حلقہ(۱)

                               عورت اور علم (۱۔۲)

بے شک ہر طرح کی تعریف  صرف اللہ کے لئے زیبا ہے، ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں  ،اسی سے  مدد طلب کرتےہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں اور اسی سے ہم اپنی نفسوں کی شرارتوں  اور اپنے  اعمال  کی بُرائیوں سے پناہ  طلب کرتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ہے۔اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی(برحق) معبود نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس  کے بندے اور رسول ہیں، اللہ کی ان پر، ان کے خاندان ،ان کے صحابہ اور بدلے کے دن (قیامت) تک ان کی سچی پیروی کرنے والوں پر درود وسلام نازل ہو۔

حمد وصلاۃ کے بعد:

اسلام  میں عورت  کا نہایت ہی عظیم مقام ومرتبہ ہے، (اس کے ساتھ لاپرواہی  برتنے کے بعد اس کا اعتبار کیا گیا، اور گمراہی کے بعد اسے ہدایت ملی، ذلّت کے بعد اسے عزّت حاصل ہوئی، جہالت کے بعد تعلیم ملی، اس نے اپنی  فرئض کو پورا کیا، مردوں سے مقابلہ کیا او ر بعض دفعہ ان سے سبقت لے گئی،چنانچہ سب سے پہلے ایمان  لانے والی ، اور اللہ کی راہ میں شہادت کا جام نوش کرنے والی، اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والی عورت ہی تھی، اسی طرح دین کی نشرواشاعت اور اسکی حفاظت  اور اسکی تبلیغ   میں بھی عورت کی کافی شراکت رہی ہے۔

 اور مسلمان عورت  کے خود اعتمادی، مقام ومرتبہ  کے اعتزاز وفخر اور اسلامی رشک  میں اضافہ ہوا، چنانچہ   مختلف زمانے اور سال میں دنیاکے تمام خطّہ میں  بہت  سی  واعظہ، فقیہہ، عالمہ اور محدّثہ ہوئیں، اور عورت نے کافی   ٹھوکریں کھانے اور بربادی کے بعد اپنے آپ کو پالیا، اور ایک حال سے دوسرے حالت کی طرف منتقل ہوئی، اس حالت سے جس میں وہ کافی ذلیل تھی  ،اور اسکے حق وعزت مسلوب ہوچکے تھے، اس کی رائے ومشورے کا کوئی اعتبار نہیں تھا، مردوں نے اسے نہایت ہی ذلت ورسوائی کے ساتھ غلام بنا رکھا تھا، اگر وہ سوال کرتی تو اسکا جواب نہیں دیا جاتا، اور اگر اس کی ضرورت  محسوس ہوتی تو صرف   لکڑی(ایندھن)جمع کرنے اور اور اونٹوں کے لئے گھٹلی چننے کے لئے  طلب کیا جاتا، اور اگر وہ بہتر رخ والی  ہوتی تو شہوت کا نشانہ بنایا جاتا،دنیا میں آنے سے لے کر اس  کے دنیا سے رخصت ہونے تک،  اور اس کے سلسلے میں نفوس غصے  سے حیرت واضطراب میں پڑجاتیں، کہ آیا اسے ذلت کے ساتھ زندہ رکھیں یا اسے مٹی میں دبا دیں؟

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :’’ زمانہ جاہلیت میں جب عورت حاملہ ہوتی اور اسکی پیدائش کا وقت آتا تو ایک گڑھا کھود دیا جاتا  اور اُسی گڑھے کے سرے پر وہ  دردزہ میں مبتلا ہوتی، پس اگر وہ بچی جنم دیتی تو اسی گڑھے میں پھنیک دیتی، اور اگر بچہ جنتی تو اسے روک لیتی (دفن نہ کرتی) ‘‘۔

اور قتادہ  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ’’جاہلیت میں  سے  کچھ لوگ اپنےکتے کی پرورش کرتے لیکن اپنی بیٹی کو زندہ درگور کردیتےتھے ‘‘۔

اسلام نے آکر  ذلیل اور حق سے عاری عورت کو عزت وسربلندی عطا کیا۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ہم زمانہ جاہلیت میں عورتو ں کو کچھ بھی نہیں شمار  کرتے تھے، اور ہم انہیں اپنے کسی معاملے میں  شامل نہیں کرتے تھے، بلکہ ہم جب مکہ میں تھے  ہم  میں سے کوئی اپنی بیوی سے بات نہیں کرتا تھا، جب کسی کو عورت کی حاجت ہوتی تو اس کے پیر کو کھینچتا اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرتا، لیکن جب اسلام آیا،  تو اللہ نے انہیں جو درجہ دینا چاہا دیا اور ان کے حقوق متعین کئے‘‘۔

بلکہ اللہ نے ان کی تکریم کی اور ان کے نام سے ایک سورت (سورۃ النساء) رکھا، اور ان کے ساتھ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے اعتبار سے بھلائی کی وصیّت  فرمائی۔

اورعورتیں اس حال سے   ایسی حالت کی طرف منتقل ہوگئیں  جہاں پہنچ کر ہدایت کا چراغ بن گئیں، اور نوروروشنی کا مرکز بن گئیں، اور مربیات، استانیاں، صالحات، ریفارمرس اور داعیات ہوگئیں، مشکلات وپیچیدہ امور میں ان کی طرف رجوع کیا جانے لگا، اور ان کے ہاتھوں  بہت سارے بہادر، علماء اور حکماء نکلے،  چنانچہ ابتدائے اسلام میں عورت  بہت سارے مردوں سے آگے تھی، اور اسے (اس عہد )   میں ایسا مقام ومرتبہ حاصل تھا،  جس کے حق بیاں کرنے سے  روشنائی اور( انگلیوں کے) پور عاجز ہیں ۔

کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ:

سورج کا نام مؤنث  رکھنا عیب  کی بات نہیں ہے    اور مردوں کا نام مذکر سے ہونا کوئی فخرواعزاز نہیں ہے

اور اگر عورتیں  گزرے ایام کی طرح ہوتیں                                    تو مردوں پرفوقیت دی جاتیں

جبکہ عورت  دنیائے کفر میں ایک غلامی سے دوسری غلامی اور ایک ظلم سے دوسری ظلم کی طرف منتقل ہوتی رہی،  چنانچہ کل تک جو  عورت  سستےسامان میں خرید وفروخت کی جاتی  رہی،  آج  پروڈکٹس اور مختلف سامانوں  کے تشہیر وپرچار کے لئے  اس کا استغلال کیا جارہا ہے۔

اسلام میں عورت عالمہ ، فقیہہ اور محدّثہ بن کر نمایاں ہوئی، اور   قرآن کے تعلّم وتعلیم کے  علاوہ شریعت کے مختلف علوم حدیث ،فقہ اور عقیدہ  میں  کامیابی کا جھنڈا نصب کیا،  یا سبقت لے گئی، اور اس نے علم وتعلیم اور روایت ودعوت میں اپنے  کردار کو نبھایا، اور اللہ کے درج ذیل عمومی خطاب میں داخل ہوگئی:{قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ (9) } [الزمر: 9، 10]

اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے  کہ) کیا علم والے اور غیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں؟ اور ارشاد باری ہے:

 {يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِين َآمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ } [المجادلة: 11]

اللہ تعالی  تم میں سےان لوگوں کے جوایمان لائے ہیں  اور جو علم دئیے گئے ہیں درجے بلند کردے گا۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (من يرد الله به خيراً يفقهه في الدين) رواه البخاري ومسلم.

اللہ جس  کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے ( بخاری ومسلم)

اور آُ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

جو شخص طلب علم کےلیےراستہ طےکرتاہےاللہ تعالیٰ اس کےبدلےاسے جنت کی راہ چلاتاہے اور فرشتے طالب علم کی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائیں کرتی ہیں،  اور عالم کی فضیلت          عابد  پر ایسےہی ہے جیسے چودھویں  رات کی  تمام  ستاروں پر،  اور علماء  انبیاء کے وارث ہیں،  اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینارکانہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا لہذاجس نے علم حاصل کیا اس نےایک وافر حصہ لیا۔(اسے امام ابوداود  رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے سنن میں روایت کیا ہے)۔

اس سلسلہ کو لکھنے والی

ڈاکٹر: امیرہ الصاعدی

 

اسسٹنٹ پروفیسر،ام القری یونیورسٹی،مکہ مکرّمہ

أضف تعليق

كود امني
تحديث