باب :عقیدہ سے متعلق حدیثیں

حلقہ (۴)

تو حید کی اہمیت(۱۔۲)

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نےاس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچامعبود نہیں، اور وہ اکیلاہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام (بھی)اللہتعالیٰ کے بندے،اس کے رسول، اس کا کلمہ جو اس (اللہ) نے حضرت مریم علیھا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے (بھیجی ہوئی) روح تھے۔اور (جو شخص اس بات کی بھی گواہی دے کہ) جنت اور جہنم برحق ہیں۔ تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ (بہرحال) جنت میں داخل کرے گا، خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں‘‘۔

(اسے امام بخاری ومسلم ‑رحمہما اللہ‑ نے روایت کیا ہے)۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :

’’ یہ حدیث عظیم اہمیت ورتبہ کا حامل ہے، اورعقیدہ  کے باب میں نہایت ہی جامع حدیث سمجھی جاتی ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر وہ باتیں جمع کردی ہیں جو کفر کی ملّتوں سے ان کے عقائد کے اختلاف اور دوری کے باوجود ان کے مابین وجہِ امتیاز قائم کرتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حروف میں ان باتوں پر اکتفا کیا ہے جس کے ذریعہ  تمام  (باطل ملتیں) جدا ہوجاتی ہیں‘‘۔

اس حدیث میں چند قابلِ غور نکات ہیں  جنھیں ذیل میں اختصار کے ساتھ بیان کررہا ہوں:

پہلا نکتہ:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ۔:(من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له..)، جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

یہ عظیم کلمہ ہے جو ایمان وکفر کے درمیان حدّ فاصل سمجھا جاتا ہے،  جس کا مدلول نہایت عظیم اور معنی بہت اہم ہے۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: (من شهد أن لا إله إلا الله)،یعنی جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے،کے بارے میں علما ئے کرام فرماتے ہیں کہ: ’’جس نے اس کلمہ کے معنی کو جانتے ہوئے اور اسکے ظاہر وباطن تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہوئے، اس کا اقرار کیا، جیسا کہ اس پر اللہ تعالی کا قول(فاعلم أنه لا إله إلا الله(سورہ محمد :۱۹))،’’جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں‘‘،اور فرمانِ الہی(إلا من شهد بالحق وهم يعلمون(سورہ زخرف: ۸۶)’’جس نے حق کے ساتھ اس کی گواہی دی اس حال میں کہ اس کا علم رکھنے والا ہو‘‘دلالت کرتا ہے۔

لیکن اس کا مفہوم سمجھے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کئے بغیر اس کلمہ کی ادائیگی کرنا علماء کے اجماع کے مطابق  بےسود وبے فائدہ ہے۔

اور لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، وہ اللہ یکتا وتنہا  ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔جیساکہ  اس پر اللہ رب العزت کا یہ قول دلالت کرتا ہے:

(وما أرسلنا من قبلك من رسول إلا نوحي إليه أنه لا إله إلا أنا فاعبدون).(سورہ انبیاء : ۲۵)

’’ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان کی جانب اس بات کی وحی فرمائی کہ میرے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں ہے،سو میری ہی عبادت کر‘‘۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’’ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (اس بات کا حکم دے کر کہ) اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت (باطل معبودوں) کی پوجا سے بازرہیں‘‘۔

اس آیت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے، لہذا وہی (توحید)الوہیت کا مستحق ہے، جس طرح وہ  اللہ سبحانہ وتعالیٰ پیدائش، رزق، زندگی، موت، ایجاد، عدم ، نفع ،نقصان ، عزّت ،ذلّت، ہدایت ،ضلالت اور اس کے علاوہ دیگر ربوبیت کے معانی وغیرہ، اور مخلوقات کی پیدائش، اور ان کے کسی بھی چیز کے تصرّ ف کرنے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، اور وہ اسما ء حسنیٰ اور صفت کمال میں منفرد ہے،اور اس سے کوئی دوسرا متصف نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کے کسی چیز میں مشابہ ہے، اسی طرح اللہ سبحانہ کا تنہا معبود ہونا سچ  و برحق ہے، جس میں اسکا کوئی شریک نہیں ہے۔

ارشاد باری ہے: (ذلك بأن الله هو الحق وأن ما يدعون من دونه هو الباطل وأن الله هو العلي الكبير) (سورہ لقمان : ۳۰)

’’یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بیشک اللہ ہی بلندی وا کبریائی والاہے‘‘۔

اور اللہ عزوّجلّ کا فرمان ہے:

(ما اتخذ الله من ولد وما كان معه من إله إذاً لذهب كل إله بمن خلق ولعلا بعضهم على بعض سبحان الله عما يصفون * عالم الغيب والشهادة فتعالى الله عما يشركون)، (سورہ مومنون: ۹۱۔۹۲)

’’نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے ‘‘۔

اور اللہ عزّوجل فرماتا ہے:

 (قل لو كان معه آلهة كما يقولون إذاً لابتغوا إلى ذي العرض سبيلاً * سبحانه وتعالى عما يقولون علواً كبيرا * تسبح له السموات السبع والأرض ومن فيهن وإن من شيء إلا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تسبيحهم إنه كان حليماً غفورا)۔(سورہ اسراء : ۴۲۔۴۳۔۴۴)

’’کہہ دیجیئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وه اب تک مالک عرش کی جانب راه ڈھونڈ نکالتے جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے وه پاک اور باتر، بہت دور اور بہت بلند ہے۔ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وه بڑا بردبار اور بخشنے وا ہے‘‘۔

اور فرمایا ہے :

(لقد كفر الذين قالوا إن الله ثالث ثلاثة وما من إله إلا إله واحد وإن لم ينتهوا عما يقولون ليمسن الذين كفروا منهم عذاب أليم)۔(سورہ مائدہ: ۷۳)

’’وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود ِ برحق نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا‘‘۔

اور اللہ سبحانہ  وتعالی کا ارشاد ہے:

 (إن هذا لهو القصص الحق وما من إله إلا الله وإن الله لهو العزيز الحكيم)۔(سورہ آل عمران: ۶۲)

’’یقیناً صرف یہی سچا بیان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بے شک غالب اور حکمت وا اللہ تعالیٰ ہی ہے‘‘۔

اور فرمایا:

(قل من رب السموات والأرض قل الله قل أفاتخذتم من دونه أولياء لا يملكون لأنفسهم نفعاً ولا ضراً قل هل يستوي الأعمى والبصير أم هل تستوي الظلمات والنور أم جعلوا لله شركاء خلقوا كخلقه فتشابه الخلق عليهم قل الله خالق كل شيء وهو الواحد القهار)...(سورہ رعد:۱۶)

’’آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ۔ کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے۔ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہے۔ کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وه اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے‘‘۔

اس کے علاوہ مزید آیتیں  بھی ہیں جو ضمناً یا صراحتاً اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ پس وہ سبحانہ و تعالیٰ جس طرح( توحید )ربوبیت، پیدائش، روزی وغیرہ دینے میں منفرد ہے، اور جس طرح وہ اپنے اچھے ناموں اور بلند وعمدہ صفات میں منفرد ہے اسی طرح عبودیت کے ساتھ منفرد ہے،اسی لئے کسی بھی حال میں اللہ کے علاوہ کی عبادت درست نہیں ہے۔

دوسرا نکتہ:

 بندہ اس شہادت (لا الہ الا اللہ ) کے حق کی ادائیگی  اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کے شروط کو پورا نہ کرے، اور جس کو ناظم نامی عربی شاعر نے اپنے اس قول میں ذکر کیا ہے:

وبشـروط سبعـة قيــدت
  فإنه لم ينتفـــع قائلهــا
  العلم، واليقين، والـقبــول
  والصدق، والإخلاص، والمحبة

 

وفي نصوص الوحي حقا وردت
  بالنطـق إلا حيث يستـكمـلها
  والانقيـاد، فـادر مـا أقــول
  وفـقـك الله لمـا أحـبـــه


 

 

اوروہ سات شروط کے ساتھ مقید کی گئی ہیں    اور جو وحی کی نصوص میں سچی طور پرآئی ہیں ، اوراس( لا الہ الا اللہ) کا کہنا  اس کے قائل کو   بغیر ان شروط کے مکمل کئے نفع نہیں دے گا  اور وہ  ہیں    :

پہلا:علم ،  دوسرا:یقین ، تیسرا:قبول، چوتھا:انقیاد          ، تو جان لے میں جو کہہ رہا ہوں

پانچواں: صدق، چھٹا:اخلاص اور ساتواں:محبت  ،اللہ تجھے اس چیز کی توفیق دے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

  اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صرف کلمہ شہادت کی ادائیگی کرتا ہے اسے دنیا وآخرت میں کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوتا ہے،بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے ساتوں شرطوں کو پورا کرے، اور وہ درج ذیل ہیں:

۱۔علم، اس سے مقصود:اس کے معنی کو نفی واثبات کے اعتبار سے جاننا،علم منافی ہے جہل کے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کہنا ہے:

(فاعلم أنه لا إله إلا الله).(سورہ محمد: ۱۹)

’’اے میرے نبی !آپ جان لیجئے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں‘‘۔

اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اپنی ( صحیح ) میں عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

’’جس کا انتقال ہو اور وہ جانتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔

اس حدیث سے یہ سمجھ میں آیا کہ لا الہ الا اللہ کے مدلول کا جاننا ضروری ہے، رہا وہ شخص جو اس کے معنیٰ ومدلول کو جانے بغیر اس کا اقرار کرتا ہے تو اس کے اقرارسے اسے کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوگا۔

۲۔ یقین:  سے مراد ہے کہ : اس کلمہ شہادت کا اقرار کرنے والا اس کے مدلول پر ایسا پختہ وجازم یقین رکھتا ہو جو شک کے منافی ہو، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

(إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله أولئك هم الصادقون).(سورۂ حجرات: ۱۵)

’’مومن تو وه ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں‘‘۔

اور صحیح حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں، ان دونوں شہادتوں کے ساتھ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے ملے اور وہ اس میں شک کرنے والا نہ ہو تو وہ جنّت میں داخل ہوگا‘‘۔

چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلمہ کے قائل کےجنت میں د اخل ہونے کے لئے اسے دلی یقین ا ورشک کے بغیر کہنے کی شرط لگائی ہے۔

۳۔قبول: سے مراد یہ ہےکہ اسے کلمہ گو دل وزبان سے قبول کرے، اور اس سلسلے میں بہت ساری آیتیں ہیں، سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کلمہ سے وہی مستفید ہوگا جو اسے قبول کرے گا۔ انہی میں سے اللہ کا یہ قول بھی ہے:

(وكذلك ما أرسلنا من قبلك في قرية من نذير إلا قال مترفوها إنا وجدنا آباءنا على أمة وإنا على آثارهم مقتدون * قال أو لو جئتكم بأهدى مما وجدتم عليه آباءكم قالوا إنا بما أرسلتم به كافرون * فانتقمنا منهم فانظر كيف كان عاقبة المكذبين).(سورہ زخرف:۴۱۔۴۲۔۴۳ )

’’اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے وا بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں (نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے وا) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے‘‘۔

۴۔کلمہ کے معنی کےتحقق کے لئے ظاہری اور باطنی طور پر سرنیاز خم کردینا: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(ومن أحسن ديناً ممن أسلم وجهه لله وهو محسن)،(سورہ النساء: ۱۲۵)

’’باعتبارِ دین اس سے اچھا کون ہے جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکو کار‘‘؟!

اور اللہ سبحانہ کا  ارشادہے:

 (ومن يسلم وجهه إلى الله وهو محسن فقد استمسك بالعروة الوثقى)(سورہ لقمان: ۲۲)

’’اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی وه نیکو کار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے‘‘۔

(يسلم وجهه) کا معنی  یہ ہے: کہ مسلم اللہ کی تابعداری کرے اور وہ محسن وموحّد ہو، اور جو اللہ کے لئے اپنے چہرے کو نہیں  جھکائے گا تو وہ مضبوط کڑا کوپکڑنے والا نہیں ہوگا۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے:

’’ تم میں سے کوئی بھی شخص اسوقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہوجائیں‘‘۔

اور یہی کامل تابعداری ہے۔

۵۔ سچ جو منافی ہو جھوٹ کے،اس طور پر کہ اس کلمہ کو دل سے سچے طور پر کہنے والا ہو، اوردل اسکی زبان کی موافقت کرے، اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(الم * أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنا وهم لا يفتنون * ولقد فتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين).(سورہ العنکبوت: ۱۔۲۔۳)

’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں‘‘۔

اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں فرمایا:

(ومن الناس من يقول آمنا بالله وباليوم الآخر وما هم بمؤمنين * يخادعون الذين آمنوا وما يخدعون إلا أنفسهم وما يشعرون * في قلوبهم مرض فزادهم الله مرضاً ولهم عذاب أليم بما كانوا يكذبون).(سورہ بقرہ: ۸۔۹۔۱۰)

’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں وه اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وه خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے’’۔

اور صحیح میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’جو سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس پر آگ (جہنم)کو حرام کردے گا‘‘۔

چنانچہ اس کلمہ کے قائل کے جہنم سے نجات کے لئے اس کو سچے دل سے کہنے کی شرط لگائی ہے، اس لئے دل کی موافقت کے بغیر صرف زبان سے کہنے پر اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

۶۔اخلاص، وہ عمل صالح کو نیت کے ذریعہ تمام شرک کی آمیزش سے صاف کرنا ہے۔

ارشاد باری ہے:

(ألا لله الدين الخالص)،(سورہ زمر:۳)

’’سن لو! اللہ ہی کے لئے خالص دین ہے‘‘۔

اور سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(فاعبد الله مخلصاً له الدين).(سورہ زمر: ۳۹)

’’اللہ کی عبادت کرو اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے‘‘۔

اور صحیح حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری شفاعت سے سب سے زیادہ وہ شخص سرفراز ہوگا جو لا الہ الا اللہ اپنے قلب یا جی سے اخلاص کے ساتھ کہے گا‘‘۔

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح حدیث میں فرمایا ہے کہ:

’’اللہ تعالیٰ نے جہنم کو اس شخص پر حرام کردیا ہے جو صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر لا الہ الا اللہ کہے‘‘۔

۷۔محبّت: اس سے مراد اس کلمہ سے سچی محبّت کرنا، اور اس چیز سے جو اس کلمہ پر دلالت کرتی ہے اور اس کا متقاضی ہے، اور اس کے ماننے والوں اور اسکے شرائط کا التزام کرنے والوں سے محبت کرنا، اور اس کلمہ کی مخالفت کرنے والوں سے دشمنی وبُغض رکھنا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(ومن الناس من يتخذ من دون الله أنداداً يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حباً لله) (سورۂ بقرہ:۱۶۵)

’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیئے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے وا ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)‘‘۔

نیز اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :

 (لا تجد قوماً يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آبائهم أو أبنائهم أو إخوانهم أو عشيرتهم أولئك كتب في قلوبهم الإيمان...).(سورہ مجادلہ: ۲۲)

’’اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں۔

اور حدیث صحیح میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تین باتیں جس شخص میں پائی جائیں گی وہ ایمان کی حلاوت وچاشنی پالے گا،

پہلی یہ کہ اللہ ورسول اس کے نزدیک دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں،

دوسری یہ کہ وہ کسی شخص سے صرف اللہ کے لئے محبت کرے،

تیسری یہ کہ وہ کفر میں دوبارہ واپسی کو جب کہ اللہ تعالی اسے اس سے نکال چکا ہے، ویسا ہی نا پسند کرے جیسا کہ اسے آگ میں ڈال دیا جانا ناپسند ہے‘‘۔

 

 

التعليقات  

#1 رد: تو حید کی اہمیتأبو محمد ١ محرّم ١٤٣٧هـ
جزاكم الله خيرا
بهت شكريه
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث