باب: عقیدہ سے متعلق حدیثیں

حلقہ(۷): ایمان کی چاشنی ومٹھاس کے عناصر

ایمانی چاشنی کے عناصر

انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا: (ثلاث من كنّ فيه وجد حلاوة الإيمان: أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يقذف في النار) متفق عليه(1).

’’تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔‘‘(متفق علیہ)

یہ ایک عظیم  اور جلیل القدر حدیث ہے، جو مومن کو ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز کردیتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کی  لذّت وچاشنی کو پالیتا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ حدیث دین کے عظیم اصولوں میں سے ہے۔‘‘(2).

اوریہ حدیث چند اہم وقفات پر مشتمل ہے، جسے ہم درج ذیل طریقے سے بیان کررہے ہیں:

پہلا وقفہ:

آپﷺ کا فرمان: (ثلاثٌ من كنّ فيه وجد حلاوة الإيمان..) ’’تین چیزیں جس کے اندر پائی جائیں گی وہ ایمان کی مٹھاس کو پالے گا.. ‘‘

یعنی: تین خصلتیں جسے حاصل ہوجائیں گی وہ ایمان کی چاشنی کو پالے گا، حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’شیخ ابو محمد بن ابو حمزہ نے فرمایا: حلاوت وچاشنی سے اس لیے تعبیر کی گئی ہے کیوں کہ اللہ نے اپنے کلام پاک میں ایمان کی تشبیہ درخت سے دی ہے جیسا کہ فرمان ہے: (ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ)(3)

’’ اللہ تعالیٰ نے پاکیزه بات کی مثال بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزه درخت کے ۔‘‘

پس کلمہ سے مرادکلمئہ اخلاص ہے،اوردرخت اصل ایمان ہے،اور اس کی ڈالیاں اوامر کی بجاآوری اورنواہی سے اجتناب  کرنا ہے،اوراس کا پتّہ خیرکے وہ کام ہیں جن  کااہتمام مومن کرتا ہے،اوراس کا پھل  نیکی کے کام کرنا ہے، اور پھل کی مٹھاس پھل کا توڑنا ہے، اور اس کے کمال کی انتہا پھل کاخوب پکنا ہے، اوراسی سے اس کی چاشنی ظاہر ہوتی ہے۔‘‘ (4).

صاحبِ (تیسیر العزیز  الحمید) کہتے ہیں: ’’درخت کا پھل ہوتا ہے، اورپھل کی چاشنی ہوتی ہے، اسی طرح ایمان کی درخت ہے جس  کا پھل ہونا ضروری ہے، اور اس پھل کی مٹھاس ضروری ہے، لیکن مومن شخص کبھی اس کی لذت  ومٹھاس پاتا ہے ،اور کبھی اسے نہیں پاتا ہے، بلکہ اس چیز کو پاتا ہے جس کا تذکرہ  حدیث  میں کیا گیا (5) ۔‘‘ اھ۔  

دوسرا وقفہ:

آپﷺ کا فرمان:(أن يكون الله ورسوله أحبّ إليه مما سواهما...).’’ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک دنیا وما فیہا سے زیادہ محبوب ہوں .... )

اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول بندہ کے نزدیک   قلبی محبّت کے اعتبار سے سب سے زیادہ محبوب ہوں،جیسا کہ بعض  احادیث میں آیا ہے:( أحبوا الله بكل قلوبكم (6))’’ اللہ  کو اپنے پورے دل سے پسندکرو۔‘‘

چناں چہ وہ پور ے طور سے اللہ واحد کی طر ف مائل ہوجائے،یہاں تک کہ صرف اللہ ہی اس کا محبوب ومعبود ہوجائے اوراس کی محبت  کے تابع ہوکر اس کے علاوہ لوگوں سے محبت کرے،جیسے انبیاء ،مرسلین، فرشتے اور صالحین سے سے محبت کرے،اس لیے کہ رب سبحانہ وتعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے،اور یہ  اس چیز کی محبت کو  واجب کرنے والی ہے جس  کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور اس چیز کی کراہت  کو واجب کرتی ہے جسے اللہ ناپسند سمجھتا ہے۔اوراس کی چاہت کو دوسروں کی چاہت پر ترجیح دے، اورحسب استطاعت اس کو راضی کرنے کی کوشش کرے، اوراس کی ناپسندیدہ چیز کو ترک کردے، تو یہ  سچی محبت کی علامت اور اس کی لوازمات ہیں۔

اس سے ہمیں معلوم ہواکہ  اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے رسول محمدﷺ کی محبت   یہ ہے کہ ان کے اوامرکی بجاآوری اور ان کی ممنوع کردہ چیزوں سے اجتناب کیا جائے، اوران کی حدوں  کے پاس ٹھرا جائے اوران دونوں سے کچھ بھی آگے نہیں بڑھا جائے۔ اور یہ ساری چیزیں خوش دلی اور طمانینت ورغبت  سے کی جائیں۔

اوراس سے یہ بات بھی سمجھ میں آئی   کہ جس کسی نے احکام میں سے کسی بھی حکم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کی،یا شرعی مخالفتوں میں سے کسی  مخالفت کا مرتکب ہوا  تو اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت مکمل نہ ہوئی۔

اور جس  نے محمدﷺ کی نافرمانی کی،یا ان کے بارے میں غلو کیا،اور ان کو اللہ کے علاوہ  معبود بناڈالا، یا اللہ کے علاوہ ان کو پکارا، تو ایسا شخص محمدﷺ سے محبت کرنے والا نہیں ہے، بلکہ آپﷺ کی حقیقی محبت یہ ہے کہ آپﷺ کے اوامر کی اطاعت کی جائے، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی جائے، آپ کی منع کردہ اور زجر وتوبیخ  کی ہوئی باتوں سے رکا جائے، اور آپ پر کسی کو مقدّم نہ کیا جائے، لہذا جس نے آپﷺ کی نافرمانی کی اس نے آپﷺ سے محبت نہیں کی، اور جس نے آپﷺ کی شان میں غلو سے کام لیا  اورآپﷺ کو آپ کے مقام کے علاوہ کوئی  اورمقام دیا تو اس نے آپﷺ سے محبت نہیں کی۔

اوراس  سے یہ  نتیجہ نکلا کہ  جولوگ آپﷺ کے علاوہ سے تبرّک حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کرآپ کا وسیلہ  پکڑتے ہیں،اوربعینہ اسی وقت بہت ساری شرعی مخالفتوں کا ارتکاب کرتے ہیں تو ایسے لوگ محمدﷺ سے محبت کرنے والے نہیں ہیں، کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کسی شخص کی تعظیم کریں اور اس کے حکم کو نہ مانیں؟!

اوراِن  سب سے بڑھ کر    ضروری ہے کہ  یہ محبت(رسولﷺ)  تمام محبت سے بڑھ کر ہو،جیسا کہ بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں  عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے  بیان کیا ہے کہ انھوں نے نبیﷺ سے کہا: ’’اے اللہ کے رسول  میری جان کے  سوا آپ میرے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہیں، نبیﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہاں تک میں تیرے نزدیک تیری جان سے بھی زیادہ  نہ محبوب ہوجاؤں، تو عمر نے کہا: بے شک آپ  اس وقت میرے نزدیک میری جان سے بھی زیاد ہ محبوب ہیں، آپﷺ نے فرمایا:’’اب اے عمر(تمہارا ایمان مکمل ہوا)۔‘‘(7).

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’اکثرلوگ  اس  بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ رسولﷺ ان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں،اس لیے  عمل کے ذریعہ اس کی تصدیق  اور آپﷺ کی متابعت ضروری ہے ،ورنہ دعوی کرنے والا جھوٹا ہوگا، کیونکہ قرآن کریم  نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ دل  میں پائی جانے والی محبت عملی طور پر اس محبت کے اظہار کو مستلزم ہے،جیسا کہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله)(8)،’’ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ۔‘‘ اور فرمایا: (ويقولون آمنا بالله وبالرسول وأطعنا ثم يتولى فريق منهم من بعد ذلك وما أولئك بالمؤمنين)(9)،’’ اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں ۔‘‘ نیز جل وعلا نے فرمایا: ( إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا وأولئك هم المفلحون)(10)، ..)’’ ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘(11) اهـ.

اوربخاری ومسلم نے انس رضی اللہ سے روایت کیا ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: (لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين)(12).’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد،اس کے والدین اور تمام لوگوں سے محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

تیسرا وقفہ:

محبّتِ الہی کے حصول کے ذرائع:  ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کے دس اسباب ذکر کیے ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔قرآن کریم کو اس کے معانی ومراد میں تدبرکرکے پڑھنا

۲۔فرائض کے بعد نوافل کے ذریعہ اللہ کا تقرّب حاصل کرنا،جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے:(ولا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبّه)’’برابر بندہ مجھ سے نوافل کے ذریعہ قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔(13).

۳۔ہرحال  میں زبان وقلب اور عمل وحال کے ذریعہ اس کا ذکرکرنا،چناں چہ جتنا اس  کا ذکر ہوگا اسی کے مطابق اس کی محبت حاصل ہوگی۔

۴۔شہوت کے غلبہ کے وقت اپنی محبت پر اس کی محبت کو ترجیح دینا

۵۔اللہ کے اسماء وصفات کا دل سے مطالعہ ومشاہدہ کرنا،اور اس معرفت  کے گلستاں  اوراس کے میدان میں چکر لگانا۔

۶۔اس کے احسان وبھلائی  اور اس  کی ظاہری وباطنی نعمتوں کا مشاہدہ کرنا۔

۷۔اس کے سامنے انکسارِ قلب(دلی عاجزی وانکساری) کا مظاہرہ کرنا  ،اور یہ سب سے پسندیدہ صفت ہے۔

۸۔آخری رات  میں(سمائے دنیا پر) نزول الہی کے وقت  خلوت  میں ہوکر  اللہ کی کتاب کی تلاوت کرنا اور پھر اسے توبہ واستغفار پر ختم کرنا۔

۹۔۱۰۔سچے محبت کرنے والوں کی ہمنشینی اختیار کرنا، اوران کی پاکیزہ   باتوں کی پھلوں کو چننا،اور ان سے اسی وقت گفتگو و کلام کرنا جب ان سے بات چیت کرنے میں مصلحت کا پہلو راجح ہو اور اس میں تمہارے حال کی تائید  اور دوسروں کے لیے بھلائی ہو۔ ابن قیّم رحمہ اللہ کی بات ختم ہوئی۔(14).

اورپھر اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کی علامات میں سے یہ ہے کہ:اس کی اطاعت کو لازم پکڑا جائے، اس کی راہ میں جہاد کیاجائے، مومنوں کے لیے نرم گوشہ اپنایاجائے، اور کافروں کے لیے سخت رویہ اپنایا جائے۔اسی کواللہ سبحانہ وتعالیٰ  نے اپنے اس قول میں ذکر کیا ہے: (يا أيها الذين آمنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف يأتي الله بقوم يحبهم ويحبونه أذلة على المؤمنين أعزة على الكافرين يجاهدون في سبيل الله ولا يخافون لومة لائم ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله واسع عليم)(15).

’’ اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو ئے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وه بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وه نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راه میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواه بھی نہ کریں گے، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت وا اور زبردست علم وا ہے۔‘‘

چوتھا وقفہ:

رسولﷺ نے اپنی محبّت کو اللہ عزوجل کی محبت سے ملایاہے، جو محبت رسولﷺ کی عظمت اور اس کی علو شان کی دلیل ہے، اور محبّتِ رسولﷺ کے چند فوائد ہیں جو درج ذیل ہیں:

پہلا فائدہ: یہ سنت میں وارد  بات کی مصداق ہے،جیسا کہ بخاری ومسلم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ  نبیﷺ نے فرمایا: (لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحبّ إليه من والده وولده والناس أجمعين)(16). ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد،والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

اورصحیح  ہی میں عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے وارد ہے کہ انھوں نے کہا :اے اللہ کے رسول! آپ میرے نزدیک میری جان کے علاوہ سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہیں، رسولﷺ نے فرمایا:’’نہیں اے عمر، جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘ ، عمر  رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں،تب رسولﷺ نے فرمایا:’’اب اے عمر(تمہارا ایمان مکمل ہوا)۔‘‘(17).

دوسرا فائدہ: نبیﷺ سے محبت کی چند علامتیں ہیں  ،اور وہ یہ ہیں:

۱۔نبیﷺ کی رویت ودیدار  نہ ہونے پر غمزدہ ہونا،اورآپﷺ کی رویت ودیدار کی تمنا کرنا اور اس کے لیے عمل کرنا۔ابن جریر ،سعید ابن جبیر سے بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسولﷺ کے پاس  حالت غمگینی میں حاضرہوئے، نبیﷺ نے ان سے کہا:’’کیا بات ہے کہ میں تمہیں غمگین  دیکھ رہا ہوں؟‘‘ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی کچھ بات ہے جو مجھے فکر میں ڈالے ہوئی ہے، آپﷺ نے کہا :’’وہ کیا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: ہم صبح وشام آپ کے پاس آتے ہیں آپ کے پاس بیٹھتے ہیں اور آپ کا دیدار کرتے ہیں،اور کل جب آپ نبیوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے تو ہم وہاں تک نہیں پہنچ سکتے، تو نبیﷺ نے اس وقت انھیں کچھ جواب نہیں دیا، پھرجبرئیل اس آیت کو لے کر نازل ہوئے: (ومن يطع الله والرسول فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن أولئك رفيقا)(18)

’’ اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (ﷺ) کی فرماں برداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔‘‘

تو نبیﷺ نے اس  کے پاس  جاکر انھیں اس کی بشارت دی۔‘‘(19).

2۔آپﷺ کے اوامر کو بجالانا اور اورنواہی سے اجتناب کرنا، کیوں کہ یہ بات معلو م ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی اطاعت کرتاہے، اوروہ صرف اس کے امرونہی کے پاس ہی نہیں رکتا  بلکہ اس کی تعبیرات وہدایات  پر بھی نظر رکھتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے وہ اسے بجالاتا ہے، اورجس چیز کو نہیں چاہتا ہے وہ اس سے دور رہتاہے، اور یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نبیﷺ کے ساتھ پہچان تھی، اس طور سے کہ وہ آپﷺکے حکم کو بجالاتے اور اس محبّت کی قدر کرتے تھے، امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ  انھوں نے کہا:(كنت ساقي القوم يوم حُرّمت الحمر في بيت أبي طلحة، وما شرابهم إلا الفضيخوهو خليط البسر والتمر – فإذا منادٍ ينادي، فقال: اخرج فانظر، فإذا منادٍ ينادي: ألا إن الخمر قد حرمت، قال: فجرت في سكك المدينة، فقال لي أبو طلحة: أخرج فأهرقها، فهرقتها)(20).

’’جس دن شراب حرام ہوئی اس د ن میں ابوطلحہ کے گھر ساقی قوم تھا، اس وقت ان کی شراب فضیح یعنی بسر وتمر (گدّر اور خشک کھجور )کی آمیزش سے بنتی تھی، اچانک پکارنے والے نے آواز لگائی:خبردار شراب حرام ہوگئی، ابوطلحہ نے کہا: باہرنکل کر دیکھو، تو ایک آواز لگانے والا پکار رہا تھا: خبردار ہوجاؤ! شراب حرام ہوگئی ہے، راوی نے کہا: چناں چہ مدینہ کی گلیاں (شراب سے) بہہ پڑیں، (یہ سنتے ہی  ابوطلحہ نے مجھ سے کہا:جاؤ اور اسے(باقی شراب کو) بہا کر آؤ،چناں چہ میں نے اسے بہا دیا۔‘‘

یہی سچی محبت ہے کہ آپﷺ کے حکم کو بجالایاجائےاور آپﷺ کے نواہی سے اجتناب کیاجائے، اس سے ہمیں ان لوگوں کے دعوی کی عدمِ صحت کا اندازہ ہوتا ہےجو  مصطفیﷺ سے محبت کا  تودم بھرتے ہیں مگر آپﷺ کے اوامر کی مخالفت کرتے ہیں، اورآپ ﷺ کی منع کردہ باتوں کو اپناتے، اورآ پﷺ کی دین میں نئی باتیں ایجاد کرتے ہیں، اور آپﷺ کو آپ کے درجہ سے بڑھ کر درجہ دیتے ہیں۔

 ۳۔آپﷺ سے محبت کی  نشانیوں میں سے آپﷺ کی سنّت کی مدد کرنا،اورحسب مقدور جان،مال،زبان،قلم،محنت ومشقت وغیرہ سے آپ کی شریعت کا دفاع کرنا ہے۔

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس سلسلہ میں شاندار سچی مثال پیش کی ہے، چناں چہ ابن ہشام  بیان کرتے ہیں کہ: جب اہل مکہ نے زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو حرم سے نکالنے کا ارادہ کیا تاکہ لوگ جمع ہوکر ان کو قتل کرسکیں، تو ان سے ابوسفیان نے کہا: ’’اے زید تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ  کیا تواس بات کو پسند کرتا ہے کہ محمد(ﷺ)  اس وقت تیری جگہ ہمارے پاس ہوتے اور ہم ان کی گردن ماردیتے اور تواپنے گھروالوں کے پاس  بیٹھا ہوتا؟۔‘‘زیدرضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے اتنا بھی گوارہ نہیں کہ محمد ﷺ اس وقت جہاں ہوں انھیں کوئی  کا نٹا بھی چبھے جس سے آپ کو تکلیف ہواور میں اپنے گھر میں بیٹھا رہوں۔‘‘

اورنبیﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام نے آپﷺ کی سنت کی حفاظت کا اہتمام کیا،اور اسی طرح ان کے بعد کے لوگوں نے بھی یہاں تک کہ سنت کی تدوین ہوگئی اور محفوظ ہوگئی، اورالحمد للہ برابر  علما اور طلبا  کی کوششیں اس کام کو انجام دے رہی ہیں، لہذا آپﷺ کی سنت کی مدد  ودفاع کرنا آپﷺ سے محبت کی علامت ہے۔

تیسرا فائدہ:محبتِ رسولﷺ کی  بڑی فضیلت اور  بہت بڑا ثواب ہے، کیوں کہ یہ محبت سچے ایمان کی نشانیوں میں سے ہے، جیسا کہ بخاری ومسلم نے اپنی صحیح میں انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: (لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين)(21). ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن (کامل) نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد،اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘  

لہذا جو نبیﷺ سے محبت کرے گا وہ حقیقی مومن ہوگا۔

اسی طرح نبیﷺ سے محبت    ایمان کی لذت ومٹھاس پانے کا سبب ہے ،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: (ثلاثٌ من كنّ فيه وجد حلاوة الإيمان...) وذكر منها: (أن يكون الله ورسوله أحبّ إليه مما سواهما)  تین خصلتیں ایسی ہیں  جس میں وہ ہوں گی ،وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا ۔۔۔۔) اوراسی میں سے یہ ذکر کیا: ’’اور  یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول، ان کے ماسوا ہر چیز(پوری کائنات) سے زیادہ محبوب ہوں۔‘‘

اسی طرح آپﷺ سے محبت  جنت میں آپﷺکی رفاقت وصحبت حاصل ہونے کا سبب ہے،جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ ایک آدمی نے رسولﷺ سے پوچھا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جوکسی قوم سے تو محبت کرتا لیکن وہ ان تک نہیں پہنچ سکا(ان جیسے عمل نہیں کیا )؟ رسولﷺ نے فرمایا: (المرء مع من أحب)(22). آدمی اسی کے ساتھ  ہوگا جس سے اس نے محبت کی   ۔‘‘

اسی طرح نبیﷺ سے محبت اورآپ کے حکم کی بجاآوری اور نواہی سے اجتناب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت  پانے اور گناہوں کے بخشے جانے کا سبب ہے،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:(قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفر لكم ذنوبكم والله غفور رحيم)(23).

’’ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے وا مہربان ہے۔‘‘

چوتھا فائدہ: علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: رسولﷺ کی محبت کے دو درجے ہیں:

پہلادرجہ: فرض ہے: اوریہ ایسی محبت ہے جو اس چیز کے قبولیت کی متقاضی ہے جو رسولﷺاللہ کےپاس سے لے کر آئے ،یعنی اسے محبت ورضا،اور تعظیم وتسلیم کے ذریعہ لیا جائے،اورآپﷺ کےطریقہ کے علاوہ سے ہدایت  بالکل نہ طلب کی جائے، اورپھر آپﷺ نے  جو کچھ اپنے رب کی طرف سے  پہنچایا ہے اس کی سچی پیروی کی جائے، یعنی واجبات میں سے جس چیز کی خبردی ہے اس کی تصدیق کی جائے، اورمحرّمات  میں سے جن سے منع کیا ہے اس سے باز رہا جائے، اور آپ ﷺ کے دین کی مدد کی جائے، اورجو اس کی مخالفت کرے اس سے حسب طاقت جہاد کیا جائے، اور ان چیزوں کا کرنا  ضروری ہے ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہے۔

دوسرا درجہ:فضل (یعنی زائد و اضافی محبت کی حیثیت رکھتا) ہے: اور یہ ایسی محبت   ہے جو آپﷺ کی بہتر اقتدا و پیروی اور سنن وغیرہ  کی مکمل بجاآوری کی متقاضی ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق و آداب اور نوافل و تطوعات نیز آپ کے کھانے پینے لباس اور ازواجِ مطھرات کے ساتھ حسن معاشرت میں آپ کی اتباع و پیروی کی جائے۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دیگر آدابِ کاملہ اور بلند و پاکیزہ اخلاق کو اپناکر آپ کی پیروی کی جائے۔

اسی طرح آپ کی سیرت و احوال کی جانکاری اور جنگوں کی معرفت کا اہتمام کیا جائے ،آپ ﷺ کے ذکر کے وقت دل خوشی و سرشاری سے جھوم اٹھے۔ اورکثرت سے آپ پردرود وسلام بھیجا جائے تاکہ آپ ﷺکی محبت  و عظمت اورتوقیر و عزت دل میں جاگزیں ہوجائے۔ اورآپﷺ  کے کلام کو سننے سے محبت  کی جائے اور آپﷺ کی بات کو دیگر مخلوقات کی بات پر فوقیت دی جائے، اور سب سے بڑھ   کریہ کہ  دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے میں آپﷺ کی اقتدا و پیروی کی جائے اوردنیا کی معمولی چیزوں پر  اکتفا کرتے ہوئے باقی رہنے والی آخرت کی تمنا کی جائے۔‘‘ ابن رجب رحمہ اللہ  کی بات ختم ہوئی۔

پانچواں وقفہ:

آپﷺ کا فرمان: (وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله..).’’اور یہ کہ آدمی کسی شخص سے صرف اللہ کے لیے محبت کر ے۔‘‘

یہی دوسری خصلت ہے جسے ایک مسلمان کو ایمان کی چاشنی پانے کے لیے اپنانی چاہیے،اورہم یہاں اس کی واقفیت کے لیے چندوقفات  بیان کریں گے:

پہلا: اس سے مراد یہ ہے کہ  مسلمان شخص کا اپنے مسلمان بھائی سے  اللہ کی محبت کے خاطر تعلق قائم ہو،اس طور  پرکہ  احسان وسلوک کے ساتھ اسےزیادہ نہ کرے، اور جفا وسختی کے وقت  اسےکم نہ کرے۔

دوسرا:  اس محبت کی   بڑی فضیلت اور عظیم اجر  ہے،چناں چہ بخاری ومسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا:’’سات لوگ ایسے ہیں جنھیں اللہ اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا جس دن اللہ کے سایہ کے علاوہ  کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا ...)(24) اوران میں سے آپ نے ذکر کیا:’’اوردوایسے شخص جو اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں، اوراللہ کی خاطر جمع ہوتے ہیں اوراسی کی خاطر جدا ہوتے ہیں۔‘‘

اوردوسری حدیث میں آیا ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری بزرگی اور اطاعت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے آج کے دن میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا۔ اور آج کے دن کوئی سایہ نہیں ہے سوائے میرے سایہ کے ۔‘‘ (25).

اس سے ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں  کے درمیان محبّت  اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ہونی چاہیے،پس مسلمان سے اس کے اسلام کی وجہ سے محبت کریں،اوراس کی معصیت کی وجہ سے اس سے بغض رکھیں،  یعنی اعتدال وتوسط کی راہ اپنائیں،طاعت کی حالت میں اس سے محبت رکھیں، اور معصیت کی حالت میں  معصیت کے سبب اس سے بغض رکھیں، اوراس  بغض کا اظہار اس وقت ہو جب وہ معصیت کا ارتکاب کرے۔

ترمذی رحمہ اللہ صحیح سند سے معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن نور (روشنی) کے ایسے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔‘‘ (26).

ابوادریس الخولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ’’ میں دمشق کی ایک مسجد میں داخل ہوا،وہاں ایک چمکتے دانت والا نوجوان تھا، اورلوگ اس کے ساتھ تھے، جب وہ کسی چیز میں اختلاف کرتے تو اس کی طرف رجوع کرتے تھے، اوراس کی رائے کو نافذ کرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں پوچھا،کہا گیا: یہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، اگلے دن  میں  دوپہرکو جلدی گیا، لیکن میں نے دیکھا کہ  وہ مجھ سے پہلے پہنچا ہوا تھا اور نماز پڑھ رہاتھا، میں نے اس  کا انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے اپنی نماز مکمل کرلی، پھرمیں اس کے چہرے یعنی سامنے کی طرف سے اس کے پاس حاضر ہوا اور اس سے سلام کیا، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم بے شک میں تم سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: کیا اللہ کی وجہ سے؟ میں نے کہا ہاں اللہ کی خاطر، پھراس نے کہا: اللہ کی خاطر؟ میں نے کہا: اللہ کی خاطر، چناں چہ اس نے میری چادر کے کنارے کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا  اور پھر فرمایا: خوش ہوجاؤ، کیوں کہ میں نے رسولﷺ کو یہ کہتے سنا ہے: ’’ میری خاطر محبت کرنے والوں، میری خاطر مجالست اختیار کرنے والوں، میری خاطر زیارت کرنے والوں،اور میری خاطر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبّت واجب ہوگئی ۔‘‘ اسے امام مالک نےمؤطا وغیرہ میں روایت کیا ہے، اورابن عبد البر نے کہا ہے کہ:’’اس کی اسناد صحیح ہے۔‘‘ (27).

تیسرا : بہتر ہے کہ مسلمان شخص جب اپنے کسی بھائی سے اللہ کے لیے اوراللہ کی خاطر محبت کرے تو اس کی

اسے خبر دے،  ابوداود  اور ترمذی وغیرہما نے حسن سند کے ساتھ ابوکریمہ مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’جب آدمی اپنے بھائی سے محبت کرے تو اس کو یہ بتلادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (28).

اسی طرح ابوداود نے بھی حسن سند سے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: ایک شخص نبی اکرم کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم نے اس سے پوچھا:تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا:اسے بتا دو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا: ’’تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔ ‘‘ (29).

چوتھا:  اللہ کی خاطر محبت وبغض  کی علامات میں سے دومحبت کرنے والوں کے درمیان حقوق وواجبات کی ادائیگی کرنا ہے، اور ان میں سے چند اہم یہ ہیں:

۱۔حاجات وضروریات کی تکمیل وادائیگی کرنا،کیوں کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہو۔

۲۔عیوب  پر خاموشی اختیار کرنا، پس جس طرح آپ اپنے عیب پر پردہ   چاہتے ہیں اسی طرح اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کریں جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہیں، اور اس سے صادر ہونے والی لغزشوں اور غلطیوں  پر اسے معذور سمجھیں۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ’’مومن عذریں طلب کرتا ہے، اور منافق لغزشوں کی تلاش میں رہتا ہے۔‘‘

۳۔رب کی طرف سے عطا کردہ اپنے بھائی کی نعمت پر حقد وحسد اور کینہ نہ رکھو، جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ:’’مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔‘‘ (30).

۴۔اپنے بھائی کے لیے اس کی زندگی میں اوراس کے مرنے کے بعد دعا کریں، جو اپنے لیے دعا کرتے ہو، چناں چہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابودردا ء  رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان شخص کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے پاس ایک مقرر کردہ فرشتہ ہوتا ہے جب جب وہ اپنے بھائی کے حق میں دعائے خیر کرتا ہے تو اس پر وہ متعین فرشتہ آمین کہتا ہے اور  کہتا ہے کہ اور تمہارے لیے بھی اسی  جیسا ہو۔‘‘ (31).

۵۔اسی میں سے وفا واخلاص کا مظاہرہ کرنا بھی ہے، یعنی پوری زندگی اور اس کے مرنے کے بعد اس کی محبت پر ثابت رہے۔چناں چہ نبیﷺ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ایک بوڑھیا  عورت  کی تکریم کی اور فرمایا: ’’یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے زمانے میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی، اور یہ ایمان ووفا کے اعتبار سے بہت اچھی تھی۔‘‘ لہذا اپنے بھائی سے  تکبر نہ کرے،گرچہ اس کا مرتبہ، اور مال ورتبہ بلند ہو۔

۶۔اور اسی میں سے  سلام میں جلدی کرنا بھی ہے، اوراس کے احوال کی پرسِش و معرفت حاصل کرنا ہے، جیسا کہ نبیﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاوں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو آپس میں محبت کرنے لگو گے؟  آپس میں سلام عام کرو۔‘‘ (33).

اورعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:تم سچے بھائیوں کو لازم پکڑو،ان کے زیرسایہ زندگی گزارو،کیوں کہ یہ کشادگی ووسعت کے وقت  کی زینت ہیں، اور مصیبت کے وقت کے سامان ہیں، اور اپنے بھائی  کے معاملہ کو اچھائی سے معاف کرو یہاں تک کہ اس سے وہ چیز صادر ہوجو تمہیں ناراض نہ کرے، اپنے دشمن سے الگ رہو، اوراپنے دوست سے ہوشیار رہو مگر یہ کہ  وہ امین ہو  اوروہی شخص امانت دار ہوسکتا ہے جو اللہ کی خشیت رکھتا ہو، اور فاجر کی صحبت نہ اختیار کرو کہ اس کے  فجور کو سیکھو، اپنی راز کسی کو نہ بتاؤ، اور اپنے معاملات میں اللہ کی خشیت رکھنے والوں سے مشورہ لیا کرو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ کی بات ختم ہوئی۔

چھٹا وقفہ:

نبیﷺ کا فرمان: ’’اور وہ کفر کی طرف لوٹنےکو ایسے ہی ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے .... ۔‘‘

اس جملہ میں دو اہم مسئلے ہیں:

پہلا مسئلہ: علما نے ذکر کیا ہے کہ اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ: جس نے ایمان کی مٹھاس کو پالیا ،اوراس بات کو جان لیا  کہ کافر شخص جہنم میں ہوگاتو وہ کفر کو ناپسند کرے دخولِ جہنم کی ناپسندیدگی کی وجہ سے۔

دوسرا مسئلہ:  اس جملہ کا لازمی معنی یہ ہے کہ کافر اور اس کے کفر سے بغض رکھا جائے، اور اس سلسلے میں بہت ساری  دلیلیں  ہیں، چناں چہ  اللہ نے اپنی اور اپنے رسولﷺ کی محبت کو واجب قراردیا ہے،اورشرک اور مشرک سے بغض کو لازمی ٹھرایا  ہے، اسی طرح ان سے موالات اور دوستی کو حرام قراردیا ہے، اور اس پر اپنی ناراضگی اور عذاب مرتب کی ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:  (يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء بعضهم أولياء بعض ومن يتولهم منكم فإنه منهم إن الله لا يهدي القوم الظالمين)(34)

’’اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں کے کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے،ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا۔‘‘ 

اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے :(لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين ومن يفعل ذلك فليس من الله في شيء إلا أن تتقوا منهم تقاة)(35)،

’’مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جوایسا کرے گا وه اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو۔‘‘

نیزاللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: (لا تجد قوماً يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آباءهم أو أبناءهم أو إخوانهم أو عشيرتهم)(36).

’’اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘  

چناں چہ کفار سے دوستی رکھنا، اوران کے اعمال  سے رضامند ہونا   اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ناراضگی  اورایمان سے دوری   کا سبب ہے۔ اور موالات ودوستی کی صورتوں میں  سے: ان سے محبت کرنا، ان  سے مُدارات(دینی مصلحت کی خاطرکسی کے ساتھ نرمی برتنا) اور مُداہنت(کسی دنیاوی مفادکی خاطر دین کے معاملے میں رعایت دینا یا مفاہمت کرنا) اختیار کرنا، انہیں قریب کرنا، اور مسلمانوں پر انہیں فوقیت دینا، اوران کی ہمنشینی اور معاشرت اختیار کرنا، اوران کے اعمال سے خوش ہونا ،اور مومنوں کے علاوہ انہیں اپنا رازداں وغیرہ بنانا ہے۔

حواشی:


(1) رواه البخاري، كتاب العلم، باب حلاوة الإيمان 1/30 ح16، ورواه مسلم في كتاب الإيمان، باب بيان خصال من اتصف بهن وجد حلاوة الإيمان، ح43، 1/66.
(2) صحيح مسلم بشرح النووي، 2/210.
(3) سورة إبراهيم، الآية: 24.
(4) فتح الباري بشرح صحيح البخاري 1/60.
(5) تيسير العزيز الحميد ص476.
(6) اسے شیخ عبد الرحمن آل شیخ  نے : فتح المجید شرح کتاب التوحید میں ذکر کیا ہے  ، لیکن میں نے اسے  موجود مصادر میں سے کسی میں  نہیں پایا۔
(7) أخرجه البخاري في كتاب
(8) سورة آل عمران الآية:
(9) سورة النور، الآية: 47.
(10) سورة النور: الآية: 51.
(11) نقلاً من كتاب: تيسير العزيز الحميد ص 473، 474، سليمان بن عبد الله.
(12) أخرجه البخاري في كتاب الإيمان، باب حب الرسول من الإيمان 1/55، ورواه مسلم في كتاب الإيمان، باب وجوب محبة الرسول أكثر من الأهل والولد والوالد والناس أجمعين.
(13) رواه البخاري في كتاب الرقاق، باب التواضع 4/2039، ح 6502.
(14) نقلاً من كتاب: فتح المجيد شرح كتاب التوحيد ص292، 293، عبد الرحمن آل الشيخ.
(15) سورة المائدة، الآية: 54.
(16) اس حدیث کی تخریج گذرچکی
(17) اس حدیث کی تخریج گذرچکی
(18) سورة النساء، الآية: 69.
(19) اسے ابن کثیر نے سورہ نساء کی آیت کی تفسیر میں ذکر کیا ہے، اور فرمایا : ’’یہ اثر مرسلا مسروق، عکرمہ، عامر الشعبی، قتادہ، اورربیع بن انس سے مروی ہے، اوریہ سند کے اعتبار سے سب سے اچھا ہے۔‘‘( 1/523.)
(20) أخرجه البخاري في كتاب المظالم، باب صب الخمر في الطريق 2/738 ح 2464.
(21) تقدم تخريجه.
(22) أخرجه البخاري في كتاب الأدب، باب علامة الحب في الله 4/1943، ح 6169، ومسلم في كتاب البر والصلة، باب المرء مع من أحب، ح 2640، 4/2034.
(23) سورة آل عمران، الآية: 31.
(24) أخرجه البخاري في كتاب الأذان، باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد 1/209 ح 660، ورواه مسلم في كتاب الزكاة، باب فضل إخفاء الصدقة 1031، 2/715.
(25) رواه مسلم في كتاب البر والصلة، باب فضل الحب في الله، 16/96، 2566، 4/1988.
(26) رواه الترمذي في كتاب الزهد، باب ما جاء في الحب في الله 4/24، ح 2499، ورواه الإمام مالك في الموطأ في كتاب الشعر، باب ما جاء في المتحابين في الله 2/725، ح13.
(27) رواه الإمام مالك في الموطأ في كتاب الشعر، باب ما جاء في المتحابين في الله 2/725 ح16.
(28) رواه الترمذي في كتاب الزهد، باب ما جاء في إعلام الحب 4/25، ح 2502، اور ترمذی نے اسے : حسن صحيح غريب کہا ہے، ورواه أبو داود في كتاب الأدب، باب إخبار الرجل بمحبته إياه، 5/343، ح5124.
(29) رواه أبو داود في كتاب الأدب، باب إخبار الرجل بمحبته إياه 5/344، ح 5125،  اور اس کی سند میں مبارک بن   فضالہ القرشی   عجلی ہیں، ان کو امام احمد، یحیی  بن معین   اور نسائی  نے ضعیف قراردیا ہے، اور ان کے علاوہ  نے بھی ان کے بارے میں کلام کیا ہے۔
(30) رواه البخاري في كتاب المظالم باب: لا يظلم المسلمُ المسلمَ ولا يسلمه 2/732، ح 2442، ورواه مسلم في كتاب البر والصلة، باب تحريم الظلم، ح 2580، 4/1996.
(31) رواه الإمام مسلم في كتاب الذكر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب، ح 2733، 4/2094.
(32) رواه الحاكم في المستدرك وحسّنه الألباني في صحيح الجامع الصغير 1/413.
(33) رواه الإمام مسلم في كتاب الإيمان باب بيان أنه لا يدخل الجنة  إلا المؤمنون، ح 54، 1/74.
(34) سورة المائدة، الآية: 51.
(35) سورة آل عمران، الآية: 28.
(36) سورة المجادلة، الآية: 22.

 

 

 

التعليقات  

#7 zeupogucJasonanels ١٥ ذو القعدة ١٤٤٠هـ
buy kamagra: https://kamagra50.com/
اقتباس
#6 ugwchimbJasonanels ٩ ذو القعدة ١٤٤٠هـ
kamagra: https://kamagra50.com/
اقتباس
#5 Lateral disabling endoscope deliberate gallbladder holiday.upilisoewi ٤ شوّال ١٤٤٠هـ
Amoxicillin 500mg Capsules: http://mewkid.net/buy-amoxicillin/ Amoxicillin Without Prescription hkb.vfyf.ur.alssunnah.org.fym.hg http://mewkid.net/buy-amoxicillin/
اقتباس
#4 All pseudogout, pinna crypt sputum.uuvahixekup ٤ شوّال ١٤٤٠هـ
Buy Amoxicillin Online: http://mewkid.net/buy-amoxicillin/ Amoxicillin No Prescription uxu.cnym.ur.alssunnah.org.mjq.iy http://mewkid.net/buy-amoxicillin/
اقتباس
#3 Limb should, often, middle eggs reassurance.otaayuku ٩ شعبان ١٤٤٠هـ
Buy Amoxicillin: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxicillin Without Prescription szu.rdtz.ur.alssunnah.org.bbj.rl http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#2 Often early straining, bitterness, bioassay desired.udibegu ٩ شعبان ١٤٤٠هـ
Buy Amoxicillin: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxil Used qpk.ccuu.ur.alssunnah.org.tzi.un http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#1 انڈیا۔دلیفراز ٧ ربیع الاوّل ١٤٣٩هـ
ماشاء اللہ، اللہ سائٹ والوں کو جزائے خیر دے ،بہت عمدہ مضمون ہے۔ اللہ ہم سب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے کی توفیق دے،اورسچا محب بنائے۔ آمین
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث