بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

 صرف اور صرف مشغلہ(کام)

 

 

کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ایک آدمی کا گزر نبی ﷺ پر ہوا،  جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے اس کی عجلت و مستعدی کو دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کاش کہ ایسااللہ کی راہ میں ہوتا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کی وجہ سے نکلنے میں جلدی کر رہا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ اپنے بڑے بوڑھے والدین کی وجہ سے نکلنے میں جلدی کر رہا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ اپنی عفت و خودداری کی وجہ سے ایسا کر رہا تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ دکھاوے اور تکبر و فخر کی وجہ سے نکلا ہے تو وہ شیطان کی راہ میں ہے) (1)۔ یہاں  نبی ﷺ نے  خود کی پاکیزگی و خودداری کے لیے عمل اورکام کرنے کو اللہ کی راہ میں جہاد کے مرتبہ میں رکھا ہے، گرچہ جہاد کے کئی ایک مراتب و درجات ہیں۔

 

نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ کی کمائی کو  سب سے اچھا مال قرار دیا ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی ، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے (روزی) کھایا کرتے تھے۔ ‘‘ (2)

 

[بطور خاص داؤد علیہ السلام کا ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے جب کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ وہ زمین میں خلیفہ (یعنی صاحبِ حکومت) تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ انہوں نے افضل طریقہ سے کماکر کھانا مناسب سمجھا، اسی لیے نبی ﷺ نے بطورِ حجت پہلے نبیوں کی بنسبت داؤد علیہ السلام کا قصہ یہاں بیان فرمایااس لیے کہ بہتر کمائی ہاتھ کی کمائی ہے](۳)۔

 

نبی ﷺ نے کام کرنے پر ابھارا ہے خواہ وہ کام کیسا بھی ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے ، یہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے بہترہے ،پس چاہے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے‘‘۔ (4)

 

رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کو معیشت کی تدبیر سکھاتے تھے کہ انہیں کسی سے سوال کرنے کی حاجت و ضرورت نہ رہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی ﷺ  کے پاس مانگنے کے لیے آیا ، آپ نے اس سے پوچھا :’’ کیا تمہارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہے ؟‘‘، وہ بولا : کیوں نہیں ، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں، اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’ان دونوں کو میرے پاس لے آؤ‘‘ ، چنانچہ وہ ان دونوں چیزوں کو آپ کے پاس لے آیا ، رسول اللہ ﷺ  نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا : ’’ان دونوں کو کون خریدے گا ؟‘‘ ، ایک آدمی بولا : ان دونوں کو میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں ، آپ نے پوچھا : ’’ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے ؟ ‘‘ ، دو بار یا تین بار  پوچھا، تو ایک شخص بولا : میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں ، آپ نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے دو درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا : (ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ) ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں لکڑی کا ایک دستہ لگایا، اور فرمایا : ’’جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں‘‘ ، چنانچہ وہ شخص گیا ، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا ، پھر آیا جب کہ وہ دس درہم کما چکا تھا ، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ ، رسول اللہ نے فرمایا : ’’یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو ،بے شک مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو ، خاک میں لوٹتا ہو ، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو ، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے) (5)۔

 

 

 

 حواشی:

 


 

(1)     اس کی تخریج امام  طبرانی نے المعجم الكبير ح 282-19/129 میں کی ہے، اورامام عراقی نے تخريج أحاديث الإحياء ح1455-2/1018  میں فرماتے ہیں: اس حدیث کی روایت طبرانی نے کعب بن عجرہ سے ضعیف سند کے ساتھ اپنے تینوں معاجم میں کی ہے۔ اورہیثمی مجمع الزوائد (۴/۳۲۵) میں کہتے ہیں: معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

 

(2)     تخریج  :صحیح بخاری، باب كسب الرجل ..ح 1966- 2/730 .

 

(3)     فتح الباري 4/306 .

 

(4)     تخریج  :صحیح بخاری ،باب كسب الرجل وعمله بيده ح 1968-2/730 .

 

(5)    تخریج: أبو داود باب ما تجوز فيه المسألة ح 1641-2/120 ، وابن ماجه باب بيع المزايدة ح 2198-2/740 ، وأحمد ح 12155-3/114 أرناؤوط کہتے ہیں: ابو بکر الحنفی کی حالت مجہول ہونے کی وجہ سے اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اور حدیث کے آخری ٹکڑے (مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) کے لیے بہت سی شواہد ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح ہے۔

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث