ہے۔

ہفتم:طواف وداع کی غلطیاں:

۱۔بعض لوگ بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو کنکریاں مارنے سے قبل منی سے مکہ آتے ہیں، طواف وداع  کرتے ہیں،پھرمنی جاکرکنکریاں مارتے ہیں اوروہیں سے اپنے شہر یا ملک کی طرف واپس ہوجاتے ہیں ، ایسی صورت میں آخری کام رمی جمارہوتا ہے نہ کہ طواف کعبہ، جبکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان  ہے: ’’مکہ مکرمہ سے روانگی سے قبل آخری کام بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ طواف وداع حج کے کاموں سے فراغت کے بعد اورسفرسے کچھ پہلے ہونا چاہیے،اس کے بعد مکہ مکرمہ میں دیر تک نہ ٹہرنا چاہیے۔

۲۔بعض لوگ طواف وداع کے بعد مسجد حرام سے الٹے پاؤں نکلتے ہیں اوررخ کعبہ کی طرف  ہوتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس  میں  خانہ کعبہ کی تعظیم ہے،حالانکہ یہ سراسربدعت ہے، دین میں ا س میں کی کوئی حقیقت نہیں۔

۳۔کچھ لوگ طواف  وداع کے بعد مسجد حرام کے دروازے پر پہنچ کرخانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے خوب دعائیں کرتے ہیں جیسے کہ خانہ کعبہ کو رخصت کررہے ہوں، یہ بھی بدعت ہے۔اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

ہشتم:زیارت مسجد نبوی کی غلطیاں

۱۔بعض لوگ زیارت قبر رسولﷺکے وقت دیواروں اورلوہے کی سلاخوں پرہاتھ پھیرتے ہیں، کھڑکیوں میں برکت حاصل کرنے کی نیت سے دھاگے وغیرہ باندھتے ہیں، حالانکہ برکت ان کاموں سے حاصل ہوتی ہے جنھیں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے مشروع قراردیا ہے، خرافات اوربدعتوں سے برکت نہیں حاصل ہوسکتی ۔

۲۔جبل احد کے غار اورمکہ مکرمہ میں غارثور اورغارحراکی زیارت کے لیے جانا،وہاں دھاگے وغیرہ باندھنا اورغیر مشروع دعائیں کرنا اوران سب کاموں کے لیے تکلیفیں اٹھانا،یہ سارے کام بدعت کے ہیں، شریعت  میں ان کی کوئی اصلیت نہیں۔

۳۔بعض جگہوں کے بارے میں یہ خیال  کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق رسول اللہﷺ سے رہا ہے،جیسے اونٹنی کے بیٹھنے کی جگہ،انگوٹھی والا کنواں،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کنواں،ان جگہوں کی زیارت کرنی اوربرکت کے لیے یہاں کی مٹی لینی بدعت ہے، اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔

۴۔بقیع اورشہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے وقت مردوں کو پکارنا،قبروں سے تقرّب اورقبروالوں کی برکت حاصل کرنے کے لیے وہاں پیسے ڈالنا، یہ سب بڑی خطرناک غلطیاں ہیں، بلکہ شرک اکبرہے ،جیسا کہ علماء نے لکھا ہے اورکتاب اللہ اورسنت رسول اللہﷺ میں اس کے واضح دلائل موجود ہیں،اس لیے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے، عبادت کی کوئی بھی قسم غیراللہ کے لیے جائز نہیں،جیسے دعاء،قربانی ،نذرونیاز وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: :{ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ }[البينة:5]،

’’ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں ‘‘۔

یہ بھی فرمان ہے: :{ وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا }[الجن:18]

’’مسجدیں صرف اللہ کے لیے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو‘‘۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کو سدھاردے،ان کو دین کی سمجھ دے اورہم سب کو فتنوں سے محفوظ رکھے، وہی سننے  والا اورقبول کرنے والا ہے۔

التعليقات  

#1 Indiaanas khan ١٦ ذو القعدة ١٤٣٨هـ
bahut umdah
Allah jazaye khair de
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث