بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

(وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے)

 

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (صدقات کے مستحق صرف وه غربا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے وا ہے۔) (1)۔

 

اس آیتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان خودداروں کی تعریف کی ہے جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتے، اور جو لوگ پیچھے پڑ کر لوگوں سے چمٹ کر سوال کرتے ہیں ان سے عاجزی و انکساری کی نفی کی ہے، اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو متعففین (سوال کرنے سے بچنے والوں) کے ساتھ احسان و اچھا سلوک اور انہیں سوال کرنے سے بے نیاز کرنے کی ترغیب دی ہے (2)۔

 

جو لوگ بہت زیادہ سوال کرتے ہیں نبی ﷺ نے انہیں وعید سنائی ہے اور فرمایا ہے: (آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہو گا) (3)۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن نہایت ذلیل و خوار ہو کر آئیگا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا کوئی چہرہ نہیں ہوگا، یا حقیقۃً ایسا ہوگا کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے چہرے پر سوائے ہڈی کے کچھ بھی گوشت نہ ہوگا سزا کے طور پر سوال و گداگری کے گناہ کی وجہ سے اس کے چہرے پر یہ علامت و نشانی ہوگی، اور ایسا اس شخص کے ساتھ ہوگا جو لوگوں سے ضروت کے بغیر بکثرت سوال کیا کرتا تھا(4) ۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص لوگوں سے ان کے اموال اس لیے مانگتا ہے کہ اپنے مال میں اضافہ کرے تو وہ آگ کا انگارہ مانگتا ہے، اب اس کی مرضی ہے کم مانگے یا زیادہ مانگے) (۵)۔  یہ تہدیدی حکم ہے یا مانگنے والے کے انجام کو بیان کرنا مقصود ہے،اور اسکا مفہوم  یہ ہے کہ وہ (بغیرضرورت)کم وزیادہ سوال کرنے پر سزاکا مستحق قرارپائے گا (6)۔

 

لیکن اگر سوال و طلب کے بغیر کوئی کسی کو کچھ عطا کر دے تو یہ اللہ کی رزق ہے جسے اللہ نے اسے عطا فرمایا ہے، یہی مفہوم ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے مجموعۂ احادیث سے سمجھا ہے، قعقاع بن حکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: عبد العزیز بن مروان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف لکھ بھیجا کہ آپ اپنی ضرورت ہمیں لکھ بھیجئے، کہتے ہیں کہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’اوپر والا ہاتھ  (دینے والا)نیچے والے ہاتھ(لینے والے)سے بہتر ہے اور(خرچ کرنے کی) ابتدا ان لوگوں سے کرجن کی کفالت تیرےذمے ہے۔‘‘ اور میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور میں آپ کے اس رزق کا جسے اللہ نے آپ کو دے رکھا ہے خواہش مند نہیں ہوں (7) ۔

 

حواشی:

 


 

(1)    سورة البقرة آية 273 .

 

(2)    دیکھئے: تفسير الطبري 3/97-100 .

 

(3)    صحیح بخاری، كتاب الزكاة ،باب ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة... ح 1405-2/536 ، اور صحيح مسلم كتاب الزكاة باب كراهة المسألة للناس ح 1040-2/720 اورالفاظ مسلم کے ہیں۔

 

(4)    دیکھئے: شرح النووي 7/130 .

 

(5)    تخریج: مسلم باب كراهة المسألة للناس ح 1041-2/720 .

 

(6)    دیکھئے: الديباج على مسلم 3/120 .

 

(7)    تخریج: احمد ح 4474-2/40 شعيب ارناؤوط کہتے ہیں : حديث صحيح ہے اور یہ حسن  سندہے۔

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث