حلقہ(۴)

حدیث:  اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دےکہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے۔

(۴)محمد بن حاطب کہتے ہیں کہ : میں نے اپنے ایک ہانڈی کو لیا جس سے میر ا ہاتھ جل  گیا، تو میری ماں مجھے جبّانہ مقام   میں ایک آدمی کے پاس لے گئی، اور اس سے کہا: اے   اللہ کے رسول! اس نے کہا: ‘‘میں حاضر ہوں   اور تمہاری سعادت چاہتاہوں’’۔ پھر میری ماں نے مجھے اس سے قریب کیا اور وہ  تھو کنے لگا، اور  ایسی  گفتگو کرنے لگا جسے میں سمجھ نہیں سکا، بعد میں ، میں نے اس کے بارے میں اپنی ماں سے پوچھا  کہ وہ کیا کہ رہے تھے؟! میری ماں نے فرمایا کہ وہ کہ رہے تھے: ‘‘» اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں’’۔ (1)

سوال کرنے والی:

فاطمہ بنت مجلّل بن عبد اللہ بن ابی قیس تھی، جو بنی عامر بن لؤی   کے قبیلہ سے تھی، قرشیہ عامریہ تھی۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا نام جویریہ تھا، اور ابن بشکوال نے جزم کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کا نام فاطمہ تھا، جس کی کنیت ام جمیل تھی، اور اسی سے اسے شہرت ملی، بہت پہلے اسلام لائی تھی، اور یہ اپنے شوہر حاطب بن حارث کے ساتھ حبشہ کی طرف ھجرت کرنے والیوں میں سی تھی، اور وہیں پر اُن سے محمد وحارث پیدا ہوئے۔

پھر ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا، اور اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ دونوں کشتیوں میں سے ایک  پر (سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرگئی،  اور زید ابن ثابت بن ضحّاک سے شادی  کرلی، اور ان سے اولاد ہوئی، اور یہ صحابیہ تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے  روایت کی ہے، اور ان  سے اُن کے بیٹے محمد ابن حاطب نے روایت کی ہے’’۔ (2)

غريب الحديث :

الجَبَّانة : فتحہ پھر تشدید کے ساتھ، اصل میں صحرا کو کہتے ہیں  اور اسے مقابر  بھی کہا جاتا ہے  کیونکہ یہ صحراء میں ہوتا ہے  یہ نام کسی چیز کو اسکے جگہ کے اعتبار سے دیا گیا ہے،  اور جبّان: زمین کا جو حصّہ  بلندی میں برابر ہو، یا بغیر بلندی کے ہو، اور وہ پیداوار کے اعتبار سے عمدہ ہو، اور جبّانۃ یہ ریت وپہاڑ میں نہیں ہوتا، اور ہر صحراء کو  جَبّانہ کہا جاتا ہے’’۔(3)

النَّفْث :نون   ، فاء اور ثاء  ایسے صحیح اصل ہیں جو منہ یا اس کے علاوہ سے کسی چیز کے معمولی سی     گھنٹی کی آواز کی طرح نکلنے کو کہتے ہیں، اور یہ تھوکنے سے کم ہوتا ہے، پھونک کے مشابہ ہوتا ہے، اور کہا گیا کہ یہ  بعینہ تھوک ہی ہے(4) ، حالانکہ صحیح اول ہی ہے۔

البأس:  یہ   اصل میں واحد ہے اور اس کا معنی : شدّت یا اسکے مثل کے ہے۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ  بأس  شدّت مرض کو کہتے ہیں، اور اس کے معانی میں سے: عذاب، جنگ وخوف کی شدت، اور فقر ہے۔ اور بائس : محتاج   یا آزمائش میں   پڑنے والے شخص کو کہتے ہیں، اور وابتأس الرجل کہتے ہیں جب آدمی کو کوئی نا پسندیدہ چیز پہنچے۔

السَّقم: بیماری کو کہتے ہیں، کہا جاتا ہے سُقْمٌ وسَقَم وسَقَامٌ تین لغت ہیں، وھو سقیم، ومِسقام: زیادہ بیمار والا، اور جمع: سقام ہے(6) .

