باب:عقیدہ وعبادت

(عقیدہ سے متعلق حدیثیں)

حلقہ(۸) وہ امور جن سے لعنت واجب ہوتی ہے

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول ﷺ نے چار باتیں ارشاد فرمائیں : ’’جو شخص غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔جو شخص اپنے والدین پر لعنت کرے اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔اور جو شخص زمین کے نشانات(حدود) کو بدلے اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے (کیونکہ اس میں مسافروں کو تکلیف ہو گی)۔‘‘(اسے مسلم نے روایت کیا  ہے(۱))

یہ  عظیم الشان اور بلند رتبہ والی حدیث ہے، جو چند وقفات،عظیم حکمت اور بہتیرے فوائد کو شامل ہے، میں اسے درج ذیل وقفات کی شکل میں پیش کروں گا:

پہلا وقفہ:اس حدیث کا ایک واقعہ ہے، جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے اندر ایک دوسری سند سے ابو طفیل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا ہے  ،انہوں نے کہا کہ: علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ: کیا رسولﷺ نے تمہارے لیے کوئی چیزخاص  کیا ہے؟ توانہوں نے کہا: ہم سے کوئی خاص بات نہیں فرمائی جو سب لوگوں سے نہ فرمایا ہو، البتہ چند باتیں ہیں جو میری تلوار کے غلاف(دستہ) میں ہیں، پھر انہوں نے کہا کہ : آپ نے ایک صحیفہ( کاغذ) نکالا جس میں لکھا تھا :اللہ کی لعنت ہو اس پر  جو غیراللہ کے لیے ذبح کرے، اوراللہ کی لعنت ہو اس پر جو زمین کی نشانی چرائے، اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جواپنے باپ پر لعنت کرے،اوراللہ کی لعنت ہو اس پر جوکسی بدعتی کو پناہ  وجگہ دے۔‘‘ انتھی۔(۲) جیسا کہ دیگر الفاظ میں وارد ہوا ہے۔   

دوسرا وقفہ:نبیﷺ کا فرمان(لعن)   سے مراد: لعنت کا مطلب ہے رحمت اور اس کی جگہوں سے دورہونا،اور لعین وملعون وہ ہے: جو لعنت کا مستحق ہو، یا جس پر بد دعا کی گئی ہو۔ ابن اثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: لعنت کی اصل: اللہ سے دور کرنا اور دھتکارنا ہے،اور مخلوق کی طرف سے لعنت کا مطلب: بد دعا اورگالی دینا ہے(۳)۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص پر قول کے ذریعہ لعنت کرتا ہے جو لعنت کا مستحق ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے اس بندے پر رحمت بھیجتا ہے جو اس کی رحمت کا مستحق ہوتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:  (هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً)(4)’’ وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے ۔‘‘

اور اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيراً)(5)’’ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔‘‘

اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: (مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلاً)(6). اهـ) (۷) ’’ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔‘‘

گزشتہ باتوں سے  یہ واضح ہوگیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے لعنت کا مطلب:اللہ سبحانہ کی رحمت سے دوری ہے،اورمخلوق میں سے بعض کا بعض کو لعنت کرنے کا مطلب: سب وشتم اور بددعا دینا ہے۔ چناں چہ رسولﷺ اس حدیث کے اندر ہمیں اس بات کی خبردے رہے ہیں کہ جو شخص مذکورہ اعمال میں سے کوئی عمل کرے گا تو وہ رب کی رحمت سے دوری کا مستحق ہوگا۔اللہ ہمیں اس سے پناہ میں رکھے۔

تیسرا وقفہ: نبیﷺ کے قول (لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ) کا مطلب:

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:اس کامطلب یہ ہے کہ غیراللہ کے نام سے ذبح کرے، جیسے کوئی اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ دوسرے نام سے ذبح کرے، جیسے بت،صلیب،یا موسی، یا عیسی علیہما السلام،یا کعبہ وغیرہ کے نام سے۔اوریہ سب حرام ہے،اورایسا ذبیحہ بھی حرام ہے، خواہ اس کا ذبح کرنے والا مسلمان ہو یا نصرانی ہو یا یہودی، پس اگر اس ذبیحہ سے غیر اللہ کی تعظیم وعبادت مقصودہو تو یہ کفر ہوگا، اوراگراس کا ذبح کرنے والا مسلمان ہےتو ذبح کے بعد وہ مرتد ہوجائے گا)   اهـ (8)

اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں  اللہ تعالیٰ کا فرمان: (وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ)(9)’’اور ہر وه چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو۔‘‘اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ جو غیراللہ کے لیے ذبح کیا جائے، مثلا کہا جائے کہ: یہ ذبیحہ فلاں کے لیے ہے،اورجب یہی  مقصود ہو تو چاہے اس کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے،اوراس کی حرمت اس چیز کی حرمت سے زیادہ ظاہر ہے جو اس نے گوشت کھانے کے لیے ذبح کیا ہے، اور اس میں مسیح  وغیرہ کا نام لیا ہے۔جس طرح ہم نے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوئی ذبیحہ پیش کیا ہو تو وہ اس ذبیحہ سے زیادہ پاکیزہ اورعظمت والا ہے جسے بطور گوشت (کھانے) کے لیے ذبح کیا گیا ہو،اوراس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس لیے کہ نماز اور قربانی کے ذریعہ اللہ کی عبادت کرنا فواتح امور میں اس کے نام سے استعانت حاصل کرنےسے زیادہ عظیم ہے۔ اسی طرح  غیراللہ کےنام سے نماز،اورقربانی  کرنےکا شرک فواتح امور میں غیراللہ کی استعانت سے بڑھ کرہے،پس جب مسیح یا زہرہ(فاطمہ) کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھہرا،تو جس میں  یہ کہا گیا ہو کہ  یہ (ذیبحہ )مسیح یا زہرہ کی وجہ سے ہے،یا اس ذبیحہ سے ان کا قصد کیا گیا ہو تو یہ حرام ہونے کےزیادہ مستحق ہے۔کیوں کہ غیراللہ کے لیے عبادت کرنے کا کفرغیراللہ کی استعانت سے بڑھ کرہے۔جیسا کہ اس امت کے منافقین کی ایک جماعت کرتی ہے جو اپنی ذبیحوں کے ذریعہ نجوم وکواکب وغیرہ  کا  تقرب حاصل کرتے ہیں،اگر چہ یہ لوگ مرتد ین ہیں جن کا ذبیحہ کسی صورت میں جائز نہیں ، لیکن اس ذبیحہ میں دوطرح کی ممانعت جمع ہیں) اھـ(10)

چوتھا وقفہ: جان لو   کہ ذبح کرنا عبادات میں سے ایک ایسی عبادت ہے جسے اللہ سبحانہ کی طرف پھیرنا اور اس کے ذریعہ اس کا تقرب حاصل کرنا ضروری ہے،اللہ کے علاوہ کی  طرف اس کا پھیرنا جائز نہیں ہے، پس جب ذبح کی نیت غیراللہ کی طرف پھیر دی جائے  تو یہ شرک ہوگا،  اوراس پر کتاب وسنت کی بہت ساری دلیلیں ہیں جن میں سے چند کو میں پیش کررہا ہوں:

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: (قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ) (۱۱) ’’آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔‘‘

ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا کہ ان مشرکوں کو باخبر کردو جو غیراللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور اللہ وحدہ لاشریک لہ کے نام کے علاوہ سے ذبح کرتے ہیں، اور یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہے : (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ)(12)’’ پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر‘‘، یعنی: اپنی نماز اور ذبیحہ کو اللہ کے لیے خالص کرو، کیوں کہ مشرکین بتوں کی پوجا کرتے ہیں اوران کے لیے ذبح کرتے ہیں لہذا اللہ تعالی نے ان کی مخالفت کرنے اوران کے راستے سے دوری اختیار کرنے کا حکم دیا، اورقصد ونیت اورعزم کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا۔مجاہد ۔رحمہ اللہ۔ اللہ کے قول(صلاتی ونسکی) کے بارے میں کہتے ہیں کہ النسک سے مراد: حج وعمرہ  میں ذبح کرنا ہے، اورسعید بن جبیر کہتے ہیں: (نسکی) سے مراد:اپنا ذبیحہ ہے (یعنی  حج وعمرہ کے علاوہ کا) اھـ(13)

اسی طرح  بیان کردہ  دلیلوں میں سے جس میں اللہ کے لیے ذبح کو خالص کرنا ضروری قراردیا  گیا ہے اللہ جل وعلا کا یہ قول بھی ہے((فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ)(14) ’’ پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر‘‘،

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ نےانھیں ان دونوں عبادتوں  یعنی نماز اور قربانی جو قرب الہی،تواضع،عاجزی، حاجت مندی،حسن ظن، پختہ یقین،سکونِ قلب اوراس کے استعداد پر دلالت کرتے ہیں  کے درمیان جمع کرنے کا حکم دیا ہے برعکس متکبرین،نفرت پسندوں،اور اللہ سے بے نیازمندوں کے حال کے جن کو اپنی نمازمیں اپنے رب سے سوال کرنے کی حاجت نہیں، اورنہ ہی اللہ کے لیے فقروفاقہ کے خوف سے نحروقربانی کرتے ہیں) اھـ(15)

اور بعض نے کہا: یعنی اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے اپنی عطیات وداد ودہش کے ذریعہ تمہیں عزت وشرف بخشا،اورمخلوق کے احسان مندی سے محفوظ رکھا، اورتمہاری اس قوم کو ذلیل ورسوا کیا جوغیراللہ کی عبادت کرتی ہے۔(لہذاجب نحرکروتواللہ کے لیے کرو اوراس کے نام سے کرو اپنی (قوم  کے لوگوں کی) مخالفت کرتے ہوئے جو بتوں کے لیے نحر کرتے ہیں) (16)

پانچواں وقفہ: اللہ عزوجل کے لیے ذبح کرنے کی اہمیت بیان کرنے کے متعلق مصطفیﷺ سے بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

امام احمد رحمہ اللہ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا:ایک شخص ایک مکھی کی وجہ سے جنت میں گیا اور ایک شخص ایک مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ’’دوآدمیوں کا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا ۔ جن کا ایک بت تھا وہ کسی کو وہاں سے چڑھاوا چڑھائے(نذرانہ ) بغیر گزرنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ ان لوگوں نے ان میں سے ایک سے کہا : چڑھاوا چڑھاؤ۔ اس نے کہا : میرے پاس چڑھاوے کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا: تمہیں یہ کام ضرور کرنا ہو گا۔ خواہ ایک مکھی ہی چڑھاؤ۔ اس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھادیا۔ ان لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور اسے آگے جانے کی اجازت دے دی۔ وہ اس مکھی کے سبب جہنم میں جا پہنچا۔ انہوں نے دوسرے سے کہا: تم بھی کوئی چڑھاوا چڑھاؤ تو اس نے کہا: میں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا۔ اور وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ (۱۷)

چھٹا وقفہ:ذبح کی چند اقسام ہیں، بعض تو خالص عبادت  ہے جس سے اللہ عزوجل کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، جیسے حج وقربانی کا ذبیحہ،اوربعض صرف گوشت کھانے کے لیے کیا جاتا ہے،چناں چہ مسلمان شخص پر واجب ہے کہ ذبح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت   پر تقویت کا ارادہ کرے،اورشرعی طریقہ پر اسے ذبح کرے،اس طور پر کہ نحرکرتے وقت قبلہ رخ ہو، اوراس(جانور) پر اللہ کا نام لے۔

اورذبح میں سے بعض حرام ہے جس کا کھانا درست نہیں،بلکہ بسا اوقات شرک تک جا پہنچتاہے،اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے، جیسے وہ شخص جو  ذبح کرتے وقت  شرعی شرائط میں سےبعض شرط کی پابندی نہ کرے۔اوراس سے بڑھ کر یہ کہ ذبح کرتے وقت اپنی نیت کو غیراللہ کی طرف کرلے،جیسے کوئی شخص اپنے ذبیحہ سے کسی بت یا قبریا ولی یا درخت یا کسی جگہ  وغیرہ کا تقرب کا ارادہ کرے، جیسا کہ بہتیرے جاہل حضرات مصیبت کے لاحق ہونے کے وقت کرتے ہیں،یاکسی مرض میں مبتلا ہونے کے وقت، یا مشکلات وپریشانیوں اور بے چینیوں میں سے کسی پریشانی اورکرب وبےچینی سے چھٹکارا پانے کی امید میں کرتے ہیں یہ دعوی کرتے ہوئے کہ اس  قبر، یا اس  ولی، یا اس  درخت  کے پاس ان کی بے چینی،اور مشکلات کو دور کرنے اور اس سے نجات دینے کی طاقت ہے، یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے اس کے واسطے سے سفارش کرتے ہیں ،اور یہ سب  بنی آدم کے ساتھ شیطان کا کھلواڑکرنے کے قبیل سے ہے، تاکہ وہ بنی آدم کو گمراہ کردے، اور اسےہلاکت میں ڈال دے، تاکہ وہ بھی جہنم میں اس کے ساتھ شریک ہوسکے۔

ساتواں وقفہ:مسلمان شخص کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے آپ کو شبہات کی جگہوں میں واقع ہونے سے بچائے، اورانھی میں سے ایسی جگہوں سے دوری اختیار کرنا ہے جہاں غیراللہ کے نام پر ذبیحہ پیش کیا جاتا ہو، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: : (لا تَقُمْ فِيهِ أَبَداً لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ)( 18)’’ آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وه اس ئق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اور ابوداود نے ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے شیخین کی شرط والی سند سے روایت کیا ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (یلملم کی جانب سے  اسفلِ مکہ میں ایک جگہ ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں۔(۱۹)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ۔رحمہ اللہ۔ فرماتے ہیں :’’ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ وہ جگہ جہاں مشرکین غیراللہ کے نام پر ذبح کرتے ہوں وہاں ذبح کرنا  معصیت ہے۔‘‘اھ۔(۲۰)

آٹھواں وقفہ: نبیﷺ کے فرمان(لعن اللہ من لعن والدیہ۔۔۔) سے مراد  :اس شخص کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی کی بد دعا  کرنا جواپنے والدین پر بالواسطہ یا بلا واسطہ لعن طعن کرتا ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں رسولﷺ سے منقول ہے: ’’بڑے گناہوں میں سے آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا ہے، لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول کیا کوئی اپنے والدین کا گالی دیتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے چنانچہ وہ اس کے جواب میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اورآدمی فلاں کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں کو گالی دیتا ہے)(۲۱)

نوواں وقفہ:بے شک والدین کو لعن طعن کرنا، یا انہیں سب وشتم کرنا، یا ان پر آواز بلند کرنا، یا ان سے روگردانی کرنا، یا ان کی حاجت پر لبیک نہ کہنا، یا انہیں پریشان کرنا، یاان کے اوامر سے نفرت وبیزاری ظاہرکرنا، اوراس کی بجا آوری نہ  کرناوغیرہ عظیم گناہوں میں سے ہیں جو دنیا وآخرت میں سزا کا مستحق  ٹھہرانے والی ہیں۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

(وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلاً كَرِيماً * وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيراً * رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُوراً)(۲۲)’’ اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا،اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے،جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وه رجوع کرنے والوں کو بخشنے وا ہے۔‘‘

اوربخاری ومسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: : (ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ثلاثاً، قلنا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وشهادة الزور)(23)

’’کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے۔‘‘

اورامام احمد وغیرہ نے رسولﷺ سے روایت کیا ہے کہ: : (ثلاثة حرّم الله تبارك وتعالى عليهم الجنة: مدمن خمر، والعاق لوالديه، والديوث الذي يقر الخبث في أهله)(24)

’’تین قسم کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے: شراب کا عادی، والدین کا نافرمان، اور دَیُّوث یعنی وہ مرد جو اپنے اہل خانہ ميں زناکاری ديکھ کر اس پر خاموش رہے۔‘‘

دسواں وقفہ: آپﷺ کا فرمان: (لعن الله من آوى محدثاً)’’ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے کسی بدعتی کو پناہ دیا‘‘۔ یعنی مُحدِث (بدعتی) کی اس حد تک مدد و معاونت کرے کہ اس سے حقوق کی بازیابی ناممکن ہوجائے۔(مطلب ان سے حقوق لینے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا)  

ابن اثیررحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کا قول: (مُحْدَِثاً) دال کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ ہے، کسرہ کے ساتھ معنی ہے: جس نے کسی مجرم کی مدد کی اور اسے پناہ دی،اوراس کو اس کے دشمن سے پناہ دیا، اوراس کے اوراس کے پکڑنے والے کے درمیان حائل ہوگیا، اور فتح کے  ساتھ اس کا معنی : بذات خود بدعت ہے، اوراس کو پنا ہ دینے کا مطلب: اس بدعت سے خوش ہونا اوراس پر صبر کرنا ہے، کیونکہ جب وہ بدعت سے راضی ہوا ،اور اس  کے کرنے والے کودرست ٹہرایا، اوراس کی نکیر نہیں فرمائی تو گویا اس نے اس کو پناہ دیا)اھ(۲۵)

گیارہواں وقفہ: نبیﷺ کا فرمان: (لعن الله من غيّر منار الأرض)اللہ کی اس شخص پر لعنت ہو جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔

امام نووی رحمہ اللہ  کہتے ہیں: زمین کے منارے سے مراد اس کی حدود کی نشانیاں ہیں۔‘‘اھ(26)

اورکہا گیا کہ اس کی تبدیلی سے مراد اسے آگے کرنایا پیچھے کرنا ہے، تویہ اس زمین کے ظلم سے ہے جس کے بارے میں رسولﷺ کا ارشاد ہے: (من ظلم شبراً من الأرض طوّقه يوم القيامة من سبع أرضين)(27)، رواه البخاري ومسلم(28)

جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلماً لے لی توبروز قیامت اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘(بخاری ومسلم)

حواشی:

(1)    صحيح  مسلم،كتاب الأضاحي، باب تحريم الذبح لغير الله ولعن فاعله، ح 1978، 3/1567.

(2)    صحيح  مسلم،كتاب الأضاحي ، باب تحريم الذبح لغير الله، ح 1978، 3/1567.

(3)    منقول از:تيسير العزيز الحميد ص 190، لسليمان بن عبد الله آل الشيخ.

(4)    سورة الأحزاب، الآية: 43.

(5)    سورة الأحزاب، الآية: 61.

(6)    سورة الأحزاب، الآية: 61.

(7)    منقول از:كتاب: فتح المجيد شرح كتاب التوحيد ص125، عبد الرحمن بن حسن آل الشيخ.

(8)    صحيح مسلم بشرح النووي، المجلد الخامس 6/122.

(9)    سورة البقرة، آية: 173.

(10)     منقول از: فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، ص125، 126، عبد الرحمن بن حسن.

(11)     سورة الأنعام، الآيتان: 162، 163.

(12)     سورة الكوثر، الآية: 2.

(13)     منقول از: تيسير العزيز الحميد، ص 187.

(14)     سورة الكوثر، الآية: 2.

(15)     منقول از: تيسير العزيز الحميد ص 188، 189.

(16)     المصدر السابق.

(17)     ۔اسے امام احمد نے اپنی کتاب الزہد ص۱۵ میں طارق بن شہاب ،عن سلمان الفارسی  رضی اللہ سے بیان کیا ہے، علامہ عبد القادر الأرناؤوط نے اس حدیث کے بارے میں کہا: یہ موقوفا صحیح ہے)).

(18)     سورة التوبة، الآية: 108.

(19)     سنن  أبی داود،كتاب الأيمان والنذور، باب ما يؤمر به من الوفاء بالنذر، ح 3313.

(20)     منقول از: تيسير العزيز الحميد ص201.

(21)     صحیح مسلم في كتاب الإيمان، باب الكبائر وأكبرها، ح9-، 1/92.

(22)     سورة الإسراء، الآيات: 23-25.

(23)     صحیح بخاری ،كتاب الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر 4/1893، ح 65976، وصحیح مسلم في كتاب الإيمان، باب الكبائر وأكبرها، ح 87، 1/91.

(24)     مسند احمد بروایت عبد الله بن عمر 2/181 رقم الحديث 5349.

(25)     منقول از: تيسير العزيز الحميد ص 192.

(26)     شرح النووي على صحيح مسلم، المجلد الأول، 1/122.

(27)     منقوال از: تيسير العزيز الحميد ص 193.

(28)     صحیح بخاری،كتاب المظالم، باب إثم من ظلم شيئاً من الأرض 2/735، ح2453، صحیح مسلم ،كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم وغصب الأرض، المجلد الرابع، 10/225، ح 142.

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث