عفت و عصمت کی خاطر (2-6)

 

چھٹا:  اختلاط سے ممانعت: سب سے عظیم عبادت نماز میں بھی اختلاط سے منع کیا گیا ہے،  چنانچہ مردوں کی الگ صفیں ہوتی ہیں، اور عورتوں کی الگ صفیں ہوتی ہیں۔ حدیث میں وارد ہے کہ : "مرودں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہوتی ہے اور عورتوں کی سب سے بہتر صف  آخر والی ہوتی ہے ۔"  (۱)   اسى طرح نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے لئے ایک دن دینی امور کی تعلیم اور معرفت حاصل کرنے کے لئے خاص کیا تها،  تاکہ انہیں علم کے حصول کے لئے اختلاط کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور آپ ﷺ عورتوں کو کہا کرتے تھے کہ: "تم راستے کے کنارے  کو لازم پکڑو۔" (۲)، تاکہ مردوں سے ان كا اختلاط نہ ہو۔ نيز مردوزن کے مابین علیحدگی اور دوری رکھنےکی وجہ سے معاشره کی عفت و پاکدامنی کی حفاظت  اور اس کو فساد و برائی سے محفوظ رکھنے کا فائدہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔  

ساتواں: خلوت سے ممانعت : نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: " جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔"  (۳)

آٹھواں: اجازت طلبی کی مشروعیت:  اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتاً غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ)

"اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو، یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔"  (۴)

قرطبی رحمہ اللہ  کہتے ہیں کہ: "جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنی نوع  آدم  ۔ جن کو اس نے اپنےفضل وکرم سے نوازا۔ کو گھروں کے ساتھ مخصوص کیا، اوراس میں انہیں لوگوں کی نگاہوں سے پردے میں رکھا، اور ان کو انفرادی طور پر اس سے فائدہ اٹھانے پرقادربنایا، اور مخلوق پر پابندی عاید  کردی کہ باہر سے اس کے اندرونی چیزوں سے مطلع ہوں یااس میں اس کے مالک کی اجازت کے بغیر  داخل ہوں،  ان کی اس چیز کے ذریعہ تادیب فرمائی جس سے ان کی پردہ پوشی ہوسکے، تاکہ کوئی ان کے ستر اور پرده   كی چیزوں سے  مطلع نہ ہو سکے، چاہے دروازہ کھلا ہوا ہو  یا بند ہو،کیونکہ شریعت نے داخلہ کی حرمت کے ذریعہ اس کے (دروازہ کو) بند کررکھا ہے یہاں تک کہ اس کے مالک کی اجازت ہی اسے کھولے گا،بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دروازہ کے پاس آئے،اوروہاں سے اس طرح اجازت طلب کرے کہ گھر کے پرده کی کسی چیز پر مطلع نہ ہو، نہ تو آتے وقت اور نہ واپسی کے وقت۔‘‘ (۵)، اسی طرح  شریعت اسلامیہ نے بچوں کے لئے اپنے والدین سے تین اوقات میں اجازت طلب کرنے کو مشروع قرار دیا ہے،  جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمْ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنْ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاةِ الْعِشَاءِ ثَلاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ...)

"ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد، یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پرده کے ہیں۔ ان وقتوں کے ماسوا نہ تو تم پر کوئی گناه ہے نہ ان پر۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو (ہی)۔" (۶)

نواں: اللہ تعالیٰ نے عورت کے لئے حجاب(پردہ) کو مشروع قرار دیا ہے،  اور اس کو اپنی زیب وزینت کو اجنبی مردوں سے چھپانے کا حکم دیا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :

(يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً)

"اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے"۔ (۷)

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "اللہ تعالیٰ نے مومنہ عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ  اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے لئے نکلیں تو  وہ اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر  چادروں سے ڈھک لیا کریں"۔(۸).

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)

" مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کوظاہرنہ کریں، سوائے اس کے جوظاہرہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنےظاہرنہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ"۔ (۹)          

اور یہ حکم ان کو  تمام زیب وزینت کی جگہوں کو چھپانے کے لئے دیا گیا ہے، سوائے ان چیزوں کے جو بلا کسی قصد وارادہ کے خود سے ظاہر ہوجاتے  ہیں جیسے  لباس کے اطراف اور کنارے کا حصہ وغیرہ،  نہ کہ چہرہ،  کیونکہ یہ زیب وزینت اور خوبصورتی کا سب سے عظیم حصہ ہے، اور  جمال و خوبصورتی اور فتنے کا محور و مرکز ہے، اور یہ (چہرہ) عورت کے قصدو ارادہ کے بغیر ظاہر نہیں ہوتا ہے۔

اسى  طرح  جس  زینت  کو ظا ہر کرنے سے عورت کو منع کیا گیا ہے اسى  میں یہ بھی ہے کہ :  (وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ) یعنی عورت اپنے قدم کو زمیں پر اس طرح سے نہ رکھے  جس سے  اس کے پازیب کی آواز سنائی دے، کیونکہ زینت کی آواز  کو سنانا زیب وزینت کو ظاہر کرنے کے مانند ہے، اور مقصد اس کو چھپانا اور ستر کرنا ہے۔(۱۰)،  اسی طرح عورت کوخوشبولگاكر مردوں  کے سامنے (موجودگی میں) نکلنے سے منع کیا گیا ہے،  نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : "جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے"۔(۱۱)،  یہ  عورت کے  مسجد کی طرف نکلنے  کے متعلق  حكم    ہے ،  جو کہ اس رؤے زمین پر سب سے بہترین جگہ ہے، تو بھلا بازار کی طرف  کھلے عام نکلنے کی اجازت  کیسے دی جاسکتی ہے  ۔

دسواں:  اللہ تعالیٰ سے عفت و حیاء  کا سوال کرنا اور اس   کے لیے دعا   کرنا  مشروع کیا گیا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ کی ماثور دعاؤوں میں سے ایک دعا یہ ہے:  (اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى) "اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں"۔(۱۲)،   اور اسی طرح یہ  دعا : (اللهم إني أسألك الصحة والعفة، والأمانة وحسن الخلق، والرضا بالقدر)، ’’اے اللہ! میں تجھ سے صحت وتندرستى،  عفت و عصمت،امانت دارى، اچھے اخلاق اورتقدیر سے راضی ہونے کا سوال کرتا ہوں۔" (۱۳)  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  کا فرمان ہے: ’’اس امّت سے سب سے پہلے حیا اورامانت کو اٹھالیا جائے گا،لہذا اللہ سے ان دونوں کا سوال کرتے رہو۔ ‘‘ (۱۴)

 

________________________________________

۱۔ اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے باب" تسوية الصفوف... "حدیث نمبر ۴۴۰،۱/۳۲۶میں کیا ہے۔

۲۔اس کی تخریج ابو داؤنے  باب" مشي النساء مع الرجال في الطريق " حدیث نمبر ۵۲۷۲،۴/۳۶۹ میں کیا ہے، اور طبرانی نے "الکبیر"، حدیث نمبر ۵۸۰۔۱۹/۲۶۱ میں تخریج کیا ہے ۔

۳۔ اس  کی تخریج امام احمد ،حدیث نمبر ۱۷۷،۱/۲۶ میں کیا ہے، ارناؤوط  نے کہا ہے کہ :  یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے رجال   شیخین کے رجال کی طرح ثقہ ہیں، اور نسائی نے "الکبری" میں باب" خلوة الرجل بالمرأة "، حدیث نمبر ۹۲۱۹۔۵/۳۸۷، ابن حبان نے باب" الزجر أن يخلو المرء بامرأة أجنبية "، حدیث نمبر ۵۵۸۶۔۱۲/ ۳۹۹ میں ذکر کیا ہے۔

۴۔ سورہ نور ، آیت نمبر ۲۷۔

۵۔ الجامع لأحکام القرآن الکریم ۱۲/۲۱۲۔۲۲۰۔

۶۔سورہ نور، آیت نمبر ۵۸۔

۷۔ سورہ احزاب، آیت نمبر ۵۹۔  تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کا اپنے بال اور بقیہ  اس کے پورے  بدن(جسم) کا پردہ کرنا واجب ہے  تمام   اجنبی مردوں سے ایسے  کشادہ  چادروں کے ذریعہ  جو کہ اس کے پورے  بدن(جسم) کو  چھپا دیں،  چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف ہے۔

۸۔ اس کی تخریج طبری نے اپنے تفسیر ۲۰/ ۳۲۴ میں کیا ہے۔

۹۔ سورہ نور، آیت نمبر ۳۱۔

۱۰۔  دیکھیں:  الجامع لأحکام القرآن الکریم۱/۲۳۷۔

۱۱۔ اس حدیث کی تخریج ابو داؤد نے باب" المرأة تطيب للخروج "  میں ، حدیث نمبر ۴۱۷۴۔۴/۷۹، ابن ماجہ  باب" فتنة النساء "، حدیث نمبر ۴۰۰۲۔۲/۱۳۲۶، اور علامہ البانی اس کو صحیح قرار دیا ہے ، احمد، حدیث نمبر ۷۳۵۰۔۲/۲۴۶، ابن  خزیمہ باب" إيجاب الغسل على المتطيبة للخروج إلى المسجد "، حدیث نمبر ۱۶۸۲۔۳/۹۲۔

۱۲۔ اس کی تخریج امام مسلم نے باب" التعوذ من شر ما عمل ومن شر ما لم يعمل "، حدیث نمبر ۲۷۲۱۔۴/۲۰۸۷ میں کیا ہے ۔

۱۳۔ اس کی تخریج امام بخاری نے " الأدب الفرد" میں باب" من دعا الله أن يحسن خلقہ "، حدیث نمبر ۳۰۷ میں کیا ہے، اور خرائطی نے " مکارم الأخلاق" میں حدیث نمبر ۱۶۶ میں   ذکر کیا ہے۔

 

۱۴۔  اس کی  تخریج خرائطی نے " مکارم الأخلاق" میں حدیث نمبر ۱۷۸ میں کیا ہے۔ 

أضف تعليق

كود امني
تحديث