حدیث سے مستنبط ہونے والے فائدے:

۱۔ شفا کے لئے دعا کی مشروعیت کا بیان، اور شرعی دَم کے ذریعہ مصیبت کو دور کرنے   کے علاج کا بیان،  اور اس کے ساتھ  بیماری میں گناہ کے کفارہ اور رحمت کا بیان، کیونکہ دعا ایسی عبادت ہے جس کے ذریعہ اللہ رب العزت کا تقرّب حاصل کیا جاتا ہے، اور دُعا  ثواب اور کفارہ کے حصول کے منافی نہیں ہے، اور  بیماری کا نازل ہونا اس پر صبر کرنا اور اس سے شفاء پانا یہ سب اللہ کے فضل سے ہے۔ اور دو نیکوں کے درمیان  داعی، یا تو مقصود کو حاصل کرنے والا ہوگا،یا  اس کے بدلہ کسی نفع کو حاصل کرے گا یا کسی تکلیف کو دور کرے گا۔(7).

2۔ قرآنی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کے ذریعہ دم یا جھاڑ پھونک بیمار کے تطییب خاطر کا سبب ہے، اور اسکے شفا وعافیت کا ذریعہ ہے، اور شفا کے حصول میں اس کے عجیب وغریب آثار ہیں جن کی حقیقت کی رسائی سے عقل انسانی قاصر ہے، اور بیماری سے شفایابی کا حصول اللہ رب العزت کی تقدیر ومشیئت سے ہوتی ہے، اور مخلوق کے بس میں اس کے وقت سے پہلے شفایابی نہیں ہے، اور اگر مریض کو شفا نہ لکھی گئی ہوگی تو جو بھی ڈاکٹر سے تدبیر واحتیاط واقع ہوگی، اور دوا وعلاج کی جائے گی کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ہی اس سے شفا حاصل ہوگی۔ (8) .

۴۔اللہ سبحانہ کے کمال لطف میں سے ہے کہ اس نے اپنے مخلوق کو بیماریوں میں مبتلا کیا ہے اور ان کی حسّی ومعنوی ادویہ سے مدد فرمائی ہے۔((9).

۴-علّامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اس جھاڑ پھونک میں اللہ کے کمال ربوبیت اور اسکی رحمت کے ذریعہ اللہ کا تقرّب حاصل کرنا ہے اور یہ کہ وحی تنہا شفا دینے والا ہے۔(10)

۵۔ امام ابن عبد البر اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہما  نے فرمایا ہے کہ: علمائے کرام نے نفث (پھونک ) کے جواز پر اجماع کیا ہے،اور جمہور صحابہ اور ان کے بعد تابعین نے اسے مستحب گردانا ہے، اور قاضی عیاض نے بعض علماء جیسے ابن عبد البر اور باجی سے نقل کیا ہے کہ: دَم میں پھونک مارنا سنت ہے، اور اسے اپنانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ہے۔ (11)

اورعائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رقیہ میں پھونک کے سلسلے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: جیسے کہ کشمش کا کھانے والا اس میں پھونک مارتا ہے۔(12) اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس میں معمولی سا تھوک ڈالا جائے۔

۶۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: پھونک اور معمولی تھوک کا فائدہ۔واللہ اعلم۔ اس رطوبت یا ہوا اور رقیہ میں پڑنے والاڈائرکٹ سانس اور بہترین ذکر اور نیک دعا سے تبرّک حاصل کرنا ہے، اور بسا اوقات بطور فال مریض شخص سے اس بیماری کے زائل ودور کرنے کیلئے ہوتا ہے جیسے اس پھونک کو دَم کرنے والے کے منھ سے الگ کرنا ہوتا ہے۔(13)

اور امام ابن القیّم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: پھونک میں عجیب وغریب راز ہوتا ہے؛ کیونکہ رقیہ دل اور منہ سے نکلتا ہے، اسی لئے اس کا تاثیر بہت تیز واقع ہوتا ہے اور رقیہ کے لئے بہت کامل ہوتا ہے، اور دَم کرنے والے کا نقصان کے ازالہ اور تکلیف کو بجھانے کے لئے (نفث)تھوک کا استعمال کرنا اس خبیث نفوس کو ڈنک مارنے ،جلانے اور ہلاک کرنے کے طور پر مدد حاصل کرنا ہے۔(14)

7۔ رقیہ کرتے وقت دائیں ہاتھ سے تکلیف کی جگہ کو چھونا سنّت ہے، اور یہ تکلیف کو دور کرنے اور ناپسندیدہ چیز کو ختم  کرنے کے فال میں سے ہے۔(15).

8۔ نبی صلی اللہ علی وسلم شفائے مطلق کی دعا کرتے تھے نہ کہ   بعینہ اس مرض سے مطلق شفا  پانے کی، کیونکہ کبھی اس مرض سے تو شفا حاصل ہوجاتی ہے  لیکن اس کی جگہ دوسری بیماری آجاتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دَم کو بار بار دہراتے تھے تاکہ گریہ وزاری میں زیادہ بلیغ ہو اور قبولیت میں زیادہ مفیدو کار گر ثابت ہو۔(16).

9۔اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف وکرم کا اظہار ہے، اور اپنے چھوٹے بچے کی تکلیف سے گھبرائی وخوف زدہ عورت کے ساتھ نرم گوشہ وپہلو کا اختیار کرنا ہے، اور یہ چیز آپ صلی  اللہ علیہ وسلم کا اس عورت کاگرمجوشی سے استقبال کرنے، اور معاملہ کو سنگینی سے لینے، اور تکلیف دور ہوجانے تک مریض کے لئے دعا کرتے رہنے سے واضح ونمایاں ہے۔

۱۰۔شیخ محمد بن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وہ دلیلیں جن سے اللہ تعالیٰ کے نام اور اسکی صفات ثابت ہوتی ہیں کتاب وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اللہ کے نام اور اس کی صفات ان دونوں کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔ اهـ (17) .

اس حدیث نے اللہ کے ناموں میں سے عظیم نام کو ثابت کیا ہے، اور وہ( الشافی )ہے، اور اس کی اصل قرآن پاک میں ہے، اور وہ اللہ کا یہ فرمان ہے: وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ) (18).

اور شافی وہ ہے جو اپنے بیمار بندوں کو  بیماری  سے شفا وعافیت عطا کرتا ہے۔(19).

 

 

حواشي:

(1)رواه النسائي – واللفظ له - (6/55 ح10015)  وأحمد (3/418) بلفظ: ‘‘میرے ہاتھ پر ہانڈی سے کچھ گرگیا، تو میری ماں مجھے لے کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور وہ ایک جگہ تھے، تو انہوں نے شفاء دینے والا ہے۔ اور کہا کہ: وہ تھوتھو کر رہے تھے’’ـ اور احمد نے ہی (3/418) میں اُن (محمد بن حاطب ) کی ماں ام جمیل بن مجلّل سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں: میں سرزمین حبشہ سے تجھے(محمد بن حاطب )  لے کر آئی، یہاں تک کہ میں مدینہ سے ایک رات یا دورات کے دوری پر تھی میں نے تمہارے لئے ایک پکوان بنایا،  اور ایندہن ختم ہوگیا تو میں اس کے تلاش میں نکلی، اور جب ہانڈی لی  تو وہ تمہارے بازو پر پلٹ گیا، تو میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئی اور فرمایا: اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر فدا وقربان ہوں! یہ محمد بن حاطب ہے، تو آپ نے تمہارے منہ میں کچھ تھو کیا، اور تمہارے سرپر ہاتھ پھیرا، اور تمہارے لئے دعا کیا، اور تمہارے ہاتھ پر تھو تھو کرنے لگے اور کہتے جاتے: اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء (دے) کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جب اٹھی تو تمہارا ہاتھ ٹھیک ہوچکا تھا’’۔ اور یہ حدیث صحیح سند سے ثابت ہے، امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: احمد کے رجال صحیح کے رجا ل ہیں دیکھیں(مجمع الزوائد: ۵/۱۱۵)،

 اور اس حدیث کی عائشہ رضی اللہ عنہ سے صحیح شاہد بھی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بعض (بیماروں) پر یہ دعا پڑھ کر دم کرتے اور اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے «

اللهم رب الناس أذهب الباس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اشفه وأنت الشافي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا شفاء إلا شفاؤك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما»

 اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء (دے) کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے۔

متفق عليه. رواه البخاري  (491 ح5743)، ومسلم  (1067 ح2191).

(2)الاستيعاب (4/1927)، غوامض الأسماء المبهمة (1/362)، أسد الغابة (6/230)، الإصابة (8/70) .

(3)معجم ما استعجم (1/363)، معجـم البلدان (2/99)، لسان العرب (13/84).

(4)معجم مقاييس اللغة (ص1002)، وينظر: لسان العرب (2/196)، الغريب لابن سلام (1/299)، النهاية في غريب الحديث (5/87)

(5)معجم مقاييس اللغة (ص148)، لسـان العرب (6/20)، مختـار الصحاح (ص16)، مشارق الأنـوار (1/101).

(6)معجم مقاييس اللغة (ص463)، لسان العرب (12/288)، مختار الصحاح (ص128)، النهاية في غريب الحديث (2/380) .

(7) شرح معاني الآثار (4/329)، وشرح ابن بطال (9/433)، فيض القدير (5/87)، تحفة الأحوذي  (10/8).

 قال القاضي عياض – رحمه الله -: وترك الاسترقاء أفضل وأعلى عند بعض العلماء والصالحين لما فيه من اليقين أن العبد ما أصابه لم يكن ليخطئه ولا يعدو شيء وقته وهو من كمال التوكل على الله سبحانه. إكمال المعلم (7/100).

(8)التمهيد (5/264)، الفتح (10/256)، فيض القدير (5/86)، شرح الزرقاني (4/418).

(9)فيض القدير (الصفحة السابقة) .

(10)زاد المعاد (4/ 188).

(11)إكمال المعلم (7/100)، التمهيد (5/279)، المنهاج (14/403)، قال العيني في عمدة القاري (20/24) النفث: إخراج ريح من الفم مع شيء من الريق .

(12) رواه الحميدي في مسنده (1/114 ح233). وهو صحيح .

(13)إكمال المعلم (7/101)، المنهاج (14/403)، فتح الباري (10/242)، عمدة القاري (21/262)، الديباج (5/212) .

(14)نقلته مختصرًا من زاد المعاد (4/181- 182) .

(15)شرح ابن بطال (9/433)، إكمال المعلم (7/101)، عمدة القاري (21/262).

(16)عون المعبود (10/274)، تحفة الأحوذي (10/8) .

(17)مجلة البحوث الإسلامية (12/ 209) بحث بعنوان : قواعد في أدلة الأسماء والصفات للشيخ محمد بن عثيمين –رحمه الله- .

  فتح الباري (10/254)، عون المعبود (10/273)، تحفة الأحوذي (10/8).

(18)سورة الشعراء، الآية: 80 .

(19)كتاب صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة، (ص180).

 

 

 

 

التعليقات  

#1 حدیث: ”اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دےکہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے۔“Carmen ١٦ ربيع الثاني ١٤٣٨هـ
http://tinyurl.com/gn3ccfm Amanda Rawles
http://tinyurl.com/hcovpo2 berita terkini Mariah Carey

http://tinyurl.com/hjcrkrd Amanda Rawles
http://tinyurl.com/hew84tv kabar terbaru Britney Spears
Video Kapanlagi: http://tinyurl.com/gs84jcg

Feel free to visit my webpage ... Kapanlagi.com: http://tinyurl.com/zaa9tyq
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث