باب:سعادت مند گھرسنّت کے آئنے میں

حلقہ(18) فقہ اخلاق       اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن اخلاق  (3-9)

 

دوم : توحید اسماء و صفات

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو اپنا وصف بیان کیا ہے یا اس کے رسول نے اللہ کا جو وصف بیان کیا ہے ان پر بغیر کسی تحریف و تعطیل اور تکییف و تمثیل کے ایمان لانا توحید اسماء و صفات ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ترجمہ : ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں ہی سے اللہ کو پکارو(1) اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی۔‘‘ (2) اور فرمایا : ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِير﴾ ترجمہ : ’’اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ (3)

اوپر کی دوسری آیتِ کریمہ کے اندر اثبات اور نفی دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ذات سے مشابہت کی نفی کی ہے اور اپنی ذات کے لیے سمع و بصر (یعنی دیکھنا اور سننا) ثابت کیا ہے، اور یہی سلف صالحین کا منہج ہے۔ سلف صالحین اللہ کے لیے وہ ساری صفات ثابت مانتے ہیں جو اللہ نے اپنی ذات کے لیے ثابت کیا ہے اور ان تمام چیزوں کی نفی کرتے ہیں جن کی اللہ نے اپنی ذات سے نفی کی ہے۔

اور اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ﴿اللَّهُ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ ...﴾ ترجمہ : ’’اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زندہ ہے اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آئے اور نہ نیند۔۔۔‘‘  پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس میں اپنے لیے حیات (زندہ رہنا) اور قیمومۃ (کائنات کو سنبھالنا) کو ثابت کیا ہے، اور اپنی ذات سے اونگھ اور نیند کی نفی کی ہے۔

تعریف میں موجود بعض اصطلاحات کا معنیٰ و مفہوم :

تحریف : تحریف کہتے ہیں کلام کو اس کے متبادر معنیٰ سے پھیر کر دوسرے معنیٰ کی طرف منتقل کردینا کہ جس پر سوائے مرجوح احتمال کے لفظ دلالت نہ کرے۔ لہٰذا ہم اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات پر اس میں کوئی تحریف کیے بغیر معانی سمیت ایمان لاتے ہیں۔

تعطیل : صفاتِ الٰہیہ کی نفی کرنے کو تعطیل کہتے ہیں۔ اس طرح کہ اسماءِ الٰہی کو ان کے معانی سے معطل (بے کار)کردیا جائے، گویا کہا جائے وہ سمیع (سننے والا) ہے بغیر سمع (سننے) کے، وہ بصیر (دیکھنے والا) ہے بغیر بصر (دیکھے) کے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک و برتر ہے۔

تکییف : یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان کیے بغیر اور صفات کی کیفیت کے متعلق سوال کیے بغیر اس پر ایمان و اعتقاد رکھا جائے۔ پس ان کی کیفیت سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔

تمثیل : یعنی اس بات کا عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوقات کی صفات کے مشابہہ نہیں ہیں۔

اسماء و صفات پر ایمان رکھنے کے ارکان :

   اسماء پر ایمان لانا۔

  اسماء جن معانی پر دلالت کرتے ہیں ان پر ایمان لانا۔

   جن اثرات کے ساتھ یہ اسماء تعلق رکھتے ہیں ان پر ایمان لانا۔

مثال کے طور پر ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ رحیم ہے، رحمت والا ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور وہ اپنے بندے پر رحم کرتا ہے، وہ قدیر ہے، قدرت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

اسماء حسنیٰ کی دلالت :

دلالت مطابقت : جب ہم کسی نام کے تمام مدلولات کے ساتھ تفسیر بیان کریں۔

دلالت التزام : یعنی الزامی دلالت، جب ہم کسی نام کے ذریعہ کچھ دوسرے ناموں پر دلالت کریں کہ جس کا سمجھنا اُسی نام پر موقوف ہو۔

اس کی مثال لفظ ’’خالق‘‘ (پیدا کرنے والا) ہے جو دلالت مطابقت سے اللہ کی ذات اور صفتِ خلق پر دلالت کرتا ہے، اور ضمنی طور پر صرف اس کی ذات پر (اور صفتِ خَلق پر) دلالت کرتا ہے، جب کہ  التزامی طور پر صفتِ علم اور صفتِ قدرت پر بھی دلالت کرتا ہے کیوں کہ پیدا کرنے والا بغیر قدرت کے پیدا نہیں کرسکتا اور اسی طرح بغیر علم کے پیدا کرنا بھی ناممکن ہے، یعنی جو ذات خالق ہے  وہ لازماً قادر بھی ہے اور عالم بھی ہے۔

اسی طرح لفظِ ’’رحمٰن‘‘ دلالتِ مطابقت کے طور پر رحمت  اور ذاتِ الٰہی پر دلالت کرتا ہے اور ان دونوں میں سے ایک پر اس کی دلالت ضمنی ہے (اس لیے کہ دوسرا بھی ضمناً اس میں داخل ہے)،  اور اس کی دلالت  ان دوسرے اسماء پر جن میں رحمت نہیں پایا جاتا ہے دلالتِ التزام کے طور پر ہوگی کہ رحمت کے بغیر ان اسماء کا ثبوت ممکن نہیں ہے، جیسے حیات، علم، ارادہ، قدرت اور دیگر اسماء وغیرہ۔ (4)

حواشی :

________________________________________

(1)  دعا کی تین قسمیں ہیں : (۱) اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء و صفات کے ذریعہ سوال کرنا۔ (۲) اپنی حاجت اور محتاجی کا حوالہ دے کر اللہ سے سوال کرنا، مثلاً آپ کہیں : ’’أنا العبد الفقير المسكين الذليل المستجير‘‘ وغیرہ (۳)  پہلے کے دونوں امور کا ذکر کیے بغیر اللہ سے اپنی ضرورت کا سوال کرنا۔ اور دعا کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ تینوں امور کو جمع کرکے اللہ سے سوال کیا جائے، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عام دعائیں ایسی ہی ہیں۔ دیکھیے :  ’’شرح أسماء الله الحسنى‘‘ للقحطاني ص : 49 .

(2)  سورة الأعراف آية 180 .

(3)  سورة الشورى آية 11 .                                    

(4)  دیکھیے : ’’شرح أسماء الله تعالى في كتاب معارج القبول‘‘ جلد اول ص: ۷۸ اور اس کے بعد کے صفحات.

أضف تعليق

كود امني
تحديث