بسم اللہ الرحمن الرحیم

فضیلۃ الشیخ ابو بکر جابر جزائری ۔حفظہ اللہـکے ساتھ ایک انٹرویو

(بتاریخ ۱۵/11/1429ھ)

فضیلۃ الشیخ  ابو بکر جابر جزائری   ۔حفظہ اللہ۔ ہم آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

سوال  نمبر۱ :  سب سے پہلے سنت ویب سائٹ کے سربراہان  آپ کی شخصیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں : نشو ونما، طلب علم کی ابتدا، شیوخ، دعوتی سفرنامہ، علمی تالیفات؟

جواب نمبر۱: میرا نام ابوبکر بن موسیٰ بن عبد القادر بن جابر ہے۔

تاریخ پیدائش وجائے ولادت: جزائر کے صحرا میں لیوہ  (بنو ہلال کے دیار کی طرف منسوب ) نامی گاؤں میں  سن 1342ھ میں پیدا ہوا۔

اساتذہ : میرے مُلک کے میرے اساتذہ میں سے : شیخ نعیم نعیمی، شیخ عیسیٰ معتوقی، اورشیخ طیب العقبی ہیں   ، اور شیخ طیب العقبی میرے ان اساتذہ میں سے ہیں جن کی میں نے ملازمت کی ہے اور ان سے کافی متاثر ہوا ہوں۔

میں  مدینہ منورہ کی طرف سن 1372ھ میں   ہجرت کیا، اور وہاں جاکر  میں شیخ عمر بری، شیخ محمد حافظ، اور شیخ محمد خیال وغیرہ  سے  علم حاصل کیا۔

تدریسی خدمات: میں  نے سن 1374ھ  میں مسجد نبوی شریف   کے اندر تدریس  دینا شروع کیا۔ اور سن 1379ھ میں ریاض  کے شرعی کالج سے بی اے  کی ڈگری حاصل کی۔

میں وزارت معارف  میں بطور مدرّس کام کیا، پھر اسلامک یونیورسٹی آف مدینہ منورہ  میں تدریس کے لئے منتقل ہوگیا، اور وہیں برابر ریٹائر منٹ ہونے تک تدریسی  خدمات انجام دیتا  رہا۔

میں  نے دعوت واصلاح کے میدان میں کام کیا، چنانچہ  میں نے اسلامک یونیورسٹی آف مدینہ کو کے کھولنے ، رابطہ عالم اسلامی کے قیام، اور قرآن کریم کے ریڈیو  (اسٹیشن) کے ایجاد کرنے کی دعوت دی۔

تالیفات: میری اہم تالیفات میں سے : ۱۔ایسر التفاسیر لکلام علي القدیر، ۲۔ عقیدۃ المؤمن، ۳۔ منہاج المسلم ،۴۔ ہذا الحبیب ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ یا محب،۵۔ نداءات الرحمن لأھل الایمان،.... وغیرہ ہیں۔

(آپ حفظہ اللہ کے تقریبا سوسے زیادہ رسالے ہیں جنہیں کئی جلدوں میں جمع کیا گیا ہے۔اللہ انہیں ان کے نیک میزان میں سے بنائے۔ اورشیخ  برابر مسجد نبوی شریف میں اپنا  درس دیتے رہتے ہیں، اللہ ان کی عمر میں برکت عطا کرے اور ان کے ذریعہ نفع دے۔)

سوال نمبر۲۔توحید کا مسئلہ دین کے اہم مسائل میں سے ہے، اسی توحید کی وجہ سے رسولوں  کو بھیجا گیا،  اور کتابوں کا نزول ہوا،  چنانچہ یہ ربّانی عقیدہ ہے جس میں کوئی غموض والتباس نہیں ہے، جس میں جسد وروح کے مقاصد  مجتمع ہیں، اس کے ذریعہ  اللہ تعالیٰ نے منتشر دلوں  اور متفرق خواہشات کو یکجا کیا ہے،  فضیلۃ الشیخ ہم آپ سے امت کی زندگی میں عقیدہ کی اہمیت کے بارے میں کچھ وضاحت  چاہتے ہیں؟

جواب نمبر۲۔ بے شک عقیدہ  مسلمان کی زندگی میں ایمان واعتقاد وتطبیق کا  نام ہے، اور یہ محض دعوی نہیں ہے، اس لئے اس کے ساتھ تفاعل ضروری ہے، اور اس زندگی میں اسی کی وجہ سے جینا ہے۔

بے شک اللہ رب العّزت نے اپنی عبادت وپرستش  کے لئے ہی بندوں کو پیدا فرمایا ہے، اس لئے عقیدہ سے خالی ہونے  پر انسا ن کی کوئی قیمت نہیں ، پس اگر انسان عقیدہ سے خالی ہوا  تو وہ ہلاک ہوگیا۔

سوال نمبر ۳ :بے شک دل میں توحید کی نمووبڑھوتری،اللہ تعالی ٰ کے قدر کی تعظیم اور ایمان کے  ثمرات وفوائد کے احساس  کے چند اسباب ہیں، فضیلۃ الشیخ  ہم آپ سے اس کی وضاحت چاہتے ہیں؟۔

جواب نمبر ۳۔ بے شک وہ اسباب جو انسان کو اس عقیدہ کو مضبوطی سے پکڑنے، اس پر ثابت قدمی اختیار کرنے، اسکی چاشنی ولذّت کو محسوس کرنے میں معاون ومدگار ثابت ہوتے ہیں وہ کتاب اللہ وسنّت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مضبوط رشتہ اور ان کے ساتھ زندگی گزارنا ہے، اور دینی تعلیمات ، منہج اور سلوک کا حاصل کرنا، اور ان دونوں مصادر  اور ان کے اندر جو کچھ آیا ہے اس کے ذریعہ مخلوق کے ساتھ تعامل کرنا ہے۔

سوال نمبر۴:بے شک  اللہ  کی توحید اسماء وصفات اس کی توحید ذات کی طرح ہے، جس طرح ہم اس کی ذات کو ثابت کرتے ہیں اسی طرح ہم اس کی صفات کو ثابت کرتے ہیں، کیونکہ صفات  ذات سے جدا نہیں ہوسکتیں۔

اورعلمائے کلام  اللہ کے نام اور اس کی صفات کے ساتھ تعامل میں کافی اضطراب میں رہے ہیں اور کافی تناقض واختلاف  کا شکار ہوئے ہیں ۔ لہذا اس مسئلہ کے بارے میں درست منہج کیا ہے؟۔

جواب نمبر۴: بے شک اللہ کے ناموں اور صفات کے ساتھ تعامل میں  کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہی  اصل ضابط ہے،  چنانچہ اللہ  تعالیٰ نے اپنے لئے ناموں وصفات میں سے جو کچھ ثابت کیا ہے ہم اسے ثابت مانتے ہیں،اور جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنے رب کے بارے میں اسماء وصفات میں سے ثابت مانا ہے  ہم اسے بغیر تشبیہ وتعطیل، یا تاویل کے ثابت کرتے ہیں ، جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے شایان شان ہے، اللہ کے ناموں وصفات سے متعلق اس عقدی مسئلہ میں یہی درست منہج وطریقہ ہے۔

پس جس طرح ہم اس کے لئے ذات کو ثابت کرتے ہیں اسی طرح اس کے لئے صفات کو مانتے ہیں،  اور جہاں تک علم کلام اور فلاسفہ کا اس سلسلے میں منہج ہے تو وہ اس امت کے سلف صالحین کے بہترین طریقے سے کافی دور ہے، اور بے شک علم کلام نے کافی نقصان پہنچایا ہے، اور مسلمانوں پر ان کے عقیدے  اور اس کی  درستگی کو کو ملتبس کردیا ہے۔

سوال نمبر ۵: بے شک آپ نے کتاب اللہ کی تفسیر آسان عبارت اور واضح دلالت سے کی ہے، فضیلۃ الشیخ ہم آپ سے ویب سائٹ کے سربراہان کے لئے اس کتاب کے بارے میں آپ کے منہج کو جاننا چاہتے ہیں؟

جواب نمبر ۵: بے شک میں نے ایسر التفاسیر نامی کتاب میں سنت نبوی کی کتب صحاح پر اعتماد کیا ہے، جن کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی کتاب (قرآن مجید) کی  تفسیر فرمائی ہے، اسی طرح میں نے تفسیر کی ماثور کتابوں پر اعتماد کیا ہے جیسے طبری وغیرہ، اور اس کے بعد میں نے عام قارئین کے حساب سے اس کو (آسان) اسلوب میں ڈھالا ہے۔

سوال نمبر۶:بے شک شرعی نصوص کا غلط فہم  منحرف ممارسات تک پہنچاتا ہے، اور فرد ومجتمع پر برے نتائج  ڈالتا ہے، لہذا کتاب وسنت کی شرعی نصوص کے ساتھ تعامل  کرنے کے شرعی ضابطہ کیا ہے؟

جواب نمبر۶: میں طلبا سے کہتا ہوں، بلکہ ہر داعی سے کہتا ہوں: کہ کسی شخص کے لئے یہ کہنا روا نہیں کہ: اللہ نے فرمایا ہے، یا رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا جب تک کہ اس  کا علم نہ حاصل کرلے۔ اس لئے اللہ اور اس کے رسول پر  بغیر علم کے کوئی بات کہنا درست نہیں،  اسی طرح کتاب اللہ وسنت رسول اللہ میں جو کچھ آیا ہے اس کے بارے میں فہم سلف کی جانکاری حاصل کرنا  بھی ضروری ہے، کیونکہ صحابہ ،تابعین، وتبع تابعین یہ لوگ قرون مفضّلہ کے لوگوں میں سے ہیں، اور جن کا زمانہ قرآن کے نزول اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہے۔

سوال نمبر۷: بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اپنے قول (وإنک لعلی خُلُق عظیم) ‘‘بے شک آپ بلند اخلاق پر فائز ہیں) سے  تعریف کی ہے، اور اس  چیز پر دوست ودشمن سب شاہد  ہیں، لہذا اسلامی دعوت کی کامیابی اور اس کے مقاصد کے حصول میں حُسن خُلق کی کیا  اہمیت ہے؟

جواب نمبر ۷: میں تمام  طلبہ علم کو اسلامی آداب  کو لازم پکڑنے کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ ادب یہ مسلمان کی اخلاق ہے، اسے اس  سے  جُدا نہیں ہونا چاہیے، اس لئے کہ اپنے اخلاق وآداب کے ذریعہ  ہی اپنی رسالت کے اٹھانے، اور اللہ کی شریعت کی تبلیغ کرنے  میں  توفیق (الہی) سے ہمکنار ہوتا ہے، اور اخلاق وآداب کے بغیر لوگ اس کی دعوت کو ہرگز قبول  نہیں کریں گے۔

سوال نمبر۸: بعض اسلامی دنیا کے نوجوان۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔ اشخاص کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے میں نبوی منہج سے ہٹے ہوئے ہیں، اور اپنے منہج کے مخالف کسی بھی بات پر(لوگوں کو)   فاسق، بدعتی اور کافر قرار دینے تک پہنچ جاتے ہیں۔ تو آپ ان نوجوانوں کو کیا نصیحت پیش کرتے ہیں؟

جواب نمبر۸: میں ان نوجوانوں سے یہی کہتا ہوں کہ اللہ سے ڈریں، اور کسی پر بھی علم کے بغیر کوئی حکم نہ لگائیں، اور اس طرح کے  احکام بہتر یہی  ہے کہ صرف علماء کے ذریعہ ہی صادر ہوں، اور ان شرعی  تنظیموں وبورڈوں کے ذریعہ انجام پائیں جو شرعی ضوابط کے مطابق کام کرتی ہیں،  اور اگر یہ  لوگ کتاب وسنت کو سمجھتے اور اس سلسلے میں (شرعی) ضوابط کو جانتے تو ان بڑی غلطیوں میں نہ واقع ہوتے ۔

اس انٹرویو کو سلیمان الحرش  ۔حفظہ اللہ۔ نے جاری کیا ہے۔

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث