باب:سعادت مند گھرسنّت کے آئنے میں

حلقہ(15) عفّت وعصمت کی خاطر(6۔6)

چوتھا رکن : عدل

 

عدل کے لغوی معنی ہے  :وہ بات جسے دل درست وسیدھا سمجھے، اور کسی چیز کو سیدھا و برابر کرنے کے لیے ’’تعدیل الشئ‘‘ بولا جاتا ہے۔ نیز کم یا کیفیت میں متوسط الحال ہونے کو اعتدال کہتے ہیں اور افراط و تفریط کے بیچ میانہ روی اختیار کرنے کو ’’العدل الامر‘‘ کہا جاتا ہے۔(1) اور عدل، ظلم و جور کی ضد ہے۔ اور اس کے ذریعہ یہ چند امور مقصود ہوتے ہیں: اخلاق میں عدل، مالی لین دین میں عدل، خاندان میں عدل، فیصلہ کرنے میں عدل اور خود اپنی ذات میں عدل۔

 

اخلاق و کردار میں عدل کے متعلق علامہ ابن قیم رحمہ اللہ رقمطراز ہیں : ’’عدل اخلاق و کردار کی میانہ روی اختیار کرنے اور افراط و تفریط کے مابین بیچ کی راہ اپنانے پر ابھارتا ہے، اس طرح وہ ایسے جود و سخاوت کی خُو پر ابھارتا ہے جو اسراف و فضول خرچی اور اور امساک و عدمِ خرچ کی درمیانی راہ ہے، اور ایسی شرم و حیاء کی عادت ڈالتا ہے جو ذلت اور  بے حیائی کی درمیانی راہ ہے، اور ایسی شجاعت و بہادری کا عادی بناتا ہے جو بزدلی اور ناعاقبت اندیشانہ اقدام کی درمیانی راہ ہے، اور بردباری کی ایسی عادت پر ابھارتا ہے جو غصہ اور  اہانت وذلت کی درمیانی راہ ہے۔‘‘ (2)

 

مالی لین دین میں عدل : جیسے ماپ تول اور وزن وغیرہ میں عدل و انصاف سے کام لینا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وأوفوا الكيل والميزان بالقسط﴾ ترجمہ : ’’اور ماپ تول پوری پوری کرو انصاف کے ساتھ۔‘‘ (3)

 

اور رہا خاندان میں عدل تو وہ اولاد (4) اور بیویوں کے درمیان عدل کرنا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة﴾ ترجمہ : ’’پس عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمھیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے۔‘‘ (5) اور عمومی طور پر عورتوں کے مابین عدل کرنا۔

 

اور رہا  قضا و فیصلہ میں عدل تو یہ معروف و مشہور ہے اس طرح کہ حاکم و رعایا کے درمیان تفریق نہ کی جائے  نیز قوم کے شریف اور ادنیٰ شخص کے بیچ انصاف میں تفریق نہ برتی جائے۔ اور اس حقیقی انصاف کے بارے میں غور و تدبر کریں جوکسی جانبداری  اور بحث ومباحثہ( حجّت بازی) کا لحاظ نہیں کرتی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کو ایک مخزومیہ عورت نے فکرمند کردیا تھا کہ اس خاتوں نے چوری کی تھی، انھوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کون بات کرے گا؟ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیارے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ہی اس کی جرأت کر سکتے ہیں؟ بہرحال حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کررہے ہو؟‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے، خطبہ دیا اور فرمایا :  ’’اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے تباہ کرڈالا کہ جب ان کا کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ(رضی اللہ عنہا) بنت محمد (ﷺ) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ (6)

 

اور رہا نفس کے ساتھ عدل تو یہ وہ انصاف ہے جو اپنی طرف سے دوسرے کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿يا أيها الذين آمنوا كونوا قوامين بالقسط شهداء لله ولو على أنفسكم أو الوالدين والأقربين﴾ ترجمہ : ’’اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودیٔ مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وہ خود تمھارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے خلاف ہو۔‘‘ (7)

 

درحقیقت ان تمام امور کا مرجع حسن اخلاق  ہے۔ اور جب انسان اپنے آپ کو تمام امور میں عدل و انصاف اور میانہ روی اختیار کرنے کا عادی بنائے گا تو حسن اخلاق کے بلند مقام پر پہنچنے میں اسے کامیابی میسر ہوگی۔

 

صفتِ عدل اپنانے کے لیے معاون چیزیں :

 

اوَّل : اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا اور حساب و کتاب کے دن اور میدانِ محشر کی یاد کرنا کہ اس دن کوئی پوشیدہ چیز مخفی نہیں رہے گی۔

 

دوم : تمام امور میں بردباری اختیار کرنا یعنی ہر کام سوچ سمجھ کر کرنا اور جلد بازی سے پرہیز کرنا۔ اس لیے کہ بردباری کی وجہ سے آدمی پیش آمدہ مسائل میں غور و فکر کرتا ہے اور حکمت کے ساتھ اسے انجام دیتا ہے، اس طرح  اسے امور کی حقیقت کی جانکاری ہوتی ہے، مثلاً خرچ کرنا اور کشادگی سے کام لینا فضول خرچی ہے یا سخاوت ہے۔ اور غیظ و غضب، بردباری ہے یا اہانت و نرم خوئی ہے۔ اور اقدام کرنا بہادری ہے یا ناعاقبت اندیشانہ اقدام  ہے وغیرہ۔ یہی وجہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’بردباری اور سوچ سمجھ کر کام کرنا اللہ کی جانب سے ہے، اور جلدبازی شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘ (8)

 

حواشی :

 

________________________________________

 

(1)  دیکھیے : لسان العرب 11/430-433 ، مختار الصحاح 1/176 ، التعاريف 1/183 ، التعريفات 1/192 .

 

(2)  مدارج السالكين 3/74 .

 

(3)  سورة الأنعام آية 152 .

 

(4)  عنقریب ہی اس کے متعلق گفتگو دوسری فصل میں ’’الخلق مع الأولاد‘‘ کے تحت آرہی ہے .

 

(5)  سورة النساء آية 3 .

 

(6)  أخرجه مسلم ك الحدود باب قطع السارق الشريف وغيره ح 688-3/1315 .

 

(7)  سورة النساء آية 135 .

 

 (8)سنن ترمذی، باب الأناة من الله ح 2012 -4/367 اورترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے ، والسنن الكبرى للبیھقي، باب التثبت في الحكم ح 20057-10/104 ، والطبراني في الكبير ح 5702-6/1226/122

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث