حلقہ(۲)

وہ احادیث نبویہ جن سے فلک ، زمین اور انسان  کے بارے میں سائنسی اعجاز پر ا ستدلال کیا گیا ہے (۲‑۳)

اور  یہ بحث  مضمون وشکل کے اعتبار سے ہماری خواہش کے مطابق  نکلے،اس لئے میں نے اس    میں درج ذیل منہج اپنایا ہے:

1-  میں نے اس سلسلے میں دلیل  پکڑی جانے والی احادیث کو مختلف مصادر،متعدد مقالات، مجلات، لکچرز اور مختلف کانفرنسوں سے جمع کیا ہے،  پھر میں نے ان کا دراسہ اور تحقیق کیا ہے ، اس کے مضا مین کے سلسلے میں غور  و فکر کیا ، اور اس کو کانٹ چھانٹ اور الگ الگ کر کے اس کو  مرتب کیا ، پھر اس کو مختلف   مباحث میں  رکھ کر ہر ایک کا مناسب عنوان قائم کیا ، میں نے حتی الامکان یہی کوشش کی   اس سے جس (مسئلہ ) کے متعلق استدلا ل کیا گیا ہے اس کے وہ موافق رہے۔

2- میں نے حدیث کے اسی لفظ کو نقل کیا ہے  ، جس کو استدلال کرنے  والے نے ذکر کیا ہے ، اور اس کو صفحہ کے سب سے اوپر رکھا ہے ، اور اس کے آ خر میں  اسٹار کا  نشان  رکھ دیا ہے، پھر حاشیہ میں اس کے مصدر کی طرف اشارہ کر دیا ہے ، اور ہر استدلال کی گئی حدیث کو  مستقل صفحہ میں ذکر کیا ہے ۔

۳-  اگر حدیث سے ایک سے زیادہ نے  استدلال کیا ہے، یا ایک ہی مستدل کے ہاں  اس کا مکرّر ذکر ہواہے،تو میں نے اسے اس جگہ سے نقل کیا ہے جہاں اس کا  ذکرسب سے بہترین سیاق میں ہوا ہے۔

۴۔ جب  استدلال کرنے والے  کسی ایک مسئلے کے بارے میں کئی حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں یا ایک ہی حدیث کے متعدد الفاظ سے ،  تو میں اسے کتب روایت کی اپنی  ترتیب کے اعتبار سے مرتّب کرتا ہوں ، چنانچہ میں نے بخاری کی روایت کو مسلم کی روایت پر مقدم کیا ہے،اور اس طرح بقیہ کتابوں کی، اور میں نے حدیث کی ترقیم (نمبرنگ) ۱،۲،... الخ  کے ساتھ کی ہے ،اور استدلال کی گئی ایک ہی حدیث کی  روایات کی ترقیم حروف ابجدی: أ، ب، ج ... کے ساتھ کی ہے۔

 اور تخریج کے وقت روایت کے لفظ کی طرف اس  حرف سے اشارہ کیا ہے جس  کو میں نےاس کے لئے   وضع کیا ہے۔

اور استدلال  کے تذکرہ  کےوقت : اگر حدیثیں زیادہ تھیں تو   حدیث کے نمبر اور روایت  کے نمبر کی طرف اشارہ کیا ہے، اور اگر حدیثیں  کم تھیں تو  میں نے: فلان کی حدیث ، یا حدیث اوّل کے کہنے پر اکتفا کیا ہے۔(1).

۵۔  حدیث کےذکر کرتے وقت لفظ حدیث یا اس کی نسبت  کرنےمیں، استدلال کرنے والے جن غلطیوں میں واقع ہوئے ہیں اس پر میں نے تنبیہ کردیاہے۔

۶۔ میں  نے حدیث کی تخریج   اس کےطرق وشواہد  کے ساتھ کی ہے،اور موضوع استدلال سے متعلق الفاظ کے اختلاف کو بیان کیاہے، اور غیر ثقہ راویوں پر جرح وتعدیل کے قواعد کی روشنی   میں  کلام کیا ہے، اور اس میں درج ذیل  طریقہ کار کو اپنایا ہے:

۱- اگراستدلال کرنے والے نے حدیث کی روایت کرنے والےصحابی کا نام ذکر کیا ہے ، تو میں نے پہلے صحابی کے نام کو ذکر  کیا ہےاور کہاہے: (حدیث فلان) فلاں شخص کی حدیث، پھر میں نے حدیث کو ذکر کیا، اور اس صحابی کے طریق سے اس کی تخریج فرمائی،  پھر اگر کسی دوسرے صحابی کی حدیث اسی موضوع سے متعلق تھی تو اس کی تخریج   کی ہے۔

۲۔ اگر استدلال کرنے والے نے صحابی کے نام کو نہیں ذکر کیا ہے ،تو میں صرف حدیث کے لفط کو ہی  پیش کرتا ہوں ، پھر ان صحابہ کو ذکر کرتا ہوں  جنہوں نے  اس کی روایت کی ہے ،  ساتھ ہی ساتھ ان کےحدیثوں  کی یکے بعد دیگرے  ‑ کتب السنّہ    کی اپنی ترتیب کے  مطابق‑  تخریج کرتا ہوں۔

۳۔  اکثرمیں نے  حدیث کو ان ہی جگہوں سے  تخریج کیا ہے   جس میں استدلال کیا  گیا لفظ موجود ہو ۔

۴۔ میں الفاظ کے اختلاف  کے بارے میں متنبہ کرتا ہوں ،اگر اس کا استدلال میں کوئی اثر ہوتا ہے۔

۵۔ جب میں : (مثله) یا (نحوه ) کہوں ، تو وہ موضع استدلا ل کی طرف اشارہ مقصود   ہوتاہے۔

۶۔ رجال کے تعلق سے صرف میں  "غیر ثقہ "کے بارے میں ہی کلام کرتا ہوں ، اور عام طور سے جن کا تعلق تقریب کے رجال سے ہے ، تو میں نے حافظ ابن حجر کے حکم پر ہی اکتفا  کیا ہے ، اور  جن کا تعلق تقریب  کے علاوہ سے ہے ،  تو میں نے جرح  وتعدیل کے  علماء کے کلام  اور ان کے قواعد کی روشنی میں  ان پر حکم لگانے کی کوشش کی ہے ۔

۷۔ میں نے روایت کے مصادر کو درج ذیل طریقہ پر ترتیب دیا ہے :

۱-صحیح بخاری ، ۲- صحیح مسلم،۳- سنن ابو داؤد ، ۴- سنن ترمذی ، ۵- سنن نسائی الصغری ٰ، ۶- سنن ابن ماجہ ، اور جو ان کتب ستہ کے علاوہ ہیں ان کو میں نے ان کے مؤلفین کے وفات  کے حساب سے ترتیب دیا ہے ۔

۸-  کتب ستہ کی طرف احالہ کرتے  وقت: میں نے  کتاب ، باب ، جزء ، صفحہ ، اور حدیث کے نمبر کا اہتمام کیا ہے ، اور جو کتب ستہ کے علاوہ ہیں ، ان میں : جزء ، صفحہ ، اور حدیث کےنمبر کا اہتمام کیا ہے  اگر وہ (کتاب) مرقم ہے ،  لیکن اگر کتب ستہ کے کسی ابواب اور کتاب کی کوئی حدیث ایک سے زائد بار آ جائے تو اس کی تخریج کرتے وقت میں  صرف  حصہ اور صفحہ کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں ، اگر وہ دونوں  ایک ہی کتاب اور باب میں ہیں ۔

رہی بات باب کے مختلف ہونے کی تو ایسی حالت میں صرف باب کو ذکر نے پر اکتفا کرتا ہوں ، اور کتاب کو نہیں ذکر کرتا ہوں ، اور اگر وہ کتاب  ، باب اور صفحہ   (تینوں ) میں  ہوں، تو پہلی جگہ کے "احالہ "پر بھروسہ کرتے ہوئے دوسری جگہ احالہ نہیں کرتا ہوں ،  اور  میں اس  طریقہ  سے بہت کم احترازکرتا ہوں۔

۹-  حدیث کی تخریج کرنے کے بعد  استدلال اور وجہ استدلال کو  ذکر کرتا ہوں ، اگر استدلال کی گئی  حدیثیں ایک سے زیادہ ہوتی ہیں ، تو میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ استدلال کو اپنی عبارت میں اختصار کے ساتھ  بیان کر دوں ، پھر اس کے بعد- زیادہ  تر - اس کلام کو نقل کرتا ہوں، جو حدیث کے استدلال کو زیادہ اچھی طرح سے بیان کرنے والا ہو ، کیونکہ  بسا اوقات جنہیں کوئی بات پہنچائی جائے وہ سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔

۱۰- اگر استدلال پر تعلیق چڑھانے کی ضرورت  ہوتی ہے  ، تو میں اس کے بعد" عنوان التعلیق"   کے تحت ذکر کرتا ہوں۔

تنبیہ:

 وہ  تمام حدیثیں جن کی نسبت  میں نے  اس رسالہ   میں  ابو داؤد   کی طرف کی ہے ، ان پر ابو داؤد  نےخاموشی اختیار کی ہے ، لہذا  میں  نے اس تنبیہ کے ذریعہ ہر حدیث کوان کی طرف منسوب کرتے وقت باربار ان کے سکوت کاذکر کرنےسے استغنا کیا ہے۔

  یہی وہ منہج اور طریقہ ہے  ، جس  پر میں (اس  رسالہ ) میں کاربند رہا ، اگر  میں درستگی پر ہوں تو یہ اللہ کی طرف سے ہے ، اور اگر مجھ سے  کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو یہ میری ذات اور شیطان کی طرف سے ہے ، اور میں نے حسب استطاعت اصلاح اور درستگی کا ارادہ کیا  ہے ،اور توفیق اور ہدایت کا مالک صرف اللہ تعالی ٰہے ، میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اوراسی کی جانب رجوع کرتا ہوں ۔

ہر وقت – اور خاص طور – سے اس وقت  اس کی بار گاہ میں حمد و ثنا کا شکرانہ پیش کرتا ہوں ، کیوں نہ ہو جب کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

(وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ) [النمل: 40]،  

"شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے"۔

بلکہ اللہ تعالی نے اپنی شکر بجالانے کا حکم بھی دیا ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

(وَوَصَّيْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنْ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ) [لقمان: 14]؛  

"ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دُکھ اُٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چُھڑائی  دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے"۔

 اے اللہ   تمام حمد  و تعریف ، اور شکر صرف تیرے لئے ہے ، کیونکہ تیرا  نعام و اکرام  ظاہر باطن میں اتنا زیادہ  پھیلا ہوا ہے کہ  اس  کا شمار نہیں کیا جاسکتا ہے ، تیری حمد و ثنا  زمین و  آسمان  اور اس کے مابین جتنی چیزیں ہیں ،  اور اس کے بعد بھی  جتنی چیزیں  تو چاہےان سب کے برابر ہے ،  میں تیری نعمت اور حمد و ثنا کا شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہےجس طرح کہ تو نے اپنی تعریف کی ہے ، تیرے لئے  (بے شمار ) نعمت ہے ، تیرے لئے  فضل و احسان اور  تیرے ہی لئے اچھی حمد و ثنا ہے ۔  

پھر اس کے بعد میں اپنے  محترم اور مشفق  والدین ، اپنے داد ا، اور اپنے ماموں : سعید بن محمد قرنی ‑  کا شکر  بجالانا  مناسب سمجھتا ہوں ، جن کا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بعد میرے وجود اور میری تربیت میں فضل واحسان ہے، تو اے میرے رب! میری طرف سے انہیں بہترین بدلہ عطا فرما۔

اس کے بعد میں  ہدیۂ تشکر داعی و مجاہد   فضیلۃ الشیخ ڈاکڑ: موسی بن محمد القرنی کو  پیش کرتا ہوں ، جن کا  – اللہ تعالی – کے بعد  اعلی تعلیم  کے  لئے  داخلہ دلانے میں کافی  مدد اور احسان ہے ، اور اسی طرح پروفیسر:  محمد ضیاء الدین  اعظمی  صاحب کا  جنہوں نے اس رسالہ کا اشراف کیا ہے اور  جن کا– اللہ تعالی – کے بعد اس رسالہ کو  منزل مقصود  تک پہنچانے  میں احسان رہا ہے ،  وہ برابر مجھے اس رسالہ کے اتمام پر ابھارتے رہے ہیں،وہ یقینا بہت اچھے مرشد،ناصح اور امین رہے ہیں،اور میں برابر اس بحث اور اس کے علاوہ مدت میں ان کے علم   کےچشمہ سے سیرابی حاصل کرتا رہا ہوں،اور ان کے بلند ادب   اور اخلاق فاضلہ سےمستفید ہوتا رہا ہوں ، چاہے جامعہ میں ہو،یا ان کےآباد گھر میں،انہوں نے علم اور وقت دینے میں کوئی بخیلی نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ انہوں نے میرے لئےاپنے سینے اور گھر کو کھولے رکھا۔اے اللہ ! انہیں اس کا میری طرف سے جزائے خیر عطا فرما، ان کی علم میں زیادتی پیدا کر، ان کی درستگی فرما،انہیں صحت وعافیت سے رکھ، ان کے اولاد کو نیک  وصالح بنا، ان کی رزق میں کشادگی پیدا کر، اے اللہ ! انہیں دنیا وآخرت کی ساری بھلائی عطا کر، اور انہیں دنیا وآخرت کی برائی سے محفوظ رکھ، آمین!۔

اور اسی طرح میں اپنے    دوفاضل استادوں کو ہدیۂ تشکر پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے کثرتِ مصروفیات اور وقت کی تنگی کے باوجود  اس رسالہ کی نظرثانی اور بحث و مناقشہ  اور  اپنے ملاحظات پیش کرنے کو قبول فرمایا ، اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ ان دونوں کے ارشادات سے مجھے نفع پہنچائے۔

اسی  طرح میں  ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتا ہوں  جنہوں نے اس عظیم کام   میں حصہ لیا اور جنہوں نے  میری مدد و نصرت کے لئے دست   کو دراز کیا ، اور اس طرح میں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے علم ، مکتبہ سے میں نے استفادہ کیا ، جیسے : اس مبارک جامعہ کے  فاضل علماء  واساتذہ، دوست اور احباب  وغیرہ  ، ان  تمام  حضرات کا میں اپنے دل کی گہرائیوں سے  شکریہ ادا کرتا ہوں ، اور اللہ سے دعا کرتا ہو ں کہ انہیں میری طرف سے اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے ،اور انہیں مزید ثواب اور عطیات سے نوازے۔

اور میں اس مبارک  جامعہ کے قائم کرنے والوں  کا شکر یہ ادا کرنا چاہتاہوں جو جامعہ  علم اور سلف صالحین  کے منہج  کا پختہ قلعہ اور شاندار پرچم  ہے۔

 اور میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ دنیا کے تمام خطے میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنے  کے لئے اس کی حفاظت فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين...

مؤ لف

احمد بن حسن بن احمد الحارثی

حواشی:

 

(1)     دیکھیں: چوتھا، نواں اور چودہواں مبحث۔
(2)     اور خاص کر : علامہ محدث شيخ: حماد بن محمد الأنصاري.
(3)     اسی طرح  المعجم الوسيط میں ہے، اور انہوں نے: أساتيذ کا اضافہ  کیا  ہے۔ (1/17).

أضف تعليق

كود امني
تحديث