حلقہ(۳)

بندوں پر اللہ کا حق اور اللہ پر بندوں کے حقوق

 

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلمکے پیچھےگدھے پر سوار تھا،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟’’میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔’’میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا :نہیں ،ایسا نہ ہو کہ وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں،(اور عمل کرنا چھوڑدیں)‘‘۔ (متفق علیہ)

حدیث کی اہمیت:

ہر مسلمان کو اس حدیث کے بارے میں غور وفکر  اور تدبّرسے کام لینا چاہئے، کیونکہ یہ بہت بڑے مسائل اور عمدہ فوائد پر مشتمل ہے،اور یہ کیوں کر نہ ہو جب کہ یہ حدیث اس   دنیا میں انسانی غایت کے بارے میں بحث کرتی ہے، اور   نہایت اہم اور  وخطورمہتم بالشان  اصل کو ثابت  کرتی ہے،کیونکہ یہ اصل ایسی ہے جس کے مجروح ہونے سے دنیا وآخرت میں انسان کی زندگی کا مسار  بدل جاتاہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العبادپر مبنی اس حدیثکی تشریح   پانچ فوائد کے ضمن میں پیش کی جارہی ہے:

پہلا نکتہ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:

(’’اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟)

آپ صلی اللہ علیہ وسلمکا قول (أتدری) کیا تجھے معلوم ہے، کی تشریح ملاحظہ فرمائیں:

درایت  کہتے ہیں :معرفت وعلم کو، اوریہاں خبر کو استفہام کے صیغہ کے ساتھ لایا گیا ہے تاکہ نفس میں زیادہ اثراندازہو، متعلم کے فہم میں زیادہ بلیغ ثابت ہو،  حفظ و انتباہ  کا زیادہ   محرّک ثابت  ہو، اور فہم کے اعتبار سے زیادہ  محفوظ رکھنے والا ہو۔

اور یہ جملہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلمکا اپنے صحابہ کی تربیت وارشاد  اور انہیں تعلیم دینے کے اسالیب میں سے ایک اسلوب ہے، اور موجودہ دورمیں تربیت کے اس کاز میں اسی اسلوب نبوی کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔

دوسرا نکتہ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا  یہ جواب :

(حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئاً).

’’بندوں پر اللہ کا یہ حق ہےکہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں‘‘۔

یہ  نہایت قدر  ومنزلت والی عبارت ہے، جس کا  معنی بہت بڑا ہے، فوائدا ورحکمتوں سے پُر ہے بایں ہمہ  یہ تین امور پر مشتمل ہے:

پہلا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ( اللہ کا بندوں پر حق):

 اس سے مراد باری تعالیٰ کے وہ حقوق ہیں جن کا اللہ تعالی بندوں سے استحقاق رکھتا ہے اور انھیں حتمی قراردیتا ہے ،اس طرح یہاں وجوب کا معنی مستفاد ہوتا ہے ، گویا کہ اس نے کہا: جو بندوں پر اللہ کے لئے واجب ہے۔

لفظ(الحق) کے متعدد معانی ہیں، چنانچہ بدلہ، صدق،  اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ  وغیرہ  معانی پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

دوسرا :   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:

(أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئاً..).

معنی: اسی کی تنہا عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔

اور اس جملہ کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں اس بات کا بیان ہے کہ عبادت کا شرک سے خالی ہونا ضروری ہے۔

اور عباد ت دراصل  خضوع تذلل کو کہتے ہیں، کہا جاتا ہے: طریق معبّد(ہموار راستہ)، وبعیر معبّد(سدھایا ہوا اونٹ): یعنی: تابع وہموار   وآسان کو۔

اور جس عبادت کا انسان کو حکم ملا ہے وہ علامہ ابن  تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ ہے :

’’رسولوں کی زبانی جو اللہ نے حکم دیا ہے اس کی اطاعت  وبجا آوری کرنا‘‘۔،  یا  آپ رحمۃ اللہ علیہ ہی کے بقول :

’’عبادت ظاہری اقوال و اعمال کا ایک جامع نام ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور اسے پسند فرماتا ہے‘‘۔

علامہ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

’’مگر  وہ عبادت جس کا اللہ نے حکم دیا ہے یہ ذلت وپستی اور محبّت کے معنی کو شامل ہے ، اس طرح  یہ عبادت   اللہ سے کمال محبت کے ساتھ نہایت عاجزی وپستی کی نشاندہی کرتی ہے‘‘۔

پس یہ عبادت اس معنی ٰکے اعتبار سے زندگی کے ان تما م امور کو شامل ہے، جنھیں انسان کہتا اورکرتا ہے بشرطیکہ یہ اعمال وافعال  اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئےانجام دیے گئے  ہوں، چنانچہ یہ تعبدی شعائر نماز ،روزہ، زکاۃ،حج،ذکر، دعا، استغفار، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ کو شامل ہے۔ اسی طرح زندگی کے دیگر مباح امور جیسے کھانے، پینے، معاملات اور نکاح وغیرہ کو بھی محیط ہے۔

علامہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’نماز، زکاۃ، صیام، حج، سچی گفتگو،امانت کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی،عہد وفا، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، کفار ومنافقین سے جہاد کرنا، پڑوسیوں ، یتیموں، مسکین، مسافر، کے ساتھ بھلائی واحسان کرنا،آدمیوں اور چوپایوں میں سے اپنے ماتحت اور تابع مخلوقات کے ساتھ احسان وبھلائی کرنا، اوردعا، ذکر، قراءت اوراس جیسی عبادت وغیرہ’’۔اسی طرح اللہ ورسول کی محبّت وخشیت، اور انابت الی اللہ،  دین میں خلوص، اللہ  کےحکم پر صبر کرنا، اس کی نعمتوں پرشکر بجالانا، اس کی قضا پر رضا مند ہونا، اس پر توکل کرنا، اس کی رحمت کی امید رکھنا، اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا اور اس جیسے دیگر امور عبادت الہی میں سے ہیں‘‘۔ ا.ھ  

اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان اس دنیوی زندگی میں جو کچھ جائز عمل کرتاہے، اگر اس عمل میں  اس کی نیت درست ہوتو وہ چیز عبادت ہوتی ہے، یہاں تک کہ انسان جو اپنی شہوت، لذت،اور یومیہ معاش کو جائز طور سے پوری کرتا ہے،وہ بھی عبادت ہے۔

اور اس کی واضح شاہد وہ روایت ہے جسے امام مسلم وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:

’’تم میں سے ہرایک کے شرمگاہ میں صدقہ ہے، انہوں نے کہا: کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو پورا کرتا ہے تو اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے اگر اسے حرام طریقے سے پورا کرتا تو کیا اس پر گناہ نہیں ملتا؟ انہوں نے کہا، ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اسی طرح جب وہ حلال طریقہ سے اپنی شہوت پوری کرتا ہےتواس پر بھی اجر ملے گا‘‘۔

بعض اہل علم نے کہا ہے کہ :

’’ یہ اپنے بندوں پر اللہ کی کمال رحمت ہے، کہ انہیں اپنی شہوتوں کو پورا کرنے پر ثواب سے نوازتا ہے جب  اس سےان کی نیت حق زوجیت کی ادائیگی اور شرمگاہ کی حفاظت ہو‘‘ ۔

یہی عبادت کا وہ  وسیع اور گہرا معنی ہے جس کی انجام دہی کا  اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا، اور اسے اپنی مخلوق پر بہت ساری آیات کے ذریعہ واجب کیا ہے۔ان میں سے یہ آیت بھی ہے :

(ولقد بعثنا في كل أمة رسولاً أن اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت).(سورہ نحل:۳۶)

’’ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجا (اس بات کا حکم دے کر )کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اورغیر اللہ کی عبادت سے بچیں‘‘۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے لوگوں کی ہر جماعت میں ایک ایسا رسول بھیجاہےجو اس کلمہ کی تبلیغ کریں جس میں صرف  ایک اللہ کی عبادت کا حکم ہے اور غیراللہ کی عبادت سے ممانعت ہے۔

اور اس عبادت کو جب بندہ اس کے وسیع معنی میں انجام دیتا  ہے تو اسے ایسی  سعادت ملتی ہےجس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔علّامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اور اسی طرح جب جب بندہ اللہ کی عبودیت کو خالص کرے گا تو اس کواپنے نفس کا عرفان حاصل ہوگا اور اس پر وجود اسرارکھل جائیں گے ساتھ  ہی ایسی روحانی سعادت پائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سعادت نہ ہوگی،اور یہ وہ سعادت ہوگی جسے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے ایمان کی حلاوت ولذت کا نام دیا ہے‘‘۔

اور امام ابن القّیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ دلوں کے نزدیک اس کے خالق وپیدا کرنے والے سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کا الہ ومعبود، اسکا ولی وکارساز،اسکا مالک، اسکا رب، اسکا مدبّر ، اسکا رازق، اسکا مارنے والا اور زندہ کرنے والاہے،اور اس کی محبّت دلوں کی نعمت، روحوں کی زندگی، دلوں کا سرور، دلوں کی غذا، عقلوں کا نور، آنکھوں کی ٹھنڈک اورباطن کی چہل پہلہے۔قلوب سلیمہ، پاکیزہ روحوں، اور صاف ستھری عقلوں کے نزدیک اس کی محبّت ،اسکے ساتھ اُنس رکھنے، اور اس کے لقاء کا شوق رکھنے سے زیادہ شیریں اور اس سے زیادہ لذیذ،پاکیزہ،مسرت افزا اور  نعمت والی چیز کوئی نہیں ۔اور اس سے مومن بندہ جو اپنے دل میں حلاوت ومٹھاس پاتا ہے وہ تمام حلاوت وچاشنی سے بڑھ کر ہے، اس سے جو نعمت حاصل ہوتی ہے وہ تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے، اس سے جو لذّت حاصل ہوتی ہے وہ تمام لذّتوں سےبالاتر ہے، یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا ہے:

 کہ میرے دل پے کبھی ایسے اوقات گزرتے ہیں مَیں جسمیں کہتا ہوں:

’’ اگر اہل جنت اس طرح کی (نعمتوں) میں ہیں تو بلا شبہ وہ بہت پاکیزہ اور عیش وآرام سے بھرپور زندگی میں ہیں‘‘۔

تیسرا:لوگوں کی ایک قسم ایسی  ہے جو عبادت کو شریعت کے صحیح طریقے کے مطابق  سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں، میں اس کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں:

اوّل: جو لوگ اللہ کی محبّت میں غلو وزیادتی سے کام لیتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے بعض اپنے آپ کو انسانی دائرہ کار سے خارج کرکے ربوبیت کے اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں جو صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات کے لئے ہی درست و سزاوارہے۔جیسے وہ اشخاص جو ایسے امور کا دعوی کرتے ہیں جس میں انبیاء و رسولوںکے حدودسے بھی تجاوز کرجاتے  ہیں جیسے غیب کے علم کا دعوی کرنا، رسولوں سے ملاقات کرنا یا اللہ کا مشاہدہ کرناہے، حالاں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کا راستہ بالکل  غلط ، اور درستگی سے ہٹا ہوا ہے، اورانھوں نے اپنے حدود سے تجاوز کیا ہے۔

علّامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’یہ ایسی غلطیاں ہیں جن کے شکار بہت سارے صوفیوں کے مشائخ  ہوئے ہیں اور اس کے سبب اللہ رب العزّت کے لئے وہ عبودیت شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکی  جسے رسولوں نے بیان کیا تھا، اور وہ  اس امر و نہی  کے پابند نہ رہے  جسے وہ (انبیاء) لے کر آئے تھے۔ بلکہ وہ عقل ہی کمزور ہو گئی جس کے ذریعہ بندہ اس عبودیت کی حقیقت کو پہچانتا ہے، اور جب عقل کمزور پڑجائے، دین کی معلومات کم ہوجائے، اور نفس میں ہلکا وجاہلانہ محبت ہو، تو اس سلسلے میں نفس اپنی  حماقت  کی وجہ سے بے تکلف ہوجاتا ہے‘‘۔ اھ.

دوم: دوسری قسم ان لوگوں  کی ہے جنھوں نے عبادت کو محض تعبدی شعائر ہی سمجھ رکھا ہے جیسے نماز، روزہ، زکاۃ، حج، ذکر وغیرہ۔ چنانچہ آپ انہیں ان امور کو بجالانے والا دیکھیں گے ،لیکن جب وہ اپنی عملی زندگی میں  ۔بطور مثال۔اقتصادی زندگی کوبرتنے   کے لئے نکلتے ہیں تو وہ حلال وحرام کی جانکاری نہیں رکھتے ، اور مختلف طرح کے حرام  معاملات کرتے ہیں جیسے معاملات میں خیانت ،سود، خرید وفروخت میں جھوٹ، دھوکہ وفریب وغیرہ۔ اور ان کے دلوں میں کوئی رکاوٹ ومانع نہیں ہوتی ہے جو انہیں اس چیز سے روک سکے، اور وہ دعوی یہ کرتے ہیں کہ یہ سب عبادت کے کام  میں سے نہیں ہیں۔اور عبادت کا ان چیزوں میں کوئی دخل نہیں۔

اسی طرح جب وہ اجتماعی زندگی اور عام آداب کے میدان میں نکلتے ہیں تو وہ ان میں مختلف رجحانات اپناتے ہیں، جیسے ان میں سے بعض محرّمات کو اپناتے ہیں مثلاً دھوکہ، غیبت، چغلی، وغیرہ۔ یوں اجتماعی زندگی اورعام آداب سے عبادت کو لاتعلق سمجھ بیٹھتے ہیں، بعینہ ان میں سے بعض جب علمی، ثقافتی، اور فکری زندگی کے لئے نکلتے ہیں تو اس زندگی کا بھی اللہ عزوجل کی عبادت سے کوئی یارانہ نہیں رکھتے،  انہیں معلوم نہیں کہ اسلام میں علم انسان کے لئے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے!

اس لئے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے فکر ،علم اور قلم کو اس دین کی سربلندی کے لئے استعمال کرے، یہاں تک کہ یہ امور ایسی عبادت ہوجائیں جن کے ذریعہ بندہ اپنے معبود کا تقرّب حاصل کرتا ہے۔اگر کوئی  اس کے خلاف کرتا ہے تویہ اس بات کی پہچان ہے کہ وہ عبادت کے مفہوم کو سمجھنے میں غلطی کررہا ہے، اوراپنی عبادت کو صرف چند مخصوص اعمال پر منحصر کرنے والا بن جائے گا یعنی عبادت کے وسیع مفہوم کو نہایت تنگ کردے گا۔

اس طرح یہ  دونوں قسم کے لوگ اسلام میں عبادت کے مفہوم کو سمجھنے میں غلطی کرنے والے ہیں۔

حققت یہ ہے کہ مسلمان کی زندگی خواہ علمی ہو یا اجتماعی، سیاسی ہو یا اقتصادی، اخلاقی ہو یا برتاؤ سے متعلق، سب کی سب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کے لئے ہے،اس لئے اس کو زندگی کے اس پہلو کو عبادت کے لئے مسخّر کرنا چاہئے، تاکہ اس عبادت کے عظیم مقصدمیں اس کو کامیابی مل سکے اور وہ دنیا وآخرت کی سعادت وخوش بختی سے بہرہ ور ہوسکے۔

تیسرا نکتہ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: (اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ شرک نہ کرے اسے عذاب نہ دے)۔

اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے اللہ کے حق کو قائم کیا، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے اوپر یہ واجب کر رکھا ہے کہ اسے عذاب نہیں دے گا، اور اس کا وعدہ یقنی طور پر پورا ہوگا، کیونکہ اللہ نے ان سے اس کا وعدہ کر رکھا ہے،اس کی توحید کو قائم کرنے کے صلہ میں، اور اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

’’ اطاعت گزار شخص بدلہ کا مستحق ہوتا ہے تو یہ استحقاق بطور انعام وفضل کے طور پر ہے، یہ مقابلہ کے طور پر استحقاق نہیں ہے جیسا کہ مخلوق دوسرے مخلوق سے حاصل کرتا ہے’’۔

چوتھا نکتہ:

 معاذ رضی اللہ عنہ کے قول: (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلمکا ایک گدہے پر ردیف (پیچھے سوار) تھا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا...) الحدیث۔

اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تواضع کا بیان ہے کہ آپ ایک گدہے پر سوار تھے،اور وہ مقام ومرتبہ میں جوتھے وہ کسی پر مخفی نہیں، آپ مطلق طور پر سب سے بہتر انسان تھے، اور اللہ کے نزدیک سب سے مکرّم تھے، اس کے باوجود وہ سب کرتے تھے جوعام لوگ کرتے تھے، چنانچہ جو لوگ کھاتے وہی آپ بھی کھاتے ، اور جو وہ پیتے وہی آپ بھی پیتے تھے، اور جس پر لوگ سوار ہوتے تھے اسی پر آپ بھی سوار ہوتے تھے،  مزیدبرآں آپ نے اپنے پیچھے دوسرے کو سوار کررکھا تھا، اور یہ دو ایسے امور ہیں جس پر موجودہ دور کے لوگ اس کے خلاف ہیں، جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نواز رکھا ہے، اور اپنے فضل کی زیادتی کی ہے،تو ان کا یہ گمان ہے کہ وہ اپنے غیر پر خاص مقام رکھتے ہیں، چاہے وہ مال والے ہوں، یا جاہ ومنصب یا سرداری والے ہوں، چنانچہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نوازشات اور عطایا کے سلسلے میں دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں، اور کبر وگھمنڈ کے شکار ہیں، یہاں تک کہ بعض ان میں سے دوسروں پر ظلم سے کام لیتے ہیں، اپنے حد سے تجاوز کرجاتے ہیں، اور ان تمام امور میں بہت زیادہ خطرناکی ہے۔

پانچواں نکتہ:

معاذ رضی اللہ عنہ کے قول: (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گدہے پر ردیف (پیچھے سوار) تھا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا...) الحدیث۔

اس میں مفید کام میں وقت کا جائز استعمال پایا جاتا ہے،  کیونکہ استاذ مرشد اور موتمن ہوتا ہے، اسے چاہئے کہ مناسب وقت سے فائدہ اٹھائے، تاکہ اپنے شاگردوں کو اپنا فائدہ اور علم پہنچا سکے، کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے معاذ رضی اللہ عنہ کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا تاکہ ان تک اس عظیم بشارت کو پہنچائیں، اور معاذ رضی اللہ عنہ کا فرط سعادت اور اس عظیم فائدہ کو پاکر سخت خوش ہو کر اپنے استاذ ومربّی رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلمسے یہ مطالبہ کرنا کہ اسے لوگوں تک پہنچادیں( کیا میں لوگوں کو اس بات کے خوشخبری نہ دیدوں)۔۔۔اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔

بےشک معلّم پر اپنے ان نسلوں کے تئیں یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہیں جن کی تربیت وتعلیم کی ذمے داری لے رکھی ہے کہ انہیں نصیحت سے نوازے،اور ان کی  اس چیز کی طرف رہنمائی کرے جو ان کے دین ودنیا کی بھلائی کا سبب بنے،اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو علم وتجربہ دے رکھا ہے اس کو ان لوگوں کو سکھانے میں بخل وکنجوسی سے کام نہ لے۔

چھٹا نکتہ:

معاذ رضی اللہ عنہ کا قول: ( کیا میں لوگوں کو اس بات کی بشارت نہ دیدوں؟۔۔۔)

اس جملے سے اہل علم نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ مسلمان شخص کو پسندید ہ چیز کی بشارت دینا مستحب ہے اور خاص طور سے جب اس کا نفع دنیا وآخرت دونوں کے لیے عام ہو، چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صفات میں سے انانیت اور ذات کی چاہت ومحبت نہ تھی، بلکہ وہ ایک دوسرے کو بشارت دینے میں جلدی کیا کرتے تھے، تاکہ اس خیر سے تمام لوگ مستفید ہوں۔

       

 

 

 

 

التعليقات  

#1 الهندفراز ٢٣ صفر ١٤٣٩هـ
اللہ مزید اس سائٹ کے ذمہ داران کو دینی خدمت کی توفیق دے، اوراسے قبول فرمائے ،اورحببیب مصطفیٰ ﷺکی سنت کو زندہ کرنے کے صلہ میں حوض کوثر کے جام کی سعادت نصیب کرے۔ آمین
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث