حلقہ(۲)

عورت اور علم (۲۔۲)

علم کے خاص فضائل درج ذیل ہیں(1):

۱۔یہ انبیاء کی میراث ہے۔

۲۔علم باقی رہتا ہے اور مال فنا ہوجاتا ہے۔

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

( إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث، صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد  صالح يدعوا له) رواه مسلم.

جب انسا ن مرجاتا ہے تو اس کے سارے عمل منقطع ہوجاتے ہیں، مگر تین چیزوں(کا ثواب باقی رہتا ہے)

ا۔صدقہ جاریہ

ب۔نفع بخش علم

ج۔نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے  (اسے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے)۔

۳۔ صاحب علم کو کسی نگراں وچوکیدار کی حاجت نہیں ہوتی۔

کیونکہ اس کا مقام دل ہے جو کسی صندوقچے اور کنجیوں کا محتاج نہیں ، کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی آپ حفاظت کرتے ہیں۔

۴۔علم کے ذریعہ انسان حق کی شہادت دینے والا بنتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{شهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُوْلُوا الْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ}. [آلعمران: 18]

اللہ تعالی ٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۵۔اہل علم قیامت  تک اللہ کے حُکم پر قائم رہنے والے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:( من يرد الله به خيراً يفقهه في الدين ، وإنما أنا قاسم والله معطي ،ولن تزال هذه الأمة قائمة على أمر الله لا يضرهم من خالفهم  حتى يأتي أمر الله)(رواه البخاري). 

اللہ جس کے ساتھ کسی خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے، اور میں قاسم ہوں (علم بانٹنے والا)اور اللہ دینے والا ہے، اور ہمیشہ یہ امت(محمدیہ) اللہ کے حکم پر قائم رہے گی ، اس کی مخالفت کرنے والا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے،،۔ (بخاری)

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’ اگر اس سے اہل حدیث مراد نہیں تو میں نہیں جانتا کہ اور کون ہے ‘‘۔

۶۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونعمتوں کے علاوہ کسی بھی نعمت پر رشک کرنے کی ترغیب نہیں دی ،علم کا حصول اور اس پر عمل کرنا ہے اور  ایسا تاجر جو اسلام کا خادم ہو۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( لا حسد إلا في اثنتين : رجل أتاه الله مالاً فسلطه على هلكته في الحق، ورجل آتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها) متفق عليه.

دو چیزوں کے علاوہ کسی چیز میں رشک کرنا جائز نہیں ہے ایک ایسا شخص جس کو اللہ نے مال سے نوازا ہے اور وہ اسے حق کے راستہ میں خرچ کرتا ہے، اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے حکمت عطا کی ہے سو وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اسکی تعلیم دیتا ہے ( اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے)۔

لا حسد: یعنی ان دو چیزوں سے  بڑھ کر کسی چیز میں رشک نہیں ہے۔

ان دونوں میں حصر کی وجہ یہ ہے کہ:نیکیاں  وطاعات یا تو بدنی ہوتی ہیں یا مالی  یا دونوں ہوتی ہیں، اور  بدنی کی طرف  اشارہ حکمت کے عطا کرنے اور اس کے ذریعہ انصاف کرنے اور اس کی تعلیم دینے     سے اشارہ کیا گیا ہے’’  ( الفتح 1/167)

۷۔ یہ علم جنت کا  راستہ ہے:

ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے طریقہ کو اپناتا ہے جس میں علم کو تلاش کرتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے ذریعہ جنت کے راستہ کو آسان کردیتا ہے ۔(اسے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ( سهل الله له طريقا ) یعنی اس کے لئے آخرت میں طریقہ آسان کردیتا ہے، یا دنیا میں ہی جنت  میں لے جانے والے اعمال کی توفیق دے دیتا ہے ۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس میں علم کے تلاش کرنے والے پر علم کے آسان کرنے کی بشارت ہے،کیونکہ اس کا طلب جنت تک پہنچانے والے راستے میں سے ہے۔  (الفتح 1/160)

۸۔علم ایسی روشنی ہے جس کےذریعہ بندہ روشنی حاصل کرتا ہے، چنانچہ وہ اپنے رب کی عبادت  کی کیفیت کے بارے میں جانتا ہے، اور کیسے اسکا رب اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اسے بھی جانتا ہے،سووہ اس معاملہ میں  یقین وبصیرت پر ہوتا ہے۔

۹۔عالم شخص ایسا نور ہے جس سے لوگ اپنے دینی و دنیاوی امور میں ہدایت  حاصل کرتے ہیں۔

۱۰۔ اللہ رب العزّت اہل علم کو دنیا وآخرت  میں بلند کرتا ہے ۔

ارشاد باری ہے:

 {يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ } [المجادلة: 11]

اللہ تعالی ٰ تم میں سےان لوگوں کے جو ایمان  لائے ہیں  اور جو علم دئیے گئے ہیں درجے بلند کردے گا۔

۱۱۔ طلب علم سب سے بہترین اعمال میں سے ہے، بلکہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے  سےبھی افضل ہے۔

علم کے بارے میں کیا ہی بہترین کہا گیا ہے:

ما لذة الخلق في الدنيا بأجمعهم                ولا الملوك وأهل اللهو والطرب

كلذتي في طلاب العلم يا ولدي               فالعلم معتمدي حقاً ومكتسبي

ما المال ما الأهل ما الأولاد كلهم             ألذّ عندي من علمي ومن كتبي

فمؤنسي دفتري والعلم مفتخري          وخاطري حاضري في العلم لم يغب

كل المسرات غير العلم فانية                يا حبذا العلم من فخر ومن حسب

ولا يغرنك كون الناس قد هجروا                أهل العلم وذموهم بلا سبب

فالعلم كنز وذخر ليس يعد                    كنز من الدر أو كنز من الذهب

اے پیارے بیٹے! دنیا کے تمام مخلوق، بادشاہوں، لہوولعب،اور ساز وباجےوالوں کو  وہ لذّت نہیں  نصیب   ہوتی  ہے جو لذّت مجھے علم کی طلب میں حاصل ہوتی ہے، کیونکہ علم میرا سہارا اور میری کمائی ہے۔

میرے نزدیک جو لذّ ت میرے علم اور میری کتاب میں ہے اتنی لذت نہ مال ،نہ اہل وعیال اورنہ اولاد میں ہے۔

میرا دفتر(کاپی) میرا غمخوار ہے اور میرا علم میرا ناز ہے، اور میرا دل ہمیشہ علم میں لگا رہتا ہے غائب نہیں ہوتا۔

علم کے علاوہ ساری خوشیاں زوال پذیر ہیں، کتنا ہی شاندار ہے علم فخر وحسب کے اعتبار سے۔

تمہیں یہ بات دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ لوگوں نے اہل علم کو چھوڑدیا ہے اور بغیر کسی وجہ کے  لوگوں نے ان کی مذمّت کی ہے، ، کیونکہ علم ایسا خزانہ اور ذخیرہ ہے جو سونے اور موتی کے خزانہ اور ذخیرہ سے بہتر ہے۔

حواشی:

(1) كتاب العلم لابن عثيمين

 

 

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث