مدخل(تمہید)

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد وعلى آله وصحبه ومن تبعه بإحسان إلى يوم الدين،  وبعد:

ہر قسم کی تعریف لائق سزاوار ہے اس اللہ کے لئے جو سارے جہان کا پروردگار ہے، اور درود وسلام کے نذرانے پیش ہوں نبیوں ورسولوں کے خاتم ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ان کے خاندان اور ساتھیوں پر اور قیامت تک ان کی سچی اتباع وپیروی کرنے والوں پر۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

قوموں اور تہذیبوں کی پوری تاریخ میں عورت کی نہ کوئی شناخت تھی نہ کوئی حیثیت، اور نہ ہی اسے کسی قسم کی کوئی آزادی حاصل تھی، اور نہ ہی اسکی کوئی قابل ذکرقدروشان تھی۔

بلکہ ۔عہد رسالت کو چھوڑ کر۔ اپنی تمام حالتوں میں مختلف قسم کے ظلم وزیادتی اور ذلت وبدبختی سے دوچار تھی، جسے گمراہ خواہشات اور فاسد عقیدوں نے اپنا رکھا تھا۔

لیکن جب جزیرہ نماعرب میں ابدی رسالت کی کرنیں پھوٹیں،اورمحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنی آیتوں کی مسلسل بارش ہوئی تو عورت اس دین عظیم کے ذریعہ لوگوں میں سب سے سعادت مند ہوگئی جس نے اس سے جاہلیت کے بوجھ اور گمراہ رسم ورواج کی بیڑیوں کو اتار پھینکا،اور غیراللہ کی عبودیت وغلامی کو کمزورقراردیا۔

خلیفہ دوم عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 ‘‘اللہ کی قسم! ہم زمانہ جاہلیت میں عورت کو کچھ بھی نہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے ان کے سلسلے میں جو چاہا نازل فرمایا اوران کے لئے جو چاہا تقسیم فرمایا’’۔

(متفق عليه بهذا اللفظ، رواه البخاري (421ح 4913). و مسلم (930 ح 1479) .

چنانچہ عورت کو وافر مقدار میں اصل انسانی تکریم سے نوازا گیا، اور اسے بہترین خلقت دی گئی،اور بہت ساری مخلوق پر فوقیت عطاکی گئی، جیسا کہ باری سبحانہ وتعالیٰ نے آسمان   سے خود ارشاد فرمایا  ہے:

 (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً) (سورة الإسراء: 70).

‘‘یقیناً ہم نے اود آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی’’۔

ابن سعدی رحمہ اللہ  اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

‘‘یہ رب العالمین کا اولاد آدم پر عظیم کرم واحسان ہے جسکا اندازہ ناممکن ہے، اس نے بنی آدم  کو تمام قسم کے اکرام  سے نواز ا ہے، اس نے انہیں علم وعقل دیا، ان کی طرف رسولوں کو مبعوث فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں،ان میں سے اولیاء وبزرگ بنائے،اور ان پر اپنی ظاہری وباطنی نعمت عطافرمائی’’۔

يقيناً اسلام نے عورت کو پاکیزہ زندگی کا حق عطا کیا ہے، اور اسے عبادت  ،علم اور شرعی تکلیف سے شرف بخشی ہے جس نے اسکی فطرت کی حفاظت فرمائی ہے، اور اسکے عقیدہ کی حمایت کی ہے، اسکے اخلاق کو پاک کیا ہے، اسکی فکر کو روشنی عطا کی ہے جیسا کہ اس کے لئے اخروی بدلہ کا وعدہ فرمایا ہے۔

ارشاد باری ہے:

(مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ) (سورة النحل: 97)

‘‘جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے’’۔

اور اس عظیم دین  نےاسکے تمام مالی وسماجی حقوق کی ضمانت لی  ہے، اور اس میں سب سے مقدّم   وہ مکرر کردہ وصیت ہے جس کی کوئی نظیر نہیں، جیسے ماں کے ساتھ نیکی وبرتاؤ کرنا،اور اسکے ساتھ صلہ رحمی کی تاکید کرنا اور اسکے ساتھ باپ سے کئی گناہ  احسان وبھلائی  اور نیک برتاؤ وسلوک کرنا ۔

اور ایمان کے زیر سایہ عورت اپنے مکمل زوجیت کے حق سے لطف اندوز ہوئی اور اس کی زندگی میں رحمت ومحبت اور جود وسخا کی کرنیں پھوٹیں،اور اسے حبیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی سب سے بہترین خزانہ قراردیا جس کی کامیابی وحصول کیلئے تگ ودو کی جاتی ہے:

« الدُّنيا متاعٌ وخيرُ متاعِ الدنيا المرأةُ الصالحةُ » (5) .

‘‘دنیا ساری کی ساری پو نجی ہے اور اور دنیا کی سب سے بہترین پونجی نیک بیوی ہے’’۔

اور بھلائی وتکریم کے ہاتھ برابر عورت کو علم کے اس شرف سے آراستہ کرنے کیلئے گامزن رہے جو دین کا اساس ہے اور اس سرچشمہ سے سیراب کرنے کیلئے جس سے دین کے احکام وآداب اورشرائع حاصل کئے جاتے ہیں ۔

چنانچہ عورت اسکی طلب ومعرفت کیلئے اس عام الہی حکم کی بنا پر آمادہ ہوئی جس کے ذریعہ رسالت کا آغاز ہوا اور جس کے ذریعہ قرآن کریم کا نزول ہوا۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) (6)

‘‘اے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنے  اس رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا’’۔

اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو  اپنی لڑکیوں کی تعلیم پر اور انہیں اچھے اخلاق سے آراستہ کرنے کی ترغیب دی ہے اور ان کے لئے اس پر دوگنا اجروثواب کی بشارت دی ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب (صحیح بخاری) میں ابوبردہ کے واسطے سے انکے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

‘‘جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے’’۔...»الحديث (7) .

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاپنے اس قول میں امہات المومنین کو مخاطب کرکے لوگوں تک علم کی نشروتبلیغ کرنے کے ذریعے عورت کو زینت عطا کی ہے:

(وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفاً خَبِيراً) (8) .

اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ جو کچھ ان کے گھروں میں اللہ کی کتاب کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اسے لوگوں کو بتائیں،اور جو کچھ حکمت دکھائی جاتی ہیں،اوریہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کردہ قولی وفعلی سنت ہیں،یہاں تک کہ یہ لوگوں تک پہنچا دی جائیں تاکہ وہ اسکے مطابق عمل کریں اور اسکی اقتدا کریں۔(9).

اور امہات المومنین رضی اللہ عنہن نے اس حکم پر لبیک کہا ،اور عائشہ رضی اللہ عنہا  کا دعوت وتبلیغ میں سب سے کافی حصہ رہا کیونکہ اُنہیں امہات المومنین میں سب سے زیادہ نزول وحی کا شرف حاصل رہا، اور حدیث شریف کی سب سے زیادہ جانکاری رکھنے والی اور روایت کرنے والی تھی،انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ۲۲۱۰ حدیثیں روایت کی ہیں۔

اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزار روایتیں کرنے والے صرف چار لوگ ہیں:

۱۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

۲۔عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما

۳۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ

۴۔ عائشہ رضی اللہ عنہا(10) .

اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی علم وروایت اور فقہ کی شہادت وگواہی صحابہ کرام اور بڑے تابعین نے دی ہے، چنانچہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ‘‘کہ جب بھی ہم اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حدیث مشکل ہوتا تو ہم عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے تھے اور اسکا جواب پاتے تھے’’۔(11)

اور عطاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ تھیں، اور لوگوں میں رائے کے اعتبار سے سب سے بہترین تھیں’’۔(12) .

مسروق تابعی فرماتے ہیں: بخدا ہم نے دیکھا کہ کبار صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرائض کے بارے میں سوال کرتے تھے’’۔(13).

یہ علمی تفوّق جسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ودیگر امہات المومنین نے نبوی گھرانے میں حاصل کی تھیں،اور یکتائے روز گار آدمیوں کے ہم پلہ وہم مثل تھیں،یہ علمی شغف،اور اسکی ذمہ داری کے احساس کا نتیجہ تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی وحکمت کی سماع پر تمکنت وقدرت اور اسکی مدارست واستفتا اور مراجعہ کروانےکی وجہ سے تھا۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ: عائشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ جب کوئی چیز آپ سے سنتی اور اسے نہ جان پاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مراجعہ کرکے اسکی جانکاری حاصل کرتی تھیں،اور(ایک مرتبہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا حساب ہوگا اُسے عذاب دیا جائے گا’’  کہتے کہ عائشہ نے فرمایا: تو میں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

( فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً) (14) . عائشہ نے کہا کہ آپ نے فرمایا: إنَّما ذلك العَرْضُ، ولكنْ من نُوقشَ الحسابَ يَهْلِك » (15) .

کہ یہ تو عرض (پیشی) ہوگی، لیکن جسکا حساب میں مناقشہ ہوگا وہ ہلاک ہوجائے گا’’۔

اور بسا اوقات انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بڑے مسائل کے سلسلے میں جانکاری حاصل کی جسے مردوں نے نہیں جانا چنانچہ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہا سے ہی اُس کی جانکاری حاصل کی۔

مسروق سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تکیہ لگائے ہوئے بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا کہ اے ابوعائشہ! (یہ مسروق کی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ جو کوئی ان کا قائل ہو، اس نے اللہ تعالیٰ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ میں نے کہا کہ وہ تین باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ (ایک یہ ہے کہ) جو کوئی سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ مسروق نے کہا کہ میں تکیہ لگائے ہوئے تھا، یہ سن کر میں بیٹھ گیا اور کہا کہ اے ام المؤمنین! ذرا مجھے بات کرنے دو اور جلدی مت کرو۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اس نے اس کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے“(سورۃ: التکویر: 23) ”اسے ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“(النجم: 13)۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیتوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان آیتوں سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ میں نے ان کو ان کی اصلی صورت پر نہیں دیکھا سوا دو بار کے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور ان کے جسم کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک کے فاصلہ کو بھر دیا تھا۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس (اللہ) کو تو کسی کی نگاہ نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو دیکھ سکتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے“(سورۃ: الانعام: 103) کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے بیشک وہ برتر ہے حکمت والا ہے“(سورۃ: الشوریٰ: 51)؟ (دوسری یہ ہے کہ) جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا، تو اس نے (بھی) اللہ تعالیٰ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، پہنچا دیجئیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی“(المائدہ: 67)۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اور جو کوئی کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل ہونے والی بات جانتے تھے (یعنی آئندہ کا حال، غیب کی بات) تو اس نے (بھی) اللہ تعالیٰ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ ”(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) کہہ دیجئیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب کی بات نہیں جانتا۔ اور داؤد نے اتنا زیادہ کیا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (یعنی قرآن) میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے جو کہ ان پر نازل کیا گیا ہے، (یعنی قرآن) تو اس آیت کو چھپاتے کہ (یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا، جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھا، جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو اس سے ڈرے“ (سورۃ: الاحزاب: 37)۔ (18).

اپنے علم میں رسوخ مہارت رکھنے کی وجہ سے بہت زیادہ فتوی دینے والی،حاضر جواب، اور نظر واجتہاد پر قادر تھیں،‘‘اور یہ ان سات لوگوں میں سے ایک تھیں جن سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فتوے کثرت سے مروی ہیں، اور جن سے ۱۳۳ صحابہ وصحابیات نے فتوی محفوظ کیا ہے۔(19).

یہ بہترین سوالات اور نفع بخش گفتگوعلم کے ان عطیات میں سے ایک ہیں جن کی طرف رب العالمین نے پکارا ہے:( َاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ )(20)

اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر(علم) سے پوچھ لو

ہاں، یہ اور اس جیسی آیت کی صدائے بازگشت جب سلف رضی اللہ عنہن کی بیویوں تک پہنچی تو انہوں نے علمی روشنی اور دینی فقہ حاصل کرنے کیلئے سبقت کی۔

کیا تم  نہیں دیکھتے کہ اسما ء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس صحابہ کرام گروہ در گروہ کے شکل میں آتے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بارے میں سوال کرتے: « لكم أصحاب السفينة هجرتان ولأصحابي هجرة واحدة »، تم کشتی والے اصحاب کیلئے دوہجرتیں ہیں اور میرے اصحاب کیلئے ایک ہجرت ہے’’۔

اسلام کے بعد انہیں کسی چیز سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس بات سے ہوئی،اور وہ بذاتہ اس وقت انکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فتوے دینے اور اس عظیم شہادت کے استخراج کرنے کی وجہ سے ان کے احسان مند ہوتے تھے۔اور صحابیات میں اسکی مثالیں بہت ہیں۔

اور جس قدر عورت کو دین کی گہری محبت اور اسکے احکام وشرعی آداب کے اتقان  پر اصرار حاصل ہوگا تو علم کی طلب وجستجو کی طرف اقدام بھی لذت وشوق سے ہوگا، اور اس کے بارے میں سوال عنایت سے ہوگا اور لوگوں تک اسکو عام کرنا نرمی سے ہوگا۔ اور اس کی واضح دلیل انصار کی عورتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر کی طرف دینی تفقہ اور فتوی کی طلب کیلئے ٹوٹ پڑنا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں،کہ انہیں دینی سمجھ حاصل کرنے سے حیاء مانع نہیں آتی ’’۔(21) .

یہ شرعی فتاوے اورعلمی مراجعے تعلیم وہدایت اور دعوت کے سلسلے میں لمبی نبوی جہد وکاوش کے شاندار نمونے اور پکے پھل ہیں۔

یہ سوال کرنے والیاں (صحابیات) رسول کریم صلی اللہ علیہ کی ہاتھوں کی پروردہ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے علم کی محبت ،اسکے تحصیل میں جدوجہد اور اسکے آداب کو اپنانے کی سیرابی  حاصل کیں ہیں۔

اور سنت کے دواوین ودفاتر نے اس میدان( طلب،گفتگو،سوال) میں ان (صحابیات)کی کتنے شاندار کارنامے درج کر رکھے ہیں۔ اور میں اس وقت آنے والے صفحات میں ان کے پھلوں کو چُننے اوراس کی روشنی سے مدد حاصل کرنے کی سعادت وشرف حاصل کررہا ہوں۔

حواشی:

( 1 )     متفق عليه بهذا اللفظ، رواه البخاري (421ح 4913). و مسلم (930 ح 1479) .

( 2 )     سورة الإسراء، الآية: 70.

( 3 )     تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان (ص414).

(  4 )     سورة النحل، الآية: 97.

(  5 )     رواه مسلم (926ح 1469).

( 6 )     سورة العلق، الآية: 1.

( 7 )     رواه البخاري (440 ح 5083) .

( 8  )     سورة الأحزاب، من الآية: 34.

( 9 )     تفسير الطبري (22/9)، تفسير ابن كثير (3/487)، أحكام القرآن لابن العربي (3/1538)، تفسير ابن سعدي (ص612).

(10)   الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة (ص59).، وينظر للتوسع: المرأة الداعية في العهد النبوي الشريف (ص104).

( 11 )   رواه الترمذي (2049 ح 3883) وقال : هذا حديث حسن صحيح.

( 12 )   الاستيعاب (4/1883)، سير أعلام النبلاء (2/185).

(13)   صفوة الصفوة (2/32) .

( 14 )   سورة الانشقاق، الآية: 8.

( 15 )   متفق عليه، رواه البخاري (11ح 103) ، ورواه مسلم في (1176ح 2876).

( 16)   سورة التكوير، الآية: 23 .

(17)   سورة النجم، الآية: 13 .

( 18)   متفق عليه، رواه مسلم (708 ح177) ورواه البخاري (415 ح 4855) بنحوه.

( 19)   أعلام الموقعين (1/12)، وينظر : المنهاج النبوي في دعوة الشباب (ص415) .

( 20 )  سورة النحل، من الآية: 43.

(21)   رواه مسلم (732 ح 323).

 

 

 

 

 

 

 

 

 

التعليقات  

#1 رد: مدخل(تمہید)أبو مسعود ١٦ محرّم ١٤٣٧هـ
جزاكم الله خيرا
بهت بهت شكريه
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث