حلقہ (۲)

اصطلاح و دلالت اور سنت کی لغوی تعریف کے بارے میں ایک گفتگو  (۱‑۲)

 

لغوی معانی اور اصطلاحی معانی کے درمیان  فروق کےادراک  کی اہمیت:

بلا شبہ دلالت میں اختلاط و آمیزش  اور لغوی اور اصطلا حی معانی  کے ما بین فروق  کی عدم معرفت  بہت ہی سنگین امر ہے ،  کیونکہ  یہ اس کے اصحاب کو بہت برُے احکام  ، اور بہت گھٹیا نتائج سےدوچارکرنے کا سبب بنتا ہے۔

آنے والے صفحات میں ہم ان میں سے کچھ امور  کا ملاحظہ کریں گے، اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ سنت کی تعریف  سے پہلے،  لغوی  معانی اور اصطلاحی معانی کے درمیان فروق  کی جانکاری  حاصل کرلیں، بنابریں ہم کہتے:

ابو ہلال عسکری کہتے ہیں کہ : ’’اسم شرعی اور اسم عرفی کے درمیان فرق یہ ہے کہ  اسم شرعی وہ اسم ہے جسے  لغت میں اس کےاصلی معنی  سے منقول  کرکے  شریعت میں رونما ہونے والے کسی فعل یا حکم   کا نام دے دیا گیا ہو، جیسے: صلاۃ ، زکواۃ ، صوم ، کفر ، ایمان، اسلام  اور جو اس کے قریب ہوں  ، یہ اسماء  شریعت میں استعمال ہونے سے قبل کچھ معانی  میں استعمال ہوتے تھے ،  پھر شریعت میں دوسرے معانی میں استعمال ہونے لگے۔ اور ان کا  استعمال شرعی معنی میں اتنا زیادہ ہو گیا کہ وہ حقیقت میں اسی معنی کے لئے  ہو گئے، اور اصل معنی میں مجازا ًاستعمال ہونے لگے ، کیا  آپ’’صلاۃ‘‘ کا استعمال نہیں دیکھتے ہیں کہ اب’’دعا‘‘کے معنی میں مجازاً استعمال ہونے لگا ، جبکہ یہ اس کا اصلی  معنی تھا۔

اسم عرفی: وہ اسم ہےجو عرف استعمال کے ذریعہ اپنے باب سے منقول ہوگیا ہو ، جیسے : ہمارا قول’’دابۃ ‘‘جو عرف  عام  میں زمین پر  (رینگ رینگ کر) چلنے  والےبعض جانوروں  کا نام ہو گیا ہے ، جبکہ وہ اصل میں تمام  جانوروں کا  نام تھا۔

فقہاء  کے نزدیک:

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خطاب (قول) وارد ہو ، اور لغت میں اس کا استعمال  کسی چیزکے لئے ہو اور عرف عام میں اس کا استعمال  دوسرے معنی   میں ہو اور شریعت میں کسی اور معنی میں استعمال ہوا ہو ، تو ایسی حالت میں شرعی معنی پر محمول کرنا واجب اور ضروری ہے ، کیونکہ لغت میں جس معنی کے لئے  وضع کیا گیا ہے وہ اس سے منتقل ہوکر شرعی معنی میں ہوگیا  ، حالانکہ وہی اصل تھا۔  اسی طرح سے اگر کوئی خطاب عرف عام میں کسی معنی میں ہو اور لغت میں اس کے برخلاف ہو  تو اس کو عرف عام  کے معنی و مفہوم  پرمحمول کرنا واجب  اور ضروری ہے ، کیونکہ وہی اولی  ہے ۔ جس طرح سے شرعی لفظ کو اس معنی پر محمول کرنا ضروری ہے جس سے وہ معدول ہوا ہو ،  اور جب کلام شریعت میں مستعمل ہو تو زیادہ مناسب ہے کہ اس کو اس پر محمول کیا جائے  جو ماقبل مذکور ہو چکا ہے۔

اور شریعت کے تمام اسماء کے لیے بیان و وضاحت کی ضرورت ہو تی ہے ، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان :  (وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ) (البقرة:43).

’’نماز قائم کرو اور زکواۃ  ادا کرو۔‘‘(البقرة: 43).

کیونکہ دلیل سے یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ لغت میں  وہ جس معنی کے لئے بنایاگیا تھا اس کے علاوہ  معنی مراد  لیا گیا ہے۔

اوراس کی دو قسمیں ہیں :

پہلی قسم : اس سے وہ معنی مراد لیا جائے جس  کے لئے وہ بالکل وضع  ہی نہیں کیا گیا ہے  ، جیسے: صلاۃ اور زکواۃ ۔

دوسری قسم : لغت  میں جس  معنی  کے لئے وضع کیا گیا ہےوہی معنی مراد لیا جائے،لیکن  شریعت میں اس کواس چیز کا نام  بنا دیا جائےجو اس سے خصوصی طورپر واقع ہوتا ہے، یا وہ ایک مخصوص حد تک پہنچ جاتا ہے، تو گویاوہ  ایسے معنی میں استعمال ہوا ہے جس کےلیےدراصل وہ وضع نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی مثال : صیام ،وضوء اور اس کے مشابہ اسماء ہیں ۔(۱)

یہ ایک  اہم گفتگو ہے ، اور اس کی مزید وضاحت کے لئے  میں کہتا ہوں:       

 اسماء کی تین  قسمیں ہیں :

پہلی قسم :جس کی تعریف شریعت سے جانی جاتی ہو،  جیسے : ایمان ، صلاۃ ، زکواۃ ، صوم اور حج  ۔

دوسری قسم : جس کی تعریف لغت سے جانی جاتی ہو،  جیسے : شمس ، قمر ، رات اور دن۔

تیسری قسم: جس کی تعریف عرف عام سے جانی جاتی ہو،جیسے : قبض ۔

شرعی الفاظ  – گرچہ وہ اصل میں عربی ہیں –  لیکن  شریعت میں اس کے مراد و مفہوم کو جاننا ضروری ہے ، کیو نکہ شریعت  نےان الفاظ کو  ان کے اصلی مدلول و مفہوم سے ایسے معانی کی طرف منقول کردیاہے ہیں  جن کےاور اصلی معنی  کے مابین قدرے اشتراک پایا جاتا ہے۔

چناچہ ’’ صلاۃ‘‘ اصل لغت میں’’دعاء‘‘کے معنی میں تھا، تو  شریعت نے صلاۃ کو  چند اقوال و افعال اور مخصوص  ہیئتوں کےساتھ  خاص کردیا ۔

زکواۃ  اصل لغت میں ’’ نمو و زیادتی ‘‘کے معنی میں ہے،تو شریعت نے اس کے معنی کو اس   متعین حق  کے لئے مخصوص کردیا جو اس کے  مستحق لوگوں کو دیا جاتا ہےاس اعتبار سے کہ یہ دینا  نمو و زیادتی  کا ایک طریقہ ہے۔

صوم کا اصلی لغوی معنی’’ رکنا  ‘‘ ہے، توشریعت نے اس کے معنی کو مخصوص اوقات میں مخصوص چیزوں سے رکنے کے لئے  خاص کردیا۔

اسی طرح سے حج کا اصلی لغوی معنی’’قصد وارادہ‘‘  کے ہیں، توشریعت نے اس قصد و ارادہ کو  اللہ تعالی کے گھر بیت الحرام کی طرف  مخصوص اعمال کی ادائیگی  کے لئے  قصد کرنے کے ساتھ خاص کر دیا ۔

لہذا معلوم ہوا کہ شریعت  نےان الفاظ کو ان کے لغوی معنی سے کلی طور پر  منتقل نہیں کیا ہے  اور نہ ہی اسے اس کے اصلی لغوی معنی پر باقی رکھا ہے ، بلکہ شرعی طورپر اسے اس کے بعض موارد کے ساتھ مخصوص کردیا ہے ، جس طرح کہ لوگوں کا عرف  بعض الفاظ  کواس کےبعض موارد کے ساتھ مخصوص  کردیتا ہے ۔(۲)

اگر انسان  شرعی اصطلاحات کے ساتھ تعامل کرتے وقت  اس منھج سے اعراض کرتا ہے اور ان فروق کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا ہے  تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑے گا ، لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم  سنت کےلغوی اور اصطلاحی  معانی کے مابین اختلاف کی وجہوں کو بیان کریں ، آنے والےسطور میں ہم  اسی پر روشنی ڈالیں گے :

سنت کا لغوی معنی و مفہوم    

سنت لغت میں (سن) فعل سے مشتق ہے  سین کے فتحہ اور نون کے تشدید کے ساتھ ، یا (سنن) سے مشتق ہے ۔ اور یہ مادہ کسی چیز کے آسانی سے جاری ہونے اورمسلسل ہونے کو بتاتا ہے ۔ (۳) لہٰذا  یہ بتا تا ہے کہ کوئی چیز باربار ہوئی  یہاں تک  کہ وہ ایک قاعدہ ہوگیا۔

سنت کے متعدد معانی ہیں :

۱ ۔ جاری راستہ اور مروج و متبع طریقہ چاہے اچھا ہو یا برُا ۔اور سنت کا یہی معنی اصل اور غالب ہے ۔

ابن الاثیر کہتے ہیں کہ : ”حدیث کے اندر"سنت" اور اس سے بننے والے الفاظ کا بارہا ذکر ہوا ہے، اور اس کا اصل معنی طریقہ اور راستہ ہے 000“(۴) ،  اور  اچھا طریقہ اور  راستہ یا برُا طریقہ اور راستہ    ، اضافت اور وصف  کے ساتھ آتا ہے ۔

وصف کی مثال ، جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: '' جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اس کا اجراوراس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر ملے گا جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اورجس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اسے اس کا گناہ اوراس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ملے گا جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔'' (5).

  اضافت کی مثال :

 اضافت کی صورت میں ''سنت'' کا لفظ  مضاف الیہ کے حساب سے  مدح یا ذم  کے معنی میں استعمال ہوتاہے ، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” .... لہٰذا تم میری سنت کو اور ہدایت یاب خلفاے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو،اسے دانتوں سے جکڑ لو۔“ (6)

 یہاں پر سنت اچھے اورپسندیدہ معنی میں ہے ۔

دوسری جگہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”اللہ کے نزدیک مبغوض ترین لوگ تین ہیں: حرم کے اندر الحاد کرنے والا، اور اسلام میں جاہلیت کاطریقہ تلاش کرنے والا.....(7)

نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”تم  اپنے سے پیشتر لوگوں کے راستوں پر ضرور چلوگے بالشت بہ بالشت اور دست بہ دست، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم ان کی پیروی کروگے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہود ونصاریٰ؟ آپ نے فرمایا: تو اور کون؟“ (8).

یہاں پر سنت برُے اور مذموم معنی میں ہے ۔

اور اس کا اصل لغوی معنی آپ کے قول : "سننت الماء" سےماخوذ ہے,جب تم اس پرمسلسل اور لگا تار  پانی ڈالو۔

لسان العرب  میں ہے : "سن عليه الماء"یعنی اس پر پانی بہاىا ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ: پانی  کو آہستہ آہستہ  بہايا ...

اور ’’ سن الماء على وجهه ‘‘ یعنی اس پر  آہستہ آہستہ پانی  ڈالا۔

جوہری کہتے ہیں کہ : " سننت الماء على وجهي " یعنی بغیر رکے ہوئے آہستہ آہستہ   میں نےپانی ڈالا  ...  نیزمسجد میں دیہاتی کے پیشاب کرنے والی حدیث میں ہے : (فدعا بدلو من ماء فسنه عليه)(9)

یعنی ایک ڈول پانی منگاکر اس پر ڈال دیا۔ اور"السن"  کا معنی ہے:  آ ہستہ آ ہستہ   ڈالنا یا بہا نا...

اور اسی طرح عمرو بن عاص – رضی اللہ عنہ‑  کے موت کے وقت کی حدیث میں ہے کہ :   (فسنوا عليّ التراب سنا)(10)

  یعنی میرے اوپر آہستہ آہستہ  مٹی ڈالنا ۔  (11)

چنانچہ عرب نے جاری و سارى رہنے والےراستہ اور  متبع طریقہ کوانڈيلی جانے والی چیز سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس کے اجزاء  ایک ہی طرز پر برابر جاری رہتےہيں ، اور اسی معنی میں خالد بن عتبہ ھذلی کا یہ قول ہے :

فلا تجزعن من سيرة أنت سرتها   *   فأول راضٍ سنة من يسيرها(12)

 سو آپ اس راستے سے دل برداشتہ نہ ہوں جس پر آپ چل رہے ہیں، کیونکہ کسی راستے اورطریقے سے سب سے پہلے وہی راضی ہوتا ہے جو اس پر چلنے والا ہوتا ہے۔

اور اسی لغوی  دلالت میں سنت کا لفظ  قرآن کریم میں بھی وارد ہوا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمْ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلاَّ أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الأَوَّلِينَ) (الكهف:55).

"لوگوں کے پاس ہدایت آچکنے کے بعد انہیں ایمان نے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے صرف اسی چیز نے روکا کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آموجود ہوجائے۔ "

دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے : : (سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُسُلِنَا وَلا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلاً) (الإسراء:77).  

" ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردوبدل نہ پائیں گے۔ "

۲۔ سنت  بمعنی اتباع کیا جانے والانمونہ ، اور اقتداکیا جانے  والا امام

صاحب لسان کہتے ہیں کہ : سنَّ فلان طريقاً من الخير يسُنّه: یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ نیکی کا ایسا   کام شروع کرےجسے  اس کى قوم کے لوگ نہ جانتے ہوں ، پھر وہ اسے اپنا راستہ بنالیں اور اس پر چلنے لگیں۔ (13)

امام طبری کہتے ہیں کہ: ’’سنت وہ نمو نہ ہے جس کی اتباع کی جائے ، اور ایسا امام ہے جس کی اقتدا کی جائے۔ ‘‘ اسی سے  کہا جاتا ہے کہ : سَنّ فلان فينا سنة حسنة، وسن سنة سيئة.“  جب  وہ ایسا کام کرے جس پر اس کی اتباع کی جائےچاہے  وہ اچھا ہو یا برُا۔  اور اسی سے لبید بن ربیعہ کا یہ قول ہے :

من معشر سنَّت لهم آباؤهم   *  ولكل قومٍ سُنَّةٌ و إمَامُها(14)

وہ ایک ایسی جماعت سے ہیں جن کے لیے ان کے آباء و اجدادنے قابل اتباع طریقہ ایجاد کیا، اور ہر قوم کا ایک قابل تقلید نمونہ اور امام ہے۔                                                                    

اور سلیمان بن قتہ   کا قول ہے :

وإن الأُلى بالطفِّ(15) من آل هاشم *  تآسوا(16) فسنوا للكرام التآسيا(17)

مقام طف میں آل ھاشم کے لوگوں نے ایک دوسرے کی دلجوئی کی،تو اس طرح انہوں نے شریفوں کے لیے باہم تسلی دینے اور دلجوئی کرنے کا قابل تقلید نمونہ ایجاد کر دیا۔

  اور اس لغوی معنی کا   اطلاق حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہوا ہے جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ما من نفس تقتل ظلماً إلا كان على ابن آدم كفل من دمها ذلك أنه أول من سن القتل)(18) " ”جس نفس کو بھی ظلم کے طورپر قتل کیا جاتا ہےآدم کے بیٹے پر اس کا ایک حصہ ہے۔کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کانمونہ نکالا۔“

یعنی ہابیل کے قاتل قابیل پر ہر بہائے جانےوالےخون کی حصہ داری ہے   کیونکہ   اسی نے سب سے پہلے قتل کی ابتدا کی ہے۔  نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: "سب سے پہلے قتل کانمونہ نکالا" سے پتہ چلتا ہے کہ جس نے بھی کوئی طریقہ یا نمونہ نکالا تو وہ اس کے حق میں یا اس کے خلاف لکھا جائے گا۔ اور یہ حدیث اس بارے میں اساس ہے کہ ناجائز چیز پر مدد کرنا حرام ہے۔

اسی طرح عرب ہر اس شخص پر جس نے کسی کام کی ابتدا کی ہو اور اس  کے بعد کسی قوم نےاس پر عمل کیا ہو ،  یہ اطلاق کرتے ہیں کہ اسی نے اس عمل کوجاری کیا ہے ،  اور اس معنی میں  ’’نصیب‘‘  کا یہ شعر ہے :

كأني سننت الحب أول عاشق   *  من الناس إذ أحببت من بينهم وحدي

گویامیں نے ہی لوگوں میں سب سے پہلا عاشق ہونے کے طور پر رسم محبت کو جاری کیا ہے؛کیونکہ ان کے بیچ اکیلا میں نے ہی پیار کیا ہے۔

۳۔ سنت بمعنی : تزئین وآرائش اورصیقل کرنا:

جیسے  کہ کہا جاتا ہے : سنَّ الشيء يَسُنُّهُ سناً، وسنَّنَه أي: صقله وزينه.

 كسى چیزکو  مزین اور صیقل کرنا۔

صاحب لسان کہتے ہیں کہ : سنت سے مراد’’چہرہ  ‘‘ہے؛اس کی چکناہٹ اورچمک کی وجہ سے۔ اور کہا گیا ہے کہ: وہ چہرہ کا ظاہری حصہ ہے ، اور کہا گیا ہےکہ: چہرہ کادائره  (گھیرا) اور کہا گیا ہےکہ: پیشانی ،اوران سب میں چکناہٹ اورچمک کا معنی موجود  ہے۔(20)

اور اسی معنی میں عربوں کے اشعار وارد ہیں, اعشی کا قول ہے :

كريماً شمائله من بني    *   معاوية الأكرمين السُّنن

اس کے عادات و اطوار عمدہ و پسندیدہ ہیں وہ پسندیدہ چہرے والے بنو معاویہ سے ہے۔

اس شعر میں (الأكرمين السُّنن)  سے مرادمعزز چہرے  ہیں،    پس (السنن) سے مراد : چہرے ہیں اوریہ سنۃ کی جمع ہے۔ (۲۱)

ذو رمہ کا قول ہے :                          

تُريك سنة وجه غير مُقرفةٍ   *   ملساء ليس بها خالٌ ولا ندبُ

تجھے وہ  ایسی شکل وصورت والا چہرہ دکھائے گی جو بد شکل نہیں ہے، بلکہ وہ صاف وچکنا ہے اس میں کوئی نشان زخم اور آثار نہیں ہیں۔

اس شعر میں : "تريك سنة وجه" سے مراد : اس کے چہرے کے  گردکا دائرہ  ہے۔

ثعلب کا قول ہے :

بيضاء في المرآة سُنَّتها   *   في البيت تحت مواضع اللمس

آئینہ میں اس کا چہرہ سفید و روشن ہے جو گھر میں چھونے کی جگہوں کے نیچے ہے۔

اس شعر میں : (في المرآة سنتها): سے مراد : آئینہ   میں اس کا  چہرہ ہے۔ (۲۲)

اسى طرح حدیث شریف  میں  بهى اس معنی  میں وارد ہوا ہے، اور اسى  میں سے یہ حدیث ہے: (أنه - صلى الله عليه وسلم - حَضَّ على الصدقة، فقام رجل قبيح السنة)(23).  یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ پر ابھارا، تو ایک بد شکل آدمی کھڑا ہوا۔

یہاں سنت سے مراد: شكل وصورت   ہے  ۔

۴۔سنت کے معنی :کسی چیز کى دیکھ بھال اور نگرانی كرنا, جیسے کہ کہا جاتا ہے : "سن الإبل" جب وه  اچھی طرح سے اس كى دیکھ بھال اور نگرانی کرے۔

 اور وہ فعل جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مداومت برتتے تھے  اس کو سنت کا نام  اس معنی اور مفہوم میں دیا جاتا ہے کہ ؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کی اچھی طرح دیکھ بھال کی اور اس پر مداومت کی   ۔(۲۴)

۵۔ سنت کا معنی : بیان و وضاحت کے بھی ہیں ، جیسا کہ کہا جاتا ہے : "سن الأمر" یعنی اس نے معاملہ کی وضاحت کی، اور "سن الله أحكامه للناس"   یعنی اللہ نے لوگوں کے لیے اپنے احکام کو بیان اور واضح کیا۔

 چنانچہ  فسنة الله (اللہ کی سنت) : اس کے احکام ، اور اس کے اوامر و نواہی ہیں۔

اور "سنها الله للناس": یعنی  اللہ تعالی نے اسے لوگوں کے لئے بیان کيا ، اور حدیث میں ہے کہ : (إني لأَنسَى أو أُنسَّى لأسُنَّ)(25).

یعنی : مجھے نسیان اس لئے طاری ہو تا ہے ، تاکہ میں لوگوں کو سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کروں ، اور ان کے لئے  اس چیز کو بیان کردوں جس كى انہیں نسیان کی صورت میں ضرورت پڑے گی۔(۲۶)

 

حواشی:

(1)   الفروق، ص :56

(2)      دیکھیے:   فتاوى شيخ الإسلام ابن تيميۃ (7/298-302)،  ومختصر الصواعق المرسلۃ (2/347).

(3)      دیکھیے: مقاييس اللغۃ (3/60)

(4)      النهايۃفي غريب الحديث ، ص : 449.

(5)      مسلم، كتاب الزكاة،  باب الحث على الصدقۃ ولو بشق تمرة،  حدیث نمبر : (1017).

(6)      أبو داود، كتاب السنۃ،  باب لزوم السنۃ ، حدیث نمبر : (4607)،  ترمذي ،  كتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنۃ النبويۃ و اجتناب البدع ، حدیث نمبر : (2678) ،  اور ترمذى نے کہا ہے کہ  : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 (7)   بخاري، كتاب الديات،  باب من طلب دم امرئ بغير حق، حدیث نمبر : (6882).

(8)      بخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب و السنۃ،  باب قول النبي صلى الله عليه وسلم " لتتبعن سنن من كان قبلكم "، حدیث نمبر : (7320).

(9)     بخاري، كتاب الوضوء، باب ترك النبي - صلى الله عليه وسلم - والناس الأعرابي حتى فرغ من بولہ في المسجد حدیث نمبر : (57،  58)،  ومسلم، كتاب الطهارة، باب وجوب غسل البول وغيره من النجاسات إذا حصلت في المسجد ، حدیث نمبر : (284).

(10)    مسلم، كتاب الإيمان، باب كون الإسلام يهدم ما قبلہ، حدیث نمبر : (121).

(11)      لسان العرب 13/227، اور دیکھیے : القاموس المحيط 4/239،  و المعجم الوسيط 1/455، 456.

(12)    لسان العرب 12/225.

(13)    لسان العرب (13/225).

(14)    یعنی تو ایسی جماعت سے ہے جن کے آبا واجداد نے انہیں بلندی حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا ہے۔

 (15)    طف :  کوفہ کے قریب ایک جگہ  ہے۔

(16)      تآسوا : مواساۃ سے ہے، بمعنی مشارکت۔

(17)      تفسير الطبري 4/100.

(18)      بخاري  ،  كتاب الأنبياء، باب خلق آدم وذريته، حدیث نمبر : (3335)،  ومسلم كتاب القسامۃ، باب بيان إثم من سن القتل ، حدیث نمبر : (1677).

(19)      تكملة فتح الملهم (2/213).

(20)      اللسان 13/224

(21)      کہا جاتا ہے : سنن الطريق – سین کے زبراور پیش کے ساتھ- پہلا (سَنَن) مفرد ہے اور دوسرا (سُنَن) "سُنَّةٌ" کی جمع ہے، جادہ راہ اورواضح راستہ کو کہتے ہیں۔  

(22)    دیکھیے: لسان العرب 13/224، القاموس المحيط 4/239، المعجم الوسيط 1/455،456.

(23)      مسند أحمد  (4/288-296).

(24)      دیکھیے: لسان العرب (3/2121) ،  تاج العروس  (9/244،243).

(25)      مؤطا امام مالك ، كتاب السهو، باب العمل في السهو، حدیث نمبر : (2). ابن عبد البر کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طریق کے علاوہ کسی مسند یا منقطع طریق سے مروی ہے، اور یہ ان چار حدیثوں میں سے ایک ہے جو موطا میں ہیں  اور اس کے وعلاوہ کہیں بھی کسی مسند یا مرسل طریق سے موجودنہیں ہیں ، اور اس کا معنی اصول کے اندر صحیح ہے۔

 (26)  دیکھیے: لسان العرب (13/225) ،  القاموس المحيط  (4/238).

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

التعليقات  

#4 اصطلاح و دلالت اور سنت کی لغوی تعریف کے بارے میں ایک گفتگو (۱‑۲)Marion ٢٠ رجب ١٤٣٨هـ
Saved as a favorite, I love your web site!

Here is my web blog :: BHW: http://rrostami66.mihanblog.com/post/172
اقتباس
#3 اصطلاح و دلالت اور سنت کی لغوی تعریف کے بارے میں ایک گفتگو (۱‑۲)Claudia ١٥ رجب ١٤٣٨هـ
That is a good tip particularly to those fresh to the blogosphere.
Brief but very accurate info… Thank you for sharing this one.
A must read article!

Stop by my homepage - BHW: http://shahriyar-r61.mihanblog.com/post/38
اقتباس
#2 اصطلاح و دلالت اور سنت کی لغوی تعریف کے بارے میں ایک گفتگو (۱‑۲)Lorna ٤ رجب ١٤٣٨هـ
First of all I would like to say great blog! I had a quick question that I'd
like to ask if you do not mind. I was curious to know how you center
yourself and clear your thoughts prior to writing.
I have had a hard time clearing my mind in getting my thoughts out there.
I do enjoy writing but it just seems like the first 10 to 15 minutes are generally lost just trying to figure out how to begin. Any suggestions or tips?
Thank you!

Review my homepage - BHW: http://soonhack.mihanblog.com/post/44
اقتباس
#1 اصطلاح و دلالت اور سنت کی لغوی تعریف کے بارے میں ایک گفتگو (۱‑۲)Josephine ١ رجب ١٤٣٨هـ
Hey! This is kind of off topic but I need some help from an established
blog. Is it very difficult to set up your own blog? I'm not
very techincal but I can figure things out pretty quick.
I'm thinking about making my own but I'm not sure where to begin. Do you have any
tips or suggestions? Thanks

my web page; BHW: http://shrt.ch/page13.php
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث