اخلاق کے ارکان  (1ـ4 )

 

 

 

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’حسن خلق  چار ارکان پر قائم ہے، جن کے بغیر اس کے قیام کا تصور ہی  نہیں کیا جا سکتا ؛ صبر،  عفت (پاکدامنی)،  شجاعت اور عدل و انصاف۔‘‘ (1)

 

اور ابن مسکویہ کے نزدیک صبر کے بجائے حکمت كا ذكرہے۔(2)  

 

صبر:

 

صبر کا  لغوی معنی: روکناہے ۔ (3)

 

صبر کی اصلاحی تعریف:  نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری پر روکے ركهنا   تاکہ اس سے جدا نہ ہو سکے،  اور اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی  سے  روکے ركهنا  تاکہ اس  کے قریب  نہ جائے،  اور اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر  پر دل كو تهامے رکھنا تاکہ اس سے گھبرائے نہ اس پرناراضى ظاہر کرے۔(۴)

 

لھٰذا  صبر کے تین اقسام ہیں :

 

پہلی قسم: اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں بردای پر صبر کرنا: کیونکہ عبادات  اور ان کے ارکان  وغيره  کی ادائیگی  کرنے  اور ان پر برقرار رہنے اور مداومت برتنے کے لیے صبر کرنےکی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان میں سے کچھ عبادات اخراجات اور تھکاوٹ کی وجہ سے جسم پر بھاری ہوتی ہیں جیسےکہ حج، اور ان میں سے کچھ بخل اور کنجوسی کی وجہ سے  بھاری ہوتی ہیں  جیسے: زکوۃ اور صدقہ، اور  کچھ مداومت  برتنے کی مشقت اور اوقات  کی پابندی  کےسبب  سے بھاری ہوتی ہیں جیسے: نماز۔  اسی لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

 

(فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ)

 

" تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا" (۵) 

 

اور دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

 

(وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا)

 

"اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما  ره۔" (۶)۔

 

اصطبار کہتے ہیں کہ : صبر میں مبالغہ کرنا ،  یعنی بہت زیادہ صبر کرنا ۔

 

دوسری قسم:   اللہ تعالیٰ کی معصیت و نا فرمانی  سے صبر كرنا (باز رہنا)، یعنی  انسان اپنے نفس امارہ  ، شیطان  اور برے ساتھی سے مجاہدہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو  ان تمام چیزوں سے  روک لے ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

 

(إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي)

 

"بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والاہی ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کرے۔" (۷)

 

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک دوسرے سے آزماتا ہے،  ان میں سے ایک دوسرے کے لیے  معاصی (گناہ)کو مزین کرتا  اور خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے،  اور ایک دوسرے کو  شہوات نفس  کی طرف بلاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

(وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ)

 

"اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا۔ کیا تم صبر کرو گے؟"(۸)

 

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ  رقم طراز ہیں : " یعنی ہم نے تم میں سے  ایک کى  دوسرے  کے ذریعہ جانچ کی ہے اور ايك كو دوسرے کے ذریعہ  آزمايا ہے تاکہ ہم جان لیں  کہ کون اطاعت گزار ہے اور  کون  نافرمانى   کرتا ہے۔"(۹)

 

تیسری قسم:  اللہ تعالیٰ کی تكليف دہ تقديروں پر صبر کرنا،  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

((وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الأَمْوَالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ * أُوْلَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ))

 

’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے ۔جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ (۱۰)

 

تو یہ  آزمائشوں  کی چندقسمیں ہیں، جن میں صبرکرنے اور تحمل و برداشت سے کام لینے کی ضرورت  ہوتی ہے۔اور  انسان کو جب کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تواس كى چارحالتيں ہوتی ہیں:

 

پہلی حالت:  وہ اپنے دل میں ناراض ہو، یا  اپنی زبان سے یا  اپنے اعضاء وجوارح  سے ناراضی کا  اظہار کرے۔

 

دل سے ناراض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دل میں اپنے رب کے بارے میں کچھ ناراضی  ہو۔

 

 زبان سےناراضی کا مطلب یہ ہے کہ وہ   زبان سے ایسے کلمات ادا کرے جواس کی  ناراضی اور اللہ تعالیٰ کے  قضا وقدر سے اس کےناخوش ہونے پر دلالت  کرتے ہوں۔

 

رہی بات اعضاء و جوارح  سے ناراضی کی  ، تو اس کی مثال یہ ہے کہ وہ  اپنے   رخسار پیٹے، یا  اپنے سر پر طمانچہ مارے،  یا اپنے  بال کھینچے ، یا  اپنے کپڑے  پھاڑے،   یا اس کے مشابہ کوئی اور چیز کرے۔

 

  اس  ناگواری کی حالت، گھبراہٹ زدہ لوگوں کی حالت کے مانند  ہے ، جو  ثواب سے  محروم ہو گئے، اور مصیبت سے بھی نجات نہ پاسکے،  بلکہ ان لوگوں کے مانندہے جنہوں نے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے،  تواس طرح  وہ لوگ دو مصیبتوں میں کے شکار ہوئے،  نا گواری اور ناراضی  کی وجہ سے دینی مصیبت، اورایک دنیاوی مصیبت جوانہیں اس تکلیف دینے والی  چیز کی صورت میں لاحق ہوئی ہے۔

 

دوسری حالت:  مصیبت پر صبر کرنا، بایں طور کہ وہ  اپنے نفس کو روک رکھے، حالانکہ وہ مصیبت سے نفرت کرتا ہے،اسے پسندنہیں کرتااور نہ اس کے وقوع پذیر ہونے  کو پسند کرتا ہے،  لیکن وہ اپنے نفس  كو قابومیں  رکھتا ہے،  ناراض نہیں ہوتا ہے۔

 

تیسری حالت: رضامندی بایں طورکہ اس مصیبت سے اس کادل  مطمئن ہو، اوروہ اس سے مکمل طور پر راضی ہو،گویا کہ  اسے  وہ مصیبت پہنچی ہی نہیں تھی ۔

 

چوتھی حالت:  شکر گذاری، چنانچہ وہ اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتاہے، اور  اللہ کے رسول ﷺ جب کوئی ایسی چیز دیکھتے  جو  آپ کو   اچھی نہیں  لگتی   تھی  ، تو  فرماتے : (الحمد للہ علی کل حال)  ہر حال میں  اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔پس آپ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے تھے تاکہ وہ آپ کے لیے اس مصیبت پراس سے زیادہ  ثواب  مرتب كرےجو آپ كو لاحق ہوئی ہے  ۔

 

اور اسی قسم سے  لوگوں کى تکلیف پر صبر کرنا بهى ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت و تبلیغ ، تعلیم اور رہنمائی کے ليے لوگوں سے میل جول رکھنے کے لیے صبر وتحمل کی   ضروت پڑتی ہے،  اور یہى تعليم ہمیں قرآن كريم كى قیمتی ہدایات میں ملتی ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

 

(وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ)

 

"اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کا  ارادہ  رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں) "(۱۱)

 

  اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

 

(وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأُمُورِ)

 

"اور جو شخص صبر کر لے اور معاف کردے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے۔"(۱۲)

 

اور اللہ تعالیٰ  کا فرمان  ہے:

 

(وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ)

 

 "غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے "(۱۳)

 

اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہےکہ:

 

"جومسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتاہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتاہے۔"(۱۴)

 

اور یہ مکرم رسول یوسف علیہ السلام  ہیں،   جن کو صبر کی تینوں قسموں سے دوچار ہوئے،  چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر صبر کیا  جب ان کو کنواں میں ڈالا گیا، اور جس وقت کچھ سالوں کے لئے قیدی بنایا گیا۔

 

اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمابرداری پر صبر کیا،  چنانچہ وه جیل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے،  اور اس کی عبادت اور اس کے توحید کی طرف دعوت دیتے تھے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی اور معصیت سے  صبر كيا (یعنی اپنے آپ کو اس سے باز رکھا)  جب عزيزمصر کی عورت  نے ان کو اپنے نفس کی پیش کش کی، چنانچہ اس وقت صبر کیا اور اپنے آپ کو اس سے باز رکھا۔  پھر دنیا وآخرت میں ان کے لئے اچھا  انجام تها۔

 

صبر کے خلق سے آراستہ ہونے میں مددگار امور:

 

۱۔  اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا، اور اس سے مدد طلب کرنا، اور عاجز و لاچار  نہ ہونا؛   یہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام  ہیں جو اللہ سےدعاکرتےتھےتوکہتے تھے،  جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں بتا یا ہے :

 

(رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ)

 

"اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما۔" (۱۵)

 

  اور ہمارے پیغمبر  محمد ﷺ  معاذ رضی اللہ عنہ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا یہ پڑھنےکی تعلیم دیتےتھے:

 

(اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك)

 

"اے اللہ ! اپنا ذکر کرنے ، شکر کرنے اور بہترین انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما "۔(۱۶)

 

 اور بے بسی و لاچاری سے منع  کرتےہوئےفرماتے:’’اس چیزکےحریص بنوجو تمہارےلیےنفع بخش  ہے،  اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو (مایوس ہو کر نہ بیٹھ جاؤ)"(۱۷)

 

نيز   ہر نماز، بلکہ ہر رکعت  میں ہم سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں:

 

(إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ)

 

"ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں"( سورہ فاتحۃ:۴)

 

۲۔ يادركهو کہ جنت  کا  راستہ مشکلات اورناپسندیدہ چیزوں  سے گھرا ہوا ہے،اورجہنم کا راستہ  خواہشوں سے مزین ہے، لہذا یہاں اعتبار آخری راستے کا ہے  نہ کہ پہلے کا،  چنانچہ جس نے الله كاخوف  اختیار کیا اور صبر کیا ،تووه نجات پاگیا اور کامیاب ہوگیا۔

 

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ : "دوزخ خواہشات نفسانی كےساتھ ڈھانپ دیا گیاہےاورجنت كوگراں گزرنےوالےناگوارکاموں سے ڈھانپ دیاگیاہے۔‘‘ (۱۸)

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں  کہ : " وحفت الجنة بالمكاره " یعنی  جنت كو ايسى  چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے جن کو نفوس ناپسند  کرتے ہیں؛  کیونکہ باطل نفس امارہ کے لئے پسندیدہ  ہوتا ہے،  اور حق  اس کے لئے نا پسندیدہ  ہوتاہے۔لہذا جب  انسان اس ناپسندیدہ چیز سے تجاوز کرلیتا ہے،اور اپنے نفس امارہ (برائی کی طرف حکم دینے والانفس)  کو واجبات کو انجام دینے اور حرام چیزوں کو ترک کرنے پرمجبورکردیتاہے  تو  اس وقت وہ جنت  تك پہنچ جاتاہے۔

 

  اسی لئے آپ انسان کو پائیں  گے کہ وه مثال کےطور پرنمازیں ثقیل اور بھاری سمجھتاہے، خاص طور پر موسم سرما اور سردی کے دنوں میں، اورخصوصاً اگر انسان کو تھکاوٹ اور محنت کےبعدزیادہ نیند  ہو، تو آپ اس پر نمازكو گراں اور بھاری  پائیں گے۔وہ نرم  گرم بستر کو چھوڑ کر  نماز کے لئے اٹھنا  ناپسند  کرتا ہے،  لیکن  اگر وہ  اس  رکاوٹ کوتوڑکر اس ناگوار کام کو  انجام دیتا ہے، تو وہ جنت تک پہنچ جاتا ہے ۔

 

اور اسی طرح برائی  کا حکم دینے والا نفس، انسان کو زنا کی طرف  بلاتا ہے،  اور زنا ایک شہوت (خواہش( ہے،  جس کو برائی  کا حکم دینے  والا نفس پسند  کرتا ہے ،  لیکن  جب انسان  اس کو قابو میں رکھتاہے  اور اسے  اس شہوت سے بازرہنے  پر مجبورکردیتاہے؛ تویہ اس کے لئے ناگواری کا باعث ہے،  لیکن یہی اس کو  جنت  تک پہنچاتا ہے؛ کیونکہ جنت ناپسندیدہ  چیزوں سے گھری ہوئی ہے۔‘‘ (۱۹)

 

۳۔  دنیا کی حا لت اور ان اہل دنیا کے بارے میں غورو فکر کریں ، جنہوں نے اپنی خواہشات کی اتباع کى ،  اور اپنی بیشتر لذتوں سے بہرہ ور ہوئے۔  لیکن  نہ تو وہ لوگ اس سے آسودہ ہوئے اور نہ ہی ان لوگوں کو اس سے قناعت ہوئی۔  پھر کیاہوا؟  وہ لوگ  یہاں  سے کوچ کرگئے  اور جو کچھ انہوں  نے جمع کیا تها اور جس کے لیے وہ لوگ  جھگڑتے تھے،اسے اپنے ساتھ لےکرنہیں گئے؛ انہوں نے اس حال میں  کوچ کیاکہ وہ اپنى  پیٹھوں پر  اپنے بوجھوں کو  لادے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے برےکرتوت کی سزا پائیں۔  اسی وجہ  سے دنیا  کا  ساز وسامان دھوکے کا سامان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ  علیہ و سلم  جب  دنیا کی کوئی ايسى چیز  دیکھتے جو  آ پ کو بھا جاتی  تو کہتے: "اے اللہ ! حقیقی زندگی توبس آخرت  کی زندگی ہے۔‘‘ (۲۰) اور یہ دونوں کلمے بہت ہی عظیم ہیں،  چنانچہ  انسان  جب دنیا کی طرف دیکھتا ہے،  توبسا اوقات  وہ اس کو بھا جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی  اطاعت و فرمابرداری سے غافل ہو جاتا ہے،  اس لئے ا سے چاہیے کہ  اس وقت  آخرت کی نعمت کو یاد کرے،  اور اس کے درمیان اوراس  زائل ہونے والی دنیوی نعمت کے درمیان موازنہ  کرے،  پھراپنے دل کو آمادہ کرلے اوراسے اس اخروی نعمت کی رغبت دلائے جو کبھی ختم نہیں ہوگی، اور یہ کہے : "اللهم إن العيش عيش الآخرة" ( اے اللہ !  حقیقی زندگی توبس آخرت  کی زندگی ہے   اور  اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان بالکل  سچا ہے،كيونکہ دنیا کی زندگی - جو بھی ہو - زائل ہونے والی ہے، اوروه جو کچھ بھی ہو‘ لیکن دکھ سے بھری ،آفتوں سےبھری  اورنقص وکمی سےبھری ہے۔‘‘ (۲۱)

 

۴۔ اس عظیم  اجروثواب كويادکریں جواللہ تعالیٰ نےاپنی  فرماں  برداری پر صبر کرنے  والوں،  اپنی نافرمانی سے صبر کرنے  والوں ( باز رہنے  والوں)،  اور  اپنی قضا و  قدر پر صبر کرنے والوں   کے ليے تیار کرکھا ہےجس کا  کوئی اندازہ  نہیں لگایا جا سکتا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ  کا فرمان  ہے :

 

(إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ)

 

"صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے۔" (۲۲)

 

چنانچہ جو بھی نيكى كا كام ہے اس کا اجر و ثواب ایک حساب اور اندازہ سے دیا جاتا ہےسوائے صبر کے، اورچوں کہ  روزہ صبرکے قبیل سے ہے، تو اس کا بھی اجر بہت زیادہ   بغیر کسی اندازہ وحساب  کےہے۔ اسى طرح مصیبتوں میں گناہوں کا  کفارہ بهى  ہے،  جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: "مسلمان كو جو بھی تكان، بیماری،فكر، غم اور  تکلیف پہنچتی ہے،حتی کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف كر دیتا ہے۔" (۲۳)

 

 اسی طرح  حديث میں ہے: ’’سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے)سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے  سائے کے علاوہ  کوئی سایہ نہ ہو گا:  انصاف کرنے والا حکمران،  وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھے،  وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے،  وه دو آدمى جوايك  دوسرے سے  صرف  اللہ کے لیے محبت  كرتے ہیں ‘ اسی پر وہ باہم جمع ہوتے ہیں اور اسی پر ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں،وہ آدمی جسے کوئی حسین و جمیل عورت دعوت گناہ دے  لیکن وہ اس کے جواب میں کہے  :  میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں۔ وہ آدمی جس نے کوئی صدقہ کیا اور اسےچھپایا حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو علم نہیں کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیااور اس کے خوف سے اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔‘‘  (۲۴)،  چنانچہ جس نے صبر کیا اور الله كا خوف اختیار کیا،تو وه نجات پاگیا اور کامیاب  وکامران ہوا۔اللہ تعالیٰ  نے اہل جنت کے حال كو  بیان کرتے ہوئے فرمایا:

 

(إِنَّ الأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا * عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا * يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا * وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا * إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلا شُكُورًا * إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا * فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا * وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا)

 

"بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے۔جو ایک چشمہ ہے۔ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے جدھر چاہیں۔ جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو۔ ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری۔ بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی وا ہوگا۔پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔ اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔‘‘ (۲۵)

 

انہوں نے اپنے  رب کی اطاعت و فرما برداری پر صبر کيا، اور اس کی نافرمانی سے صبر كيا  (باز رہے)،  اور اس کی سزا سے ڈرتے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دن امن و امان  عطا کيا جس دن وه  لوگ اس سے ملیں گے، اور انہیں نعمت کے باغات میں ابدى ٹھکانہ  عطا کیا، توان کو مبارک ہو ۔

 

۵۔  اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

(اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ)

 

"صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالیٰ  صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔" (۲۶)

 

یعنی: صبر کرنے والے کى اللہ کی  جانب سے مدد ہوتی ہے،  اور اللہ تعالیٰ  صبر کرنے والے  کی مدد کرتا ہے ، اس کی تائید  حمايت کرتا ہے  اور اس  كى حفاظت  کرتا ہےتاکہ اس کے لیےاس طور پرصبرانجام پاسکے جس طرح  اللہ عز وجل پسند کرتا ہے۔

 

اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ  نے فرمایا: ’’  صبر روشنی  ہے۔‘‘ (۲۷)   یعنی وہ  ایك  روشنی ہے  جو  انسان کی حق كى طرف رہنمائی کرتی ہے جب وه  سخت مصیبتوں اور پریشانیوں سے دوچار ہوتا ہے،  چنانچہ اس کا نفس مطمئن  ہو جاتا ہے   اور اس کے ضمير کوراحت  ملتی ہے، - اگر چہ تھوڑی دیر کے بعد ہی کیوں نہ ہو -  اور اسے  اپنےرب  سبحانہ و تعالیٰ کى  رضا حاصل ہوتی  ہے۔  اور اس کو روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ  روشنی میں حرارت اور گرمی ہوتی ہے  سورج کی روشنی کی طرح،  اور صبر میں زبردست  مشقت اور تكان   كا سامنا  کرنا پڑتا ہے۔ (۲۸)

 

صبرکے خلق کےضمن میں درج ذیل اخلاق آتے ہیں:

 

ـ اطاعت و فرما ں برداری پر صبر کرنا، اور معصیت سے صبر(احتراز) کرنا، "استقامت"  كہلاتا ہے۔

 

ـ  پیٹ اور  شرم گاہ کی شہوت و خواہش سے صبر  کرنے   (باز رہنے)  کا  نام عفت (پاکدامنی)  ہے۔

 

ـ لڑائی  میں صبر سے  کام لینے کا نام   شجاعت ( بہادری) ہے۔

 

ـ غصہ کو پی کر صبر کرنے کا نام " بردباری" رکھا جاتا ہے۔

 

ـ کسی چیز کو  چھپانے  میں صبر سے کام لینے کا نام  رازداری  ہے۔

 

ـ زندگی کی فضولیات سے دور رہنے کا نام زہد ہے۔

 

ـ  معمولى سے نصیب  پر صبر  کرنے کا نام قناعت  ہے۔

 

اس طرح بيشتر اسلامی اخلاقی صبر میں داخل ہیں، اور صبر کی صفت کا حصول اخلاقیات کی ایک بڑی تعداد کو حاصل کرنےپر ابھارتا اور آامادہ کرتا ہے۔ (۲۹)

 

 

 

 

 

 

 

حواشی:

 

(۱) مدارج السالکین ۳/۷۳۔

 

(۲) تہذیب الاخلاق اور تطہیر الاعراق صفحہ ۲۶۔

 

(۳) دیکھئے : لسان العرب ۴/۴۳۸، مختار الصحاح ۱/۱۴۹۔

 

(۴) دیکھئے : لسان العرب ۴/۴۳۹، شرح ریاض الصالحین ۱/۳۲۴۔

 

(۵) سورہ مریم ، آیت نمبر ۶۵۔

 

(۶) سورہ طہ، آیت نمبر ۱۳۲۔

 

(۷) سورہ یوسف، آیت نمبر ۵۳۔

 

(۸) سورہ فرقان، آیت نمبر ۲۰۔

 

(۹ ) تفسير القرآن العظيم، صفحہ ۹۶۰۔

 

(۱۰) سورہ  بقرہ، آیت نمبر ۱۵۵ـ۱۵۷

 

(۱۱) سورہ کہف، آیت نمبر ۲۸۔

 

(۱۲) سورہ شوری، آیت نمبر ۴۳۔

 

(۱۳) سورہ آل عمران، آیت نمبر  ۱۳۴۔

 

(۱۴)  اس حدیث کی تخریج  ترمذی نے کیا ہے، حدیث نمبر  ۲۵۰۷ـ۴/۶۶۲، ابن ماجہ ، باب" الصبر على البلاء "،  حدیث نمبر ۴۰۳۲-۲/۱۳۳۸،  اور علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے،  اور احمد، حدیث نمبر ۵۰۲۲-۲/۴۳۔

 

(۱۵) سورہ ابراہیم، آیت ۴۰۔

 

(۱۶)  اس حدیث کی تخریج امام نسائی  نے  کتاب" الشكر"، باب"نوع آخر من الدعاء"، حدیث نمبر  ۱۳۰۳-۳/۵۳، اور امام احمد، حدیث نمبر ۲۲۱۷۲-۵/۲۴۴،  محقق شعیب ارناؤوط نے کہا ہے  کہ : اس کی سند صحیح  ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں صحیح  کی رجال کی طرح سوائے  عقبہ بن مسلم کے ،   امام حاکم  نے اس  کی تخریج کی ہے   فقہاء ستۃ کے  کسی ایک  کے مناقب کو ذکر کیا ہے ، حدیث نمبر ۵۱۹۴-۳/۳۰۷،  اور  کہا ہے کہ : اس کی سندیں صحیح ہیں  لیکن کسی نے  اس کی  تخریج نہیں  کیا ہے،  اور ابن حبان نے  یہ " الأمر بسؤال العبد ربه أن يعينه على ذكره "ذکر کیا  ہے، حدیث نمبر  ۱۳۰۳-۳/۵۳۔

 

(۱۷)  امام مسلم نے اس کی تخریج " الإيمان بالقدر "، حدیث نمبر  ۱۶/۲۱۵ میں  نووی کی شرح کے ساتھ کیا ہے۔

 

(۱۸) متفق علیہ، بخاری " الرقاق"حدیث نمبر (۶۴۸۷)، اور اسی طرح امام  مسلم نے " الجنۃ وصفۃنعيمها "حدیث نمبر   ۱۸/۱۶۵ میں  نووی کی تشریح کے ساتھ۔

 

(۱۹) رياض الصالحين کی شرح  ۱/۳۲۳،۳۲۴۔

 

(۲۰)  اس حدیث کا جز جس کو امام بخاری نے " الجهاد والسير" میں  ، باب" التحريض على القتال "، حدیث نمبر ۲۶۷۹-۳/۱۰۴۳ میں تخریج کیا ہے ، اور  امام مسلم، کتاب" الجهاد والسير "، باب" غزوة الأحزاب"، حدیث  نمبر ۱۸۰۵-۳/۱۴۳۱۔

 

(۲۱) ابن عثیمین  کی رياض الصالحين کی شرح  ۱/۶۱۸۔

 

(۲۲) سورہ زمر، آیت نمبر ۱۰۔

 

(۲۳) متفق علیہ، امام بخاری نے اس کی تخریج  ، باب"كفارة المرض " میں حدیث نمبر۵۳۱۸-۵/۲۱۳۷، اور امام مسلم ،حدیث نمبر  ۲۵۷۳-۴/۱۹۹۲۔۔

 

(۲۴) متفق علیہ ،بخاری، کتاب" الصلاة"، باب" من جلس في المسجد ينتظر الصلاة"، حدیث نمبر   ۶۲۹-۱/۲۳۴۔

 

(۲۵) سورہ انسان، آیت نمبر ۵ سے ۱۲ تک۔

 

(۲۶) سورہ بقرۃ، آیت نمبر ۱۵۳۔

 

(۲۷) اس حدیث کا جز  جس کو امام مسلم نے " الطهارة " میں، حدیث نمبر   ۲۲۳-۱/۲۰۳ میں تخریج کیا ہے۔

 

(۲۸) دیکھیں : رياض الصالحين کی شرح  صفحہ ۷۲ اور صفحہ ۷۴ـ۷۶۔

 

(۲۹) دیکھیں:  مختصر منہاج القاصدین، صفحہ ۲۹۵، ۲۹۴، اور مدارج السالکین ۳/۷۳۔

 

التعليقات  

#1 الهند-ابن ضياء ١٦ جمادى الآخرة ١٤٣٨هـ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ

ماشاء اللہ
بہت ہی عمدہ اور علمی طریقے سے اس موضوع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل بحث،معلومات کا خزانہ اور نہایت ہی آسان اسلوب میں موضوع کا حق ادا کیا گیا ہے
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث