حجاجِ بیت اللہ کے لیے قیمتی نصیحتیں

دار ابن خزیمہ

الحمد لله تعالى المنفرد بصفات الكمال والصلاة والسلام على محمد صاحب الأفضال وصحبه والآل

میرے حاجی بھائی!  یہ چند نصیحتیں ہیں جنہیں میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے اور آپ کو اس کی توفیق دے۔

اخلاص کولازم پکڑو۔۔۔ اخلاص کو لازم پکڑو۔۔  ریا کاری سے بچو!

میرے حاجی بھائی! آپ نے ایک مبارک عبادت اور جلیل القدر عمل کی طرف پیش قدمی کی ہے اگر اللہ نے آپ کو اس کی توفیق دی تو آپ خیرِ عظیم سے سرفراز ہوں گے۔

لیکن میرے بھائی! آپ مبارک گھر کا قصد کر رہے ہیں تو کیا آپ نے اپنی نیت کو مستحضر و درست کیا ہے؟

کیوں کی نیت کا استحضار انتہائی ضروری امر ہے، اوربندہ اپنی نیت ہی کے حساب سے اجر و ثواب دیا جاتا ہے، کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :( إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه )’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی،جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہے۔ (یعنی اسے ثواب ملے گا) اور جس شخص نے دنیا پانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے گھر بار چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے ہے۔ (یعنی اسے ثواب نہیں ملے گا)۔ [اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے]۔

     اس لیے میرے بھائی صدقِ نیت کی کوشش کیجیے کیوں کہ  آپ طویل مدت کے لیے سفر کی تھکاوٹ و مصائب کو جھیلنے والے ہیں تو آپ کی یہ تھکاوٹ باطل نہ ہو جائے۔ اللہ نے فرمایا : ،{ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء }[البينة:5]،{إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصاً لَّهُ الدِّينَ }[الزمر:2]

’’انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اسی کے لیے دین کو خالص کریں‘‘ [البینۃ :۵] ’’یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے‘‘ [الزمر : ۲] ابن عربی کہتے ہیں : (یہ آیت ہر کام میں وجوبیتِ نیت کی دلیل ہے) 

میرے  حاجی بھائی! اخلاص کے لیے نفس کا مجاہدہ کرنا اور ریا کاری کو ترک کر دینا انتہائی سخت امر ہے لیکن جس پر اللہ آسانی کرے اس کے لیے آسان ہے، اور جو نفس کو مغلوب کر لے وہی اطاعت و فرماں برداری کی لذت سے لطف اندوز ہوگا اور عبادتوں کی برکت کو پائے گا۔

     سھل بن عبد اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی چیز نفس پر سب سے زیادہ دشوار ہے؟  آپ نے فرمایا : (اخلاص کیوں کہ اخلاص میں نفس (خواہشِ نفس) کا کوئی حصہ نہیں ہے) اور سفیان ثوری کہتے ہیں : (میں نے سب سے زیادہ دشوار نیّت کا علاج (اصلاح) پایا، کیوں کہ نیت میں الٹ پھیر ہوتا رہتا ہے

میرے حاجی بھائی! آپ روئے زمین کے  بہترین بقعۂ ارض میں سب سے زیادہ پاک گھر کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں، بادشاہوں کے بادشاہ زمین و آسمان کے سلطان پاک پروردگار اللہ عز و جل کے مہمان ہیں اس لیے میرے بھائی کسی اور سے لو نہ لگائیں خالص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : { قال الله تعالى: أنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل عملاً أشرك معي فيه غيري تركته وشركه } ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جو کوئی ایسا عمل کرے کہ اس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ [اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے]

میرے مسلمان بھائی! آپ ان لوگوں میں سے نہ ہونا جو ریا و نمود اور شہرت طلبی کی خاطر حج کے لیے نکلے ہیں تاکہ ان میں سے کسی کو یہ کہا جائے کہ اس نے اللہ کے گھر کا حج کیا ہے نیز اسے لوگ حاجی کے لقب سے ملقب کریں، جب کہ اس طرح کے حج کرنے سے سوائے محنت و مشقت اور تھکاوٹ کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (من سمّع سمّع الله به ومن يرائي يرائي الله به)’’ جو شخص دکھلاوے کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ  اسے قیامت والے دن رسوا کر دے گا، اور جو کوئی نیک عمل لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے کرتا ہے تو اللہ اس کے چھپے عیبوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیتا ہے)۔ [بخاری و مسلم]

میرے بھائی! ریا و نمود سے بچیے کیوں کہ یہ وہ شرک ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت زیادہ ڈرایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر } قالوا: يا رسول الله وما الشرك الأصغر؟ قال: { الرياء } ’’ے شک تمہارے سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر سے ہے) لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! شرکِ اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (ریاکاری)‘‘۔ [اس حدیث کی روایت احمد نے کی ہے]۔ لہذا  میرے حاجی بھائی!اخلاص کو اپناؤ،کیونکہ ریا ونمود تمام عمل کو برباد کردے گی۔

اے میرے بھائی! کیا آپ کے پاس چھوٹے اور بڑے شرک کا کوئی علاج ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں ایک ایسی دعا سکھلائی کہ اگر ہم اسے پڑھیں تو اللہ تعالیٰ ہم سے چھوٹے اور بڑے شرک کو دور فرما دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (الشرك فيكم أخفى من دبيب النمل وسأدلك على شيء إذا فعلته أذهب عنك صغار الشرك وكباره تقول: اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، واستغفرك لما لا أعلم)’’تم میں شرک چیونٹی کے قدموں کی آواز سے زیادہ خفی و پوشیدہ ہے، میں تمہیں ایک ایسی دعا بتلاتا ہوں جس کے پڑھنے سے اللہ تم سے چھوٹے  اور بڑے شرک کو دور کر دے گا، یہ دعا پڑھو : (اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، واستغفرك لما لا أعلم)’’اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جانتے ہوئے شرک کرنے سے اور تجھ سے بخشش چاہتا ہوں ان چیزوں سے جسے میں نہیں جانتا) [صحیح الجامع الصغیر]

اے میرے بھائی! میں آپ کے سامنے سیدنا عمر بن خطاب الفاروق رضی اللہ عنہ کی قیمتی نصیحت پیش کر رہا ہوں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’جس کی نیت حق میں خالص ہوتی ہے گو خود اس کے اپنے خلاف ہو، اللہ تعالیٰ ان تمام معاملات میں جو اس کے اور لوگوں کے درمیان ہوتی ہیں کافی ہوجاتا ہے، اور جو شخص اپنے میں وہ ظاہر کرتا ہے جو دراصل اس میں نہ ہو تو اللہ اسے سب کی نظروں سے گرا دیتا ہے۔‘‘

حج کے یہ ایام دعا کے ہیں اس لیے آپ اس کو غنیمت جانیئے!

میرے حاجی بھائی! کیا آپ کو خوشی نہیں ہوگی کہ آپ کے حاجات کی برآری ہو؟

کیا آپ کو مسرت نہیں ہوگی کہ اللہ آپ کویا آپ کے بیماروں کو شفایابی دے؟

 

کیا آپ کو مسرت نہیں ہوگی کہ اللہ آپ کو دینِ حق پر ثابت قدم رکھے؟

کیا آپ کو شادمانی نہیں ہوگی کہ اختلافی امور میں اللہ آپ کو راہ یاب کرے؟

کیا آپ کو اس بات سے خوشی نہیں ہوگی کہ اللہ آپ کے پچھلے اگلے تمام گناہ کو بخش دے؟

کیا آپ کو اس بات سے شادمانی نہیں ہوگی کہ اللہ آپ کو دنیا میں حسن خاتمہ کی توفیق دے؟

کیا آپ کو فرحت نہیں حاصل ہو گی کہ آپ اللہ سے اس حال میں ملیں کہ وہ آپ سے راضی ہو؟

کیا آپ کو اس بات سے خوشی نہیں ہوگی کہ اللہ آپ کے چہرے کو جہنم سے دور کر دے؟

کیا آپ خوش نہیں ہوں گے کہ اللہ آپ کو جنت میں داخل کر دے اور آپ نیک لوگوں کے ساتھ رہیں؟

کیوں نہیں، آپ کو ضرور فرحت و انبساط حاصل ہوگا کہ اللہ آپ کی ان جلیل القدر تمناؤں کو پورا کردے۔

میرے بھائی! آپ ان مقدس مقامات میں چلے پھریں گے توان کی وجہ سے آپ دعا کرنے سے ہرگز پیچھے نہ ہٹیں، خبردار! فرصت کے ان لمحات کو آپ ضائع نہیں کریں گے۔ اور اگر ایسا ہوا تو  اس حج کا فائدہ کیا ہوگا کہ اس سرزمین میں آپ اپنے دل کو اپنے خالق کے سامنے پیش نہیں کر سکے؟ کتنا قیمتی ہے یہ سرمایہ اور اس سرمائے کو گنوانے والے کتنے گھاٹے میں ہیں!

حج کرنے والے میرے بھائی! علماء نے دعا کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک دعائے عبادت اور دوسرا  دعائے مسئلہ (جسے دعائے طلب بھی کہتے ہیں)۔ میرے بھائی! آیئے آپ ہمارے ساتھ علامہ عبدالرحمٰن سعدی (اللہ ان کی قبر کو پاکیزہ بنائے) کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں، آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : (قرآن کریم میں دعا کے حکم، غیر اللہ سے دعا کی نہی اور دعا مانگنے والوں کی تعریف سے متعلق جو کچھ وارد ہے وہ سب کی سب دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت کو شامل ہے اور یہ ایک نفع بخش قاعدہ ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر لوگ دعا اور دعوۃ کے لفظ سے  صرف دعائے مسئلہ کا مفہوم لیتے ہیں اور یہ نہیں خیال کرتے کہ دعا میں جملہ عبادات داخل ہیں،  جب کہ یہ ایسی خطا  ہے جوانہیں اس سے بدتر برائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس لیے کہ آیات صریح طور پر دعائے مسئلہ اور دعاءئےعبادت پر مشتمل ہیں۔‘‘

اوریہ ہمارے پیشوا علامہ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز(اللہ ان کی روح کو پاکیزہ بنائے،ان کو اپنے احسان میں شامل کرے ،اوراپنے وسیع جنت میں جگہ دے) فرماتے ہیں : ’’دعا کی دونوں قسمیں لازم و ملزوم ہیں، اللہ تعالیٰ سے جلبِ منفعت اور دفعِ ضرر کے لیے دعا کی جاتی ہے جو کہ دعاءئے مسئلہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے خوف و امید کے ساتھ دعا کی جاتی ہے جو کہ دعائے عبادت ہے، جس سے معلوم ہوا کہ  دعاء کی دونوں قسمیں لازم و ملزوم ہیں، پس ہر دعائے عبادت، دعائے مسئلہ کو مستلزم ہے اور ہر دعائے مسئلہ، دعائے عبادت کو متضمن ہے۔‘‘

میرے حاجی بھائی! آپ خوب دعاء کریں، آپ سے یہ بات مخفی و پوشیدہ نہ رہے کہ دعاء عبادت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :( الدعاء هو العبادة)’’دعا عبادت ہی ہے‘‘ [اس حدیث کی روایت ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے، صحیح الجامع الصغیر : ۳۴۰۷]

میرے مسلمان بھائی!آپ دعاء کرنے میں پیچھے نہ رہیں کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : (أعجز الناس من عجز عن الدعاء وأبخل الناس من بخل بالسلام)’’ لوگوں میں سب سے زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو دعاء کرنے سے عاجز ہو جائے یعنی تھک جائےاور سب سے زیادہ بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخالت کرے۔‘‘ [اس حدیث کی روایت ابن حبان نے کی ہے، صحیح الجامع الصغیر : ۱۰۴۴)

میرے حاجی بھائی! ان مبارک ایام میں سب سے عظیم دن  عرفہ کا دن ہے، یہ وہی دن ہے جس کے منتظر نیکو کار لوگ رہتے ہیں، سوال تیار کرتے ہیں اور حاجات کو مستحضر رکھتے ہیں۔ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (خير الدعاء دعاء يوم عرفة )’’بہترین دعاء یومِ عرفہ کی دعاء ہے‘‘ [اس حدیث کی روایت ترمذی اور مالک نے کی ہے، صحیح الجامع الصغیر]

حج کرنے والے میرے بھائی! اس دن  کے تعلق سے آپ کس  مقام پر ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ سےفروتنی اور دعاء کے ساتھ بخشش طلب کرنے والے مقبلین میں سے ہیں؟ یا اپنے دلوں کے ذریعہ اس باعظمت دن سے غافل و لاپرواہ لوگوں میں سے ہیں؟ امام نووی رحمہ اللہ یومِ عرفہ کے متعلق رقم طراز ہیں : (مناسب ہے کہ اس دن دل کی ندامت و پشیمانی کے ساتھ زندگی کی جملہ خلاف ورزیوں(برائیوں) سے نام بنام بتکرار توبہ و استغفار کیا جائے اور ذکر و دعا کے ساتھ بکثرت رویا جائے، پس وہاں آنسو بہائے جاتے ہیں، لغزشیں کم ہوتی ہیں اور مطلوبہ امور کے پورا ہونے کی امید کی جاتی ہے۔ وہ اکٹھا ہونے اور ٹھرنے کی انتہائی عظیم و کشادہ جگہ ہے جہاں  اللہ تعالیٰ کے چنندہ نیکو کار بندے، اخلاص مند اولیاء اور مخصوص مقربین اکٹھا ہوتے ہیں اور وہ دنیا میں ٹھرنے کی سب سے بڑی جگہ ہے۔ اورکہا گیا ہے کہ: جب یومِ عرفہ کو جمعہ کا دن پڑ جائے تو میدانِ عرفہ میں ٹھرنے والے سبھی لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے)

میرے حج کرنے والے بھائی! خبردار آپ لاپرواہوں اور غفلت شعاروں کی سی دعاء مانگنے سے بچیں نیز مخلصین و متضرعین کے دعاء مانگنے کی طرح دعاء مانگیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب لاه )’’جان لو! کہ اللہ تعالیٰ وہ دعاء قبول نہیں کرتا جو غافل اور لاپرواہ دل سے نکلے‘‘ [اس حدیث کو ترمذی حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے، صحیح الجامع الصغیر : ۲۴۵]

میرے حاجی  بھائی! آپ اللہ کے سامنے پاکیزہ جگہ پر کھڑے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ  یہاں مَیں آپ کے لیے دعاء کے کچھ آداب کو بیان کر دوں، قوی امید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کمزوری پر رحم فرمائے گا جب کہ آپ اس کے سامنے دست بدعا ہوں گے۔ میرے بھائی آپ کے لیے ضروری ہے :

خشوع و خضوع، عاجزی و انکساری اور خوف و لالچ کے ساتھ اللہ سے دعاء مانگنا : { إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَباً وَرَهَباً وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ }’’یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے‘‘۔ [الأنبیاء : ۹۰]

قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا۔

اپنی دعاء سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تمجید و ثناء اس کے شایانِ شان کرنا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود و سلام بھیجنا پھر اس کے بعد دعاء مانگنا۔

گناہوں کا اقرار اور خطاؤں کا اعتراف کرنا۔

دعاء کے کلمات کو تین تین بار دھرانا۔

دعاء کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کرنا کیوں کہ ہاتھوں کا اٹھانا انکساری و عاجزی کی دلیل ہے۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (إن ربكم تبارك وتعالى حيي كريم يستحي من عبده إذا رفع يديه إليه أن يردهما صفراً خائبتين)’’بے شک تمھارا رب تبارک و تعالیٰ بہت حیا کرنے والا کریم ہے، وہ اس بات سے حیاء محسوس کرتا ہے کہ اس کا بندہ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اور وہ انہیں خالی و ناکام واپس لوٹا دے) [اس حدیث کی روایت ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے، صحیح الجامع الصغیر : ۲۰۷۰]

دعاء کرتے ہوئے رونا گڑگڑانا۔

حج کرنے والے میرے بھائی! اس دن صرف اللہ تعالیٰ سے آس و امید رکھیں اور اس کے علاوہ کسی اور سے آس و امید نہ رکھیں۔ اللہ ہمیں اور آپ کو آرزؤں کی تکمیل اور قبولیتِ دعا کی جگہوں کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ایامِ حج نیکیوں کا موسم ہے

حج کرنے والے میرے بھائی! کیا آپ نے اپنے دل کا جائزہ لیا   ہےکہ آپ نے اپنے وطن کو خیر باد کہہ دیا،  بھائیوں سے جدائی اختیار کر لی، آخر یہ مشقت و تکلیف کیوں؟

یقیناً ہر وہ حاجی جو اپنے وطن سے نکلا ہے یا نہیں نکلا ہے  جب وہ اپنے دل کو ٹٹولے گا تو وہ اس فرحت و شادمانی  اورکیف وسرورکو محسوس کرے گا  جسے اس کی ضمیر نے مختلط(گڈمڈ) کردیا ہے،اوروہ پاک سرزمین کا قصد وارادہ کررہا ہے۔اللہ کا ارشاد ہے : { رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ الصَّلاَةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ }’’اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے، اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے، اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں) [ابراہیم : ۳۷]

کتنے دل ایسے ہیں جو اس مقدس مقامات میں جانے کےشوق میں پگھل چکے ہیں۔

میرے مسلمان بھائی!  یقیناً یہ ایام عبادات و طاعات کے ہیں اور یہ قربت و تقرب حاصل کرنے کا موسم ِبہار ہے، اسی لیے ہر کوئی شعارِ توحید کو بار بار پکارتا ہے : (لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك لبيك) ’’حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام قسم کی حمد و تعریف تیرے ہی لیے ہےاور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں، بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے‘‘۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حجۃ الوداع کا   بیان ہے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’مدینہ میں ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے ، آپ نے ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات کو وہیں رہے ، صبح ہوئی تو مقام بیداء سے سواری پر بیٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد ، اس کی تسبیح اور تکبیر کہی ۔ پھر حج اور عمرہ کے لیے ایک ساتھ احرام باندھا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا) [اس حدیث کی روایت بخاری مسلم اور نسائی نے کی ہے]

میرے حج کرنے والے بھائی! ایسے ہی حمد و تسبیح اور تکبیر کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حج کی ابتدا کی، اور (جمرہ پہنچنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے) [اس حدیث کی روایت بخاری نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے]

میرے بھائی! کیا آپ نے تلبیہ کے معنی و مفہوم پر غور کیا ہے؟ کیا آپ اس کا اعتقاد رکھتے ہوئے بار بار پکارتے ہیں؟

آپ جب ’’لبیک‘‘ کہتے ہیں تو گویا  اللہ نے جو آپ کو اپنے گھر کے حج کا حکم دیا ہے آپ اس نداء و پکار کا جواب دے رہے ہیں۔ یعنی بار بار یا لازمی طورپر حاضر ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔

میرے حج کرنے والے بھائی! آپ بہترین بقعۂ ارض میں ہیں، آپ عبادت و طاعت کیے بغیر ان ایام کو کیسے گنوا دیں گے، جب کہ یہ ایام شرف و فضیلت والے ہیں ساری مخلوق ان دنوں کے اندر عبادت میں مشغول رہتی ہے، ابلیس غیظ و غضب میں ہوتا ہے اسے ذلت خواری حاصل ہوتی ہے۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (ما رئى الشيطان يوماً هو فيه أصغر ولا أدحر ولا أحقر ولا أغيظ منه في يوم عرفة وما ذاك إلا لما رأى من تنزل الرحمة وتجاوز الله عن الذنوب العظام إلا ما أرى يوم بدر..) ’’شیطان عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن میں زیادہ ذلیل، دھتکارا گیا، حقیر اور شدید غصے والا نہیں دیکھا گیا، اس کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ عوام و خواص سبھی پر رحمت نازل ہو رہی ہے اور اللہ ان کے بڑے بڑے گناہ معاف کر رہا ہے، البتہ بدر کی جنگ میں اس سے بھی زیادہ اس کا برا حال تھا۔‘‘ [اس حدیث کی روایت امام مالک نے مؤطا میں کی ہے]

میرے حاجی بھائی! یہ بخشش و مغفرت کے دن ہیں آپ انہیں بے کار میں نہ گنوائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبيداً من النار من يوم عرفة وإنه ليدنو يتجلى ثم يباهي بهم الملائكة فيقول: ما أراد هؤلاء؟)’’اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور وہ قریب آکر ان پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔‘‘ [اس حدیث کی روایت مسلم نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے]

میرے بھائی! بکثرت عبادت اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کیجیے! اپنی رضا و خوشنودی  کے متلاشی بندے کو اللہ کبھی گمراہ نہیں کرے گا۔ اللہ تقویٰ پر ہماری اور آپ کی مدد فرمائے۔

زادِ راہ تیار کیجیے!       سب سے بہترین زادِ راہ اللہ کا تقویٰ ہے

حج کرنے والے میرے بھائی! لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ حج کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ نان و نفقہ اور دیگر لوازمات کی تیاری کرتے ہیں کیوں کہ وہ بڑے سفر پر نکلنے والے ہوتے ہیں اور یہ بہترین بات ہے۔

لیکن میرے حج کرنے والے بھائی! یہاں ایک اور ضروری توشہ و زادِ راہ ہے کہ جس کے بغیر آپ کا حج باطل ہوگا، کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ زادِ راہ اور توشہ کیا ہے؟ یقیناً وہ تقویٰ ہے۔ اس حج میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے کہ جس کا کرنے والا گناہ و معاصی کا مرتکب ہو، اس لیے  کہ یہ ایام عبادات و طاعات کے ہیں اور یہ تقویٰ کے بازار ہیں، جو کوئی ان دنوں میں اللہ کی نافرمانی کرے گا  وہ فوری طور پر یا بعد میں خائب و خاسر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللّهُ وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُوْلِي الأَلْبَابِ }’’حج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جو شخص ان میں حج لازم کر لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، اور اے عقل مندوں مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔‘‘ [البقرۃ : ۱۹۷]

حج کرنے والے میرے بھائی! چاہیئے کہ آپ کی نفع بخش  تجارت اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہو اور آپ حج مبرور کے ساتھ واپس ہوں۔ مذکورہ بالا آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے رفث، فسوق اور جدال سے روکا ہے۔ رفث کا اطلاق جماع اور شہوانی باتوں پر کیا گیا ہے، امام ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں : (یہاں یہ عام ہے اور صیام سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قول میں یہی مراد ہے : ( فإذا كان صوم أحدكم فلا يرفث )’’جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو بیوی سے میل ملاپ نہ کرے‘‘)۔  اور میرے بھائی! فسق کا بنیادی مفہوم نکلنا ہے لیکن اس کا اطلاق اللہ کی اطاعت و فرماں برداری سے نکلنے والے پر کیا جاتا ہے چناں چہ ابن عباس، ابن عمر، عطاء، حسن اور ایک جماعت سے مروی ہے کہ  حج کے دوران حالتِ احرام میں اللہ عز و جل کی نافرمانی کرنے کو فسوق کہتے ہیں۔  اور جدال کے بارے میں قرطبی کہتے ہیں : ’’ان دنوں میں اور ان جگہوں پر لڑائی جھگڑا نہ کیا جائے۔‘‘

حج کرنے والے میرے بھائی! نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان میں آپ بھی داخل ہونے کی کوشش کیجیئے : ( من حجّ فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه)’’جس نے حج کیا اور شہوانی باتوں اور فسق و فجور سے بچا  وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا‘‘۔ [اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے] یعنی بغیر گناہ کے لوٹتا ہے، حافظ ابن حجر کہتے ہیں : (اس کا ظاہری مفہوم صغیرہ و کبیرہ اور اس کے تابع سبھی گناہوں کی بخشش و مغفرت ہے

میرے بھائی! آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : (والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة)’’ حج مبرور کا بدلہ صرف اور صرف جنت ہے‘‘ [اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے]۔

حسن بصری کہتے ہیں : (حج مبرور اس حج کو کہتے ہیں جس کا ادا کرنے والا دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا راغب ہو کر واپس ہوتا ہے)۔ قرطبی کہتے ہیں : (فقہاء کا کہنا ہے : حج مبرور وہ حج جس کی ادائیگی کے دوران حج کرنے والے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوئی ہو) میرے بھائی! آپ بھی اپنے حج کے ثمرہ کے ساتھ کامیاب ہو جائیں، اس دن آپ کتنے خوش بخت ہوں گے!

اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف نہ دیں

حج کرنے والے میرے بھائی! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ حرمت والے اللہ کے گھر اس لیے آئے ہیں تاکہ اجر و ثواب کے ذریعہ کامیاب ہوں اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں۔ لیکن اللہ آپ سے ہرگز نہیں راضی و خوش ہوگا جب آپ کے بارے میں لوگ یہ کہیں گے: آپ اپنی گفتگو یا زبان کے ذریعہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے آئے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات پر اپنے بھائیوں کو ترجیح نہیں دیتے ہیں۔

میرے بھائی! نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو مناسکِ حج کو سکھلا دیا ہے، آپ نے کوئی چیز نہیں چھوڑی ہے بلکہ سبھی بات کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے، جب میدانِ عرفات سے  لوگوں نے کوچ کیا،آپﷺ اپنی اونٹنی کے لگام کو کھینچے ہوئے تھے اور جلدی نہیں کر رہے تھے، آپ  اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے : (اے لوگو! سکون و اطمنان کے ساتھ آہستہ آہستہ چلو) میرے بھائی! نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا لوگوں کے ساتھ ایسا ہی رحم و کرم تھا کہ جس سے کمزوروں کو ایذاء و تکلیف نہ پہنچے۔

حج کرنے والے میرے بھائی!اکثر و بیشتر حجاج حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت مزاحمت کرتے ہیں، ہر کوئی حجر اسود کو بوسہ دینا چاہتا ہے خواہ اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف ہی دے کر کیوں نہ بوسہ دے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب کو ایسا نہ کرنے کی تعلیم دی تھی۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : (طاف النبي صلى الله عليه وسلم بالبيت على بعير كلما أتى إلى الركن أشار إليه)’’ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت اللہ کا طواف ایک اونٹنی پر سوار ہو کر کیا، جب بھی آپ حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے) [بخاری] اور مسلم میں یہ زیادتی ہے : (اور چھڑی کو بوسہ دیتے)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں : (ممکن ہے کہ حجر اسود کو چھونے کی حالت میں آپ اس کے اتنا قریب رہے ہوں کہ لوگ اذیت سے محفوظ رہے ہوں اور حجر اسود کی طرف اشارہ کرنے کی صورت میں آپ اس سے اتنے دور رہے ہوں کہ اسے چھونے کی صورت میں لوگوں کو اذیت پہنچنے کا خوف تھا

میرے مسلمان بھائی! یہی وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں کہ جنہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے پیچھے سے طواف کرنے کا حکم دیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہو گئیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ({ طوفي وراء الناس وأنت راكبة })’’تم لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لو‘‘ [اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے]

میرے بھائی! حجر اسود کو بوسہ دینے پر مصر رہتے ہوئے بندوں کو اذیت نہ دیں، اس لیے کہ جمہور علمائے کرام نے ذکر کیا ہے کہ : جو شخص حجر اسود کو چھونے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ صرف اشارہ کر لے یہ اس کے لیے کافی ہوگا۔فاکھی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مزاحمت (دھکم پیل) کی کراہت کے ساتھ ان کا یہ قول نقل کیا ہے : (اذیت نہ دو، تکلیف نہ پہنچاؤ

میرے حج کرنے والے بھائی! نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو حکم دیا ہے  کہ:  جس کے کرنے کی طاقت نہ ہو اسے نہ کرو، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (إذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم )’’جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جس حد تک تم میں طاقت ہو بجا لاؤ‘‘ [اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے]

حج کرنے والے میرے بھائی! جب جمرہ کو کنکریاں مارنے کا دن آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم کا خیال رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو تعلیم دی کہ (تینوں جمروں کو سات سات کنکریاں ماریں اور ہر) کنکری کا حجم  اتنی ہو جتنی کہ  چٹکی میں آجائے، نہ زیادہ بڑھاؤ اور نہ ہی کم کرو۔ ایسا ہی علماء سلف و خلف کا کہنا ہے۔

  حج کرنے والے میرے بھائی! کنکری مارنے میں تکلف نہ کریں اس طرح کہ بھاری کنکر سے  مارتے ہوئے اپنے بھائی کو تکلیف دیں، اس طرح خیر کے حریص ہوکر ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے نہیں ہوں گے، ہمیں دین میں غلو اور انتہا پسندی سے روکا گیا ہے۔

اسلامی بھائیو! آپ اُنہیں صفات اور خوبیوں کے حامل بنیں جیسا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : (ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد إذا اشتكى عضو تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى )’’ تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی نیز ایک دوسرے پر شفقت کرنے میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم اس کے لیے بخار کے ساتھ تڑپ اٹھتا ہے اور اس کی وجہ سے بیدار رہتا ہے‘‘۔[اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے]

اس لیے میرے بھائی! اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے نرم خو، مُسھِل اور رِفق و ملائمت کرنے والے بنیں۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کی یہ کہتے ہوئے تعریف کی ہے : (کافروں پر سخت ہیں ، آپس میں رحم دل ہیں۔۔۔۔) [الفتح :۲۹]

اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو نیک اعمال کرنے کی توفیق دے۔

 

التعليقات  

#1 indiaabdullah ١٦ ذو القعدة ١٤٣٨هـ
mashallah
Allah is ka nek badla de
ameen
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث