عفت وپاکدامنی

 

 

عفت کا مفہوم : بری عادات و خصائل   اور   نا پسندیدہ  اقوال و افعال  سے  بچناہے۔(1) اس سے مقصود عزت  وآبرو اور مال   کے اندر(ناپسندیدہ قول وفعل سے بچنا) ہوتاہے۔ليكن مطلق طور پر عفت  سے مراد پہلی قسم  (عزت  وآبرو)  ہوتی  ہے۔

 

  اور اگر آپ  کسی معاشرہ  میں اس خوبصورت خصلت  کی  شان وشوکت   کا مشاہدہ  کرنا چاہتے ہیں تو  اس معاشرہ  میں غوروفکر کریں  جس کی  تربیت    نبی کریم ﷺ نے  کی ، یہ وہ معاشرہ ہے جس سے طہارت اور پاکدامنی  ٹپکتى ہے ،ہمارے پیغمبر محمد ﷺ سے شروع  ہوکراس    جلیل القدرصحابی تك  کہ جب ان کا قدم  پھسل گیا تو  معصیت کی آگ انھیں  جلانے لگی، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور   عرض کیا:  " مجھے پاک وصاف کردیجیے۔"(2)،اور اسی طرح وہ عظیم صحابیہ   جن کا شیطان كے  بہکاوے میں آکر قدم  پھسل گیا ،  تو وہ  بابارنبی کریم ﷺ کے پاس   آتى ہیں اورگناہ کی  تپش   سے چلاتی ہیں کہ " مجھے پاک وصاف کردیجیے، مجھے پاک وصاف کردیجیے"(3)،  تو آ پ  ان  کو مہلت دے دیتے یہاں تک کہ وہ اپنے  حمل  کو   جن دیں،  پھر  اپنے  بچے کی  مدت رضاعت پوری کریں،   پھر اس   کا دودھ چھڑائیں، چنانچہ وہ اس کے بعد آپ ﷺ کے پاس  حال میں آتی ہیں کہ    ان  کےبچے کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا  ہوتا ہے تاکہ آپ ان کو واپس نہ کردیں ۔

 

یہ وہ طہارت اور عفت و پاکدامنی ہے جس  کی حفاظت  کی خاطرہونے والی موت کو نبی کریم ﷺ شہادت اور اس کے دفاع کو  جہاد  قرار دیا  ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  "  جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا جان کی حفاظت  یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے ،  وہ شہید ہے ۔"(4)

 

عزت و آبرو کی حفاظت  کرنا اور   اس پر  ظلم و زیادتی کرنے سے منع کرنا ، یہ نبی کریم ﷺ کی اپنی زندگی کے آخری  ایام کی وصیت ہے ،  جیسا کہ آ پ  نے  اپنے الوداعی خطبہ میں ارشاد فرمایا : " بلا  شبہ تمہارا خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں سب تم پر حرام ہیں جیسے کہ تمہارے آج کےاس دن کی تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے ۔"(5)

 

  اور اسی وجہ سے اسلام  نے بہت سارے امور کو مشروع  کیا ہے، اور کچھ دیگر چیزوں کو حرام  قرار دیا ہے، اورعنقریب ہم ان تشریعات کا  آنے والے حلقات میں اللہ تعالی کی توفیق سے جائزہ لیں گے۔

 

 ________________________________________

 

(۱) دیکھیں مدارج السالکین ۳/۳/۱، اور النہایۃ ۳/۲۶۴۔

 

(۲)صحابئی رسول ماعزبن مالک رضی اللہ عنہ کا قصہ ۔ جس کی تخریج امام مسلم  نے باب " من اعترف على نفسه بالزنا " میں حدیث نمبر ۱۶۹۵۔۳/۱۳۲۱، میں کیا ہے ۔

 

(۳) غامدی عورت رضی اللہ عنہا کا قصہ  جس کی اصل  صحیح مسلم میں ہے ،  اور اس کا پورا قصہ  مسند احمد ، حدیث نمبر ۲۲۹۹۹۔۵/۳۴۸ میں ہے ،  شعیب ارناؤوط نے صحیح کہا ہے ۔

 

(۴) اس حدیث  کی  تخریج امام داؤود نے باب" قتال اللصوص " میں  حدیث نمبر ۴۷۷۲۔۴/۲۴۶ میں کیا ہے، ترمذی، باب " فيمن قتل دون ماله فهو شهيد "، حدیث نمبر ۱۴۲۱۔۴/۳۰،  اور اس کو حسن صحیح کہا ہے، نسائی، باب " من قاتل دون أهله "، حدیث نمبر ۴۰۹۴۔۷/۱۲۶، اور احمد،حدیث نمبر ۱۶۵۲۔۱/ ۱۹۰،  اورشعیب ارناؤوط نے  کہا ہے کہ اس کی سندقوی ہے ۔

 

(۵) متفق علیہ، اس حدیث کی تخریج امام بخاری نے باب" قول النبي - صلى الله عليه وسلم - رب مبلغ أوعى من سامع "، حدیث نمبر ۶۷۔۱/ ۳۷ میں کیا ہے ، اور امام مسلم نے باب" حجة النبي - صلى الله عليه وسلم " میں حدیث نمبر ۱۲۱۸۔۲/ ۸۸۶ میں تخریج کیا ہے ۔

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث