حلقہ (۱۲)مبحث چہارم: مرد و عورت کے مادۂ منویہ کی صفت اور تخلیقِ جنین نیز مشابہت اور نر و مادہ ہونے میں اس کے اثر و تاثیر کا بیان (۶)

حدیث ہے کہ: ایک یہودی کارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے  گزرہوا اس حال میں کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ محو گفتگو تھے، تو قریش نے اس سے کہا: اے یہودی! بے شک اس شخص کا گمان ہے کہ یہ نبی ہے، تو اس نے کہا: میں ان سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں جسے صرف ایک نبی ہی کو معلوم ہوگا، اس نے عرض کیا: اے محمد(ﷺ)! انسان کس سے پیدا کیا گیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’يا يهودي من كل يخلق: من نطفة الرجل، ومن نطفة المرأة‘‘ ترجمہ: اے یہودی! ہر کوئی آدمی کے نطفے اور عورت کے نطفے سے پیدا کیا گیا ہے۔ تو اس یہودی نے کہا: اسی طرح آپ سے پہلے کے (نبی) کہتے تھے۔ (*)

یہی عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جس کی طرف اولِ بحث میں اشارہ کیا گیا ہے، ابن مسعود سے اس کے دو طریق ہیں:

پہلا طریق: عطاء بن سائب، قاسم بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں۔

اس حدیث کی تخریج احمد(1)، بزار(2) اور نسائی [سنن کبریٰ](3) نے یحی بن مھلب ابو کدینہ سے روایت کیا ہے۔ نیز طبرانی(4) نے حمزۃ بن حبیب الزیات کے طریق سے تخریج کی ہے۔ اور دونوں(یحیی بن مھلب اور حمزہ بن حبیب) نے عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔

اور اس میں ایک جملہ ہے جسے اس حدیث سے استدلال کرنے والوں نے ذکر نہیں کیا ہے، اور وہ یہ ہے: ’’فأما نطفة الرجل، فنطفة غليظه، منها العظم والعصب، وأما نطفة المرأة، فنطفة رقيقة، منها اللحم والدم‘‘ ترجمہ: رہا آدمی کا نطفہ تو وہ گاڑھا ہوتا ہے، اس سے ہڈی اور پٹھے بنتے ہیں۔ اور رہا عورت کا نطفہ تو وہ پتلا ہوتا ہے، اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔

اس حدیث کی سند میں عطاء بن سائب ہیں جو (صدوق ہیں، ان کا حافظہ مختلط ہو گیا تھا)(5)۔ نیز اختلاط سے قبل ان سے روایت کرنے والے راوی ابو کدینہ اور حمزہ زیات نے اس زیادتی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ لیکن صحابۂ کرام کہ جن کا نام نہیں لیا گیا ہے، سے مروی حدیث اس کی شاہد ہے اور وہ حدیث اس کے بعد ہی آرہی ہے۔

دوسرا طریق: جسے بزار نے اس لفظ اور اس زیادتی کے بغیر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ہم سے احمد بن اسحاق أھوازی نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے عامر بن مدرک نے بیان کیا،انھوں نے کہا کہ ہم سے عتبہ بن یقظان نے بیان کیا، وہ حماد سے روایت کرتے ہیں، وہ ابراہیم سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے ماموؤں یعنی علقمہ اور اسود سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اے محمد (ﷺ) اگر آپ نبی ہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو ہمیں بتایئے کہ مشابہت کہاں سے ہوتی ہے؟ آدمی کبھی اپنے چچاؤں کے مشابہہ ہوتا ہے اور کبھی اپنے ماموؤں کے مشابہہ ہوتا ہے، کیوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’إن ماء الرجل أبيض غليظ، وماء المرأة أصفر رقيق، فأيهما علا؛ غلب على الشبه‘‘(7) ترجمہ: بے شک آدمی کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے، پس ان میں سے جسے سبقت حاصل ہوتی ہے مشابہت پر اسی کا غلبہ ہوتا ہے۔

اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس کے راوی عتبہ بن یقظان ’’ضعیف‘‘ ہیں(8) اور عامر بن مدرک ’’لین الحدیث‘‘ ہیں(9) لیکن شواہد کی بنا  پر یہ حدیث قوی ہوجاتی ہے۔

اور ابراہیم یہ ابن یزید نخعی ہیں۔

اور حماد، ابن ابی سلیمان بن مسلم ہیں، یہ ’’صدوق ہیں، اور ان کے یہاں اوہام ہیں‘‘(10)۔

اور رہی بعض اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث تو اس کی تخریج بیہقی نے دلائل النبوۃ میں بایں طریق کی ہے: احمد بن عبدالجبار کہتے ہیں کہ ہم سے یونس بن بکیر نے بیان کیا، وہ ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ مجھ سے مختار بن ابی المختار نے بیان کیا، وہ ابو ظبیان سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم سے ہمارے اصحاب نے بیان کیا کہ: بے شک وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے،  تو ایک یہودی ان لوگوں کے پاس آیا۔۔۔۔۔الحدیث(11)

اور ابن مسعود کے پہلے طریق والی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اور رہا عورت کا نطفہ تو وہ پتلا سرخ ہوتا ہے۔۔۔۔۔‘‘

اس حدیث کی سند میں ایک راوی مختار بن ابی المختار ہیں جن کا ذکر امام بخاری(12) اور ابن ابی حاتم(13) نے کیا ہے۔ اور دونوں نے ان کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل نہیں ذکر کی ہے۔ اور ابن حبان نے ان کا ذکر اپنی  کتاب’’الثقات‘‘ میں کیا ہے(14)۔ اور ان سبھوں نے ان سے روایت کرنے والے کسی راوی کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ابن إسحاق کے۔ اس طرح وہ مجہول العین ہیں۔

اور مزی نے ان کی کنیت اور ان کے باپ کا نام ذکر کیا ہے، کہتے ہیں: ’’وہ ابو عثمان مختار بن یزید ہیں‘‘(15)۔

اور ابن اسحاق مدلس ہیں لیکن انھوں نے سماع کی صراحت کی ہے۔

اور احمد بن عبدالجبار کے بارے میں حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ’’ضعیف ہیں اور سیرت کے بارے میں ان سے سماع صحیح ہے‘‘(16)۔

حوالہ جات و حواشی:

________________________________________

  (*)خلق الإنسان بين الطب والقرآن ص (390(.

(1)  المسند (1/465(.

(2)  كشف الأستار (3/119ح 2377).

(3)  السنن الكبرى – عشرة النساء – (ص 169ح 190).

(4)  المعجم الكبير (10/213ح 10360).

(5)  تقريب التهذيب، ص (391).

(6)  دیکھیں: تهذيب التهذيب (7/183– 186)، والكواكب النيرات (ص319– 327)، و(ص333) محقق کا حاشیہ.

(7)  كشف الأستار (3/119ح 2376).

(8)  تقريب التهذيب، ص (381).

(9)  تقريب التهذيب، ص (288).

(10)  تقريب التهذيب، ص (178).

(11)  دلائل النبوة (6/264، 265).

(12)  التاريخ الكبير (7/385).

(13)  الجرح والتعديل (8/311).

(14)  الثقات (7/488).

(15)  تهذيب الكمال (1/297) ابو ظبیان حصین بن جندب کے ترجمہ میں.

(16)  تقريب التهذيب، ص (81).

التعليقات  

#1 ur.alssunnah.orgalihaider ٢٠ جمادی الاوّل ١٤٣٩هـ
bAUHAT ACHI Website hai
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث