اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ''اوپر والا ہاتھ  (دینے والا)نیچے والے ہاتھ  (لینے والے)سے بہتر ہے اور (خرچ کرنے کی) ابتدا ان لوگوں سے کرجن کی کفالت تیرےذمے ہے  اور بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری کے بعد (یعنی اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد)  ہو،  اور جو  سوال سے بچنا چاہے،اللہ اسے بچا لیتا ہے اور جو لوگوں سے بے نیازی اختیار کرے، اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔‘‘ (۱)

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی تعریف کی ہے جو  (لوگوں) کو دیتا ہے برخلاف اس شخص کے جو (لوگوں ) سے لیتا ہے، اور دینے والے کے ہاتھ کو بلند اور اونچا اور لینے والے ہاتھ کو نیچا اور سفلی بتایا ہے۔ نيز  اس میں سوال سے بچنے والے کے ليے اللہ تعالیٰ کےحکم  سے بے نیازی اور اس كى محتاجى کے ختم  ہونے کی خوشخبری ہے۔ صحابہ كرام میں سے كوئى سوال کرنا چاہتا تھا تو  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس كے سامنے  سب سے پہلے یہ حديث پيش كرتے تھے تاکہ وه دوسروں کے سامنے دست سوال دراز كرنے سے بچنے کی برکت حاصل  كرسکیں۔

چنانچہ حکیم بن حزام رضی الله عنہسے روایت ہے،  وہ کہتے ہیں کہ:  میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آیا تاکہ میں آپ سے سوال کروں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:  "بلا شبہ جو شخص لوگوں سے سوال کرتا ہے  اور اس  کو دے دیا جاتا ہے، وہ اس شخص کے مانند ہے جو کوئی چیز کھاتا ہے مگر جو چیز اس نے کھائی ہے اس کو اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری کے بعد (یعنی اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد)  ہو، اور صدقہ ان لوگوں سے شروع کرو جو لوگ تمہارے زیر کفالت ہوں۔" حکیم کہتے ہیں:  میں نے  کہا اے اللہ کے رسول!  اس ذات کی قسم جس نے آپ کو معزز ومکرم بنایا، میں کبھی بھی کسی شخص سے کچھ نہیں لوں گا۔" (۲ )

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ:  ایک مرتبہ ہم  مفلسى     کے شکار ہوگئے،  تو مجھ سے کہا گیا:  اگر تم رسول ﷺ کے پاس جاتے تو آپ ﷺ سے سوال کرتے، چنانچہ میں آپ کی طرف تیزی سے چل پڑا، تو آپ ﷺ نے مجھے سب سے پہلے يہ ہدايت فرمائى:  "جوشخص سوال سے بچنا چاہے، اللہ تعالیٰ اسے بچا ليتا ہے،  اور اور جو لوگوں سے بے نیازی اختیار کرے، اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، اور جو ہم سے سوال کرے ہم اس سے کوئی بھی چیزجو ہمارے پاس ہوتی ہے بچاکر نہیں رکھتے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ :  میں نے  اپنے نفس  سے رجوع کیا  (غور وفکر کیا)، تو میں نے  کہا:  کیوں نہ میں سوال کرنے سے باز  ہوں ، تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے  بچالے۔ چنانچہ  میں واپس پلٹ گیا، اس کے بعد میں نے نبی کریم ﷺ سے کسی ضرورت کے بارے میں سوال نہیں کیا، یہاں تک کہ دنیا ہم پر مائل ہوگئى ، تو ہميں اس میں غرق كر ديا سوائے  اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے  محفوظ رکھا۔"(۳)

 

________________________________________

 

۱۔ متفق علیہ، بخاری، کتاب "الزكاة"،   چنانچہ للہ تعالیٰ مجھے  بچالے،رکھتے۔‘‘عد) ہو،باب "لا صدقۃ الا عن ظهر غنى " حدیث نمبر: ۱۳۶۱۔۲/۵۱۸،  اور مسلم،کتاب "الزكاة "، باب"بيان أن اليد العليا خير .."، حدیث نمبر: ۱۰۳۳۔۲/ ۷۱۷۔

۲۔ اس حدیث کی تخریج امام طبرانی نے "المعجم الکبیر"  میں کیا ہے ، حدیث نمبر ۳۱۲۴ ۔۳/۲۰۱۔

۳۔ اس حدیث کی تخریج امام طبرانی نے اپنے تفسیر میں کیا ہے ۳/۹۹۔

 

 

التعليقات  

#1 inda rhaman ١٣ جمادی الاوّل ١٤٣٨هـ
mashallah
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث