حلقہ (5)

سنّت  نبی -صلی اللہ علیہ وسلم -کی زبانی (1-4)

سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی

اور سلف صالح کے مفہوم  میں

سنت نبوی اور اس سے متعلق  دیگر کتابوں کا پڑھنے والا اس بات کو پائے گا کہ سنت کا لفظ   نبی – صلی اللہ علیہ و سلم‑ کی زبان اور اسی طرح سے صحابہ اور تابعین کی زبان پربکثرت  وارد ہوا ہے،اور یہ حقیقت میں  وہ مشروع طریقہ ہے جس کی دین میں پیروی کی جاتی ہے، اور  سیدھا نبوی منہج ہے ،  اور ایسا  اس وجہ سے کہ یہ استحسان ،ثناء،طلب  اور اقتدا کے سیاق  میں آیا ہوا ہے، اور اس پر بہت ساری دلیلیں ہیں، جن میں سے بعض  درج ذیل ہیں:

۱۔انس بن مالک – رضی اللہ عنہ – سے روایت ہے  ، وہ کہتے ہیں کہ :

( جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي - صلى الله عليه وسلم - يسألون عن عبادة النبي - صلى الله عليه وسلم -، فلما أخبروا كأنهم تَقَالُّوها فقالوا: وأين نحن من النبي - صلى الله عليه وسلم -؟ قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، فقال أحدهم: أما أنا فأنا أصلي الليل أبداً، وقال آخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر، وقال آخر: أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدًا، فجاء إليهم رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: ((أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني)) (1)

"تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی  افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔لہذا جس نے  میری سنّت( طریقے) سے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے(1).

اس حدیث میں اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے " سنت " کا لفظ  شریعت کے جملہ  احکام پر دلالت کرنے کے لئے استعمال کیا ہے ،  چنانچہ اس  سے اعراض کرنے والا اسلام سے خارج  مانا جائے گا،  اگر اس کا اعراض  کرنا  بطور انکار ہے ۔

امام قسطلانی اس جگہ"سنت" کے مراد کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :

((والسنة مفرد مضاف يعم على الأرجح فيشمل الشهادتين وسائر أركان الإسلام، فيكون المعرض عن ذلك مرتداً))(2)

" کہ سنت  مفرد مضاف اور راجح طور پر عام ہے ،  لہذا   یہ شہادتین اور  بقیہ تمام  اسلام کے ارکان کو شامل ہے ،  لہذا اس سےاعراض کرنے والا مرتد ہو گا"۔(۲)

امام ابن حجر کہتے ہیں کہ :" سنت"  سے مراد : طریقہ ہے،  نہ کہ جو فرض کے  بالمقابل ہے.... اور اس سے مراد ہے: جس نے میرے طریقہ کو چھوڑ کر کسی اور کے طریقہ کو اختیار کیا ، تو وہ مجھ سے نہیں ہے "۔ (۳) 

۲۔ عرباض بن ساریہ‑رضی اللہ عنہ ‑ کہتے ہیں کہ :

(صلى بنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ذات يوم، ثم أقبل علينا فوعظنا موعظة بليغة، ذرفت منها العيون، ووجلت منها القلوب، فقال قائل: يا رسول الله! كأن هذه موعظة مودع فماذا تعهد إلينا؟ فقال: ((أوصيكم بتقوى الله، والسمع والطاعة، وإنْ عبدا حبشياً، فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافاً كثيراً، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، تمسكوا بها، وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة)) (4)  

" ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔

ابن علان کہتے ہیں کہ :( فعليكم بسنتي ) یعنی میرا طریقہ اور میرا  وہ سیدھا راستہ  جس پر میں قائم ہوں ،  اور جس سے تمہارے لئے واجب ، مندوب  وغیرہ عملی اور اعتقادی  احکام کو  کھول کھول کر بیان کر دیا ہوں  ۔

اور کچھ اصولی حضرات نے اس کو :" : المطلوب طلبًا غير جازم  "(ایسی چیزجسےپختگی سے نہ  طلب کیا جائے)  سے خاص کیا ہے ، یہ ایک عارضی اصطلاح ہے ، اس سے ان کا مقصد  سنت اور فرض کے مابین فرق کرنا ہے "۔  (۵)

علامہ عبد الغنی نابلسی  " الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية " نامی کتا ب میں رقم طراز ہیں کہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم‑ کا قول :" فعليكم بسنتي.... الحديث " :

یعنی اس کو  لازم پکڑو، جیسے کہ کہا جاتا ہے ،: (علیک زیدا) یعنی تم زید کو لازم پکڑو ، اور سنت نام ہے  آ پ کے اقوال ،افعال، اعتقادات  ، اخلاق اور دوسرے کے قول و فعل کے وقت آپ کےخاموش رہنے کاعنی تقریر کا)۔ 

اور" خلفاء " خلیفہ کی جمع ہے ، خلفاء سے مراد : چار خلیفہ ہیں :

1۔ ابو بکر ،۲۔ عمر ،۳۔ عثمان ،۴۔ اور علی – رضی اللہ عنہم۔

اور  آ پ کے اس قول :(عضوا عليها)  میں ضمیر مفرد ہے ، یہ اشارہ ہے   کہ آ پ کے بعد خلفاء کی سنت    بھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ،  کیو نکہ  انھوں نے آ پ کی لائی ہوئی شریعت سے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  طریقہ کا قصد  کرنے والوں کے لئے بطور ہدایت ورہنمائی کے مسنون کیا تھا ، نہ کہ اپنی جانب سے  اپنے اغرض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ۔ (۶)

سید شریف  علی جرجانی کہتے ہیں کہ :" آ پ کا قول (: وسنة الخلفاء) یعنی اس سے مراد: چاروں خلفاء ہیں ،  اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے علاوہ اور خلفاء کی نفی ہے

کیونکہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا ہے : ((يكون في أمتي اثنا عشر خليفة)) (7).  " کہ میری امت میں بارہ خلیفہ ہوں گے"۔(۷) ۔

 بلکہ اس سے ان کے امر  کی برتری ، ان کے رائے کی درستگی ، اور  غیروں پر انہیں  فوقیت دے کر ان کے لئے سرداری  ثابت کرنا ہے ۔ اور ان کی سنت کو آ پ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مقابلہ میں ذکر کرنے کا  مطلب یہ ہے کہ  آ پ کو معلوم تھا کہ اجتھاد کے ذریعہ   وہ لوگ سنت کے جن مسائل کا استنباط کریں گے اس میں وہ غلطی نہیں کریں گے ،  اور  آ پ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ا ٓپ کے کچھ سنتوں کا اشتہار  انہیں کے زمانہ میں ہو گا ، اس لئے اس سنت کو رد کرنے والوں کے وہم کو دور کرنے کے لئے سنت کی اضافت ان کی طرف کیا ۔ (۸)

امام منذری کہتے ہیں کہ : آ پ کا قول (عضوا عليها بالنواجذ )"  یعنی : سنّت کے بارے میں خوب محنت وکاوش سے کام لو، اور اسے لازم پکڑو،  اور اس  پر ( عمل ) کرنے  کے لئے حریص رہو ،  جس طرح سے کسی چیز کو کاٹنے والا ، یا پکڑ نے والا اپنے دانتوں سے پکڑے رہتا ہے ،  اس کو ضائع اور گرفت سے نکلنے کے ڈر سے ۔

نواجذ : (نون ،جیم اور دال)  کے نقطہ کے ساتھ ہے  ، یہ" انیاب "  (کچلی  کے دانت) ہیں ، اور اضراس (داڑھ کے دانت) بھی کہا گیا ہے’’۔ (۹)

۳۔ انس بن مالک – رضی اللہ عنہ – سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ :

 (قال لي رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: يا بني، إن قدرت أن تصبح وتمسي ليس في قلبك غش لأحد فافعل، ثم قال لي: يا بني، وذلك من سنتي، ومن أحيا سنتي فقد أحبني، ومن أحبني كان معي في الجنة) (10).

"اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے  مجھ سے فرمایا   کہ اے میرے بیٹے ! ، اگر  تو طاقت رکھے اس  امر کی  کہ تو صبح کرے اور شام کرے اس حال میں کہ تیرے دل میں کسی کے بارے میں کوئی  دھوکہ نہ ہو،تو ایساضرور کرنا۔ پھر فرمایا ، اے میرے بیٹے ! یہ میری سنت  میں سےہے ،  اورجس نے میری سنّت کو زندہ کیا تو اس نے مجھ سے محبّت کیا ، اور جو مجھ سے محبّت کرے گا وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا  " ۔(10).

 آ پ کا قول: (وذلك من سنتي )  یعنی : میرے طریقہ سے  ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا ، یعنی  اس کو قول و عمل کے ذریعہ  ظاہر اور عام کیا ، تو اس نے مجھ سے محبّت کیا، آپ کا قول: (فقد أحبني )  یعنی اس نے مجھ سے کامل محبت کا اظہار کیا ، کیونکہ  آ ثار کی محبت اس کے مصدر کے محبّت کی نشانی ہے ۔

اور اسی طرح آ پ کا قول: (ومن أحبني كان معي في الجنة ) اور جس نے مجھ سے محبت کیا وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا ، کیونکہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہوتاہے ، اور اللہ تعالی کا فرمان ہے :

 (ومن يطع الله والرسول فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين...) [ النساء: 69].

  "اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے ، تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام و اکرام کیا ہے  نبیوں میں سے۔۔۔"۔

۴۔ کثیر بن عبداللہ  روایت کرتے ہیں   اپنے باپ سے ، وہ اپنے دادا سے کہ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – نے بلال بن حارث  سے  کہا: ((اعلم، قال: ما أعلم يا رسول الله؟ قال: إنه من أحيا سنة من سنتي قد أميتت بعدي كان له من الأجر مثل من عمل بها من غير أن ينقص من أجورهم شيء... الحديث)) (11).

" کہ جان لو ، انھوں نے  عرض کیا : کیا جان لوں؟ اےاللہ کے رسول!  تو  آ پ نے فرمایا:  کہ جس نے بھی میرے بعد میری سنت میں سے کسی مردہ سنت کو زندہ کیا  ، تو اس کے لئے   اتنا ہی  اجر ہوگاجتنا اس پر عمل کرنے والے کا ہے ، اور ان کے اجروں میں سے کسی قسم کی کمی نہ ہوگی...الحدیث "۔  (11).

آ پ کا قول : (من سنتي)  اشرف کہتے ہیں کہ :" حدیث کا ظاہری نظم اس بات کا متقاضی ہے کہ (من سننی) کہا جائے ، لیکن (حدیث) کی روایت مفرد  صیغہ کے ساتھ ہے ، لہذا یہا ں اس سے مراد : جنس   ہوگا ، یعنی : میری طرف منسوب طریقوں میں سے ایک واجب یا مندوب  طریقہ جسے مجھ سے نص ّ یا استنباط کے طور پر لیا گیا ہے۔جیسا کہ سنت   کااس ضمیر کی طرف منسوب ہونے سے پتہ چلتا ہے جو عموم کا متقاضی ہے " ۔(۱۲)

۵۔ کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف بن زید بن ملحہ سے روایت ہے ،وہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا کہ: :......إن الدين بدأ غريبا ويرجع غريبا فطوبى للغرباء، الذين يصلحون ما أفسد الناس من بعدي من سنتي.  

"بے شک  دین کی ابتدا اجنبیت (نامانوسیت)کی حالت میں ہوئی ہےاور (عنقریب) وہ اجنبیت  کی طرف لوٹ جائے گا، لہذا ان غرباء  (اجنبی لوگوں)کے لئے  بشارت اور خوش خبری ہے ، جو لوگ میری اس سنت کی اصلاح فرمائیں گے جسے   میرے بعد   لوگوں نے خراب کردیا ہوگا۔" (۱۳)

۶۔ عبداللہ بن عمر – رضی اللہ عنہما  ‑ سے روایت ہے  وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا :

(لكل عمل شِرَّة - فترة حرص ونشاط - ولكل ِشرَّة فترة -فتور، أي ضعف- فمن كانت فترته إلى سنتي فقد اهتدى، ومن كانت فترته إلى غير ذلك فقد هلك).

" ہر عمل کے لئے ایک چستی ونشاط کا وقت ہوتا ہے، اور ہرچستی ونشاط کے لیے ایک فتور وکمزوری  کا وقفہ ہوتاہے، تو جس کا وقفہ میری سنت کی جانب ہوگا تو وہ ہدایت یافتہ ہوگیا، اور جس کا وقفہ  میری سنت کے علاوہ کی جانب ہوگا تو وہ ہلاک ہوگیا"۔(۱۴)

۷۔ حذیفہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں  کہ  : " حدثنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حديثين، رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر، حدثنا أن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال، ثم علموا من القرآن، ثم علموا من السنة...." (15).

"  ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں ارشاد فرمائیں۔ان میں سے ایک دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ:" امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اتری، پھر انہوں نے قرآن سے سیکھا، پھر سنت سے سیکھا... (15).

 ابن  حجر کہتے ہیں کہ  آ  پ کا  یہ قول: (ثم علموا من القرآن ثم علموا من السنة) :

" اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ  وہ لوگ سنتوں کو سیکھنے سے پہلے قرآ ن کو سیکھتے تھے ، اور یہاں پر سنت سے مراد: وہ سنتیں ہیں جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے حاصل کر تے تھے ، چاہے وہ واجب ہوں  یا مندوب ۔ " (16).

 

حواشی : 

 (1)   بخارى، كتاب النكاح، باب الترغىب في النكاح، حدیث نمبر : (5063)، ومسلم، كتاب النكاح، باب استحباب النكاح لمن   تاقت نفسہ  إليہ... حدیث نمبر : (3403).

 (2)  إرشاد الساري (8/4).

 (3)  فتح الباري (9/105).

 (4)  ابو داود، كتاب السنۃ، باب في لزوم السنۃ، حدیث نمبر : (4607)،  وترمذي، كتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ، حدیث نمبر : (2676) اور ترمذی نے کہا ہے کہ : یہ حديث حسن صحيح ہے۔

 (5) دليل الفالحين (1/415).

 (6)   تحفۃ الأخيار بإحياء سنۃسيد الأبرار، صفحہ : 51 سے منقول.

 (7)  بخاري  نے(أميرًا) کے لفظ کے ساتھ ، كتاب الأحكام، باب الاستخلاف حدیث نمبر : (7222) کے تحت روایت کیا ہے.

 (8)  تحفۃ الأخيار،  ص: 49 سے منقول.

 (9) الترغيب والترهيب، ص:  79.

 (10)   ترمذي، كتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ، حدیث نمبر : (2678)، اور ترمذی نے کہا ہے کہ : یہ حديث حسن غريب ہے۔

 (11)  ترمذي، كتاب العلم، باب الأخذ بالسنۃواجتناب البدعۃ، حدیث نمبر : (2817), اورانہوں نے کہا ہے کہ : یہ حديث حسن ہے۔جبکہ کثیر بن عبد اللہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے کچھ شواہدہیں۔

 (12)  شرح مشكاة المصابيح للقاري (1/202).

 (13)  ترمذي، كتاب الإيمان، باب ما جاء أن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا، حدیث نمبر : (2775) اور انہوں نے کہا ہے کہ : یہ حديث حسن ہے۔میں کہتا ہوں کہ:بلکہ کثیر بن عبد اللہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا بیشتر حصہ دوسرے وجوہ سے صحیح ہے۔

 (14) صحيح ابن حبان - الإحسان - حدیث نمبر : (394) ، اورعلامہ منذری نےالترغيب (1/87) میں کہا ہے کہ : اسے ابن ابی عاصم اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

 (15) بخاري، كتاب الرقاق، باب رفع الأمانۃ، حدیث نمبر : (6497).

 (16) فتح الباري (13/39).

                                                                                                                                            

       

    

 

 

التعليقات  

#53 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںJulian ٧ رمضان ١٤٣٩هـ
Wonderful gopods frfom you, man. I've understand your stfuff previoous to and you are
just extremely magnificent. I actually like what you hve acquired here,
certainly like whnat you're stating and the way in which you say it.
You make it enjoyable and you still care for to keep it sensible.

I can't wait to read far more from you. This is really a great
website.

Also visit my site Eyelashes ticker: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#52 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںShantae ٧ رمضان ١٤٣٩هـ
Hey! Quick question that's completely off topic.
Do you know how tto make your siite mobile friendly?

My weblog looks weird wgen browsing frlm my apple iphone.
I'm trying tto fund a emplate or plugin that might bbe able to
correct this problem. If you have any recommendations, please share.
Appreciate it!

Here is my web blog Eyelashes Growth: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#51 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںJenni ٧ رمضان ١٤٣٩هـ
WOW just what I was searching for. Came here by searching for b

my page ... Eyelashes growth: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#50 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںPamela ٧ رمضان ١٤٣٩هـ
Hi there! I realize this iss somewhat off-topic however I had tto ask.
Does running a well-established blog such as yours take a large amount of work?
I am brand nnew to running a blog but I do write inn myy
diary on a daily basis. I'd likke to start a blog so I can share my personal experience and thoughts online.
Please let mme know if you have any suggestions or tips for brand new aspiring blog owners.
Appreciate it!

Also visit my web site Grow Faster: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#49 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںLeonel ٦ رمضان ١٤٣٩هـ
Hi there, for all tikme i usd too chehk weblog posts here in the early
hours in the dawn, because i ike to gain knowledge of more and more.



my homepage Eyelashes Growth: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#48 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںRoseanne ٦ رمضان ١٤٣٩هـ
Someone essentially lend a hand to make critically posts I would state.

This is the first time I frequented your web page and so far?
I surprised with the research you made to create this actual put up amazing.
Excellent activity!

Here iss my blog post Grow faster: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#47 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںSherman ٦ رمضان ١٤٣٩هـ
Wow, incredible blo layout! How lengthy have you ever been runninhg a blog
for?you made running a blog look easy. The whole look oof your
site is fantastic, as smartly as the content material!


Here iss my blog post ... Eyelashes ticker: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#46 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںVelda ٦ رمضان ١٤٣٩هـ
Hi thjere mates, how is all, and what you wish for too say regarding this article, in my
view its in fact amazing designed forr me.



My web page: Long Eyelashes: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#45 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںAntony ٦ رمضان ١٤٣٩هـ
Remarkable things here. I am very glad to peer your article.
Thank you a lot and I'm taking a look ahead to contact you.
Will you please ddop me a e-mail?

Also visit my homepage: Eye Lashes: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس
#44 سنّت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اور سلف صالح کے مفہوم میںJanine ٦ رمضان ١٤٣٩هـ
Wonderful site. A lot of helpful information here.

I'm srnding it to several pals aans additionally sharing inn delicious.

And naturally, thank yyou too your effort!

Also visit my site: Eye Lashes: https://bit.ly/2Is2FRs
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث