باب: اعجاز نبویﷺ

حلقہ (17)  مبحث ششم: موانع حمل کا دائرۂ اثر  [2 ـ 3]

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث : (ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔۔۔۔) الحدیث۔۔۔  ـ دکتور البار کے مذکورہ کلام میں اسی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے ـ  جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے کئی طرق ہیں :

پہلا طریق : ’’زھیر عن ابی الزبیر عنہ نحوہ‘‘، اس کی تخریج مسلم(1)، ابوداؤد(2)، ابن الجعد(3)، احمد(4)، بیہقی(5) اور بغوی(6) وغیرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے زہیر کے طریق سے کی ہے۔

دوسرا طریق : ’’سعید بن حسان عن عروۃ بن عیاض‘‘  کے طریق سے بایں الفاظ مروی ہے : بے شک میرے پاس میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’إن ذلك لن يمنع شيئاً أراده الله‘‘ ’’بے شک یہ عزل ایسی کسی چیز کو نہیں روکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہوگئی ہے۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔‘‘

اس حدیث کی تخریج مسلم(7) (اور حدیث کے یہ الفاظ صحیح مسلم ہی کے ہیں)، ابن المبارک(8)، نسائی (سنن کبریٰ میں) (9) اور بیہقی(10) وغیرہ نے سعید بن حسان کے طریق سے کی ہے۔

تیسرا طریق : ’’أعمش عن سالم بن أبی الجعد عنہ نحوہ‘‘، اور اس طریق والی روایت کے آخر میں ہے کہ : ’’کسی نفس کے لیے جو اس کی تقدیر میں ہوگا وہ ہوکر رہے گا۔‘‘ اس حدیث کی تخریج ابن ماجہ(11) (حدیث کے یہ الفاظ انھیں کے ہیں)، عبدالرزاق(12)، سعید بن منصور(13)، ابن ابی شیبہ(14)، احمد(15)، طحاوی(16) اور ابن حبان(17) وغیرہ نے اعمش کے طریق سے کی ہے۔

بوصیری کہتے ہیں : ’’یہ صحیح سند ہے، اس کے رجال موثق (قابل اعتماد) ہیں‘‘(18)۔

اور یہ سند ویسے ہی ہے جیسا انھوں نے کہا ہے، اور اعمش اگرچہ مدلس ہیں لیکن عبدالرزاق اور احمد کے نزدیک منصور بن معتمر نے ان کی متابعت کررکھی ہے۔

یہ تعلیق بعینہ ویسی ہی ہے جیسادکتور البار نے ذکر کیا ہے ، ہاں اس کے بعد والی عبارت دکتور سعید محمود یان کی ذکر کردہ عبارت ہے۔ اور یہ ایک دوسرے طریق سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ یہ ہے :

چوتھا طریق : معمر، یحیٰ بن أبی کثیر سے روایت کرتے ہیں اور وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت کرتے ہیں اور وہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! بے شک ہم لوگ عزل کرتے تھے ، تو یہودیوں کا خیال تھا کہ یہ قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’كذبت اليهود ؛ إن الله إذا أراد أن يخلقه [لم] (19) يمنعه‘‘ ”یہودیوں نے جھوٹ کہا ہے۔ بے شک اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا۔‘‘

اس حدیث کی تخریج ترمذی(20) نے کی ہے اور انھوں نے اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے، حدیث کے یہ الفاظ انھیں کے ہیں، اور اس کی تخریج نسائی نے ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘(21) میں کی ہے، اور دونوں نے اس کی تخریج ’’معمر عن یحیٰ بن أبی کثیر عن محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان عن جابر‘‘ کے طریق سے کی ہے۔

اور نسائی نے یحی بن ابی کثیر کے متعلق اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز خود انھوں نے(22) اور ابوداؤد(23)، ابن طھمان(24)، احمد(25)، ابن ابی عاصم(26)، طحاوی(27) اور بیہقی(28) وغیرہ نے اسی طرح (بنحوہ) کئی طرق سے ’’عن یحی بن ابی کثیر عن محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان عن رفاعۃ عن ابی سعید الخدری‘‘ کے طریق سے روایت کی ہے۔

اور ابو حاتم نے اس طریق کو راجح قرار دیا ہے(29)۔

اور رفاعہ (اِنھیں ابو رفاعہ اور ابو مطیع بھی کہا گیا ہے) بن عوف انصاری ’’مقبول‘‘(30) ہیں اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔

موسیٰ بن وردان نے ابوسعید کے واسطے سے ان کی متابعت کی ہے، اور اسے بزار نے مختصراً(31) اور طحاوی(32) نے ’’عیاش بن عقبۃ الحضرمی عن ابی سعید‘‘ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بزار نے اسے مختصراً روایت کیا ہے اور طحاوی کے الفاظ یہ ہیں : ’’.... ولو أفضيتَ لم يكن إلا بقدر‘‘ ’’۔۔۔۔۔۔اور اگر تو عورت سے خلوت کرے تو  وہی ہوگا جو تقدیر میں ہوگا۔‘‘

اور عیاش ’’صدوق‘‘ ہیں(33)۔

اور ابو عامر صالح بن رستم الخزاز نے ان لوگوں کی مخالفت کی ہے : اس طرح کی انھوں نے  اسے اسی طرح (بنحوہ) ’’یحی بن ابی کثیر عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ‘‘ کے طریق سے روایت کی ہے۔ اور اس کی تخریج بزار(34)، ابن ابی عاصم(35)، نسائی (سنن کبریٰ میں) (36)اور ابو یعلیٰ(37) وغیرہ نے   ان سے معتمر بن سلیمان کے طریق سے کی ہے۔

اور یہ صالح بن رستم اگرچہ ’’صدوق‘‘ ہیں مگر حافظ ابن حجر نے ان کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ ’’کثیر الخطا‘‘(38) (زیادہ غلطی کرنے والے) ہیں، تو ممکن ہے یہ ان کی خطا ہو۔ اور یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ ابو حاتم نے ابو رفاعہ کے طریق کو ترجیح دی ہے۔

حوالہ جات و حواشی :


(1) - صحيح مسلم (2/1064ح 1439).

(2) - سنن أبي داود – كتاب النكاح – باب ما جاء في العزل (2/625ح 2173).

(3) - مسند ابن الجعد (2/949، 950ح 2734).

(4) - المسند (3/312، 386).

(5) - السنن الكبرى (7/229).

(6) - شرح السنة (9/102ح2294).

(7) - صحيح مسلم (2/1064، 1065ح (....) /135).

(8) - مسند عبدالله بن المبارك (ص134/219).

(9) - السنن الكبرى – عشرة النساء – (ص 179ح211).

(10) - السنن الكبرى (7/229).

(11) - سنن ابن ماجه – المقدمة – باب في القدر (1/34، 35ح89).

(12) - مصنف عبدالرزاق (7/140، 141ح 12551، 12552).

(13) - سنن سعيد بن منصور (2/102ح2243).

(14) - مصنف ابن أبي شيبة (4/2/220).

(15) - المسند (3/313، 388).

(16) - شرح معاني الآثار (3/35).

(17) - الإحسان (6/198ح 4182).

(18) - مصباح الزجاجة (1/60ح33).

(19)اسی طرح تحفة الأحوذي (4/288)، کے متن میں ہے، اور شیخ احمد شاکر کی مطبوعہ تکملۃ محمد فؤاد عبد الباقی میں (فلم) فاء کے ساتھ ہے، مجھ پر اس کا مفہوم واضح نہیں ہوا، پھر میں نے سنن ترمذی کے مصور مخطوطہ (– اقتناها فضيلة الشيخ عبدالصمد بن بكرعابد، والأصل محفوظ بمكتبة فيض الله أفندي باستانبول تحت رقم (344) –) کا مراجعہ تو میں نے اسے تحفة الأحوذي (ق86/ب) کے لفظ کے مثل پایا، اس طرح مجھ پر واضح ہوا کہ حرف فاء زائد ہے جو مطبعی غلطی ہے۔

(20) - سنن الترمذي – كتاب النكاح – باب ما جاء في العزل (3/442، 443ح 1136).

(21) - عمل اليوم والليلة (ص 171ح 193).

(22) - عمل اليوم والليلة (ص171، 172ح 194 – 197).

(23) - سنن أبي داود – كتاب النكاح – باب ما جاء في العزل (2/623– 624ح 2171).

(24) - مشيخة ابن طهمان (ص150ح 92).

(25) - المسند (3/33، 51، 53).

(26) - السنة (1/162ح 368).

(27) - مشكل الآثار (2/371)، وشرح معاني الآثار (3/31).

(28) - السنن الكبرى (7/230).

(29) - العلل لابن أبي حاتم (1/437ح 1314).

(30) - تقريب التهذيب (ص210).

(31) - كشف الأستار (2/172ح 1453).

(32) - مشكل الآثار (2/371، 372).

(33) - تقريب التهذيب (ص 437).

(34) - كشف الأستار (2/171، 172ح 1452).

(35) - السنة (1/159ح 359).

(36) - السنن الكبرى – عشرة النساء – (ص 173ح 198).

(37) - مسند أبي يعلى (11/405، 406ح 6011).

(38) - تقريب التهذيب ص (272).

أضف تعليق

كود امني
تحديث