ارکانِ اسلام میں حج کامقام و مرتبہ

 

      عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی حدیث  جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے  : (اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا،اور اللہ کے گھر کا حج کرنا جس کے پاس اس کی استطاعت ہو۔) (۱) اس کا مطالعہ کرنے والا شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ : رکنِ حج کو تمام ارکان کے آخر میں لانے کی کیا حکمت ہے؟ کیا اس وجہ سے کہ اس کا مقام و مرتبہ سب سے آخر میں ہے، اس طرح گویا نماز اس سے افضل ہے، زکوٰۃ اس سے افضل ہے اور روزہ اس سے افضل ہے؟ اور اس سلسلے میں کیا یہ کہنا درست ہے کہ شہادتین کو تمام ارکان میں اوّلیت حاصل ہے  اور شہادتین کا رکن تمام ارکان سے افضل ہے؟

      جواب : ہرگز نہیں، یقیناً حدیث شریف میں ارکان کہ جو یہ ترتیب ذکر کی گئی ہے وہ صرف منطقی ترتیب کی رعایت کی وجہ سے ہے نہ کہ بہتر و فضیلت کی رعایت کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ سب سے پہلی چیز جو انسان پر ثابت ہو تی ہے وہ آدمی کا اسلام ہے کہ وہ خلوصِ دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) اللہ کے رسول ہیں، پھر جب اس نے اس بات کی گواہی دے دی تو وہ دینِ اسلام میں داخل ہو گیااور مسلمانوں کا ایک فرد قرار پایا، جو رعایتیں مسلمانوں کو حاصل ہیں وہ اسے بھی ملیں گی اور مسلمانوں پر جو چیزیں واجب ہیں وہ اس پر بھی واجب ہوں گی۔ اس گواہی کے مطابق وہ یہ  ایمان لایا کہ اس کا ایک رب ہے وہ اللہ ہےجس نے اسے پیدا فرمایا، اس پر انعام و اکرام کیا، وہی اس کی ذات کا مالک ہے اور وہی اس کے نفع و نقصان کا مالک و مختار ہے۔ اس طرح عقل و فکر اس نقطہ (پوائنٹ) سے معبود اور بندے کے مابین پابندئ ربط و تعلق کی وجوبیت کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس معبود کے مابین جو منعم و قادر اور نفع و ضرر کا مالک ہے اور وہ بندہ جو معبود پر ایمان لایا، اس کی بادشاہت کو تسلیم کیا اور تمام معبودانِ باطلہ کو چھوڑ کر الوہیت میں اس کو یکتا جانا۔ اور اس ربط و تعلق کی تمثیل و تصویر (اقامتِ صلوٰۃ) یعنی قیامِ صلوٰۃ میں پائی جاتی ہے، جسے نہایت اہتمام و مواظبت سے ادا کیا جاتا ہے، اوراس کی ادائیگی میں ایسا توازن پایا جاتا ہے کہ اس کی مضبوطی و پختگی میں کوئی خلل نہیں ہوتا ہے، جو کچھ حکم دیا گیا ہے اس کو قبول کرتے ہوئے انتہائی درستی و شائستگی سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔

      یہ نماز ایک علامت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے واسطے اپنے بندوں کے لیے مرتسم کیا ہےکہ وہ اسے بجالائیں کیوں کہ وہی خالق و منعم اور فضل و کرم کرنے والا معبودِ برحق ہے۔ اور اللہ کے بندوں پر واجب ہے کہ وہ اسے قبول کرتے ہوئے عملی جامہ پہنائیں کیوں کہ وہ بندے ہیں، اللہ کی نعمت کے اقراری ہیں، اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے والے ہیں اور اپنے منعِم کی شکرگزاری کرنے والے ہیں۔

      پس عقل و فکر کا تقاضہ ہے کہ یہ ربط و تعلق اس درجہ  کے بعد ہو : یعنی الٰہِ واحد اور اس رسول کا اعتراف  جسے اللہ نے دعوت و تبلیغ کی ادائیگی کے لیے بھیجا ہے۔

      اور نماز جو کہ عابد و معبود کے درمیان ربط و تعلق کا ذریعہ ہے، اس کی ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب عابد کو معبود کا عرفان حاصل ہو جائے۔

      اورچونکہ اس دنیا میں انسان کی راست روی ، انسان اور اللہ کے مابین کی درستی نیز انسان اور لوگوں کے مابین کی درستی کے ساتھ مشروط ہے تو اس شخص کے لیے ضروری  ہے جو نماز کے ذریعہ اللہ سے تعلق قائم کرتا ہے   کہ  وہ   اللہ کے دئیے ہوئے مال کو ان راہوں میں خرچ کرکے قائم کرے لوگوں سے تعلق کو ثابت کرےجن میں لوگوں کےمعاملات کی سدھار ہو۔یہی وجہ ہے کہ نماز کے بعد زکوٰۃ کا بیان ہوا ہے کیوں کہ زکوٰۃ آدمی اور لوگوں کے مابین ربط و تعلق کے لیےاصلاح کاری ہے، پس انسان انہیں راہوں میں اپنے مال کے کچھ حصہ کو خرچ کرتا ہے۔ اور پھر اس طرح خرچ کرتے وقت وہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ بھی معاشرے کا ایک فرد ہے اور اسی سماج و سوسائٹی سے اس نے آمدنی  اور منافع کو حاصل کیا ہے، اور اگر یہ سماج و معاشرہ نہ ہوتا تو وہ تاجر ہونے کے باوجود تجارت کے راستے سے اور کاشت کار ہونے کے باوجود کاشت کاری کی راہ سے نیز ہنر مند و صنعت کار ہونے کے باوجود صنعت و کاری گری سے فائدہ نہیں حاصل کر سکتا تھا، اس طرح وہ اپنی  تجارت و زراعت اور صنعت کی کامیابی کے لیے سماج و سوسائٹی کا احسان مند رہتا ہے، بقدرِضرورت اشیاء کی تکمیل میں بھی اس پر سماج و معاشرہ کا احسان رہتا ہے اور پھر ضرورت سے زائد اضافی آمدنی پر بھی وہ سماج و معاشرہ کا احسان مند ہوتا ہے۔ اس طرح  اگر وہ  اپنی اضافی آمدنی کا کچھ حصہ بشکلِ زکوٰۃ سماج و معاشرہ پر خرچ کرتا ہے  تو اس سے اس کے مال میں کمی نہیں ہوتی ہے، اس زکوٰۃ کو معاشرے کے فقیر و مسکین اور قرض دار لیتے ہیں، ایسے قرض دار جو کسی عملِ خیر کی راہ میں خرچ کرنے کی وجہ سے مقروض ہوتے ہیں، اس لیے کہ فقیر و مسکین معاشرے کا ایک رکن ہوتے ہیں اور اپنی ضروریاتِ زندگی کو پوری نہیں کر پاتے نیز قرض دار بھی معاشرے ہی کا ایک فرد ہوتا ہے اور اپنے پاس موجود مال کو اللہ کی راہ میں لگانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے نیز سماج سے حاصل کی ہوئی اپنی آمدنی کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اور اسی پر امت کی تمام تر عسکری اور سیاسی و فکری جہاد کی فلاح و بہبودی کا انحصار ہے۔

      زکوٰۃکو اسلام نے مال کی صفائی اور اس میں بڑھوتری کا ذریعہ قرار دیا ہے اورعقلی و فکری طور پر انسان سے زکوٰۃ کا مطالبہ و تقاضہ  ایمان و نماز کے بعد ہوتا ہے کیوں کہ ایمان ہی کی وجہ سے اس کے مال کی صفائی اور اس میں بڑھوتری ہوتی ہے نیز نماز اللہ تعالیٰ کے ساتھ روحانی تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔

      پھر اس کے بعد ارکانِ اسلام میں صیامِ رمضان کا رکن آتا ہے اور صیام جزئی طور پر نفس کی قربانی ہے اس طرح کہ انسان محدود و متعین مدت تک اپنی خواہشات اور پسندیدہ چیزوں کی قربانی دیتا ہے اور اپنے آپ کو اللہ کے إذعان و یقین اور اس کے مراقبہ و نگرانی کے رنگ میں رنگ لیتا ہے۔ نیز رکنِ صیام، رکنِ زکوٰۃ کے ساتھ اس لیے ملی ہوئی ہے کیوں کہ زکوٰۃ بھی جزئی طور پر مال کی قربانی ہے۔

      انسان پر اپنے مال کے کچھ حصے کی قربانی دینا سہل و آسان ہے لیکن اس کے لیے اپنے روح وجان کی مطلوبہ چیزوں میں سے کسی مطلوب و خواہش کی قربانی دینا مشکل و دشوار ترین ہے۔ اور جب انسان اپنے مال کی قربانی دینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اس لذت کو چکھ لیتا ہے تو اس کے لیے اپنی خواہشات میں سے کسی خواہش کی قربانی دینا آسان ہوتا ہے، لہٰذا اسی لیے زکوٰۃ کے بعد صوم کا بیان ہوا۔ یہاں فکری و منطقی تقاضہ یہی ہے کہ زکوٰۃ کے بعد صوم کی باری آئے نہ کہ صوم کے بعد زکوٰۃ کی باری آئے۔

حج کے اندر یہ تمام ارکان اپنے مکمل روپ میں پائے جاتے ہیں :

٭  حج کے اندر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اور اس پر سچاایمان نیز  رسول صلی اللہ علیہ و سلم جو کچھ لے کر آئے اس کی تصدیق پائی جاتی ہے کیوں کہ حج کے اہم شعائر و ارکان میں تہلیل و تکبیر اور تلبیہ پکارنا ہے،اور حاجی کی زبان ہر کوچ و پڑاؤ کے وقت ان چیزوں سے تر رہتی ہے اور وہ مناسکِ حج و عمرہ کی ادائیگی کرتے ہوئے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کے افعال کی اتباع کرتا ہے، حتّٰی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے  جب رمل (حاجیوں کا طواف میں تیزی سے چلنا) کا ارادہ فرمایا تو لوگوں کو  اس سے اس دلیل کی بنا پر منع کرنا چاہا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں رمل کرنے کا مدعا و مقصد یہ تھا کہ مشرکین کو اس بات کا مشاہدہ کرایا جائے کہ مومنین قوی اور صحت مند ہیں کیوں کہ مشرکین کا کہنا تھا کہ :  مسلمانوں کو یثرب کے بخار نے  پیس ڈالا ہے اس لیے وہ کمزور ہو گئے ہیں، چناں چہ  (اس شبہ کے ازالہ کے لیے) مسلمانوں نے اپنے طواف میں  قوت و طاقت کا مظاہرہ کیا اور یہی رمل ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے پہلے ایسا ہی سوچا تھا پھر انہوں نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا اور گویا ہوئے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کیے ہوئے کسی فعل کو ہمارے لیے باطل کرنا مناسب نہیں ہے  ممکن ہے کہ یہ مشروع عبادت ہو  یا یہ کہ اس میں کوئی ایسی حکمت پنہاں ہو جسے ہم نہیں جانتے، اور اسی وجہ سے انہوں نے  رمل کو سننِ طواف میں باقی و برقرار رکھا، اور یہی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی و اتباع ہے اور حج کے تمام اعمال و افعال ایسے ہی ہیں، اسی  طرح حجر ِاسود کو بوسہ دیتے وقت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : (اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ بے شک تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نفع دے سکتاہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو  تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھےبوسہ نہیں دیتا)۔ (۲)

      اور اگر ہم حج کے بیشتر اعمال مثلاً طواف سعی رمی اور احرام وغیرہ کا تتبع کریں تو ہم پائیں گے کہ یہ تمام کی تمام اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق اور  دونوں کے فیصلوں پر رضامندی کا سرچشمہ ہیں، اس لیے کہ یہ تعبُّدی امور میں سے ہے اور بیشتر لوگوں کے لیے اس کی حکمت ظاہر نہیں ہوتی،  اس میں اللہ کی اطاعت بذاتِ خود ایمان باللہ کی تصدیق ہے کہ وہی   معبودِ واحد اور شریعت ساز و حکیم ہے نیز ایمان بالرسول کی تصدیق ہے کہ وہی نبی و ھادی اور مبلغ ہیں اور ان کی طرف جس کی وحی کی گئی ہے اس کی پیروی کی جاتی ہے۔

٭   اور حج میں فریضہ نمازوں کی ادائیگی ہوتی ہے، نیز نمازی کعبہ کی قربت کی وجہ سے اللہ سے اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے، وہ کعبہ جسے اللہ نے مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا اور جس کی طرف مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں اپنا رخ کرتے ہیں۔

      پس نمازی اپنے شہر میں رہتے ہوئے کعبہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کا دل کعبہ کا اشتیاق مند ہوتا ہے اور اس کے لیے عظمت و تعظیم اور شوق و تمنا کو محسوس کرتا ہے،  پھر جب وہ حج کرتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کرتا ہے اور باعظمت کعبہ کی رؤیت سے مُتمتّع ہوتا ہے اور کعبہ کی طرف متوجہ ہو کرکے اس طرح نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے اور کعبہ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا، جب کہ اس سے پہلے اس کے اور کعبہ کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہوتا تھا تو بلا شک و شبہ اس وقت وہ اس کی قربت و لذت کو محسوس کرتا ہے، اس طرح  حج میں یہ اتجاہ محسوس و نمایاں ہوتی ہے۔

نمازی مدتِ دراز تک اللہ کی عبادت اس کے حرم و گھر سے دور رہ کر کرتا رہتا ہے، پھر جب وہ حج کرتا ہے تو گویا اس حج کے ذریعہ اسے بیت اللہ کی زیارت  کے لیے بلایا گیا ہے، اس حاجی کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو دور سے کسی بڑے  کے بارے میں سنے، اس کی عظمت کا تصور کرے اور دور رہ کر اس کو راضی کرنے والے کام کرتا رہے پھر اسے دعوت دی جائے کہ وہ اس کے گھر میں اس کی زیارت کرے تو وہ یقیناً فرحت و لذت، قربت و تعلق اور انسیت و محبت کو دوری کی بنسبت  قریب ہونے میں کئی گنا زیادہ پائے گا، ’’اور اللہ کے لیے سب سے برتر صفات ہیں‘‘ ۔

      نماز سے حاصل فرحت و مسرت اور اس میں پنہاں راز نیز معنوی گہرائی جو اس کا اتّصاف ہے، یہ سارے صفات حج میں ماقبل کے اعتبار سے زیادہ دستیاب ہوتے ہیں،  اور انہیں صفات کے ذریعہ عابد و معبود کے مابین رابطہ استحکام و پائیداری کے کمال کو پہنچتا ہے۔

٭    مزید برآں حج میں جود و سخا اور مال کا خرچ بھی پایا جاتا ہے جو بعینہٖ زکوٰۃ میں مقصود ہے، بلکہ اضافی طور پر حج میں انسان مال کے خرچ کے ساتھ مالی درآمد کے وسائل کو بھی ترک کر دیتا ہے، اور ایک متعین مدت تک کے لیے اپنے تمام درآمد وسائل (تجارت، زراعت اور صنعت وغیرہ) سے دست بردار ہو جاتا ہے تاکہ حج کے واجبات کو ادا کر سکے۔ پس حج میں اصلاً ڈبل قربانی پائی جاتی ہے، ایک ذرائع آمدنی کی قربانی، دوسرے مالی قربانی، اور  زکوٰۃ میں صرف مالی قربانی ہوتی ہے۔

٭    مزید برآں  روزہ دار کے کنٹرول کرنے کی طرح حج میں بھی نفس پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے :  جو شخص فریضۂ حج کی ادائیگی کی تیاری کرتا ہےاس کے اوپر واجب ہے کہ وہ آدابِ حج کا مکمل التزام کرے، اس طرح وہ محدود مدت تک حقیقۃً حالتِ احرام میں ہوتا ہے اور معنوی طور پر ہمیشہ حالتِ احرام میں ہوتا ہے۔ روزہ دار دن کے کچھ حصہ میں اگر اپنی مرغوب و پسندیدہ چیزوں سے رک جاتا ہے تو حاجی دن و رات کے تمام حصوں میں ان چیزوں سے رکا رہتا ہے، اور یہ حرمت کئی دنوں تک برقرار رہتی ہے اور بسا اوقات کئی ہفتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

      احرام کی مادی( حقیقی) صورت قطعی طور پر انسانی نفس کو اس کی خواہشات سے الگ تھلگ کر دیتی ہے، وہ اس طرح کہ آدمی اپنی زندگی کے اہم ملابس کو ترک کر کے فقط چادر و تہبند پر اکتفاء کرتا ہے، گویا کہ وہ کفن میں لپٹے ہوئے شخص کی طرح ہوتا ہے، اس کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کے خاتمے  اور اس کے بعد کے ٹھکانے کو یاد کرتا ہے، اور یہ نصیحت در نصیحت ہے۔

      اور احرام کی معنوی صورت حاجی کے ذہن و شعور سے یہ بات کبھی بھی جدا نہیں ہونے دیتی کہ وہ حرم شریف میں اللہ کا مہمان ہے اور یہ کہ وہ اپنے اہل و عیال، مال و دولت اور تمام ضروریات کو چھوڑ کر حاضر ہوا ہے تاکہ وہ اللہ کی رحمت و رضا جوئی کو حاصل کرے اور اپنے گناہوں کو پاک و صاف کرے،  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ترغیبی فرمان کے مطابق بہتر آرزوؤں کی تکمیل کی خاطر، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بے ہودہ بات نہیں کی اور نہ اللہ کی نافرمانی کی تو وہ اس طرح (پاک ہو کر)  لوٹتا ہے، جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے) (۳)

      اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ بقیہ ارکانِ اربعہ کے بعد آخر میں حج کے آنے سے،  اس کا مقام و مرتبہ میں کم تر ہونا لازم نہیں آتا ہے بلکہ مراتبِ وجود کی رعایت میں یہ منطقی ترتیب ہے، جیسا کہ ہم نے واضح کیا۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔

کتبہ : ڈاکٹر یاسر شحاتہ

حوالہ جات :

(۱)ّ اس حدیث کی تخریج بخاری (۸) اور مسلم (۱۱۱ّـ ۱۱۴) نے کی ہے۔

(۲) اس حدیث کی تخریج بخاری (۱۶۰۵) نے کی ہے۔

(۳) اس حدیث کی تخریج مسلم (۱۳۵۰) اور ترمذی (۸۱۶) نے کی ہے، ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

(۴) مجلۃ الازھر (جزء : ۱۰ ذوالحجہ ۱۳۸۷؁ھ ص : ۸۰۴)میں مطبوع استاد محمد المدنی کے مقالہ سے ماخوذ۔  

أضف تعليق

كود امني
تحديث