حلقہ(۳)

حدیث: (اے اللہ! عائشہ رضی اللہ عنہا کے اگلے اور پچھلے گناہ کو بخش دےـ ـ ـ)

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) میرے لئے دعا کردیجئے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:‘‘اے اللہ! عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پچھلے  ،اگلے ،پوشیدہ  اور ظاہر سارے گناہ کو بخش دے’’۔ عائشہ (یہ دعا سن کر) ہنس پڑی یہاں تک کہ ان کا سر مارے ہنسی کے ان کی گود میں گرگیا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘کیا تجھے میرے دعا کی وجہ سے خوشی ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: اور کیوں نہ مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دعا سے خوشی حاصل ہویا میں خوش ہوں؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) فرمایا: اللہ کی قسم! ہر نماز میں ہر امّتی کے لئے  میری  یہ دعا ہوتی ہے’’۔(1)

سوال کرنے والی:

عائشہ رضی اللہ عنہا: بنت ابی بکر صدیق ہیں، ان کا نام: عبداللہ بن عثمان  ہے جو بنی لؤی بن غالب سے ہیں،  ان کی کنیت ام عبد اللہ ہے، ام المومنین ہیں رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت سے دو سال پہلے شادی کی ، اور مدینہ میں ۹ برس میں  بنا کیا، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۹ برس تک رہیں، ان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری سے شادی نہیں کی، ساتویں آسمان سے ان کی براءت نازل ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری  بیویوں میں سے تھیں، حمیراء لقب تھا، وہ نہایت ہی شرف وفضل  اور اعلی نسب وذی علم تھیں۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اگر عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم  تمام ازواج مطہرات  کے ساتھ جمع کردیا جائے اسی طرح تما م عورتوں کا علم بھی تو عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب پر برتروافضل ہوگا’’۔

عروہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو فقہ ،طب اور شعر میں نہیں دیکھا’’۔

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری حدیثیں روایت کی ہیں، اسی طرح اپنے والد محترم ، عمر اور فاطمہ  رضی اللہ عنہم  سے بھی روایت کیا ہے۔

اور صحابہ کرام میں سے ان سے عمر  اور ان کے بیٹے عبد اللہ اور ابوہریرہ  رضی اللہ عنہم وغیرہ  نے روایت کیا ہے۔

وفات: سن ۵۷ یا ۵۸ھ میں آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔. (2)

حدیث سے مستنبط فائدے:

۱۔سوال کرنے والے کے حسن ادب میں سے کہ ایسے اوقات کا اختیار کرے جس میں مفتی اچھے مزاج، منشرح الصدر، مطمئن طبیعت  والا ہو ،اور سوال کے سننے کے لئے آمادہ ہو،اس میں مفتی کے ساتھ مہربانی ہے اور فتوی کی حفاظت ہے۔

۲۔اس میں آدمی کا بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا ثبوت ہے اور ان کے حق میں دعا کرکے ان کی چاہت ومودّت کا حصول ہے، اور انہیں مانوس کرنا اور ان پر خوشی داخل کرنا  ہے۔

۳۔اس میں عائشہ رضی اللہ عنہا  کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مقام ورتبہ کا پتہ چلتا ہے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تکریم  اور ان کی طرف میلان کا ثبوت ہے، اور آپ کے نزدیک ان کی عزّت  اور ان کی مراد پر لبیک کہنے کی دلیل ہے، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان پاکیزہ دعاؤں کو سنا اور اسکے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈ ہوئیں۔

۴۔اس میں مسلمان کا غائبانہ طور پر اپنے بھائی کے  لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد دعاؤں کے ذریعہ دعا کرنے کا استحباب ہے، اور پسندیدہ دعاؤں سے میں سے وہ ہے جسے نبی صلی الل علیہ وسلم نے اپنی  چہیتی بیویوں اور امّتیوں کے لئے پسند فرمایا ہے۔ اور وہ اللہ تعالی ٰ سے گناہوں کی بخشش اور عیبوں کی ستر پوشی  کا سوال ہے، اور  پچھلے، اگلے، ظاہر اور پوشیدہ گناہوں  کےمٹانے کا سوال کرنا ہے۔

۵۔اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے امّتیوں کے ساتھ شفقت ورحمت اور ان پر کرم  کرنے کی دلیل ہے، اور ان کے لئے ان کی زندگی میں نیک دعا کرنا، اور آخرت میں آپ کی مقبول شفاعت کا  بیان ہے۔

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی  مقبول دعا ہے، چنانچہ سارے نبیوں نے اپنی دعا کے سلسلے میں جلدبازی سے کام لیا، اور میں نے اپنی دعوت بروز قیامت اپنی امّتیوں کی شفاعت کے لئے چھپارکھی ہے۔اور ان شاء اللہ یہ چیز میری امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہوکر رہے گی، جس کا انتقال  اس حال میں ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک  نہ کرنے والا ہو(3).

6۔  علّامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انبیائے کرام کی دعوت میں سے بعض تو فورا قبول ہوجاتی ہے اور بعض  اللہ رب العزت کے ارادے ومشیئت پر مؤخر کردیا جاتا ہے۔(4)

 

حواشي:

 (1)أخرجه ابن حبّان (9/122 ح711) ورواه أبو القاسم اللالكائي في اعتقاد أهل السنة (8/1429ح2756). إسناده صحيح، وقال الهيثمي: رجاله ثقات . مجمع الزوائد (9/246)

(2)الاستيعاب (4/1881)، أسد الغابة (6/189)، الإصابة (8/16) .

(3)  متفق عليه، واللفظ لمسلم رواه في صحيحه، (715 ح199) بسنده عن أبي هريرة مرفوعًا.

  و رواه البخاري، (531 ح6304) بنحوه وليس في آخره « فهي نائلة إن شاء الله من مات ..... ».

(4)  عمدة القاري (22/ 277) ،اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اپنے صحیح (1178 ح2890)  میں سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عالیہ (عالیہ وہ گاؤں ہیں جو مدینہ سے باہر ہیں) سے آئے حتیٰ کہ بنی معاویہ کی مسجد پر سے گزرے۔ اس میں گئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور اپنے رب سے بہت طویل دعا کی۔ پھر ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں لیکن اس نے دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی۔ میں نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے (یعنی ساری امت کو قحط سے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کی اور میں نے یہ دعا کی کہ میری (ساری) امت کو پانی میں ڈبو کر ہلاک نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کی اور میں نے یہ دعا کی کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے نہ لڑیں، تو اس کو قبول نہیں کیا۔

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث