باب:عقیدہ وعبادت

(عقیدہ سے متعلق حدیثیں)

حلقہ(9)  اللہ کی حفاظت ونگرانی(۱۔۴)

  سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں :  ایک روز میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا :

(اے لڑکے! بے شک میں تمھیں چند (مفید) باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ (کے احکام) کی حفاظت کرو، وہ تمھاری حفاظت فرمائے گا، تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمھیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمھیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمھیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور(تقدیر کے)صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔ (1)

اور ترمذی کے علاوہ دوسرے محدثین کی روایت میں ہے : (تم اللہ (کے احکام) کی حفاظت کرواسے تم سامنے پاؤگے،تم خوش حالی میں اس کی طرف رجوع کرو وہ تنگ دستی کے وقت تمھاری مدد فرمائے گا، جان لو! جو چیز تمھیں نہیں ملی وہ تمھیں مل ہی نہیں سکتی تھی اور جو کچھ تمھیں مل گیا ہے اس سے تم محروم نہیں رہ سکتے تھے، اور یاد رکھو! اللہ کی مدد صبر سے وابسطہ ہے، مصیبت کے بعد کشادگی آتی ہے، اور تنگی کے بعد آسانی ہوتی ہے۔) (2)

یہ انتہائی عظیم اور جلیل القدر حدیث ہے، اس کے اندر عظیم نصیحتیں، بکثرت فوائد اور عقیدہ و عبادت، نیز اخلاق و آداب وغیرہ کے اہم مسائل کا بیان ہوا ہے۔

امام ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : (یہ حدیث عظیم نصائح اور امور دین کے جامع قواعد کو متضمن ہے۔ حتیٰ کہ بعض علما کا کہنا ہے : میں نے اس حدیث پر غور و تدبر کیا تو اس نے مجھے وحشت زدہ کردیا اور قریب تھا کہ میں پاگل ہو جاؤں۔پس اس حدیث سے جہالت و نادانی اور اس کے معنیٰ و مفہوم کو کم سمجھنا کتنے افسوس کی بات ہے۔) (3)

اس حدیث میں کئی ایک فوائد پائے جا رہے ہیں، جسے درج ذیل سطور میں بیان کیا جارہا ہے :

پہلا فائدہ : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمانا : (ایک روز میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا :(اے لڑکے! بے شک میں تمھیں چند (مفید) باتیں بتلا رہا ہوں۔۔) اس عبارت میں موجود فوائد کو درج ذیل دو وقفوں میں بیان کیا جارہا ہے :

وقفۂ اولیٰ: نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے امت کی رہنمائی کا اہتمام کیا ہے نیز امت کو صحیح عقیدہ، اخلاقِ فاضلہ اور بہتر طرزِ عمل پر ابھارا ہے۔ ہمیں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک چھوٹا سا بچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے چند ایسی کلمات سکھائیں جو چھوٹے ٹکڑوں میں ہوتے ہوئے اپنے اندر بحر معانی کو سموئے ہوئے تھا اور اس کے آثار و نتائج دنیا و آخرت کو شامل تھے۔

یہ خطاب و طرۂ امتیاز یعنی  نئی نسل کے لیے عقیدۂ صحیحہ کی تربیت کا اہتمام کرنا، مناسب ہے کہ مصلحین، تربیت دہندگان اور اساتذہ کا طرۂ امتیاز ہو۔ کیوں کہ یہی لوگ میراثِ نبوت کا بوجھ اٹھانے والے ہیں، اور یہی لوگ اپنے دوشِ (ناتواں) پر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مہم کو اٹھائے ہوئے ہیں، جو کہ انسانیت کے لیے خیر کے راہنما تھے، لوگوں سے گمراہی کو ختم کرنے والے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والے تھے۔

مگر قابل گرفت بات یہ ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو کسی اصلاحی کارواں، تربیتی کاز اور تعلیمی امور  کے انچارج ہیں، وہ اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے اور اس کا واجبی حق ادا نہیں کرتے، خواہ وہ مدیر ہوں یا معلم ہوں یا رہبر ہوں۔ یہ لوگ اپنا زیادہ تر وقت غیر نفع بخش امور میں صرف کرتے ہیں جبکہ یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔ یہی موجودہ نسل ہی مستقبل میں قائد و رہنما اور امت کی رہبر ہوگی، اس لیے  ان کی تربیت کی اہمیت و ضرورت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وقفۂ ثانیہ : نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان : ’’اے لڑکے! بے شک میں تمہیں چند مفید باتیں بتارہا ہوں‘‘ اس عبارت میں تربیتی نشو و نما کے لیے بہترین اسلوب کو اپنانے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ چوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم، ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جو وصیت و نصیحت کرنا چاہتے تھے وہ بڑی اہم اور انتہائی عظیم الشان تھی، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنی قیمتی نصیحت پیش کرنے سے پہلے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور فرمایا : ’’میں تمھیں چند اہم و مفید باتیں بتانے جارہا ہوں‘‘ اور یہ ساری باتیں شوق کو بڑھانے اور جمع خاطر رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

دوسرا فائدہ : آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو وہ تمھاری حفاظت کرے گا، تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے‘‘ اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’تم اللہ کے احکام کی حفاطت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے‘‘۔

مذکورہ عبارت کے معانی و مفاہیم کو مندرجہ ذیل چند وقفات میں بیان کیا جارہا ہے :

وقفۂ اولیٰ : نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان ’’احفظ اللہ‘‘ (تم اللہ [کے احکام] کی حفاظت کرو) کا معنیٰ و مفہوم : علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں :

(’’احفظ اللہ‘‘ اللہ کی حفاظت کرو یعنی اللہ کے حدود، اس کے حقوق، اس کے اوامر اور اس کے نواہی کی حفاظت کرو۔ اور اس کی حفاطت و پابندی اس طرح ہوگی کہ اوامر کو بجالایا جائے، نواہی سے بچا جائے، حدود کو تجاوز نہ کیا جائے اور اسی طرح ممنوع چیزوں سے آگے نہ بڑھا جائے۔ لہٰذا جو کوئی اس پر عمل پیرا ہوگا تو وہ اللہ کے حدود کی حفاظت و پابندی کرنے والا ہوگا، جن کی مدح و ستائش اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمائی ہے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : ﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ * مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ﴾ ترجمہ : ’’یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو۔ جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو۔‘‘ (4) آیتِ کریمہ میں وارد لفظ ’’حفیظ‘‘ کی تفسیر  اللہ  کے اوامر (احکام) کی حفاظت و پابندی کرنے والا ، اور اپنے گناہوں کی حفاظت کرنے والا سے کی گئی ہے، تاکہ وہ گناہوں سے توبہ کرے۔) (5)

مذکورہ بیان سے معلوم ہوا کہ بندے کا اپنے رب کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اس کے احکام کی پابندی کی جائے اور جیسا حکم دیا گیا ہے اس کی تنفیذ کی جائے۔ پس جب احکامِ الٰہی میں نماز اور سبھی ارکانِ اسلام بھی ہیں تو اس کی تنفیذ اور انجام دہی میں جلدی کرنی چاہیے، اور  بندے کا اپنے رب کی حفاظت کرنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ نواہی اور زواجر سے بچے، ان کے قریب نہ جائے، پس جب منکرات کے ارتکاب سے روکا گیا اور برائیوں کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی گئی جیسے : زنا، چوری، فساد، جھوٹ، غیبت اور چغل خوری وغیرہ تو ضروری ہے ان کے قریب نہ جایا جائے اور ان سے دوری اختیار کی جائے۔

اور بندے کا اپنے رب کی حفاظت کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ جب اس سے کوئی لغزش ہو جائے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرلے یا اللہ کے احکام میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی ہو جائے یا معاصی میں سے کسی معصیت پر عمل پیرا ہو جائے تو اس پر واجب ہے کہ جلد از جلد توبہ و انابت اور استغفار کرے اور اپنے اس رب کی طرف رجوع کرے جو اس کا مالک و خالق ہے، اسے عدم سے وجود بخشنے والا ہے اور اس پر انعام و احسان کرنے والا ہے،  تاکہ حفاظت و رعایت کی ذمہ داری مکمل طور پر ادا ہوجائے۔

وقفۂ ثانیہ : یہاں بہتیرے قرآنی نصوص اور نبوی فرامین ہیں جن میں کچھ اہم چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے یا بعض شرعی امور کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم ان میں سے بعض کا ذکر آنے والے سطور میں کر رہے ہیں :

نماز کی حفاظت و پابندی کرنا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نماز کی محافظت و پابندی کا حکم دیا ہے، چناں چہ فرمایا : ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى﴾ ترجمہ : ’’نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو۔‘‘ (6) اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نماز کی حفاظت و پابندی کرنے والوں کی تعریف کی ہے، فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ يُحَافِظُونَ﴾ ترجمہ : ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ (7)

امام احمد رحمہ اللہ نے جید سند کے ساتھ سیدنا حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : (جس کسی نے پنج وقتہ نمازوں کی ان کے رکوع و سجود اور اوقات سمیت حفاطت کی اور یہ جانا کہ یہ اس پر اللہ کی طرف سے واجب ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا، یا فرمایا : اس کے لیے جنت واجب ہے، یا فرمایا : اس پر جہنم حرام ہے۔) (8)

طہارت اور وضو کی حفاظت کرنا۔پس طہارت نماز کی کنجی ہے اور نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے۔

ابن ماجہ اور حاکم نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : (راہ استقامت پر قائم رہو ، تم ساری نیکیوں کا احاطہ نہیں کر سکو گے ، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے۔) حاکم کہتے ہیں : یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ (9)

جن چیزوں کی حفاظت کے تعلق سے نصوص وارد ہوئی ہیں انھیں میں سے ایک أیمان و قسم کی حفاظت  و خیال کرنا بھی ہے۔ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : (بے شک بہت سے لوگ قسم کھاتے ہیں اور بہتیرے لوگ اس سے متعلق اپنے فریضے میں سستی و کاہلی سے کام لیتے ہیں، اس طرح کہ وہ قسم کی حفاظت نہیں کرتے اور نہ اس کا التزام کرتے ہیں۔)(10)

انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ بہت سے مسلمان قسم کا استعمال ضرورت اور بلاضرورت کیا کرتے ہیں، بالخصوص  خرید و فروخت، جدل و جدال اور لڑائی و جھگڑا وغیرہ کے وقت۔ جب کہ قسم کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے اور اس کے پس پردہ دنیا و آخرت کا جو نقصان ہے ان عواقب و نتائج پر غور و فکر نہیں کرتے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ﴾ ترجمہ : ’’اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔‘‘ (11)

جن چیزوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے : سر اور اس سے متعلق حواس وغیرہ کی حفاظت کرنا مثلاً آنکھ، کان وغیرہ جنھیں اللہ نے انسانوں کو ودیعت فرمایا ہے، اور انھیں صرف اور صرف اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں لگانا۔ نیز جو کچھ پیٹ اور اس کے اندر ہے اس کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔

 امام احمد اور ترمذی رحمہما اللہ وغیرہما نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’اللہ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو، اور اپنے پیٹ نیز اس کے اندر جتنی چیزیں ہیں اس کی حفاطت کرو۔‘‘ (12)

سر اور اس کے ساتھ کی چیزوں میں کان کی حفاظت کرنا اور کان کو حرام چیزوں کے سننے سے بچانا بھی داخل ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ حرام چیزوں سے کان کی حفاظت کرے اور صرف وہی باتیں سنے جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مباح و حلال قرار دیا ہے۔ جیسے قرآن کریم کی تلاوت سننا، علمی دروس کا سننا، وعظ و نصیحت کا سننا، اللہ تعالیٰ کا ذکر سننا اور جائز و مباح باتوں کا سننا وغیرہ۔ اور جھوٹ، غیبت، چغل خوری، جھوٹی شہادت، بے حیائی کی باتوں اور گالی و گلوج کے سننے سے پرہیز کرنا۔

بے حیا گانوں کے سننے اور اس کے بیچنے سے تاکیدی طور پر بچنا ضروری ہے۔ یہ بے حیا گانے لوگوں کو اللہ سے روکتے ہیں، دلوں کو سخت بناتے ہیں، شیطان کے قریب کرتے ہیں، فحش و بے حیائی کو مزین بناتے ہیں، اطاعت و فرماں برداری سے غافل کرتے ہیں، اور معصیت و نافرمانی کو آسان کرتے ہیں،  اور اس کے علاوہ بہت سی شنیع و قبیح چیزوں کی طرف ابھارتے ہیں۔

سر اور اس کے ساتھ کی چیزوں کی حفاظت میں شامل مزید چیزیں : حرام چیزوں کی طرف دیکھنے سے آنکھ کی حفاظت کرنا اور اسے مباح چیزوں میں استعمال کرنا۔ اسی طرح اجنبی عورتوں کی طرف نگاہ نہ ڈالنا کہ ان کی طرف انسان کا دیکھنا حلال نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ * وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْأِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ترجمہ : ’’مسلمان مردوں سے کہو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے مطلع نہ ہوں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مارکر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔‘‘ (13)

جس طرح مردوں پر اپنی نظر و نگاہ کی حفاظت کرنا ضروری ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی مناسب  ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں اور اجنبی مردوں پر نگاہیں نہ ڈالیں۔ اور اس حکم کا انطباق ان تمام بصری آلات یعنی ویڈیوز، جریدے اور مجلات وغیرہ میں موجود فحش تصویروں پر بھی ہوتا ہے لہٰذا  اس طرح کی چیزوں سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی جائے۔

سر کی حفاظت میں زبان کی محافظت بھی داخل ہے، اس لیے انسان کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنے کے بجائے مطلق العنان آزاد چھوڑ دے کہ خیر و شر جو چاہے زبان سے اول فول بکے۔

زبان کی عدمِ محافظت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی کسی چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم و ثبوت کو جانے بغیر حلال و حرام کے بارے میں زبان دراز کرے۔ اور یہ انتہائی سنگین و خطرناک معاملہ ہے، ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ بکثرت لوگ خود ساختہ مفتی بن بیٹھتے ہیں   اور بغیر کسی علم کے اپنی عقل و رائے سے اللہ تعالیٰ کے متعلق بولنا شروع کر دیتے ہیں، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ بات کہی گئی ہے کہ : ’’جو کوئی اپنی رائے سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں کوئی بات کہے اور وہ بات سچ بھی ہو جائے تب بھی وہ خطاکار ہے۔‘‘

اس سلسلے میں جس چیز کے متعلق لوگ سستی و کاہلی کے شکار ہیں وہ زیادہ تر غیبت اور چغل خوری میں مشغول ہونا ہے، آپس میں لوگوں کی باتوں کو نقل کرنا ہے اور بعض مجالس تو مسلمانوں کی عزت و آبرو کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں بہت آگے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔

اسی طرح جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں سستی و کاہلی برتی جاتی ہے، بطور خاص لڑائی جھگڑا، خرید و فروخت کے مواقع پر اور دوسروں کی باتیں بلا تحقیق نقل کرتے وقت، وغیرہ۔

حاصل گفتگو یہ ہے کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ہر طرح سے اپنی زبان کی حفاظت کریں۔ امام حاکم نے اپنی مستدرک میں سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے اپنی دونوں داڑھوں کے بیچ کی چیز یعنی زبان اور اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز یعنی شرم گاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (14) اور بخاری کی روایت میں ہے کہ : ’’میرے لیے جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرم گاہ) کی ذمہ داری دیدے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ (15)

امام احمد وغیرہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جس نے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز یعنی زبان کی اور اپنے شرم گاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (16)

امام ترمذی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور جبڑوں کے درمیان کی چیز کی برائی سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (17) امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

امام بخاری اور مسلم وغیرہما نے سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’بےشک بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں کہ کتنی کفر اور بےادبی کی بات ہے جس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گر پڑتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔‘‘ (18) نیز ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ : ’’بے شک آدمی کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے کہنے میں وہ خود کوئی حرج نہیں سمجھتا حالاں کہ اس کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جائے گا۔‘‘ (19)

وقفۂ سوم : نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان : ’’نیز پیٹ اور اس کے اندر جتنی چیزیں ہیں۔۔۔۔‘‘

شکم اور اس کے اندر کی چیزوں کی حفاظت میں دل کو شکوک و شبہات، اتباع شہوات اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر اصرار کرنے سے حفاظت کرنا بھی داخل ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿واعلموا أن الله يعلم ما في أنفسكم فاحذروه﴾ ترجمہ : ’’جان رکھو کہ اللہ کو تمھارے دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے، تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو۔‘‘ (20) اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا :﴿إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً﴾ ترجمہ : ’’بے شک کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔‘‘ (21)

بخاری اور مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’سن لو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا، سن لو وہ ٹکڑا (آدمی کا) دل ہے۔‘‘ (22)

پیٹ میں حرام کھانا پینا ڈالنے سے پرہیز کرنا پیٹ کی حفاظت میں داخل ہے۔ اس لیے بندے کو  ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ صرف اور صرف وہی چیزیں کھائے اور پیے جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور جسے حلال طریقے سے کمایا گیا ہے، کیوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔ اور جس جسم کی پرورش حرام (کھانے پینے) سے ہوئی ہو  تو اس کے لیے جہنم ہی بہتر ہے۔

امام مسلم نے اپنی صحیح میں سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا﴾ ’’اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور عملِ صالح کرو۔‘‘(23) اور فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾ ’’اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمھیں دے رکھی ہیں انھیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘(24) پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے، وہ دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے : اے میرے رب! اے میرے رب! حالاں کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی۔‘‘(25)

مذکورہ باتوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص حرام میں ملوث ہے اور وہی کھاتا پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت نہیں فرمائے گا۔ ایسا شخص اپنے آپ کو انتہائی عظیم و خطرناک معاملے میں ڈال دیتا ہے۔

بندے کے اوپر اپنے رب کے واسطے جن چیزوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے انھیں میں سے ایک شرم گاہ کی حفاظت کرنا بھی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور اس کی حفاظت کرنے والوں کی مدح فرمائی ہے۔ چناں چہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ * وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ﴾ ترجمہ : ’’مسلمان مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں۔ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ اور مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘ (26) نیز مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً﴾ ترجمہ : ’’اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں، اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لیے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (27) اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ * الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ یہاں تک کہ فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ * إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ ترجمہ : ’’یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔‘‘ اور آگے فرمایا : ’’جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے، یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ (28)

امام بخاری وغیرہ نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’میرے لیے جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرم گاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ (29) اور حاکم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے اپنی دونوں داڑھوں کے بیچ کی چیز یعنی زبان اور اپنے دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز یعنی شرم گاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (30)

وقفۂ چہارم : آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان :’’یحفظک‘‘ یعنی وہ تمھاری حفاظت فرمائے گا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان : ’’تجدہ تجاھک‘‘ اور دوسری روایت کے مطابق : ’’تجدہ أمامک‘‘ یعنی  تم اسے اپنے سامنے پاؤگے۔

مذکورہ بالا نص سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرے گا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ کے حدود کی حفاظت کرے گا اور اس کے حقوق کی پابندی کرے گا اللہ اس کی حفاظت فرمائے گا۔ کیوں کہ جزاء  وبدلہ جنسِ عمل میں داخل ہے۔ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : (اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی حفاظت دو طرح سے فرماتا ہے :

نوعِ اوَّل : دنیاوی مصالح میں بندے کی حفاظت فرماتا ہے۔ جیسے کہ اللہ بندے کے جسم، اولاد اور اھل و عیال کی حفاظت فرماتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ﴾ ترجمہ : ’’اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔‘‘ (31) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر جب وقتِ قضا آجاتا ہے تو اس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ عہد طفولیت اور بچپنے و جوانی میں طاقت و قوت کی حالت میں جس کی حفاظت فرماتا ہے تو بڑھاپے اور قوت کی کمی و مرض کی حالت میں بھی اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اس کی مدد و معاونت کرتا ہے اور اسے سمع و بصر، قوت و طاقت اور عقل و فکر سے بہرہ مند فرماتا ہے۔

 ابن رجب رحمہ اللہ نے بعض ایسے علما کا تذکرہ کیا ہے جن کی عمریں سو سال سے تجاوز کر چکی تھیں اس کے باوجودوہ قوت و عقل سے بہرہ ور تھے، پھر ایک دن وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اس بارے میں ان کی سرزنش ہوئی۔ وہ کہتے ہیں : یہ ہمارے اعضاء ہیں، ابتدائی عمر میں ہم نے گناہوں سے ان کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں ہماری حفاظت فرمائی۔

نوعِ دوم :  اور یہ دونوں انواع میں سے انتہائی افضل ہے۔ اللہ بندے کی حفاظت اس کے دین و ایمان میں فرماتا ہے۔ پس زندگی میں گمراہ کن شبہات اور حرام خواہشات سے اس کی حفاظت فرماتا ہے، اور موت کے وقت دین پر اس کی حفاظت فرماتا ہے، اس طرح اس کی حفاظت ایمان پر ہوتی ہے۔) (32) ابن رجب رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے اس مومن بندے کی کفالت فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی حفاظت و پابندی کرتا ہے اور حدودِ الٰہی سے تجاوز نہیں کرتا ہے۔ اللہ اس کی حفاظت اس طرح کرتا ہے کہ دنیا میں شبہات سے اس کو بچاتا ہے۔ ایسے شبہات جس کا شکار انسان ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اس کی وجہ سے صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتے ہیں اور پھر جانے انجانے میں جادۂ حق سے منحرف ہوکر گمراہوں کے ساتھ گمراہ اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتے ہیں، بالخصوص  موجودہ دور میں جب کہ نوع بنوع شبہات بکثرت پھیلے ہوئے ہیں، گمراہ لوگ اس کا پرچار کرتے ہیں اور لوگ جان بوجھ کر یا بلا جانے بوجھے اس کے متعلق جدل و مناظرہ کرتے ہیں، پس جو کوئی ان شبہات کو قبول کرے تو اس کے دین و دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

اور اللہ کی حفاظت و نگرانی میں سے یہ بھی ہے کہ  اللہ تعالیٰ اس دنیا میں حرام خواہشات سے اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ ان حرام خواہشات سے جنھیں شیطان انسان کے لیے مزین بناتا ہے اور اس میں واقع ہونے کے راستوں کو آسان کرتا ہے۔ بطور خاص اس دور میں جب کہ خواہشات و شہوات کے آلات و مصادر بکثرت پھیلے ہوئے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت نہ فرمائے تو بندہ ان معصیات کو کر گزرے گا اور ارتکابِ معاصی میں شیطان اس کا مشارک ہوگا۔ انھیں وجوہات کے پیش نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب سے حفاظت کی دعا فرماتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے۔ ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں یہ دعا سکھلائی : ’’اے اللہ حالتِ قیام میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما، بیٹھنے کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما، سوتے وقت اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما، اور میرے متعلق دشمن و حاسد کی فرماں برداری کو قبول نہ فرما‘‘ (33) یعنی میرے متعلق دشمن و حاسد کی دعا قبول نہ فرما۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ﴿أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ﴾ ’’بے شک اللہ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے۔‘‘ (34) کے متعلق فرماتے ہیں : ’’اللہ مومن کے اور اس معصیت کے درمیان آڑ بن جاتا ہے جو اسے جہنم کی طرف کھینچتا ہے۔‘‘ (35)

اسی طرح اللہ تعالیٰ موت کے وقت گمراہی و ہلاکت سے بندے کی حفاظت فرماتا ہے، اس طرح بندے کی وفات ’’لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی حقیقی گواہی پر ہوتی ہے، اس نازک گھڑی میں انسان اس عظیم شہادت کا احتیاج مند ہوتا ہے جسے اللہ اس کی طرف القا کرتا ہے۔ اس لیے کہ جو شخص اس گواہی کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کے جسم پر جہنم حرام ہوگا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بھی ان دونوں شہادتوں کے ساتھ، ان میں شک کیے بغیر، اللہ سے ملے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (37) اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جس نے گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اس پر جہنم حرام ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ : ’’اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ (38)

لہٰذا جو شخص اس دنیا میں اللہ (کے احکام و فرامین) کی حفاظت کرے گا ، اللہ تعالیٰ موت کے وقت ایمان پر اس کو وفات دے گا، اور یہ بہت بڑی نعمت اور فضل و کرم ہے، اور اگر اللہ کی مدد شامل حال نہ ہو تو آدمی اس سے محروم رہے گا، اس عظیم گھڑی میں دنیوی زندگی سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہوتے ہوئے انسان اس کا بہت زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے، اس وقت انسان کے اہل و عیال، دوست احباب اور مال و دولت اس کے کام نہیں آتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کا عمل ہوتا ہے ، اگر وہ نیک و صالح ہے تو اس کے لیے بشارت و خوش خبری ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے حفظ و امان میں ہوتا ہے اور اگر وہ نیک نہیں ہے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے۔

بندوں کے  لیے اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد قبر و حشر اور اخروی زندگی میں بھی اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ یہ معلوم بات ہے کہ جب انسان کی موت ہو جاتی ہے تو اس کے اہل و عیال اور قریبی رشتے دار قبر کی اس وحشت ناک چھوٹی کوٹھری تک پہنچانے میں بڑی جلدی کرتے ہیں اور اسے اس مقام پر بڑی تیزی کے ساتھ لاتے ہیں اور پھر یہاں کچھ لمحے ٹھہر کر اسے داغِ مفارقت دیتے ہوئے الوداع کہتے ہیں اور اسے یہاں تنہا و اکیلا چھوڑ جاتے ہیں، اس طرح وہ اپنے اہل و عیال سے دور ہوجاتا ہے اور صرف اس کا عمل باقی بچتا ہے، اب اگر اس دنیا میں اس کا عمل نیک و صالح، پاک و صاف ہے اور وہ اللہ عز و جل کے احکام کی حفاظت و پابندی کرنے والا تھا تو اسے بہترین ٹھکانے اور مہمان نوازی کی خوش خبری دی جاتی ہے اور یہ قبر اس کے لیے جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری بن جاتی ہے۔ لیکن اگر اس کا عمل ایسا نہیں ہے تو اس کے برے اعمال کی وجہ سے اسے بری بشارت دی جاتی ہے اور وہ قبر جہنم کی ایک تاریک کوٹھری بن جاتی ہے۔ ہم اللہ سے اس  کی پناہ چاہتے ہیں۔

اس حالت میں اپنی جان کے لیے حیلہ و تدبیر کی کون ضمانت دے سکتا ہے؟  کو ن اس بات کا ضامن ہو سکتا ہے کہ اس کی قبر جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہوگی؟ بلکہ کون ہے جو اپنی جان کے لیے یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ وہ اس دنیا سے اس حال میں نکلے گا کہ وہ اس کے لیے وبالِ جان نہیں ہوگی(یعنی اس کی نیکی اوربرائی  برابر  سرابرہوگی جس سے اس کی گرفت نہیں ہوگی)؟ بے شک یہ بڑا سنگین اور خطرناک معاملہ ہے۔ موجودہ دور کے بہتیرے مسلمانوں کی زندگیوں میں غور فکر کرنے والا پائے گا کہ قبر اور اس کی وحشت انگیزی سے بچنے کے لیے ان کی تیاری ناتمام ہے، بہت سے مسلمان امور دنیا میں مشغول و منہمک ہیں، دنیا نے انھیں اللہ عز و جل کی اطاعت و فرماں برداری سے مشغول کررکھا ہے، وہ اپنے آپ میں غور نہیں کررہے ہیں کہ کہاں جارہے ہیں؟ اور کیا کر رہے ہیں؟ وہ اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ میزانِ شریعت پر رکھ کر اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اگر ان کے اعمال شریعت کے موافق ہیں تو وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں اور اگر شریعت کے خلاف ہیں تو اللہ عز و جل سے توبہ و استغفار کریں اور جن معاصی و گناہوں میں پھنسے ہوئے ہیں سرمو اسے ترک کر دیں۔بہت سے مسلمان بہتیرے حرام کاموں سے متعلق سستی و کاہلی سے کام لیتے ہیں اور بکثرت منکرات کا ارتکاب کرتے ہیں، شاید انھیں نہیں معلوم کہ دنیا میں کیے ہوئے ہر چھوٹے بڑے عمل کا جزا و بدلہ دیا جائے گا، اگر عملِ خیر ہے تو بہتر بدلہ ملے گا اور اگر عملِ شر ہے تو برا بدلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ﴾ ترجمہ : ’’پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ (39)  

حواشی :

________________________________

(1)      رواه الترمذي في كتاب صفة القيامة 4/76، رقم الباب 22، ح2635.

(2)      رواه الإمام أحمد 1/482، ح 2664، وأبو يعلى في مسنده ح2556.

(3)      جامع العلوم والحكم 1/462.

(4)      سورة قٓ، الآية: 32-33

(5)      جامع العلوم والحکم

(6)      سورة البقرة، الآية 238.

(7)      سورة المعارج، الآية: 34.

(8)      رواه الإمام أحمد 5/332، ح 17881-17882.

(9)      رواه الإمام أحمد في مسنده 6/381، ح 21930، 5/282، وأخرجه ابن ماجه في كتاب الطهارة، باب المحافظة على الوضوء 1/101، ح 277.

(10)       جامع العلوم والحكم 1/463.

(11)       سورة المائدة، آية: 89.

(12)       رواه الإمام أحمد في مسنده 1/387، والترمذي في كتاب القيامة 4/54 ح 2575.

(13)       سورة النور، الآيتان: 30، 31.

(14)       رواه الحاكم في المستدرك 4/357 وصححه، ووافقه الذهبي.

(15)       رواه البخاري في كتاب الرقاق، باب حفظ اللسان 4/2032، ح 6474.

(16)       رواه الإمام أحمد 4/398، ان کے یہاں سلسلۂ سند میں ایک راوی کا نام نہیں لیا گیا ہے، مجمع الزوائد للھیثمی 10/298، ہیثمی کہتے ہیں : اس حدیث کی روایت احمد ابو یعلیٰ اور طبرانی نے اسی طرح کی ہے، اور طبرانی و ابو یعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں، اور احمد کے رجال میں ایک راوی کا نام نہیں لیا گیا ہے اور سند کے باقی رجال ثقہ ہیں۔ اهـ.

(17)       رواه الترمذي في كتاب الزهد، باب ما جاء في حفظ اللسان 4/31، ح 2521.

(18)       رواه البخاري في كتاب الرقاق، باب حفظ اللسان 4/2032، ح 6477، ومسلم في كتاب الزهد، باب حفظ اللسان، ح 2998، 4/2290.

(19)       رواه الإمام أحمد في مسنده 2/355، 533، والترمذي في كتاب الزهد، باب ما جاء من تكلم بالكلمة ليضحك الناس 3/381،  ح 2416.

(20)       سورة البقرة، آية: 235.

(21)       سورة الإسراء، الآية: 36.

(22)       رواه البخاري في كتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه 1/41، ح 52، ومسلم في كتاب المساقاة والمزارعة، باب أخذ الحلال وترك الشبهات، ح 1599، 3/1219.

(23)       سورة المؤمنون، الآية: 51.

(24)       سورة البقرة، الآية: 172.

(25)       رواه مسلم في كتاب الزكاة، باب فضيلة الإنفاق، ح1015، 2/703.

(26)       سورة النور، الآيات: 30، 31.

(27)       سورة الأحزاب، الآية: 35.

(28)       سورة المؤمنون، الآيات 1 – 6.

(29)      اس کی تخریج گزر چکی ہے.

(30)      اس کی تخریج گزر چکی ہے.

(31)      سورة الرعد، الآية: 11.

(32)       جامع العلوم والحكم 1/465-468 بتصرف.

(33)       رواه ابن حبان في صحيحه، ح 934، حاکم کے یہاں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس حدیث کی ایک شاہد بھی ہے، دیکھئے : مستدرک الحاكم 1/525.

(34)       سورة الأنفال، الآية: 24.

(35)       ماخوذ از کتاب : جامع العلوم والحكم، لابن رجب 1/470.

(36)       سورة يوسف، الآية: 24.

(37)       رواه مسلم في كتاب الإيمان، باب الدليل على أن من مات على التوحيد دخل الجنة قطعاً ح27، 1/57.

(38)       رواه مسلم في كتاب الصلاة، باب الإمساك على الإغارة على قوم في دار الكفر إذا سمع فيهم الأذان ح382، 1/289.

(39)       سورة الزلزلة، الآيتان: 7، 8.

أضف تعليق

كود امني
تحديث