قربانی اور اس کے احکام ومسائل

 

عبدالإله بن سليمان الطيار

 

                                                                   دار ابن خزيمة

 

     الحمد لله حمد الشاكرين، والصلاة والسلام على محمد المبعوث رحمة للعالمين وعلى آله وأصحابه ومن اهتدى بهديه وعمل بسنته إلى يوم الدين... وبعد:

 

      عید کی خوشی میں کشادگی واضافہ کی خاطر اللہ عز و جل نے قربانی کو مشروع قرار دیا ہے، ابوالانبیاء ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم دیا جس کی بجاآوری کے لیے وہ بلا پس و پیش تیار ہو گئے تب اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں آسمان سے ایک ذبیحہ نازل فرمایا، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے : {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} ’’اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا‘‘ [الصافات : ۱۰۷] اور اسی وقت سے اللہ کے حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے لوگ خون بہاکرچوپایوں کا ذبیحہ پیش کرتے ہیں کیوں کہ یہ بہترین طاعات اور فرماں برداری میں سے ہے۔ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے ،اور قدرت و طاقت کے باوجود اس کا ترک کرنا مکروہ ہے۔ اور اس کی بہت بڑی فضیلت ہے۔

 

تعارف اور لغوی و شرعی مفہوم :

 

     قربانی کے لیے عربی زبان میں ’’أضحیۃ‘‘ کا لفظ بولا جا تا ہے، أضحیۃ کی لغوی وضاحت کرتے ہوئے جوہری لکھتے ہیں : (اصمعی کہتے ہیں کہ: اس میں چار لغات ہیں : (۱) أُضْحِیّۃ (۲) إِضْحیّۃ ان دونوں کی جمع اَضَاحی ہے۔ (۳) ضَحِیّۃ اس کی جمع ضَحَایا ہے۔ (۴) أضحاۃ اس کی جمع أضحیٰ ہے جیسے أرطاۃ وأرطی، اسی وجہ سے اس دن کا نام یوم الضحیٰ رکھا جاتا ہے)۔ انتہیٰ

 

      اس کا ذکر امام نووی نے تحریر التنبیہ میں کیا ہے، اور امام قاضی کہتے ہیں کہ اس کا نام أضحیۃ اس لئے رکھا جاتا ہے کہ یہ ضحیٰ یعنی دن چڑھے چاشت کے وقت کیا جاتا ہے۔

 

شرعی مفہوم: یوم النحر اور ایامِ تشریق میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے  اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ جو ذبح کی جاتی ہے اسے أضحیۃ یعنی قربانی کہتے ہیں۔

 

قربانی کے مشروع ہونے کی حکمتیں :

 

اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : { فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ }  ’’اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر‘‘ [الکوثر : ۲] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: }قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ}’’آپ کہہ دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت (قربانیاں) اور میرا جینا اور میرا مرنا خالص اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‘‘ [الانعام :۱۶۲]  اور یہاں نُسُک سے مراد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے قربانی کرنا ہے۔

 

امام الموحّدین ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت کو زندہ و جاوید کرنا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا پھر ان کے فدیہ میں ایک مینڈھا عطا فرمایا تو انہوں نے اسماعیل کے بدلے میں اسے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} ’’اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا‘‘ [الصافات : ۱۰۷]

 

عید کے دن اہل و عیال پرکشادگی کرنا ۔

 

قربانی کے گوشت کو فقراء و مساکین میں تقسیم کر کے  عید کی فرحت ومسرت میں انہیں بھی شریک کرنا۔

 

اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو جو ہمارے لیے مسخر کیا ہے یعنی انہیں ہمارے ماتحت کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : :{ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ }[الحج:37،36]

 

پس اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اسی طرح ہم نے چوپایوں کو تمھارے ماتحت کر دیا ہےکہ تم شکر گزاری کرو۔ اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تو تمھارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے، اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمھارا مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے{۔ [الحج : ۳۶ـ ۳۷]

 

قربانی کا حکم :

 

     جمہور اہلِ علم کا کہنا ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے اور طاقت و وسعت کے باوجود اس کا چھوڑنا مکروہ ہے، جب کہ  کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ : طاقت رکھنے والے ہر مسلم گھرانے پر قربانی کا کرنا سنتِ واجبہ ہے ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ }’’اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر‘‘ [الکوثر : ۲] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث : { من كان ذبح قبل الصلاة فليعد } ’’جو شخص نمازِ عید سے پہلے اپنی قربانی کر دے اسے چاہیے کہ دوبارہ قربانی کرے۔‘‘ [متفق علیہ] ہے۔

 

قربانی کی فضیلت :

 

     قربانی کی فضیلت کے سلسلے میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کر کے اس کی ترغیب دی ہے،اس سلسلے میں جتنی بھی احادیث وارد ہیں سب کی سب محل نظر ہیں لیکن ان میں سے بعض  حدیثیں دوسری حدیثوں کو تقویت پہنچاتی ہیں، انہیں میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے :

 

(ما عمل ابن آدم يوم النحر عملاً أحب إلى الله عز وجل من إراقة دم، وإنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأظلافها وأشعارها. وإن الدم ليقع من الله عز وجل بمكان قبل أن يقع على الأرض فطيبوا بها نفساً ) [رواه ابن ماجه والترمذي وحسنه]

 

 یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ ، کُھر اور بالوں سمیت (جوں کا توں) آئے گا ، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے ، لہذا خوش دلی سے قربانی کرو‘‘ـ  [اس حدیث کی روایت ابن ماجہ اور ترمذی نے کی ہے نیز ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے]۔

 

     اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے جب کہ صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ : ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ( تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے)  ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :  (ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی)  لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ؟آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :  (بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے) [اس حدیث کی روایت ابن ماجہ اور ترمذی نے کی ہے نیز ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے]

 

قربانی سے متعلق احکام

 

قربانی کرنے والا کن چیزوں سے بچے : جب عشرۂ ذوالحجہ شروع ہو جائے  تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ  اپنے بال اور ناخون کو قربانی کرنے تک نہ کاٹے، جیسا کہ صحیح مسلم میں أم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ( إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره )’’جب ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخونوں کو اپنے حال پر رہنے دے یعنی نہ کاٹے‘‘ [اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے]  اور ایک روایت میں ہے:( فلا يأخذن شعراً ولا يقلمن ظفراً) ’’وہ اپنے بال نہ اتارے اور نہ ہی ناخون تراشے‘‘ [مسلم]

 

روکنے میں یہ حکمت ہے کہ کامل اجزاء باقی رہیں تاکہ جہنم سے آزدی حاصل ہو، اور کہا گیا ہے کہ : محرِم سے مشابہت کی وجہ سے احرام جیسی پابندیوں کو اپنانا ہے۔ اسے امام نووی نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔ [شرح مسلم للنوی: ۱۳۱۲۰]

 

مسئلہ : بال کاٹ لینے اور ناخون تراش لینے پر کیا واجب ہے؟

 

     ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : (اگر کوئی شخص بال کاٹنے اور ناخون تراشنے والی ممانعت کو ترک کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے، اجماعی طور سے اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے خواہ اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہو یا بھول کر کیا ہو) [المغنی: ۱۳۳۶۳]

 

قربانی کے جانور کی عمر : صحیح مسلم میں امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (لا تذبحوا إلا مُسنّة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن)’’صرف مُسِّنہ جانور کی قربانی کرو ، ہاں اگر تم کو دشوار ہو تو (ایک سالہ )دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو‘‘  [مسلم : ۱۹۶۳] مُسِنہ کہتے ہیں جانور کا دو دانتوں والا ہونا۔

 

امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب زاد المعاد (۲/۳۱۷) میں لکھتے ہیں : (اور انہیں ایک سالہ دنبہ ذبح کرنے کا حکم دیا گیااور باقی جانوروں کا دو دانتوں والا ہونا اور یہی مسنہ ہے) بخاری اور مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ان کے حصے میں جذعہ یعنی ایک سالہ بھیڑ آئی، آپ نے فرمایا : }تم اسی کی قربانی کر دو{۔  حنفیہ اور  حنابلہ کے نزدیک جذعہ اس بھیڑ کو کہتے ہیں جو چھ ماہ کا ہو گیا ہو، امام ترمذی نے وکیع سے نقل کیا ہے کہ ان کے نزدیک چھ یا سات ماہ کی بھیڑ کو جذعہ کہتے ہیں، صاحبِ ہدایہ کہتے ہیں : اونٹ دو دانت کا پانچ سال مکمل کرنے پر ہوتا ہے اور گائے و بکری دو سال مکمل کر کے جب تیسرے سال میں داخل ہوتے ہیں تو دو دانت کے ہوتے ہیں۔

 

قربانی کے جانور کا عیوب سے پاک ہونا : قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خلقت میں ہر طرح کے عیب و نقص سے محفوظ و سالم ہو، چناں چہ بھینگا، لنگڑا، سینگ کا ٹوٹا، کان کٹا اور بیمار و کمزور(لاغر) جانور کی قربانی کافی نہیں ہوگی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

 

( أربع لا تجوز في الأضاحي: العوراء البيّن عورها، والمريضة البيّن مرضها، والعرجاء البيّن عرجها، والكسيرة التي لا تُنقي ـ يعني لا نَقي فيها ـ أي لا مخ في عظامها وهي الهزيلة العجفاء) [أحمد:4/284، 281، وأبو داود:2802].

 

’’چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز  نہیں ہے:  ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو ، دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو ، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو ، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔‘‘ [مسند احمد ۴/۲۸۱،۲۸۴ ابوداؤد ۲۸۰۲]

 

سب سے افضل قربانی :  سب سے افضل قربانی سینگ والے چتکبرے مینڈھے کی ہے کیوں کہ اسی وصف و خوبی والے جانور کی قربانی رسول اللہ ﷺ نے پسند کی ہے اور خود بھی ایسا ہی جانور قربان کیا ہے جیسا کہ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ : (ضحى بكبشين أملحين أقرنين.. ) الحديث [البخاري:5558 ومسلم:1966]’’نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔۔۔۔الحدیث) [بخاری : ۵۵۵۸ ، مسلم : ۱۹۶۶] أملح کی تفسیر اس جانور سے کی گئی ہے جس پر سفید اور سیاہ بال ہوں یعنی چتکبرہ ہو جیسا کہ صحیح مسلم (۱۹۶۷) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’ایک بڑے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا، جو چلتا بھی سیاہ رنگ میں تھا (یعنی پاؤں سیاہ تھے)، بیٹھتا بھی سیاہ رنگ میں تھا (یعنی پیٹ سیاہ تھا) اور دیکھتا بھی سیاہ رنگ میں تھا (یعنی آنکھوں کے اردگرد حصے کا رنگ بھی سیاہ تھا)۔۔۔الحدیث‘‘

 

 امام نووی (شرح مسلم للنووی: ۱۳۱۰۵) کہتے ہیں : (اس کا مطلب ہے کہ اس کا پیر پیٹ اور آنکھوں کے اردگرد والا حصہ کالا تھا۔  واللہ اعلم) انتہیٰ

 

 

قربانی کے جانور کو موٹا   تازہ  کرکے بہترین  بنانا مسنون ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے:

{ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ  }

 

 ’’یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے ‘‘ [الحج:۳۲]         

 

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ’’اس کی تعظیم  سے مراد اس کو خوب موٹا  تازہ کرنا،ہڈی والا  اوربہترین بنانا ہے‘‘۔ [الطبري، جامع البيان:17156]           

 

     بلکہ جتنازیادہ قیمتی اور مہنگا ہو وہی سب سے افضل ہو تا ہے اگر اس کے ذریعہ اللہ کی قربت کا ارادہ کیا گیا ہو، خواہ غلام کا آزاد کرنا ہو یا قربانی کرنا ہو جیسا کہ صحیح بخاری میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کس طرح کا غلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا  : ( أغلاها ثمناً وأنفسها عند أهلها) ’’ جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں جو بہت زیادہ پسندیدہ ہو‘‘۔ [بخاری : ۲۵۱۸]

 

     امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : (ہر وہ چیز جو انسان کی نگاہ میں باعظمت  ہو وہ اللہ کے یہاں زیادہ ثواب کا باعث ہے اگر اسے اللہ کے لیے نکالا گیا ہو) [صحیح ابن خزیمہ : ۱۴۲۹۱]

 

قربانی ذبح کرنے کا وقت : یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ قربانی کا وقت عید کی صبح نماز کے بعد ہے اس لیے نمازِ عید سے قبل قربانی کرنے سے قربانی ادا نہیں ہوگی، چناں چہ اسے نمازِ عید کے بعد امام کے ساتھ ذبح کرنا چاہیے، عید کے بعد قربانی کرنے سے اجماعی طور پر کافی ہوگی جیسا کہ امام نووی نے اسے بیان کیا ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (من ضحى قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه ومن ذبح بعد الصلاة فقد تمّ نسكه وأصاب سنة المسلمين)’’جس کسی نے نماز سے پہلے قربانی کیا تو اس نے اپنی ذات کے لیے ذبح کیا ہےاور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا‘‘ [۵/۱۹۶۱] بلکہ اس سلسلے میں نبی ﷺ سے تاکید آئی ہوئی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول ﷺ نے یوم النحر کو ہمارے لیے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : { ولا يذبحن أحد حتى يصلي } ’’کوئی شخص نماز سے پہلے ہرگز قربانی نہ کرے‘‘ [مسلم ۵/۱۹۶۱] امام ابن القیم رحمہ اللہ زاد المعاد میں لکھتے ہیں : (نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کو چھوڑا نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور ان دونوں کو نمازِ عید کے بعد نحر کرتے تھے اور آپ نے باخبر کیا کہ جس کسی نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے قربانی  کا کوئی حصہ نہیں پایا بلکہ یہ تو گوشت ہے جسے اس نے پیشگی طور پر اپنے اہل و عیال کے لیے تیار کر لیا ہے، اسی بات پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت اور طریقہ دلالت کرتے ہیں۔) انتہیٰ [زادالمعاد : ۲۳۱۷]

 

قربانی کرتے وقت مستحب اعمال : مستحب یہ ہے کہ قربانی کرتے وقت جانور کو قبلہ رخ کیا جائے اور یہ دعا پڑھی جائے : (وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفاً وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين) ’’ میں نے سب سے یکسو ہوکر اپنا رخ اسی ذات کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز میری عبادت میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں فرماں برداروں میں سے  ہوں۔‘‘

 

پھر ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھی جائے : (بسم الله والله أكبر، اللهم هذا منك ولك)

 

 ’’اللہ کا نام لے کر ذبح کرتا ہوں، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔‘‘

 

قرآنِ کریم سے بسم اللہ پڑھنا واجب ہے، فرمانِ الٰہی ہے :  }وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ{ ’’اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو‘‘ [الأنعام : ۱۲۱]

 

     امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں : (نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ یہ تھا کہ عید گاہ میں قربانی کرتے تھے، ابوداؤد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ آپﷺ کے ساتھ عیدالاضحیٰ کو عید گاہ میں حاضر تھے، جب آپ اپنے خطبہ سے فارغ ہوئے تو منبر سے اترے، آپ کے لیے ایک مینڈھا لایا گیا اور آ پ نے اسے ذبح کیا اور یہ دعا پڑھی :  }بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي {’’میں اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں اور اللہ بہت بڑا ہے، یہ قربانی میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے قربانی نہیں کیا‘‘۔ اور صحیحین میں ہے کہ نبی ﷺ عید گاہ میں ذبح کرتے اور نحر کرتے تھے) انتہیٰ (متفق علیہ)

 

     ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں : امام مالک کے نزدیک عیدگاہ میں ذبح کرنا امام کے لیے خاص ہے، ابن وہب نے روایت کیا ہے کہ امام مالک کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ کوئی اس سے پہلے نہ ذبح کرے۔ ابن مہلب مزید یہ حکمت بیان کرتے ہیں کہ : تاکہ لوگ اس کے بعد یقین کے ساتھ قربانی کریں اور تاکہ لوگ ذبح کرنے کا طریقہ سیکھ سکیں۔ صحیح مسلم [۱۹۶۷] میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ : آپﷺ نے مینڈھے کو پکڑا اسے لٹایا پھر ذبح کیا اور یہ دعا پڑھی  : }بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد {’’میں اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! اسے محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرما‘‘اور پھر آپ نے قربان کر دیا۔  اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے ذبح کرتے وقت بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا نیز اللھم تقبل منی کہنا مستحب ہے، اور بعض لوگوں نے قرآن کی اس دعا کو بھی پڑھنا مستحب قرار دیا ہے : ’’ربنا تقبل منا إنک انت السمیع العلیم‘‘ [البقرۃ : ۱۲۷] ’’اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے قبول فرما لے بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘

 

ذبح کرنے میں بھی حسنِ سلوک :  ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں : (نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، جیسا کہ صحیح مسلم میں شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : { إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة، وليحد أحكم شفرته وليرح ذبيحته }’’بیشک اللہ نے ہر چیز پر احسان لکھ دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اس میں بھی احسان کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے‘‘ [مسلم]

 

     ذبح کرتے وقت نبی ﷺ ذبیحہ کے پہلوؤں پر اپنا پیر رکھتے تھے تاکہ وہ تڑپڑائے نہ اور یہ ذبیحہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رحمدلی تھی، جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذبح کرنے کے وقت حاضر تھے۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں : (لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ذبیحہ کو بائیں پہلو پر لٹایا جائے گا اور اس کے دائیں پہلو پر پیر رکھا جائے گا تاکہ ذبح کرنے والے کے لیے داہنے ہاتھ میں چھری پکڑنے میں آسانی ہو اور ذبیحہ کے سر کو بائیں ہاتھ سے پکڑا جائے گا۔) انتہیٰ۔

 

ذبح کرنے کے لیے وکیل بنانا درست ہے : مسلمانوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ خود بنفس نفیس قربانی کریں جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا ہے، اور اگر ذبح کرنے کے لیے کسی کو اپنا قائم مقام بنا دیا جائے  تو یہ بھی جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے اور اس بارے میں علماء کا کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔

 

قربانی کے گوشت کی مستحب تقسیم : قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں منقسم کرنا مستحب ہے، ایک حصہ گھر والوں کے کھانے کے لیے، ایک حصہ صدقہ کرنے کے لیے اور ایک حصہ دوست و احباب میں تقسیم کرنے کے لیے، اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے : (كلوا وادخروا وتصدقوا) ’’کھاؤ، رکھو اور صدقہ کرو‘‘ [مسلم ۶/۸۰] البتہ اس طرح نہ تقسیم کیا جائے تب بھی جائز ہے خواہ پورے کا پورا صدقہ کر دیا جائے یا پورا خود کھا لیا جائے یا پورا ہدیہ کر دیا جائے۔

 

قصائی کی اجرت : قصائی کی اجرت قربانی کے گوشت میں سے نہیں دینا چاہیے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے حکم دیا  کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی  قربانیوں کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور میں ان قربانیوں کا گوشت، ان کے چمڑے اور ان کی جلیں(جھول) مساکین پر صدقہ کر دوں اور ان میں سے کچھ بھی قصائی کو نہ دوں۔ اور فرمایا : ہم قصائی کو اپنے پاس سے اجرت دیں گے۔ [متفق علیہ]

 

ائمہ کے کلام سے مستفادقربانی کے اہم مسائل و فوائد

 

قربانی کی مشروعیت : قربانی کی مشروعیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : (قربانی کرنا اس کی قیمت کو صدقہ کرنے سے افضل ہے، اگر کسی کے پاس مال ہو   اور وہ اس کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے قربانی کرنا چاہیے)۔ انتہیٰ۔

 

شیخ بسام کہتے ہیں : (قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کو نماز کے ساتھ ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { قل إن صلاتي ونسكي.. }’’کہو میری نماز اور میری قربانی۔۔۔۔‘‘ [الأنعام : ۱۶۲] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : :{ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ }’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو‘‘ [الکوثر : ۲]قربانی اس عظیم دن میں کی جاتی ہے جو سب بڑا دن ہے یعنی وہ یوم النحر ہے اور جس دن فقراء پر صدقہ کیا جاتا ہے اور ان پر خوشیاں نچھاور کی جاتی ہیں اورکشادگی کی جاتی ہے)۔ انتہیٰ۔

 

شیخ بسام کہتے ہیں : (اصلاً قربانی زندوں کے لیے ہے، البتہ مُردوں کی طرف سے بطور صدقہ قربانی کرنا جائز ہے، اس میں مُردوں کے لیے اجر و ثواب ہے، لیکن بہت سے ملکوں میں یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ وہ قربانی صرف مردوں کے لیے کرتے ہیں گویا کہ ان کے خیال میں قربانی مُردوں کے لیے خاص ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی جگہوں پر بہت کم زندہ لوگ اپنی طرف سے قربانی کرتے ہیں، جب وہ  وصیت لکھتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی خوشحالی و تنگ دستی کے مطابق  ایک قربانی یا قربانیوں کے بارے میں لکھتے ہیں، اور بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو قربانی اور رمضان کی راتوں میں کھانا تقسیم کرنے کے علاوہ باتوں کی وصیت کرتے ہیں، اور یہ ان علماء کی تقصیر و خطا ہے جو ان کی وصیتوں کو لکھتے ہیں، یہ اہلِ علم  نہ انہیں سمجھاتے ہیں اور نہ یہ بتلاتے ہیں کہ وصیت نیکی و بھلائی جیسی نفع بخش چیزوں کے متعلق کرنی چاہیے، قربانی اگرچہ نیکی و بھلائی اور فضیلت والی چیز ہے مگر نیکی کی ایسی بہت سی صورتیں ہیں جو بسا اوقات اس  سےکہیں زیادہ بہتر ہوتی ہیں)۔ انتہیٰ۔

 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : (میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے جس طرح کہ میت کی طرف سے حج کرنا اور اس کی طرف سے صدقہ دینا جائز ہے، علماء کے اقوال میں اظہر و واضح قول کے مطابق  اگر ایک ہی بکری ہو تو وہ میت اور اس کے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوگی، یہی امام مالک اور امام احمد کا مذہب ہے، اور صحابہ بھی ایسا کرتے تھے)۔ انتہیٰ۔

 

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری آپ کی اور دنیا میں موجود سارے مسلمانوں کی قربانیاں قبول فرمائے اور ہمارے عمل کو اپنے لیے خالص کر دے۔

 

 وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين والحمد لله رب العالمين

 

اس مقالہ کا مراجعہ إفتاء کے رکن فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن الجبرین نے کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : (قربانی کی مشروعیت اور اس کے احکام سے متعلق ان صفحات کا میں نےمطالعہ کیا  اور اسے بہتر نیز اپنی فکر و نظر کے مطابق پایا ہے، اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے)۔

 

وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم

 

 

 

 

 

 

 

التعليقات  

#1 hindmuhammad ٢ ذوالحجہ ١٤٣٨هـ
mashallah
bahut umdah
jazakumullah khairan
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث