عفت و عصمت کی خاطر (1-6)

۱۔ نکاح(شادی) کرنے پر ابھارا ہے، نبی کریم ﷺ  کا فرمان ہے :  "اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جوبھی شادی کے اخراجات کی طاقت  رکھے،  اسے  چاہيے کہ شادی کرلے، کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو( نکاح کی) طاقت نہیں رکھتا اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑدے گا۔" (۱)  بلکہ اپنے نفس کی عفت و عصمت کی خاطر نکاح کا  ا رادہ کرنے والے کی مدد کا وعدہ بھی کیا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ  کا فرمان ہے :"تین (طرح کے لوگ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم  کر لیا ہے ان میں سے  ایک كا  ذکر کیا ایسا نکاح کرنے والا جو  عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو۔" (۲)

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ....)

"تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔" (۳)

دوسرا:  فحش چیزوں کو حرام قراردیا ہے ، اور جو ان  سے باز نہ آئیں ان کے لئے دنیا میں ان پر کچھ حدود ، اور آخرت میں کچھ سزائیں   مقرر فرمائى ہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّي الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ...)

"آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو (۴)

چنانچہ  مثال کے طور پرشادی شدہ زانی  کی حد (سزا) پتھر مارمار کر ہلاک کرنا ہے، اور غیر شادی شدہ زانی کى حد(سزا)   سو کوڑا مارنا ہے، اور جس کی  فطرت  بدل  گئی ہو  پس وہ اپنے ہم جنس پراکتفاکرے ؛   آدمی آدمی کے ساتھ، عورت  عورت کے ساتھ ،یا چوپایوں کے ساتھ (حرام كارى  کریں)،  تو اس کی حد(سزا) نبی کریمﷺ کے اس فرمان  کے مطابق  ہے  : "فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔" (۵)

سزا کی اس شدت پر کوئی تعجب نہیں ہے  کیونکہ شہوت کا داعیہ دل میں ایمان کے داعیہ کی کمزوری کے ساتھ مضبوط  اور قوی ہوجاتا ہے،   اورشیطان اور  برے ساتھیوں  کا تسلط ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے زمین میں فساد عام ہوجاتا ہے،  اور ایسی حالت میں  ان خواہشات کو صرف  یہ سخت سزائيں روك  سكتى   ہیں۔  مزیدبرآں  اسلام نے  ان  حدود کو  معاشرہ کو بدعنوانی اور بے حیائی میں پڑنے سے بچانے والے حفاظتی باڑ بنانے کے بعدہی مقرر کیے  ہیں ۔ تاہم اگر کوئی معاشرہ  اس سے انکار کرتے ہوئے عفت وعصمت کا  لباس  اتار پھینکے،  اور  بے حیائی کے کیچڑ میں  گھس جائے، تو اللہ تعالیٰ اس پر دنیوی سزائیں  مسلط کردیتاہے شاید کہ وہ اس سے  رک جائے اور باز آجائے۔ 

چنانچہ عبداللہ بن  عمر  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم ان میں مبتلا ہو،(وہ پانچ باتیں یہ ہیں:) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش کاری ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں" (۶)

________________________________________

 

۱۔اس حدیث کی تخریج امام بخاری نے  باب "الصوم لمن خاف علی نفسہ العزوبۃ" میں کیا ہے، حدیث نمبر: ۱۸۰۶۔۲/۶۷۳، اور مسلم ،باب "استحباب النكاح لمن تاقت نفسہ إليہ.." حدیث نمبر: ۱۴۰۰۔۲/۱۰۱۸۔

۲۔ اس حدیث کی تخریج  امام ترمذی نے باب" ما جاء في المجاهد..." میں کیا ہے ، حدیث نمبر: ۱۶۵۵۔۴/۱۸۴، اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۲۵۱۸۔۲/۸۴۱، اور امام نسائی نے الکبری میں  باب "المکاتب " حدیث نمبر: ۵۰۱۴۔۳/۱۹۴میں تخریج کیا ہے،  احمد ، حدیث نمبر: ۷۴۱۰۔۲/۲۵۱۔ ارناؤوط نے کہا  ہے کہ :  اس کی اسناد قوی  ہے ،  اس کے رجال  ثقہ ہیں شیخین کے رجال کی طرح سوائے محمد بن عجلان کے، ابن حبان، باب" ثلاث حق على الله..."،  حدیث نمبر: ۴۰۳۰۔ ۹/۳۳۹۔

۳۔ سورہ نور،آیت نمبر : ۳۲۔

۴۔سورہ  اعراف، آیت نمبر: ۳۳۔

۵۔ اس حدیث کی تخریج ابو داؤد نے باب" فيمن عمل عمل قوم لوط"، حدیث نمبر : ۴۴۶۲۔۴/۱۵۸میں کیا ہے ، ترمذی، باب "ما جاء في حد اللوطي"، حدیث نمبر: ۱۴۵۶۔۴/ ۵۷،  ابن ماجہ، باب" فيمن عمل عمل قوم لوط"، حدیث نمبر: ۲۵۶۱۔۲/۸۵۶، احمد، حدیث نمبر: ۲۷۲۷۔۱/۳۰۰، حاکم، کتاب" الحدود"، حدیث نمبر: ۸۰۵۰۔۴/۳۹۶،  اور امام ذھبی نے  اس پر خاموشی اختیار کیا ہے،  دیکھیں  امام ذھبی کی کتاب الکبائر، صفحہ نمبر: ۵۵ اور اس  کے  مابعد ۔

۶۔ اس حدیث کی روایت  ابن ماجہ نے  کتاب " الفتن"   باب "العقوبات" حدیث نمبر: ۴۰۱۹۔۲/۱۳۳۲ میں کیا ہے ، اور امام حاکم نے کتاب" الفتن  والملاحم" باب" ذكر خمس بلاء أعاذ النبي منها للمسلمين" ۴/۵۴۰ میں روایت کیا ہے، امام حاکم نے کہا ہے :  اس حدیث کی  سند صحیح ہے  لیکن  بخارى ومسلم  نےاس کی تخریج نہیں کی ہے،  امام ذھبی نے ان کی موافقت کی ہے ، اور امام البانی  نے " صحیح الجامع"حدیث  نمبر: ۷۸۵۵۔۶/۳۰۶، اور " السلسلۃ الصحیحۃ" حدیث نمبر: ۱۰۶۔۱/۱۶۸ میں صحیح قرار دیا ہے۔

أضف تعليق

كود امني
تحديث