حلقہ ((1

حدیث: ((اے اللہ! تو اس کے مال واولاد میں زیادتی عطا کر...))

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے آپ اسکے لئے دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فر مائی کہ: ‘‘اے اللہ! اس کے مال واولاد  میں زیادتی عطا  کر اور جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں برکت عطا فرما’’۔(1)

یہ سوال کرنے والی کون تھی؟

یہ  ام سلیم بنت ملحا ن بن خالد بن زید بخاریّہ انصاریہ خزرجیہ ہیں،اپنی کنیت سے مشہور ہیں ،انکے نام میں کافی اختلاف ہے، کہا گیا ہے: مُلیکہ یا سہلہ، یا رُمیلہ، یا رُمیثہ، یا رُمیصاء وغُمیصاء۔

انصار  کی سابقین لوگوں میں سے اسلام لانے والوں میں سے ہیں، زمانہ جاہلیت میں مالک بن نضر سے شادی کی،تو اس سے انس رضی اللہ عنہ  پیدا ہوئے،اور اپنے شوہر پر اسلام کو پیش کیا لیکن وہ سخت غصّہ  وناراض ہوگیا، اور شام کی طرف جا نکلا اور وہیں پر اس کا انتقال ہوگیا۔پھر ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام دیا  اور انہوں نے اس کے اسلام کو بطور مہر شرط لگایا، چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان سے شادی کرلی۔ اور ان سے  بہت ہی خوبصورت  بچہ پیدا ہوا، لیکن چھوٹے پر ہی مر گیا،چنانچہ ام سلمہ نے اس آزمائش میں صبر سے کا م لیا، اور ان کا قصہ صحیحین  (۲)میں مشہور  ومعروف ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرا  بچہ عطا کیا جس میں کافی برکت عطا کی گئی، اور وہ عبداللہ بن ابی طلحہ ہیں،اور اِن کے دس اولاد ہوئے جنہوں نے عبد اللہ سے ہی قرآن کا حفظ کیا اور انہی سے علم حاصل کیا۔

ام سلیم  رضی اللہ عنہا   نے اپنے بیٹے انس رضی اللہ عنہ  کو دس سال   کی عمر میں ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی  خدمت میں لگادیا،جب سے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے یہاں تک کہ وفات پاگئے (وہ آپ کی برابر خدمت کرتے رہے)،اور ام سلیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ کرتی تھی ،چنانچہ اُحد کے روز  حاضر ہوئی،اور وہ پیاسوں کو پانی پلاتی تھیں،پھر غزوہ حُنَین میں بھی حاضر ہوئیں اور وہ اس میں اچھی طرح آزمائی گئیں۔اور وہ بہت عقل و فضل والی تھیں۔انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث روایت کی ہیں اور ان سے ان کے بیٹے انس، ابن عباس اور زید بن ثابت  وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ (3) .

غریب حدیث:

بَارِك:برکت نمووزیادتی اور ہر خیرمیں کثرت کو کہتے ہیں، اور تبریک برکت کی دعا کرنے کو کہتے ہیں،کہا جاتا ہے: اللہ تمہارے لئے، تمہارے اندر، تمہارے اوپر برکت نازل فرمائے۔ اور بارک:فعل متعدّی، اور تبارک فعل لا یتعدّی ہے۔(۴)

حدیث سے مستنبط ہونے والے فائدے:

۱۔احسان وشفقت   ومحبت کا پے درپے ہونا جس سے ام سلیم نے اپنے نور نظر انس کو ڈھک لیا تھا، چنانچہ اسکے جوان ہونے اور اسکے حکم دینے تک انہوں نے کوئی دوسری شادی نہ کی (5)، اور دس سال  کی عمر  ہونے کے بعد اسے لے کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائیں تاکہ  یہ بچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملازمت کا شرف حاصل کرے اور خاندان نبوت کا خادم بنے، اور انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے حق میں دعائے خیر کرنے کا مطالبہ کیا۔

۲۔سوال کرتے وقت نرمی کرنا، اور فقر کا اظہار کرنا اور حال کو بیان کرنا، تاکہ علم وبیان کے اعتبار سے زیادہ مؤثر وبلیغ ہو،اسی لئے ام سلیم نے بہترین قول اختیار کیا اور فرمایا:یا رسول اللہ بأبی أنت وأمّی(اے اللہ کے رسول آپ پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں)۔اسی طرح ام سلیم رضی اللہ عنہا کا   قول: میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے (آپ کا خادم انس  رضی اللہ عنہ ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ یہ آپ کا خادم ہے اللہ سے اس کے لئے دعا  کیجئے، یہ حکیمانہ تمہید سامع کے سینہ کو کھول دیتا ہے اور مراد  کے حصول میں  (معاون)ہوتا ہے۔

۳۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عورت  ام سلیم کے ساتھ مہربانی کرنا،اور اس کے سوال کا سننا،اور اس کے طلب   کے جواب کیلئے جلدی کرنا،اور اسکے چھوٹے (بچے) کیلئے دعا میں مبالغہ کرنا تاکہ اسکی رغبت پوری ہوسکے اور اسے خوشی حاصل ہوسکے۔جیسا کہ انس  نے فرمایا:‘‘کہ انہوں نے میرے لئے ہر بھلائی کی دعا فرمائی’’۔ اور ایک روایت میں ہے: ‘‘دنیا وآخرت کی جتنی بھی بھلائی تھی سب  کی میرے لئے دعا فرمائی’’۔

۴۔مسلمان شخص کا اپنے بھائی کے لئے دنیا وآخرت  کی بھلائی کی دعا کا جواز، اور مال واولاد کی زیادتی کیلئے دعا  کرنا،اور یہ کہ یہ چیز اخروی بھلائی کے منافی نہیں ہے،کیونکہ نیک اولاد اور پاک مال  کے ذریعے آخرت کے (امور) میں مدد حاصل کی جاتی ہے۔(6).

۵۔دنیاوی امور سے  متعلق کسی چیز کے بارے میں دعا کرتے وقت اچھے ادب میں سے ہے کہ اس دعا کے ساتھ برکت کے طلب  اور خطرات سے حفاظت کا اضافہ کردیا جائے،اور جب مال واولاد میں برکت شامل ہوگی تو اس میں کوئی فتنہ نہیں رہے گا،اور اس کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں  حاصل ہوگا، اور نہ ہی کسی کے حق میں کوئی  کوتاہی ہوگی، اور نہ ہی اسکے علاوہ کوئی  آفتیں لاحق ہوں گی۔اور انس رضی اللہ عنہ  اور ان کی اولاد رحمت   وبھلائی اور نفع کا سبب تھی، اور سبھوں نے قرآن حفظ کر رکھا تھا، اور  زیورعلم سے  آراستہ تھے(7) .

۶-یہ حدیث  مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے اس طور پر کہ اس میں دعا کے قبولیت کا معجزہ پایا جاتا ہے، اور نادر امر کا حصول پایا جاتا ہے، اور وہ  اولاد کی  زیادتی کے ساتھ مال کی زیادتی کا جمع ہونا ہے، اور اس  با غیچہ کا ہونا  ہے  جو سال میں دو مرتبہ پھل لاتا ہے۔

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ‘‘ اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے، اور میرے بیٹے اور میرے بیٹوں کے بیٹے شمار کے مطابق سو کے قریب تھے’’۔

اور فرمایا: ‘‘ میرے لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دعا فرمائی، جس میں سے دو کو میں دنیا میں دیکھ(پا) چکا ہوں اور تیسرے کی آخرت میں امید رکھتا ہوں

اور انس رضی اللہ عنہ نے ان عطیّات کا جس کا اللہ نے ان پر نبی کی دعوت کو قبول کرکے احسان کیا تھا اسے اللہ کی نعمت کی تحدیث اور شکر کے طور پر بیان کیا ہے۔

۷۔فقیری ومالداری اللہ عزوجلّ کی طرف سے ایک آزمائش ہے جسکے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو شکر وصبر میں آزماتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے:

(كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ) (9).

مالداری کا فتنہ: مال کے جمع کرنے کا حرص، اسکی محبّت، اسے حرام طریقے سے کمانا اور واجبات وغیرہ میں خرچ کرنے سے رُکنا ہے۔

فقیری کا فتنہ: ایسے رسواکن فقر کا حاصل ہونا جس کے ساتھ کوئی خیروورع اور صبر نہ پائی جائے جس کے سبب فقیر شخص ایسے مشکل میں پھنس جائے جو دیندار وصاحب مروّت شخص کے لئے زیب نہیں دیتا، اور اس فقر کے سبب کسی بھی حرام کے ارتکاب کی پرواہ نہیں کرتا۔

اور جیسا کہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ایسے فقر سے پناہ چاہتے تھے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے  ):اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم،‏‏‏‏ والمأثم والمغرم،‏‏‏‏ ومن فتنة القبر وعذاب القبر،‏‏‏‏ ومن فتنة النار وعذاب النار،‏‏‏‏ ومن شر فتنة الغنى،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الفقر،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال،‏‏‏‏ اللهم اغسل عني خطاياي بماء الثلج والبرد،‏‏‏‏ ونق قلبي من الخطايا،‏‏‏‏ كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس،‏‏‏‏ وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب(

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بہت زیادہ بڑھاپے سے، گناہ سے، قرض سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور دوزخ کی آزمائش سے اور دوزخ کے عذاب سے اور مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے۔ اے اللہ! مجھ سے میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک صاف کر دیا اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب میں دوری ہے۔(10)  .

اور بہتری ساری کی ساری برابری میں ہے،اور یہ زیادہ حد سے تجاوز کرنے والی مالداری اور سخت فقر کی حالت  کے درمیان اوسط درجہ کی محفوظ حالت ہے، اور سخت حاجت اور سوال کی ذلّت سے محفوظ رہنا ہے۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا وآخرت کی بھلائی نچھاور کرے احسان کیا ہے،چنانچہ ارشاد باری ہے:

(أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوَى{6} وَوَجَدَكَ ضَالّاً فَهَدَى{7} وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى) (11).

اور یہ دعویٰ کہ جمہور صحابہ زہد وتقوی پر تھے ممنوع ہے،جیسا کہ فتوحات کے بعد ان کے احوال سے مشہور ہے، چنانچہ ان میں سے بعض نے اپنے پاس باقی مال ودولت کو روک لیا، اور ساتھ ہی ساتھ بھلائی وصلہ رحمی کے ذریعہ تقرب الی اللہ کو باقی رکھا،اور ان میں سے بعض اپنی پہلی حالت پر مستمرّ رہے، چنانچہ وہ کسی چیز کو باقی نہیں رکھے جبکہ دوسری جماعت کے بہ نسبت وہ کم تھے۔اور جو سلف کی سیرتوں کی گہرائی میں جائے گا تو اس بات کی صحت کو یقینی طور پر جان لے گا، اور اس سلسلہ میں ان کے اخباربے شمار ہیں۔

اور فقیری کو مالداری اور مالداری کو فقیری پر فوقیت دینے کے سلسلے میں علمائے کرام کے درمیان کافی اختلاف پایا جاتا ہے،  چنانچہ بعض علماء نے فقیری کو مالداری  پر ترجیح دی ہے، اور اس سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان سے استدلال پکڑا ہے: «اطّلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء » (12)،

میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر غریب لوگوں کو پایا ’’۔(12)،

اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: فقر مومن کے نزدیک زیادہ زینت بخش ہے اس بہترین لگام وزین سے جو گھوڑے کے رخسار پر ہوتا ہے’’۔ (13) وغیرہ۔اسی طرح دنیا سے بے رغبتی اور اسکی زینت سے اعراض کے سلسلے میں بھی اس کے حال سے استدلا ل پکڑا ہے۔

اور علماء میں سے بعض نے مالداری کو ترجیح دی ہے،اور انہوں نے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے استدلال کیا ہے جب آپ دائیں پہلو سوتے وقت کہا کرتے تھے: «اللهم رب السماوات ورب الأرض ورب العرش العظيم ..... اقض عنّا الدين وأغننا من الفقر....» (14)

اے آسمان وزمین اور عرش عظیم کے رب ـــ ہم سے قرض کو ختم کرـــاور ہمیں فقیری سے بے نیاز کرــ ۔ ـ’’

وقوله صلى الله عليه وسلم : «لا حسد إلا في اثنتين رجلٍ آتاه الله مالاً فسلّطه على هلكَته في الحق، ورجلٍ آتاه الله حكمةً فهو يقضي بها ويعلِّمها »(15) .

اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘رشک دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے (مال کو) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔

اور علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ: ‘‘ہم نبیوں، صحابیوں،عابدوں، اور مجتہدین میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں جانتے کہ وہ کہتے تھے: کہ اے اللہ! ہمیں فقیرومحتاج بنادے’’۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات پر مجبور کیا ہے، بلکہ اللہ نے انہیں اس بات کے کہنے کو کہا ہے کہ: ‘‘ اے اللہ! مجھے رزق دے، اے اللہ ! مجھے عافیت عطا کر...’’۔

اور مطرّف رحمۃ اللہ علیہ کہتے تھے: ‘‘میراعافیت پانا اور اس پے شکر ادا کرنا میرے نزدیک اس بات سے زیاد ہ بہتر ہے کہ میں آزمائش میں مبتلا کیا جاؤں اور صبر کروں’’۔

حاصل یہ ہے کہ فقیری اورمالداری کی آزمائش بیماری اورعافیت کی طرح ہے،اور جو شخص دنیا کی مصیبت پر صبر کرے گا،اور اسباب کے اختیارکرنے کے ساتھ اللہ کی تقسیم سے راضی ہوگا،تو اللہ رب العزّت آخرت میں اسے عظیم ثواب سے نوازے گا۔ اور جو شخص دنیا کے نصیبے سے نوازا گیا، اور اس پر اللہ کا شکر ادا کیا، اور اس سلسلے میں اللہ کے حق کو بجالایا،اور اس سے بھلائی ،نیکی، صلی رحمی اور دین اسلام کی نصرت کے کاموں میں خرچ کیا،اور اس کے ذریعہ اللہ تعالی کو ناراض کرنے والے امور سے بچا، اور اس پر صبر کیا تو یہ تقرب الہی کے سلسلے میں بھلائی کا کام ہوگا، اور متعدی نفع میں وافر نصیب والا ہوگا۔

جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنے مال میں سے کثرت سے صدقہ وخیرات کیا، اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ: اے ثابت (البنانی) میں پیلے(سونا) اورسفید(چاندی) میں سے صرف اپنی انگوٹھی ہی باقی رکھا ہوں’’۔(16).

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1)  متفق عليه ، أخرجه البخاري - واللفظ له - (ص536 ح 6378)، و (ص533 ح6334) و (ص534 ح6344) بلفظه، مگر انہوں نے کہا: میری ماں، اور ام سلیم کا ذکر نہیں کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے (ص155 ح1982) روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے (اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس (رضی اللہ عنہ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر (انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔وأخرجه مسلم (ص1113 ح2480_2481)، و (ص780 ح660).

 (2)  أخرجها البخاري ( ص101 ح1301) و (ص471 ص5470) و مسلم (ص1060 ح2144). انس رضی اللہ عنہ سے دونوں نے روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ (ان کی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے (یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں)۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو...۔ .... » الحديث مختصرًا .

(3)  ينظر: الاستيعاب (4/1940)، صفوة الصفوة (2/66)، أسد الغابة (6/345)، الإصابة (8/228).

(4)  ينظر: معجم مقاييس اللغة (ص109)، لسان العرب (10/396 )، مختار الصحاح (ص20)، مشارق الأنوار (1/113).

(5)  سير أعلام النبلاء (2/305).

(6)  شرح ابن بطال (10/174)، فتح الباري (4/288).

(7) المنهاج (16/258)، وعمدة القاري (22/297).

(8)  ينظر: فتح الباري (4/288).

(9)  سورة الأنبياء، الآية: 35 .

(10)  رواه البخاري (ص535 ح6368) بنحوه، ورواه مسلم – واللفظ له - (ص1148 ح589).

(11)  سورة الضحى، الآيات: 6- 8 .

(12)  رواه البخاري (ص542 ح6449) ، و مسلم  (ص1152 ح2737).

(13)  رواه الطبراني في الكبير (7/294 ح7181) ، قال ابن تيمية – رحمه الله -: كذب وسنده ضعيف. ا. هـ

والمعروف أنه من كلام عبدالرحمن بن زياد كما رواه ابن عدي في كامله (1/344). كشف الخفاء (2/113).

(14)  رواه مسلم (ص1149 ح2713).

(15)  متفق عليه، رواه البخاري (ص110 ح1409)، ومسلم (ص805 ح816) .

(16)  رواه أحمد في المسند (3/248). وقد سئل شيخ الإسلام ابن تيمية – رحمه الله -: عن تفضيل الغنيّ الشاكـر على الفقير الصـابر ، فقال: أفضلهما أتقاهما لله تعالى فإن استويا في التقوى استويا في الدرجة ([16]).

·  ينظر في هذه المسألة :

 

شـرح ابن بطال (10/167)، تأويل مختلف الحديث (ص155- 158)، إحياء علـوم الدين (4/201)، فتـح الباري (11/329)، فيض القدير (5/479)، شرح الزرقاني (2/46)، الديباج (3/137)، أدب الدنيا والدين (ص189) .

التعليقات  

#5 حدیث: ((اے اللہ! تو اس کے مال واولاد میں زیادتی عطا کر...))Nora ٢٣ شعبان ١٤٣٨هـ
Смотрите лучше здесь:
ландшафтный дизайн [goo.gl: https://goo.gl/1VtnrH]
https://goo.gl/Q9AIWn

Visit my web blog ландшафтный дизайн (Ila: https://goo.gl/JmNlqN)
اقتباس
#4 حدیث: ((اے اللہ! تو اس کے مال واولاد میں زیادتی عطا کر...))Anglea ١٦ شعبان ١٤٣٨هـ
I was recommended this website through my cousin. I am no longer
positive whether or not this post is written via him as no one else realize such designated approximately
my trouble. You are amazing! Thanks!

My web blog: more resources (Agnes: http://www.Nobleraiders.com/index.php/kunena/user/3370-urajehere)
اقتباس
#3 حدیث: ((اے اللہ! تو اس کے مال واولاد میں زیادتی عطا کر...))Zandra ١٦ شعبان ١٤٣٨هـ
Your style is so unique in comparison to other folks I have read stuff from.
Many thanks for posting when you've got the opportunity, Guess I'll just bookmark this page.


Also visit my web-site: Suggested Internet site (http://dycw.cnzyc.cn: http://dycw.cnzyc.cn/member/index.php?uid=oradena)
اقتباس
#2 حدیث: ((اے اللہ! تو اس کے مال واولاد میں زیادتی عطا کر...))Kristine ١٤ شعبان ١٤٣٨هـ
It's really a great and helpful piece of info.
I am satisfied that you shared this useful info with us. Please keep us informed like this.
Thank you for sharing.

My homepage: Full Survey; tiastanleyteam.com: http://tiastanleyteam.com/groups/a-candida-free-vagina-is-everyones-objective/,
اقتباس
#1 حدیث: ((اے اللہ! تو اس کے مال واولاد میں زیادتی عطا کر...))Senaida ١٠ رجب ١٤٣٨هـ
Hello! This post couldn't be written any better! Reading this post reminds me of my good old room mate!
He always kept chatting about this. I will forward this post to
him. Pretty sure he will have a good read. Many thanks for sharing!



Take a look at my blog post :: bit.ly: http://bit.ly/1VxVlEc
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث