حلقہ (۳)

مخلوقات کی ترتیب اوراس  میں سے   آخری ( مخلوق) انسان کا  بیان

ابو ہریرہ کی حدیث ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : اللہ کے رسول نے ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :  («خلق الله عز وجل التربة يوم السبت، وخلق فيها الجبال يوم الأحد، وخلق الشجر يوم الاثنين، وخلق المَكْرُوهَ(1) يوم الثلاثاء، وخلق النور(2) يوم الأربعاء، وبث فيها الدواب يوم الخميس، وخلق آدم عليه السلام بعد العصر من يوم الجمعة، في آخر الخلق، في آخر ساعة من ساعات الجمعة، فيما بين العصر إلى الليل»(*).)

 "اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا (یعنی زمین کو)اور اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا اور پیر کے دن درختوں کو پیدا کیا اور کام کاج کی چیزیں (جیسے لوہا وغیرہ) منگل کو پیدا کیا اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلائے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد بنایا، سب سے آخر مخلوقات میں اور جمعہ کی سب سے آخر ى گھڑیوںمیں عصر سے لے کر رات تک کے درمیان)

حدیث  کی تخریج:

اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے کیا ہے ، اور اس حدیث کی روایت میں (امام مسلم ) ائمہ ستہ سے منفرد ہیں ، (۳) ­‑اور امام نسائی  نےسنن کبری میں ‑ (۴) ، اما م احمد (۵)، ابو یعلی (۶) ،  اما م طبری (۷) ، ابن خزیمہ (۸) ، ابن ابو حاتم (۹) ، ابن حبان (۱۰) ، ابو ٖشیخ (۱۱) ، ابن مندہ (۱۲) ، بیہقی (۱۳)  اور خطیب ( ۱۴) ، ان تمام لوگوں نے اپنے اپنے طریقوں سے عن حجاج بن محمد الأعور، عن ابن جريج، عن إسماعيل بن أمية، عن أيوب بن خالد، عن عبدالله بن رافع -مولى أم سلمة-، عنه. یعنی ابو ہریرہ سے مرفوعا روایت کیا ہے۔

متابعت حدیث: اس حدیث  میں  حجاج  بن محمد اعور کی متابعت  فرمائی ہے ہشام بن یوسف نے جو ابن جریج سے اس سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ اور ان سے ابن معین(15)، نے روایت کی ہے، اور ابن معین کے طریق سے اس کی تخریج دولابی نے کی ہے۔(16)

اسی طرح حجاج بن محمد اعور کی متابعت محمد بن ثور نے بھی ابن جریج سے اس سند کے ساتھ  کیا ہے اور اسکی تخریج ابو الشیخ  (۱۷) نے کی ہے۔   اور اس کی اسناد میں  "ایوب بن خالد بن صفوان" ہیں ، جن کو "ایوب بن خالد  بن ابو ایوب انصاری "کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

حافظ ابن حجر  ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : (فیہ لین)) یعنی ان میں کمزوری پائی جاتی ہے۔(۱۸)، لیکن ان کی متابعت عطاء بن ابی رباح  نے ابوہریرہ  سے روایت کرکے کی ہے، امام نسائی نے اس کی تخریج  سنن کبری ٰمیں اخضر بن عجلان کے طریق سے کی ہے ، اور وہ روایت کرتے ہیں ابن جریج سے ، اور ابن جریج عطاء سے ، اور وہ ابو ہریرہ – رضی اللہ عنہ ‑ سے  روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ وسلم – نے ان کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا :  («يا أبا هريرة إن الله خلق السموات والأرضين وما بينهما في ستة أيام، ثم استوى على العرش يوم السابع، وخلق التربة يوم السبت، والجبال يوم الأحد والشجر يوم الاثنين، والتِّقْنَ(19) يوم الثلاثاء، والنور يوم الأربعاء، والدواب يوم الخميس، وآدم يوم الجمعة، في آخر ساعة من النهار بعد العصر، وخلق أديم الأرض أحمرها وأسودها وطيبها وخبيثها، من أجل ذلك جعل الله عز وجل من آدم الطيب والخبيث»(20). )

"اے ابو ہریرہ ! بےشک اللہ تعالی ٰنے ­آ سمانوں اور زمینوں  اور ان کے  مابین  کی تمام چیزوں کو   چھ دن میں پیدا کیا ہے ، اور  پھرساتویں دن عرش پر مستوی ہوا ، اور  مٹی کو سنیچر کے دن پیدا   کیا ، اور پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا ، اور درختوں کوسوموار کے دن پیدا کیا ،   اور گیلی  مٹی وکیچڑ کومنگل  کے دن پیدا کیا ،  اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا ، اور چوپایوں کو جمعرات کے دن پیدا کیا ، اور آ دم کو  بروز جمعہ عصر کے بعد دن کے آ خری لمحہ میں پیدا کیا ، اور روئے زمین اس کے سرخ ، کالے ، اچھے اور خراب دونوں پیدا کیا ، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے آ دم سے اچھے اور برے دونوں کو بنایا " ۔(۲۰)

اس  حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ، سوائے "اخضر "کے ، اور وہ "صدوق"  ہیں۔ (۲۱)

اور ابن جریج گر چہ "مدلس" ہیں اوریہاں انہوں نے " عنعنہ" کے ساتھ روایت کیا ہے ، لیکن ان کا "عنعنہ" یہاں اتصال پر محمول کیا جائے گا ، کیونکہ انھوں نے عطا ء کے ساتھ سات سال کی  ایک طویل ملازمت اختیار کی ہے  ۔

اسی وجہ  سے حافظ  ابن حجر  ،ابن جریج  کے بار ے میں کہتے ہیں کہ  وہ : " عطاء کے حدیث کا سب سے زیادہ  علم  رکھنے والوں میں سے  ہیں" ۔(۲۲)

اور یہ (اصول) ہے کہ مدلس اگر  اپنے شیخ سے " عنعنہ " کے ساتھ  روا یت کرتا ہے ، اور شیخ  سے اس کی روایتیں بہت زیادہ ہیں ، تو اس کے" عنعنہ " کو " اتصال " پر محمول کیا جائے گا ۔ (۲۳)

اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ابن جریج  کے دو شیخ ہیں، اس کی دلیل وہ زیادتی ہے جو حدیث کی ابتدا میں اخضر کے طریق سے پائی جاتی ہے، واللہ اعلم۔

او ر اس حدیث  کے بارے میں بہت سارے محدثین نے کلام کیا ہے ، اور  کچھ دوسرے لوگوں نے ان کی تردید کی ہے ،  چنانچہ میں نے ذیل کے سطور میں ان مطاعن اور ردود کو ترتیب سے بیان کیا ہے:

اوّل: مطاعن کا بیان

أ۔اسناد میں طعن کا ذکر:

۱۔ علی بن مدینی کہتے ہیں کہ :" میں نے اسماعیل بن امیہ  کو صرف ابراہیم بن ابی یحی  سے روایت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، (۲۴)  یعنی : ابراہیم   اور وہ  ابن محمد بن ابی یحی اسلمی   ہیں جو متروک ہیں (۲۵) ، اس لئے یہ حدیث نہ تو ایوب اور نہ ہی ان  کے اوپر  والوں سے ثابت ہے۔

۲۔  امام بخاری  کہتے ہیں کہ :" کہ کچھ لوگوں نے: عن ابی ہریرہ،عن کعب کہا ہے،اور یہی سب سے زیادہ صحیح ہے۔" (۲۶)

۳۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ: " اس (سند)  میں ابن جریج  کے سلسلے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ "  (۲۷)

۴۔ اس  سند  میں " ایوب بن خالد بن صفوان انصاری  ہیں ، حافظ  ابن حجر نےان کے بارے میں کہا ہے کہ (فیہ لین))"  یعنی ان کے اندر کمزوری پائی جاتی ہے۔"  (۲۸)

ب۔  متن  میں مطاعن وقدح کا ذکر

۱۔ اس حدیث پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ قر آ ن کے مخالف ہے ۔

 ابن کثیر کہتے ہیں کہ :" اس متن میں شدید غرابت پایا جاتا ہے ، اسی میں سے یہ ہے کہ اس متن میں  آ سمان کا تذ کرہ نہیں ہے ، اور اس میں زمین اور اس   کے اندر پائی جانی والی چیزوں کا  سات دن میں تخلیق کا تذ کرہ ہے ، اور یہ بات قر آ ن کریم کے نصّ کے خلاف ہے ۔ (۲۹)

۲۔ اس متن پر ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا ہے  کہ  یہ  ان احادیث  اور آ ثار کے خلاف ہے، جس میں " خلقت کی ابتدا " اتوار  " کے دن سے معلوم ہوتی ہے ،  اور اسی  پر  دنوں کے نام : اتوار ، سوموار ، منگل ، بدھ ، جمعرات، دلالت کرتے ہیں ۔(۳۰)

۳۔ امام بیہقی کہتے  ہیں کہ : کچھ محدثین کا گمان ہے کہ یہ حدیث  غیر محفوظ ہے ، کیونکہ اس میں اس چیز کی مخالفت پائی جاتی ہے جس پر اہل تفسیر اور اہل تاریخ ہیں" ۔ (۳۱)

۴۔ عبد القادر قرشی " الجواہر  المضیۃ "  میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ: " لوگوں کا اتفاق ہے کہ سنیچر کے دن تخلیق نہیں ہوئی، بلکہ خلقت کی ابتدا اتوار کے دن سے ہوئی ہے "۔ (۳۲)

۵۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس حدیث کی دو باتوں کی وجہ سے تردید فرمائی ہے:

۱۔ان میں سے ایک یہ  ہے کہ :

"  کچھ محدثین نے اس حدیث پر  قدح و طعن کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ :" اس حدیث پر ان لوگوں  کی طرف سے طعن کیا گیا ہے ، جو امام مسلم  سے بھی بڑے عالم ہیں ، جیسے : یحی بن معین اورامام بخاری وغیرہ ،اور امام بخاری نے ذکر کیا ہے کہ یہ کعب  الاحبار   کے کلام  سےہے۔

 اور ایک جماعت نے اس کی صحت  کا اعتبار کیا ہے ، جیسے : ابو بکر انباری ، ابو الفرج ابن جوزی  وغیرہ ، اور امام بیہقی وغیرہ نے ان لوگوں کی موافقت کی ہے جنہوں نے اس کو ضعیف  قرار  دیا ہے " ۔

۲۔ عقلی دلیل  : امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ :

" اور یہی درست ہے ۔یعنی حدیث کو ضعیف قراردینا۔کیو نکہ  تواتر کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے  آ سمانوں اور زمینوں  اور ان دونوں کے بیچ جتنی چیزیں ہیں  ان سب کو چھ دن میں  پیدا کیا ہے ، اور یہ بھی ثابت ہے کہ آخری تخلیق  جمعہ کا دن تھا ، تو اس سے لازم ہو جاتا ہے کہ سب سے پہلے تخلیق کا دن  اتوار کا دن ہے" ۔

پھر انہوں نے اس   بات کی تین  امور سے تائید  کی ہے ،  چنانچہ انہوں نے کہا: " اور اسی طرح یہ اہل کتاب کے نزدیک ہے، اور اسی پر دنوں کے نام دلالت کرتے ہیں ، اور یہی  دیگر احادیث وآ ثار سے ثابت ومنقول ہے۔"  (۳۳)ا.ھ .

اور انہوں نے ان احادیث وآثار میں سے کچھ بھی نہیں ذکر کیا ، جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

دوم: ردود کا بیان

أ۔  اسنادی مطاعن کی تردید:

۱۔ یہ علت بیان کرنا کہ "اسماعیل بن امیہ "نے اس (حدیث) کو" ابراہیم بن ابی یحی "سے حاصل کیا ہے ، یہ صحیح نہیں ہے ، کیونکہ اسماعیل بن امیہ نہ تو مدلس ہیں نہ تو مرسل راوی ہیں ،  بلکہ وہ ثقہ ثبت ہیں۔ (۳۴) ، اور  وہ اپنے شیخ   " ایوب بن خالد " کے ہم عصر ہیں ، اور جن لوگوں نے ان کا ترجمہ (سوانح)لکھا ہے ، انہوں نے ان کی سماع یا ابراہیم بن ابی یحیی ٰ سے روایت کو نہیں ثابت کیا ہے" ، اسی لئے امام بخاری نے اپنے شیخ علی ابن مدینی کے قول کو نہیں پسند کیا   ، بلکہ اسے دوسری وجہ سے ضعیف قراردیا ہے۔" (۳۵)

اور مزید   یہ کہ "علی ابن مدینی" کے قول کو ذکر کرنے  میں امام بیہقی کا اسلوب  یہ دلالت کرتا ہے  کہ انہوں نے  ان کی مخالفت  کی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ : " کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ  اسماعیل بن امیہ  نے  اس حدیث کو  ابراہیم بن ابی یحیی  سے حاصل کیا ہے ، پھر انہوں نے " اسماعیل بن امیہ " کا ایک متا بع ذ کر کیا ہے  ، اور فرمایا کہ:  "اس  سند  میں ان کی متابعت موسی بن عبیدۃ ر بذی  عن ایوب  بن خالد  نے کی ہے ، لیکن  موسی بن عبیدۃ  ضعیف ہیں۔" (۳۶)

۲۔ امام بخاری کا قول :"کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ :عن ابی ہریرہ ، عن کعب الاحبار اور یہی سب سے زیادہ صحیح ہے" ۔

اس سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ مسلم کی سند  میں کوئی طعن نہیں ہے، مگران کا اس شخص کے قول کی مخالفت  کرنا ہے جس نے یہ کہا ہے کہ:  (عن ابی ہریرۃ عن کعب الاحبار ) ، لہذا  یہاں ممکن ہے کہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کو رد کردیا جائے؛ کیونکہ جس  طریق  کو انہوں نے صحیح قرار دیا ہے ،  نہ تو اس کے سند کو ذ کر کیا ہے ، اور نہ ہی اس کے متن کو ، لہذا اس کے ذ ریعہ صحیح مسلم کی  روایت کو معلول نہیں قرار دیا جاسکتا ہے،  یہاں تک  کہ ہم اس کے سند  سے واقف نہ ہو جائیں ، کیونکہ اس میں اس بات کا  بھی احتمال ہے کہ وہ بذات خود ضعیف ہو ، اور بخاری کے نزدیک کسی دوسری چیز کی وجہ سے تقویت ملی ہے۔(۳۷)،  یہ (بات)ایک جہت سے ہوئی۔

اور دوسری جہت سے اس بات کا بھی امکان ہے کہ " کعب " سے بذات خود وہی متن   ہو۔یعنی تخلیق کی ابتدا کا ذکرسنیچر  سے ہونا،  یاوہ اتوار کے دن تخلیق کی ابتداکے ذکر کے ساتھ ہو۔

پس اگر کعب  سے خلقت کےآ غاز کا  تذ کرہ سنیچر  کے دن سے ہے ، تو یہ  اس (روایت) کے ضعیف ہونے پر دال ہے، اس وجہ سے کہ " کعب " کا تعلق  اہل کتاب سے ہے ، اور اہل کتاب کے نز دیک تخلیق کا آ غاز   اتوار کے دن سے ہے ، (۳۸)  تو ان سے " سنیچر " کے دن خلقت کی ابتدا  کی بات کو کیسے نقل کیا جاسکتا ہے ، ؟!

اگر " کعب" کی روایت میں خلقت کی ابتداکی بات " اتوار " کے دن سے ہے تو اس کا مطلب یہ ہو ا کہ  "ابو ہریرہ نے کعب سے اس چیز کی روایت کی ، جو ان کے پاس کتاب (تورات) کے علم میں سے تھا ، اور اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ وسلم –  سے اس چیز کی روایت کی جو کچھ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ،  لہذا اس وقت کوئی اشکال باقی نہیں رہ جاتا، اور یہ ایسی صورت میں ہے جب بخاری کی روایت کردہ طریق کو صحیح مانا جائے۔

۳۔ ابن کثیر کا یہ قول : کہ" اس سند میں ا بن جریج کے  بارے میں اختلاف کیا گیا ہے " اس  قول کو انہوں نے ان دو حدیثوں کے  ذکر کرنے کے بعد کہا ہے ۔جن کی تخریج گزرچکی ہیں۔ اور ان کا اس سے یہ مقصد ہے کہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ معلول قرار دیا جائے۔ ایسااس لئے کہ سند میں ابن جریج کے سلسلے میں اختلاف پایا جارہا ہے، کیونکہ " حجاج بن اعور " وغیرہ نے "ابن جریج " سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے ، اسماعیل بن امیہ سے ، اور انہوں نے ایوب بن خالد سے ، اور وہ عبداللہ بن رافع سے اور انہوں نے ابو ہر یرہ سے  روایت کیا ہے ،  اور " اخضر بن عجلان " نے  ابن جریج  سے ، اور ابن جریج نے  عطاء سے اور انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے ۔

جواب:

اگر ہم اس بات کو تسلیم کرلیں کہ یہ اختلاف ہے  ، تو راجح روایت " حجاج بن اعور " کی ہے ، کیونکہ وہ " اخضر" سے زیادہ ثقہ ہیں ، اور ان کی متا بعت " ہمام بن یوسف " اور "محمد بن ثور" نے کیا ہے ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ، لیکن  ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ اختلاف ہے،  بلکہ  یہ اس بات پرمحمول کیا جائے گا  کہ اس حدیث میں ابن جریج  کی دو   سندیں  ہیں ۔

اور جب جمع  و تطبیق کا امکان ہو ، تو اس کے علاوہ غیر کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں۔

۴۔ ایوب بن خالد کے بارے میں حافظ ابن حجر    کا یہ  کہنا کہ : "ان کے اندر  کمزوری  ہے"۔

ان کی بات کو درج ذیل  وجوہات کی بنا پر  تسلیم  نہیں کیا جائے گا :

أ۔ جن لوگوں نے اس حدیث کی تردید کی ہے ، انہوں نے اس کے کسی بھی ایک راوی  کو ضعیف نہیں کہا ہے ، جس سے ان کے نزدیک " ایوب" کے قوی ہونے کا پتہ چلتا ہے ،  اور اگر "ایوب" ضعیف ہوتے  تو  وہ حضرات حدیث کی دوسری علتو ں  کو تلاش نہیں کرتے ۔

ب۔ حدیث کے ماہرین حفّاظ کی ایک بڑی تعداد نے " ایوب " کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ،  ان میں سر فہرست: امام مسلم ، ابن خزیمہ ، ابن حبان اور ابن مندہ  ہیں، اور اسے ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تاریخ میں روایت کی ہے ، لیکن انہوں نے  اس کی کوئی علّت نہیں بیان فرمائی۔

اسی لئے شیخ البانی فرماتے ہیں کہ : " اس حدیث کی صحت کے لئے یہی کافی ہے کہ ابن معین نے اس حدیث کی روایت کی ہے ، لیکن اس کی کوئی علت نہیں ذکر کی۔" (۳۹)

ج۔ میں نے کسی کو نہیں پایا جس نے اس کو ضعفاء (کتب حدیث کی ضعیف کتابوں) میں داخل کیا ہو۔

د۔ ازدی  رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ اس حدیث کو  کسی نے بھی ضعیف نہیں کہا ہے ، اور وہ(ازدی) خود محدثین کے نزدیک  لین اور کمزور ہیں ۔  (۴۰)

 

 

حواشی:

 (1)- اسی طرح یہ لفظ  (المکروہ) کےساتھ ہر اس شخص کے پاس ہے جس نے  اسےابن جریج ،عن اسماعیل بن امیہ کے طریق سے روایت کی ہے، اور نسائی کے نزدیک سنن کبریٰ میں لفظ (التقن) کے ساتھ ہے جیسا کہ عنقریب  ابن جریج ،عن عطاء بن ابی رباح  کے طریق سے آئے گا۔ امام نووی  فرماتے ہیں کہ: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا  قول : ( مکروہ کو منگل کے دن پیدا فرمایا) ، اسی طرح ثابت بن قاسم نے روایت کیا ہے، انہوں (نووی) نے فرمایا: مکروہ ہر وہ چیز ہے جس سے معاش  کا قیام ہوسکے، اور جس کے ذریعہ تدبیر درست ہوسکے، جیسے لوہا  اور دیگر زمینی جواہر ،اور ہر وہ چیز جس کے ذریعہ کسی چیز کی اصلاح ہو اسے اس کا تقن کہتے ہیں اور اسی سے  اتقان الشیء ہے یعنی کسی  چیز کو پختہ کرنا ومحکم بنانا، میں (نووی) کہتا ہوں کہ: دونوں روایتوں  میں کوئی فرق نہیں، دونوں  بروز منگل پیدا کئےگئے۔" ا.هـ. شرح النووي (17/133)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مطبوع  میں نووی کے کلام میں سقط پایا جاتا ہے، اس لئے کہ  جو کلام  نقل کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ثابت بن قاسم نے اسے لفظ (تقن) کے ساتھ روایت کیا ہے، اس دلیل کی بنا پر کہ جو مکروہ کا معنی انہوں نے ذکر کیا ہے وہ  کافی بعید ہے، اور خود نووی کا قول: دونوں روایتوں میں کوئی منافاۃ نہیں ہے" اس بات کی  دلیل ہے، اور عنقریب (التَّقن) کا  مزید معنی آئے گا۔

رہی بات    لفظ (المکروہ) کی تو ابن الاثیر  فرماتے ہیں: مکروہ سے یہاں پر شر مراد ہے، آپ کےاس قول کی وجہ سے :" اور نور کو بدھ کے روز پیدا کیا گیا " ، اور نو ر خیر کو کہتے ہیں، اور شر کو مکروہ کا نام دیا گیا ، اس لئے کہ یہ  محبوب کی ضد ہے۔"  اهـ.  النهايۃ  في غريب الحديث  (4/169).  

(2)- امام نووی فرماتے ہیں:" اسی طرح صحیح مسلم میں : (النور) را کے ساتھ ہے، اور ثابت بن قاسم کی روایت : (النون) آخر میں نون کے ساتھ ہے۔ قاضی  فرماتے ہیں کہ: "  اسی طرح صحیح مسلم کے بعض راویوں نے روایت کیا ہے، اور وہ : الحوت ہے، اور ان دونوں کے درمیان میں بھی کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں بروز بدھ پیدا کئے گئے ہیں۔ اهـ. شرح النووي (17/134)

(*)-  القرار المكين، ص: (127)

 (3) -   صحيح مسلم، صفۃ القيامۃ والجنۃ والنار،  باب ابتداء الخلق وخلق آدم عليہ السلام (4/2149، 2150 ، حديث نمبر: 2789).

(4) -    سنن النسائي الكبرى  التفسير (المفرد) (1/201، 202 حديث نمبر:  30)

(5)     المسند (2/327).

(6)     مسند أبي يعلى (10/513، 514 حديث نمبر: 6132).ابو یعلی کی اسناد سے دو راوی ساقط ہوگئے ہیں اور وہ دونوں ابن جریج اور ان کے شیخ ہیں،  لیکن درست یہ ہے کہ ابن حبان نے اسے اپنے شیخ ابو یعلی سے روایت کیا ہے۔

 (7) -    تفسير الطبري  (جامع البيان....) (24/94، 95)،  اور تاريخ الأمم والملوك (1/23)

(8) -    صحيح ابن خزيمۃ  (3/117 حديث نمبر:  1731)

(9)-     تفسير ابن أبي حاتم  (1/103 حديث نمبر:  305)

(10) -    الإحسان  (8/11 حديث نمبر:  6128)

(11) -    العظمۃ (4/1358 حديث نمبر:  875)

(12)-     التوحيد  (1/183 حديث نمبر:  58)       
(13)-    السنن الكبرى  (9/458)، اور الأسماء والصفات ،ص: (383)

(14)-     تاريخ بغداد (5/188، 189)

(15)-     تاريخ ابن معين  روايۃ الدوري  (3/52 حديث نمبر:  210)

(16)-     الكنى (1/175)

(17)-     العظمۃ (4/1360، 1361 حديث نمبر:  876)

(18) -    تقريب التهذيب، ص: (118) ، حافظ کے اس حکم کا جواب اسناد میں مطاعن کے ردود کی چوتھی پوائنٹ میں دیکھیے۔

 (19)- ابن فارس کہتے ہیں کہ: " تاء، قاف، اور نون دو اصل ہیں : ان دونوں میں سے ایک اصل کا مفہوم : کسی چیز کو محکم ومضبوط بنانا ہے،اور دوسرے اصل کا مفہوم:  گارا اور کیچڑ  ہے، معجم مقاييس اللغۃ (1/350) ، اور لسان عرب(۱/۴۳۷) میں ہے : التقن: ترنوق البئر والدّمن کو کہتے ہیں، یعنی وہ باریک گارا جس میں  کنویں سے نکلنے والےکیچڑ کی آمیزش ہوتی ہے،  اور وہ گارا جو خشک ہوکر پھٹ جائے،  اورکہا جاتا ہے:(تقنوا أرضهم) یعنی اس کے اندرکیچڑ ڈال کر طاقت ور بنایا (یا زمین کی پیداواربڑھانے کے لیے اسے سینچا)، اور حوض میں بچا ہواگدلا پانی،اور التقن: طبیعت  کو بھی کہتے ہیں ۔ اسی سے کہا جاتا ہے : والفصاحة من تقنه، یعنی فصاحت اس کی طبعی چیز ہے۔ نیز اوّل مبحث میں حاشیہ نمبر (1)  کے تحت جو گزرچکا ہے اسے دیکھیں۔

(20)-     سنن النسائي الكبرى  التفسير (المفرد) (1/153 ، 155، حديث نمبر:  412)

(21)-     تقريب التهذيب ، ص : (97)

(22)-     هدي الساري مقدمۃ فتح الباري، ص :(357)

(23)-      دیکھیے :  ضوابط الجرح والتعديل، ص : (123)

(24)-   بیہقی نے (الأسماء والصفات)، ص : (384) میں ابن المديني تك اپنے اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔

(25)-     تقريب التهذيب ص : (93)

(26)-     التاريخ الكبير (1/413، 414)

(27) -    البدايۃ (1/14)

(28) -    تقريب التهذيب، ص :(118)

(29) -    البدايۃ (1/15)

(30)-     الأنوار الكاشفۃ، ص :(189)،  نیز دیکھیے:  مجموع الفتاوى (18/18)

(31)-     بیہقی  (الأسماء والصفات)، ص: (384)

(32)-     الجواهر المضيۃفي طبقات الحنفيۃ (2/429)

(33)     دیکھیے:  مجموع الفتاوى (18/18)

(34)-   ان کی سوانح تهذيب التهذيب (1/247)،ا ورتقريب التهذيب ص : (106) میں دیکھیے۔

(35)-     الأنوار الكاشفۃ ، ص : (189)

(36)-     دیکھیے:   الأسماء والصفات ،ص  : (384)

(37)-     دیکھیے:   الأنوار الكاشفۃ،ص : (189)

(38)-  ابن الجوزی کہتے ہیں : " اسے عبدالله بن سلام، كعب، ضحاك، اور مجاهد  نے کہا ہے اور ابن جرير نے اسے اختیار کیا ہے، اور یہی اہل تورات کا بھی قول ہے۔ زاد المسير (3/211)، ابن کثیر کا کہنا ہے کہ : "یہی تورات کا نص ہے۔"  البداية (1/13) معلمی کہتے ہیں کہ : " كعب، عبدالله بن سلام، وهب بن منبہ اور ان سے اخذ کرنے والوں سے یہی محفوظ ہے۔" الأنوار الكاشفة، ص: (189)، نیز دیکھیے : سفر تکوین، اصحاح اول اور دوم۔

(39)-     السلسلۃ الصحيحۃ (4/450)

(40)     حوالہ سابق۔

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث