حلقہ (۴)

تو حید کی طرف دعوت(۱-۲)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا تو ان سے فرمایا:

’’ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے تم پہلے انہیں یہ دعوت  دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی سچا معبود نہیں اور  ایک روایت میں ہے کہ وہ اللہ کو ایک جانیں ۔ جب وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینا ضروری قرار دیا ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پھر جب وہ اس میں بھی تمہاری بات مان لیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور مظلوم کی آہ سے ڈرو کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی‘‘۔(اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے)(1).

یہ عظیم حدیث ہے جو حکمت واحکام ،اور عظیم فوائد سے بھر پور ہے  ، اسے میں درج ذیل نکات میں بیان کر رہاہوں۔

پہلا نکتہ:

 آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول :(جب   معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’ معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف ۱۰  ؁ہجری  میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے حج کرنےسے پہلے بھیجا گیا، جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے‘‘۔

اور امام واقدی  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’(یہ بھیجنا) ۹   ؁ہجر ی  میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے غزوہ تبوک سے لوٹتے وقت تھا، اور اس کے علاوہ بھی کہا گیا ہے۔ لیکن  سب کا اتفاق ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ برابر یمن میں رہے یہاں تک کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وہاں سے آئے، پھر شام چلے گئے اور آپ کا وہیں انتقال ہوگیا‘‘۔(2).

دوسرا نکتہ:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول:( تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جاؤگے...)

یہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حضر ت معاذ رضی اللہ عنہ کو پہلی وصیت تھی، اور اس میں تین فائدے ہیں:

پہلا فائدہ:

جب کوئی ذمہ دارشخص  کسی کو اہم کام کے لیے بھیجے تو اس کو چاہئے  کہ اس چیز کی وصیّت فرمائے  جو اس کے  کام یا مشن کی ادائیگی میں معاون ثابت ہو، اور خاص طور سے  جب وہ معاذ رضی اللہ عنہ کے مشن  یا کام کے مشابہ ہو، جیسے کوئی شخص اسلام کی دعوت دینے ، یا لوگوں کو تعلیم دینے ، یا ان پر قاضی کے طورپر، یا ان کی پریشانیوں کو حل کرنے یااس  طرح دیگر کام کے لیے کسی مشن پربھیجا جائے۔

دوسرا فائدہ:

نبی  کریم       صلی اللہ علیہ وسلم  نے معاذ رضی اللہ عنہ کو باخبر کیا تھا  کہ وہ ایک ایسی قوم کے  پاس  جائیں گے جواہل کتاب ہیں، اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں،  یہ بات آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس لئے بتائی؛ کیونکہ وہ  علم اور قوی حجت ودلائل کے محتاج تھے، تاکہ جو کچھ علم اللہ عزوجل نے انہیں عطا کیا ہے اس کے لئے تیار رہیں،  اور اہل کتاب کو جاہل نہ سمجھیں، نتیجہ میں  وہ ان کے سامنے اسلام کی دعوت  غیر مناسب انداز میں پیش کربیٹھیں اور مقصود حاصل نہ ہو۔

تیسرا فائدہ:

اس مختصر جملے سے  اللہ کی طرف دعوت دینے والے لوگ بہت فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔  ہم اس نکتہ پر قدرے تفصیل کے ساتھ گفتگو کریں گے، وہ یہ کہ اللہ کی طرف دعوت     کا کام پیش کرنے کے لئےایسے اسلوب کی ضرورت ہے جو اس کے مرتبہ، اس کے شرف، اور اس کی عظیم شان ورتبہ کے مناسب ہو، چنانچہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تنبیہ کررہے ہیں کہ ہرمقام کے لئے   ایک گفتگو ہے، چنانچہ جاہل شخص سے گفتگو کرنا متعلم   کے خطاب کرنے سے مختلف ہے۔اور انصاف پسندمتعلمین  سے گفتگو کرنا عام متعلمین کے گفتگو سے مختلف ہے۔ اور یہ دعوتی حکمت ان حکمتوں میں سے ایک ہے جس کو داعی کوبروئے کار لانے کے لیے اس آیتِ کریمہ میں حکم دیا گیا ہے:

 (ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي أحسن)(3).

’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے،اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے‘‘۔(3)

اور دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سارےلوگ جو وعظ وارشاد اور توجیہ کا اسلوب اپناتے ہیں وہ ان باتوں کی رعایت نہیں کرتے ہیں ،جس کی وجہ سے ان کی باتوں کا کوئی خاطر خواہ  فائدہ نہیں ہوتا، اور اگر ہم رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ایسا حکیم پاتے ہیں جو دعوت کے پیش کرنے میں ہر طرح کی حکمت کو اپناتے ہیں،آغازِ دعوت میں قریش پر اپنی دعوت کے پیش کرنے سے لے کر  وفات پانے تک، اس دعوتی حکمتِ عملی کو برتتے نظر آتے ہیں۔

کبھی آپ تمام لوگوں کو خطاب کرکے اپنی دعوت پیش کرتے تھے، اور کبھی معین شخص کے سامنے دعوت پیش کرتے، اور کبھی کسی غلطی کی اصلاح فرماتے ...اوراس طرح دوسرے اسلوب  بھی اختیار کرتے تھے۔

بے شک حکمت کا اسلوب نہ اختیار کرنا، اور بات کو اس کے اصلی جگہ میں نہ رکھنابہت سارے نقصانات کا سبب بنتا ہے،جن میں  سب سے بڑا نقصان اہم لوگوں کا اسلام اور اس کے ماننے والوں سے متنفّر ہوجانا ہے۔

بے شک بات امانت وذمہ داری ہے، اور متکلم امین ہوتا ہے، لہذا اسے مطلوبہ طریقے پر اپنی امانت کو ادا کرنا چاہئے، تاکہ اپنے کام کو(اچھے طریقے سے)  ادا کرسکے، اوراس کا پاکیزہ پھل مل سکے۔ ان شاء اللہ۔

تیسرا فائدہ:

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول: (سب سے پہلے تمہیں ان کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف بلانا چاہئے)، اور ایک روایت میں ہے :(کہ اللہ کی وحدانیت کی طرف) ، اس جملہ میں درج ذیل مسائل ہیں:

پہلا مسئلہ:

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان: (تو تمہیں سب سے پہلے انہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف بلانا چاہئے)،

یہ دعوت کے اسالیب میں سے نیا اسلوب ہے، اور وہ ہے ترجیحات کا تعین یعنی کاموں کو ان اہمیت کے اعتبار سے یکے بعد دیگرے کرنا۔چنانچہ معاذ ‑ رضی اللہ عنہ – عنقریب اللہ کا انکار کرنے والے لوگوں کے پاس جانے والے ہیں،اور انہیں اللہ کے دین میں داخل ہونے کے لئے ان کے ساتھ تدرّج اپنانا ضروری ہے، کیونکہ جب شرعی احکام کی پابندی یکبارگی عاید کردی جائیں تو مدعو قوم میں ان احکام کو مقبولیت نہیں حاصل ہوگی، اس لئے کہ احکام کی پابندی بذاتہ نفس پر بھاری ہوتا ہے، اور اسی کو رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی قوم کے ساتھ اپنے مبارک دعوت میں کیا تھا، اس طور پر کہ آپ مکہ مکرّمہ میں تیرہ سال تک رہ کر توحید کی طرف بلاتے رہے، شرک  اوربت پرستی سے دور رہنے کا حکم دیتے  رہے، اس کے علاوہ آپ نے کسی چیز کا حکم نہیں دیا، اور اسی طرح دیگر انبیاء ورسولوں کی بھی دعوت رہی ہے، جوسب سے اہم پھراس  سےکم اہم کام سے اپنی دعوت  شروع کرتے تھے۔

اسی لئے ہر داعی شخص کے لئے مناسب ہے کہ وہ سب سے اہم کام پر نگاہ رکھے، اور اسی پر اپنی دعوت میں ترکیز کرے ، اس کے ساتھ یہ بھی مناسب ہے کہ وہ پہلے اسلوب سے بھی غافل نہ رہے ، اور وہ یہ کہ موقع محل کے اعتبار سے گفتگو ہونی چاہئے۔اس طور پر کہ کافروں سے خطاب مسلمان گنہگار شخص کے خطاب سے جدا ہوا کرتی ہے، اور اسلامی احکام کی تطبیق میں تقصیر کرنے والے بیٹے سے خطاب اس سلسلے میں بیٹی سے مختلف ہوا کرتی ہے۔اور اس طرح دیگر امور میںـ

دوسرا مسئلہ:

 نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول: (تمہیں سب سے پہلے انہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف بلانا چاہئے)،

اس سلسلے میں کئی روایات وارد ہوئی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے:

( تو تمہیں انہیں سب سے پہلے اللہ کی عباد ت کی طرف بلانا  چاہئے، اور جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں اس بات کی جانکاری دیں کہ اللہ نے ان پر پنجوقتہ نمازیں فرض کی ہیں)۔

اور ان میں سے دوسری روایت : (یہاں تک کہ اللہ کی وحدانیت بیان کریں، اور جب وہ اسے جان لیں)۔

 کبھی سوال کرنے والا یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا ان روایات کے درمیان معنی کے علاوہ کوئی اختلاف ہے ؟۔

علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:’’ اللہ کی عبادت سے مراد: اس کی توحید ہے، اور اس کے لئے توحید کی گواہی دینا ہے، اور اس کے نبی کے لئے رسالت کی گواہی دینا ہے،تو اس سے یہ ظاہر ہو ا کہ ان روایات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، لہذا اس کا معنی ایک ہے، اور وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا ہے، اور اس کے لئے عبادت کو خاص کرنا ہے ،وہ تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور اس کے علاوہ کو دور پھینکنا ہے‘‘۔

تیسرا مسئلہ:

اس جملہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سب سے اہم چیز جس کی طرف داعی شخص کو بلانا چاہئے وہ اللہ عزّوجل کی توحید ہے،  اس پر بہت زیادہ ترکیز کرنی چاہئے، اس پر رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا عمل دلالت کرتا ہے، اور آپ کا دلوں میں عقیدہ کو راسخ کرنے کے لئے دعوت کے اکثر ایام میں اس پر مستمرّ رہنا، اور اللہ عزّوجل کی توحید کی طرف بلانا ،شرک اور اہل شرک سے دوری اختیار کرنا بھی (اس پر دال ہے)۔

اسی لئے دنیا کے ہر خطّے میں اللہ عزّوجل کی طرف دعوت دینے والوں کو اس جانب خاص توجّہ دینی چاہئے، اور اسے اولین ترجیح دینی چاہئے ،چاہے لوگ اس کی کتنی مخالفت کریں اور اس سے اعراض کریں، کیونکہ اس سلسلے میں ان کے لئے انبیاء ورسل قدوہ ونمونہ ہیں، اور ہمارے نبی محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  میں بہترین نمونہ ہیں، اور جب لوگ عقیدہ توحید کو قبول کرلیں گے تو دیگر احکام کو قبول کرنا آسان ہو جائیگا۔

اے میرے داعی بھائی! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قرآن کریم کا اکثر حصہ      تو حید کی دعوت دیتا ہے، چاہے وہ بلاواسطہ ہو جیسے اللہ کا ارشاد ہے:

(ولقد بعثنا في كل أمة رسولاً أن اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت)(4)

’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو‘‘۔

یا بالواسطہ ہو ، یعنی انبیاء علیہم السلام کی دعوت، اور ان کی قوم کے ساتھ ان کے واقعات کو پیش کرکے ہو، وغیرہ، یا پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مخلوقات کو پیش کرکے تاکہ عقل مند شخص اس کے ذریعہ اس جہاں کے خالق پر استدلال کرسکے، لہذا وہی تنہا معبود ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں، یہ سب کیوں ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ کی اہمیت اور لوگوں کے دلوں میں اس کو راسخ کرنے کے لئے ہے۔

اور یہیں سے ہمیں اکثر داعیوں کی غلطیوں کا پتہ چلتا ہے جنہوں نے عقیدہ کی دعوت میں لاپر واہی سے کام لیا، اور سلوک واخلاق کے پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیا،یا سیاسی اور اجتماعی معاملات میں عقیدے کی بنسبت  زیادہ گہرائی اور دلچسپی کامظاہرہ کیا۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے عمومی احکام عظیم اہمیت کے حامل ہیں، اور اسلام میں کوئی چیز مغز وچھلکا نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ ا سے خوش الحانی سے بیان کرتے ہیں، لیکن اہم کام سے آغاز کرنا ہے اور (لا الہ الا اللہ ) سب سے اہم چیز ہے جس کی طرف دعوت دیناضروری ہے۔

چوتھا مسئلہ:

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس لفظ کے تحت فرماتے ہیں کہ:

’’رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دین سے یہ چیز بدیہی طور پر معلوم ہے، اور امت اس پر متفق ہے کہ یہ اسلام کی اصل ہے، اور سب سے پہلے مخلوق کو جس چیز کا حکم دیا جائے گا: وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں ہے، او رمحمد  صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے رسول ہیں،اسی سے کافر شخص مسلمان ہو تا ہے، اور دشمن دوست بنتا ہے، اور جس کا خون اور مال مباح ہوتا ہے اس کا خون اور مال محفوظ ہوجاتا ہے، پھر اگر وہ اسے دل سے کہتا ہے تو وہ ایمان میں داخل ہوجاتا ہے، اور اگر وہ اسے صرف زبان سے کہتا ہے تو وہ ظاہری طور پر مسلمان ہوتا ہے لیکن باطنی طور پر وہ ایمان سے خالی ہوتا ہے’’۔ (5).

پانچواں مسئلہ:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول: (سب سے پہلے تمہیں ان کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف دعوت دینا چاہئے)،

اہل علم فرماتے ہیں: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کافر کے بارے میں اسلام کا حکم اس وقت تک نہیں لگایا جائے گا جب تک کہ وہ شہادتین کی زبان سے ادائیگی نہ کرے۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ’’رہی بات شہادتین کی تو جب تک ان دونوں کو قدرت رکھنے کے باوجود نہ بولا جائے تو ایسا شخص مسلمانوں کے اتفاق  رائےسے کافر ہے، اور وہ سلف امت ، ائمہ، اور جمہور علماء کے نزدیک ظاہر وباطن میں کافر ہے‘‘۔

چھٹا مسئلہ:

 بعض اہل علم نے کہا ہے کہ:

’’ اسی بات کا رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا وہ قتال(جنگ) سے پہلے دعوت تھی جس کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے حکمرانوں کو وصیت کرتے تھے۔

اسی لئے قتا ل سے پہلے اس شخص کے لئے دعوت مستحب ہے جس کے پاس پہلے  دعوت پہنچ چکی ہو، اور جسے دعوت نہ پہنچی ہو تو اسے قتال سے پہلے دعوت دینا واجب ہے‘‘۔

 

حواشی:

[1] اسے   امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التوحید، باب :نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو توحیدکی طرف دعوت دینا، میں ذکر کیا ہے۔(15/2301، حديث نمبر: 7372)، اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التوحید، باب:شہادتین اور شرائع اسلام کی طرف دعوت دینا، میں ذکر کیا ہے (حديث نمبر:  19،  1/50)۔

   2] شیخ  عبد الرحمن  آل  الشیخ  کی  کتاب :  فتح المجید  شرح کتاب التوحید سے منقول ہے، ص: 71، 72،

[3]  سورہ  نحل، آیت:۱۲۵

[4] سورہ نحل، آیت:۳۶

   [5]    شیخ عبد الرحمن  آل  الشیخ  کی  کتاب : فتح المجید  شرح کتاب التوحید سے منقول ہے، ص:۷۳

 

 

 

 

التعليقات  

#1 الهندأبو فاطمة ١٨ جمادى الآخرة ١٤٣٨هـ
ماشاء الله رائع جدا، جزى الله القائمين على هذا الموقع،رفع الله قدرهم في الدارين كما رفعوا سنة نبيه صلى الله عليه وسلم في هذه المعمورة وقدروها ونشروها ....
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث