حلقہ (۵)

طلب ِ علم میں عورتوں کا حق

 

عورتوں کا طلب علم میں اپنی حق کا مطالبہ کرنا:

جیسا کہ صحیحین میں آیا ہے باب : کیا عورتوں کے لئے علم  (حاصل کرنے کیلئے) الگ دن مقرر کیا جائے؟)

ابوسعیدرضی اللہ عنہ فرماتے  ہیں کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اےاللہ کےرسول!  آپکی تمام احادیث میں(فائدہ اٹھانےمیں)مرد عورتوں پر سبقت لےگئے، ہمارےلیےبھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کردیں جس  میں ہم آپ کےپاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نےآپ کوسکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کےپاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کوسکھایاتھا۔

اور ایک روایت میں ہے کہ

عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےکہاکہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانےمیں(مرد ہم سےآگےبڑھ گئے۔

اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خیر سنانے کے کافی حریص تھے، چنانچہ ان کے لئے لئے تعلیم کا دن خاص کرتے تھے۔

امام کا عورتوں کا نصیحت کرنا اور انہیں تعلیم دینا:

ابن جریج کہتے  ہیں کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماکومیں نےیہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےعیدالفطرکی نماز پڑھی۔ پہلےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوگئے تو اترے(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبرنہیں لےکرجاتےتھے۔ تو اس اترنےسے مراد بلندجگہ سےاترے)اور عورتوںکی طرف آئے۔ پھرانہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کےہاتھ کاسہارا لئےہوئےتھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نےاپناکپڑاپھیلارکھاتھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔اور ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے: کہ انہوں نے گمان کیا کہ عورتوں نے خطبہ نہیں سنا ہے چنانچہ انہیں نصیحت  فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔

اور ابن جریج نے عطاء سےپوچھاکہ کیاآپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتےہیں کہ وہ عورتوں کونصیحت کرے؟ انہوں نےفرمایا ہاں ان پریہ حق ہے اور کیاوجہ ہےکہ وہ ایسانہیں کرتے!۔

پس عورتیں تکلیف میں مردوں کے ہم مثل ہیں، اسلئے انہیں تعلیم وتعلم واجب ہے، اور یقیناانہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے، اور طلبِ علم پر برقراررکھا ہے، اور عورتوں کا تعلیم حاصل کرنے میں اختلاط درست نہیں ہے، یا تو ان کے لئے کسی ایک دن کو خاص کردیا جائے جیسا کہ گزرے ہوئے حدیث میں ہے، یا ان کو مردوں سے پیچھے صف میں رکھا جائے، جیسا کہ ابن عبّاس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے) ۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (2/466)میںفرماتے ہیں کہ:اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں مردوں سے مختلط نہیں ہوتی تھیں بلکہ جدا رہتی تھیں۔

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث