باب:عقیدہ سے متعلق حدیثیں

مقدّمہ

اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے

 

ہرقسم کی تعریف صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے،درود وسلام ہو اس (ذات ) پر جو سارے جہان کے لیے رحمت بناکر مبعوث کیے گئے،ان کے خاندان اوران کے اصحاب نیزتابعین اور تا قیامت ان  کے سچے پیروکاروں پر۔

حمدوصلاۃ کے بعد:

اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہم اس گوشہ (حلقہ) میں عقیدہ سے متعلق احادیث کا تذکرہ کریں گے،اس چیز سے ابتدا کرتے ہوئے جس سے اہل علم مصنفین نے ابتدا کیا ہے، مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ، یعنی حدیث:انما الأعمال بالنیّات(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)سے۔

اور ہم تحلیل حدیث کے منہج کے مطابق متن حدیث کے دراسہ  کے لیےہرحلقہ میں ایک یا اس سے زیادہ حدیث پیش کریں گے، اوراسے وقفات کی شکل میں بیان کریں گے۔اورہر وقفہ میں  مسائل میں سے کسی مسئلہ کے بارے میں گفتگو کریں گے، یا کسی معنیٰ کی وضاحت کریں گے،یااس جیسے کسی (مسئلہ پرچرچا ہوگا)۔ساتھ ہی اس بات کی کوشش ہوگی کہ صرف مقبول حدیثوں سے ہی استشہاد کی جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس ضعیف حدیث کا   ذکر نہیں ہوگا جس سے اہل علم نے   استشہاد کیا ہے(یعنی بطور دلیل ذکر کیا ہے)،بلکہ اسے ذکر کیا جائے گا اور ساتھ ہی اس کے ضعف کو بھی بیان کیا جائے گا۔

اس  گوشہ(حلقہ) میں ہمارا طریقۂ کار یہ ہوگا کہ ہم اہل علم کے اعتراضات کا تذکرہ کریں گے ، اختلافات کو بیان کریں گے، اور ساتھ ہی حسبِ امکان دلیل کی روشنی میں(ان کے مابین) ترجیح دیں گے۔

پہلی حدیث:

اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے

امیرالمومنین ابوحفص عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ انہوں نےرسولﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: (إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه) متفق عليه

’’بے شکتمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے, اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی, چناں چہ جس شخص کی ہجرت(بہ اعتبار نیت) اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت (بہ اعتبار انجام بھی)اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہے, اور جس کی ہجرت (بہ اعتبار نیت)دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہے تو اس کی ہجرت (بہ اعتبار انجام) اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔‘‘  متفق علیہ (بخاری ومسلم)

یہ ایک نہایت عظیم الشان،بلند رتبہ اوراونچے درجہ کی حدیث ہے، اوردین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے، اور اسی پر بہت سارے اعمال کا انحصار ومدارہے۔اوراس حدیث کے کئی فوائد ہیں جن کو میں درج ذیل طریقے پر پیش کررہا ہوں:

پہلا وقفہ:

امت کے بہت سارے علماء وسلفِ صالحین نے اس حدیث کے مرتبہ  کا ذکرکیا ہے،اور اسے اصول دین اوراس کےاساس میں سے قراردیا ہے،چنانچہعبدالرحمن بن مہدی رحمہ اﷲ کہتے ہیں کہ:((لو صنفت كتابا في الأبواب لجعلت حديث عمر بن الخطاب في كل باب)). اهـ’’اگرمیں ابواب میں کسی کتاب کی تصنیف کرتا تو عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہرباب میں رکھتا۔‘‘ا۔ھ

اور علامہ ابن رجب ۔رحمہ اللہ۔ کہتے ہیں کہ: (امام بخاری ؒنے اسی حدیث سے اپنی کتاب(الصحیح) کا آغاز کیا ہے،اوراسے کتاب کے لیے بطور خطبہ رکھا،اس بات کا اشارہ کرتے ہوئے کہ: ’’ہروہ عمل جس سے اللہ کی رضا مقصود نہ ہو وہ باطل ہے،اوردنیا وآخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

اور علامہ ابن رجب رحمہ اللہ نے نے اس حدیث کی عظمت  شان  اور بلند مقام کے بیان میں اہل علم کے متعدد اقوال بیان کیے ہیں ،انہی میں سے امام شافعیؒ کا یہ قول ہے:

’’یہ حدیث ایک تہائی علم ہے،اورفقہ کے سترباب میں داخل ہے۔‘‘

اورامام احمد بن حنبلؒ کا کہنا ہے  کہ:’’اسلام کی قواعد تین احادیث پرہیں: حدیث عمر رضی اللہ عنہ(انما الأعمال بالنّیات)’’بے شک اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے،حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا((من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد))’’جس نے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے‘‘،حدیث نعمان بن بشیررضي الله عنه-: (الحلال بيّن والحرام بيّن، وبينهما أمور مشتبهات..)’’حلال واضح ہے،اور حرام واضح ہے،اور ان دونوں کے بیچ متشابہ امورہیں‘‘ الحديث

اوراسحاق بن راہویہؒ  نے بھی امام احمد جیسی بات کہی ہے۔

اور عثمان بن سعید نے ابوعبید سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’نبیﷺ نے آخرت کی تمام بات کو صرف ایک کلمہ کے اندر جمع کردیا :(جس نےہمارے امر( دین) میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے)،اوردنیا کی تمام بات کو ایک ہی کلمہ میں جمع کردیا : (بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے)۔‘‘

اوراس کے علاوہ سلفائے امت  سے بہت ساری باتیں منقول ہیں جن کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے،اور جو باتیں ذکر کردی گئی ہیں اسی میں طوالت سے بے نیازی ہے۔

دوسرا وقفہ:    نیّت کا مطلب

لغت میں نیت: قصد وارادہ کو کہتے ہیں۔

شرعی اصطلاح میں نیت کے دومعانی ہیں:

پہلا معنیٰ: عبادات  میں سے بعض کو بعض سے الگ کرنا،جیسے  صلاۃ(نماز) ظہر کو صلاۃ عصر سے الگ کرنا،صوم رمضان کو غیررمضان سے الگ کرنا،یا عبادات کو عادات سے الگ کرنا، جیسے غسل جنابت سے غسل برودت(ٹھنڈک حاصل کرنا) اور نظافت کو الگ کرنا، وغیرہ۔اوراسی معنیٰ کو فقہاء کرام اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں۔

دوسرا معنیٰ:نیت سے مراد عمل سے ارادہ کو الگ کرنا ہے ،آیا وہ (عمل) اللہ وحدہ لاشریک لہ کے لیے ہے یا اللہ اور اس کے علاوہ کے لیے بھی ہے؟ مثال کے طور پر نماز کو ہی لے لیجئے کیا بندہ نے اسے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے،اس سے محبت کرتے ہوئے،اس کی رحمت طلب کرتے ہوئے،اس کے عقاب سے خوف کھاتے ہوئے  ادا کی ہے یا ریاونمود  کے طورپر پڑھی ہے،یادنیاوی غرض کے حصول کے لیے ادا کی ہے،یاکسی اور مقصد کے لیے؟ پس اگراس نے پہلے  کی نیت سے ادا کی ہے تو اس کو اجروثواب حاصل ہوگا،اور اگر اس نے ریاودکھلاوے کے طور پر پڑھا ہے تواس کواس نماز پر کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس نیت کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا۔

تیسرا وقفہ:

نبیﷺکے قول(انماالاعمال بالنیات) سے مراد : جیسا کہ علماء نے بیان کیا ہے کہ ان اعمال سے مقصود وہ تمام اعمال ہیں جو انسان کرتا ہے،چنانچہ یہ اس کی نیت کے مطابق ہوں گی،گرچہ ان کی شکل وصورت ایک  جیسی ہو،اسی لیے انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ثواب ملے گا،اور اس بات کی وضاحت آپﷺ کا یہ فرمان کرتی ہے کہ:(اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ نیت کرے)۔

اور مطلب یہ ہے کہ عامل کا نصیب اس کے عمل سے اس کی نیت(کے مطابق) ہے،پس اگر نیت نیک ہوگی تواس کا عمل بھی نیک ہوگا،اوراس کا اجر ملے گا، اور اگر نیت فاسد ہوگی تو عمل بھی فاسد ہوگا اور اس پر گناہ ملے گا۔

اسی لیے بعض اہل علم نے کہا ہے:  بے شک آپﷺ کا فرمان:(انماالاعمال بالنیات)  اس بات پر دلالت کنا ں ہے کہ عمل کی درستگی وخرابی اس نیت کے مطابق ہے جواس (عمل) کے وجود کا متقاضی ہے۔

اوردوسرا جملہ: نبیﷺ کا یہ فرمان(انما لکل امرئ مانوی) یعنی ہرشخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے،اس بات پردلالت کناں ہے کہ عامل کا اپنے عمل پر ثواب اس کی اچھی نیت کے اعتبار سے ہوگی،اوراس  پر سزا بھی اس کے فاسد نیت کے مطابق ہوگی،اور کبھی نیت مباح کی ہوتی ہے توعمل بھی مباح ہوتا ہے ، اس پر کوئی ثواب اور عقاب حاصل نہیں ہوتا۔چنانچہ خود عمل کی درستی  وخرابی اور اس  کی اباحت اس پر آمادہ کرنے والی نیت کے مطابق ہوتی ہےجواس کے وجود کا متقاضی ہوتی ہے،اور عامل کا ثواب وعقاب اوراس کی سلامتی اس نیت کے مطابق ہوتی ہے، جس  کی وجہ سے عمل نیک،یا فاسد یا مباح  ہوتا۔

چوتھا وقفہ:

نیت کا اہتمام اللہ عزوجل کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی سنت میں واردہوا ہے اوراعمال میں اس کے مقام ومرتبہ کو بیان کیا گیا ہے،اوریہ متعدد الفاظ اورمختلف صیغے میں وارد ہوئی ہے جو نیت کی اہمیت اور اس کے عظیم مرتبے پردلالت کرتی ہے۔اور  انہی میں سے کبھی اس کی تعبیر ارادہ سے کیا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ جل وعلا  کا فرمان ہے:((واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم تريد زينة الحياة الدنيا))ترجمہ:’’اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔‘‘

اوراللہ عزوجل کا ارشاد ہے:((وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله وما آتيتم من زكاة تريدون وجه الله فأولئك هم المضعفون))ترجمہ:۔’’تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے(اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں۔‘‘

اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ((منكم من يريد الدنيا ومنكم من يريد الآخرة))ترجمہ:’’تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا اراده آخرت کا تھا ۔‘‘

اورکبھی نیت کی تعبیرتلاش وجستجو کے ذریعہ ہوتی ہے،جیسا کہ باری جل وعلا کا فرمان ہے:((ومثل الذين ينفقون أموالهم ابتغاء مرضات الله وتثبيتاً من أنفسهم...))ترجمہ:’’ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اوراللہ سبحانہ کا فرمان  ہے: ((وما تنفقون إلا ابتغاء وجه الله)) ترجمہ:’’تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے۔‘‘

حدیث میں نیّت کا مقام ومرتبہ:

سنتِ مقدسہ میں نیت کے اہتمام ،اوراس کی عظمتِ قدر و منزلت کا بکثرت تذکرہ ہوا ہے، میں یہاں پر صرف ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفا کررہا ہوں، صحیح مسلم  میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:(يعوذ عائذ بالبيت فيبعث إليه بعث، فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم، فقلت: يا رسول الله، فكيف بمن كان كارها؟ قال يخسف به معهم، ولكنه يبعث يوم القيامة على نيته

’’ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا،اس کی طرف ایک لشکر بھیجاجائےگا،جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموارحصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔"میں نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جو مجبور ان کے ساتھ(شامل) ہوگا اس کا کیا بنے گا؟آپ ﷺ نے فرمایا؛"اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گاالبتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔‘‘

چنانچہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہرانسان بروز قیامت اللہ عزوجل سے اپنی اس نیت کے مطابق ملاقات کرے گا جس نے اسے دنیا میں اس اعمال تک پہنچایا ہے۔

اوراسی میں سے(یعنی نیت کی اہمیت وعظمت    پردلالت کرنے والی)عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جسے امام احمد ونسائی نے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’جس نے اللہ کی راہ میں جنگ کی اور صرف عقال (رسیّ) کے حصول کی نیت کی تواس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘‘۔

چنانچہ حدیث   اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مجاہد کا  غزوہ اور جہاد میں شرکت کرنا کافی نہیں ہے،بلکہ ضروری ہے کہ اللہ عزوجل کے لیے نیت خالص ہو، اور مجاہد کا ارادہ  و نیت اللہ کے کلمہ کی سربلندی  ہو،ورنہ اسے وہی حاصل ہوگا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔

اور اسی (نیت کی اہمیت وعظمت  ) میں سے صحیحن  کی وہ روایت ہےجس کے لفظ مسلم کے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:’’اور تم رضائے الہی کے حصول کے لیے جو بھی خرچ کروگےاس پر اجر دیئے جاؤگے،حتی ٰ کہ اس  لقمہ پر بھی جسے تم اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتے ہو۔‘‘

پس رسولﷺ نے رضائے الہی کی خاطرمسلمان کے  مال خرچ کرنے کو ان چیزوں میں سے قراردیا جس پر ثواب دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ مباح چیزیں  (بھی)جنہیں انسان یومیہ زندگی میں کرتا ہے۔

پانچواں وقفہ:

سلف صالحین نے نیت کے معاملےکا بڑا اہتمام کیا ہے، وہ لوگ نیت کو بہت بڑا شمار کرتے تھے،  اور یہ سب کچھ نیت کی عظمتِ شان کی وجہ سے ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’جس شخص کی نیت (درست) نہ ہو اس کا عمل (قابلِ قبول) نہیں ہے، اور جسے اللہ سے اجر کی توقع نہ ہو اس کا کوئی اجر و بدلہ نہیں ہے۔‘‘اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:’’قول و گفتگو عمل کے بغیر نفع بخش نہیں ہے، اور نیت کے بغیر نہ تو قول اور نہ ہی عمل نفع بخش ہے، اور قول و عمل و نیت اس وقت تک نفع بخش نہیں ہیں جب تک کہ وہ سنت کے موافق نہ ہوں۔‘‘، یحیٰ ابن ابی کثیر سے مروی ہے کہتے ہیں:’’(حسنِ) نیت کو حاصل کرو کیوں کہ یہ عمل سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے۔‘‘ اور داؤد طائی سے مروی ہے کہتے ہیں: ’’تمام بھلائیوں کو میں نے حسنِ نیت میں یکجا  پایا۔‘‘ سفیان ثوری سے روایت ہے کہتے ہیں: ’’میں نے خود کو اپنی نیت سے زیادہ کسی اور چیز میں نہیں لگایا، اس لیے کہ یہ (نیت) میری ہی طرف پلٹ کر آتی ہے۔‘‘، اور یوسف بن اسباط سے مروی ہے کہتے ہیں: ’’عاملین پر طولِ اجتہاد سے کہیں زیادہ سخت فساد و خرابی سے نیت کو خالص کرنا ہے۔‘‘، مطرف بن شخیر سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: ’’دل کی درستگی عمل کی درستگی کے ساتھ ہے اور عمل کی درستگی نیت کی درستگی کے ساتھ ہے۔‘‘ابن مبارک سے مروی ہے ان کا کہنا ہے: ’’بسااوقات نیت چھوٹے عمل کو عظیم و بڑا کر دیتا ہے اور کبھی یہی نیت بڑے عمل کو کم تر و چھوٹا کر دیتا ہے۔‘‘،  بعض سلف سے مروی ہے کہ: ’’جو اپنے عمل کو مکمل کرنا  پسند کرے تو وہ اپنی نیت درست رکھے، کیوں کہ اللہ عز و جل بندے کو اس وقت اجر دیتا ہے جب اس کی نیت درست ہوتی ہے حتی کہ لقمے پر بھی‘‘)۔

ان تمام اقوال کا معنی و مفہوم یہی ہے کہ وہ سارے  کے سارے اعمال جن کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اسی وقت ممکن ہے جب اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے خلوصِ نیت پائی جاتی ہو، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:’’تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے۔‘‘کے متعلق فضیل بن عیاض کہتے ہیں: اچھے کام کا مطلب ہے خالص کرنا اور درست کرنا، وہ کہتے ہیں: خالص کا مطلب ہے عمل اللہ عزّ و جلّ کے لیے ہو اور درست ہونے کا مطلب ہے عمل سنت کے مطابق ہو۔

ان تمام اقوال سے ہم یہ مفہوم اخذ کرتے ہیں کہ قبولیتِ عمل کی بنیادی شرط خلوص ِنیت کا ہونا ہے۔

ہم عصر علماء میں سے ایک عالم کا کہنا ہے: ’’اسلام میں دل ہی بنیاد ہےاور آخرت میں یہی کامیابی اور قبولیت کا استناد و معیار ہے۔‘‘

امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’بیشک اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا ہے، بلکہ وہ تمہارے دلوں (اور عملوں) کو دیکھتا ہے۔‘‘

بخاری اور مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’خبردار جسم  میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہےجب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور وہ (مضغہ/گوشت کا ٹکڑا) دل ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جنت پرہیز گاروں کے لیے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی۔ یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس  شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو۔ جو رحمان کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو۔ تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔‘‘

نیت کی درستی اور رب العالمین کے لیے دل کا خلوص، یہ دونوں ایسے ہتھیار ہیں جو محض دنیا میں کیے گیے عمل کے درجے کو بلند کر دیتے ہیں اور عبادت کو مقبول بنادیتے ہیں، اور اگر نیت بری ہو تو وہ محض بندگیوں کو کم تر کر کے انہیں معاصی میں بدل دیتی ہے اور انسان ادائیگیٔ عبادت میں محنت و تھکاوٹ کے باوجود ناکامی و نقصان کو پاتا ہے۔ ایک انسان بلند و بالا اور وسیع و کشادہ محل تعمیر کرتا ہے نیز درختوں سے پُر اور پھلوں سے معمور باغ لگاتاہے ،وہ اپنے مضبوط محلوں اور تہہ بتہہ باغوں  کے   مالک ہونےکی وجہ سے دنیا کا بادشاہ شمار کیا جاتا ہے،اگر عمارت و باغبانی کے پیچھے اس کا مقصد لوگوں کو نفع پہنچانا ہو تو ان دونوں آبیاری میں اس کے لیے نہ ختم ہونے والا ثواب ہوگا۔

امام مسلم نے اپنی صحیح میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہےیا کوئی کھیتی بوتا ہے، تو اس سے کوئی پرندہ یا انسان جو کھاتا ہے تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔‘‘

آدمی اچھی نیت سے جو کچھ ازخود کھاتا ہے یا اپنی بیوی و بچوں کو کھلاتا ہےتو اسے اس کا ثواب ملتا ہے، امام بخاری وغیرہ نے سعد بن وقّاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’تم جو کچھ بھی اللہ کی رضا کے لیے خرچ کروگے اس پر تمہیں ضرور اجر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اس (لقمے پر بھی) جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔‘‘

پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیت کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے خالص کرے اور اپنے آپ کو اسی میں لگائے رکھے، کیوں کہ یہ معاملہ ابتدائی طور پر تو مشکل و کٹھن ہے لیکن اس کا اختتام سہل و آسان ہے۔

چھٹاوقفہ: ہجرت  کا معنیٰ:حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’(لغت میں)ہجرت کا معنیٰ:  چھوڑنا،ترک کرنا،اورکسی چیز کی طرف ہجرت کرنا یعنی: اس کی طرف منتقل ہونا کے ہیں۔

شریعت  کی اصطلاح میں ہجرت کہتے ہیں:اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑدینا۔

اسلام میں ہجرت دو طرح سے واقع ہوئی ہے:

پہلی صورت: دیارِ خوف سے دیارِ امن کی طرف منتقل ہونا،جیسا کہ حبشہ کی دونوں(پہلی،دوسری) ہجرت،اورمکہ سے مدینہ کی جانب ابتدائی ہجرت  میں ہوا۔

دوسری صورت:دیارِ کفر سے دیار ِایمان کی طرف ہجرت کرنا،اور  یہ نبیﷺ کے مدینہ نبویہ میں قیام پذیر ہو جانےاوربعض مسلمانوں کے اس کی طرف ہجرت کرلینے کے بعد ہوا،چناں چہ ہجرت اس وقت مدینہ کی طرف منتقل ہونے کے ساتھ خاص تھی،یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا،اوریہ خصوصیت ختم ہوگئی،اورہجرت پر قدرت رکھنے والے  کے لیےدار کفر سے دار ایمان کی طرف  عام ہجرت باقی رہی۔‘‘اھ.

ساتواں وقفہ: (فهجرته إلى الله ورسوله...).’’ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت...  ‘‘ کا مفہوم:

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’ آپﷺ نے یہ خبردیا  کہ  یہ ہجرت اپنے مقاصد وارادے کے  اختلا ف کی وجہ سے مختلف ہوتی ہے، پس جو شخص دیارِ اسلام کی طرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور دین ِاسلام کے حصول کی چاہت  نیز اس دین کے غلبہ کے لیے بایں وجہ ہجرت کرتا ہے کہ وہ دیارِ شرک میں ان چیزوں کے کرنے سے عاجز تھا، تو یہی اللہ اوراس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے والا ہے۔اوراس کے لیے بڑے فخروشرف کی بات ہے کہ اسے وہ چیز حاصل ہوئی جو اس نے اللہ اور رسول کی طرف اپنے ہجرت کی نیت  کی تھی۔اسی معنیٰ کی وجہ سے جوابِ شرط میں اس لفظ کے اعادہ پر اکتفا کیا گیا ہے، کیوں کہ اس چیز کا حاصل ہوجانا جس کی اس نے اپنی ہجرت سے نیت کی تھی یہی دنیا وآخرت میں چاہت کی انتہا ہے۔‘‘

اس سے یہ معلوم ہوا کہ بے شک رسولﷺ نے اپنے وقت کے دوآدمیوں کی ایک واضح مثال بیان کی ہے،جس میں دونوں نے ایک ہی عمل کیا   لیکن ان میں سے ایک کی نیت اورارادہ دوسرے سے الگ تھی، پہلے نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا   کی چاہت،ا س کے  ثواب کی امید اوراس کے دین کی سربلندی کے لیے ہجرت کی، تویہ اللہ ورسول کی طرف ہجرت کرنے والا ہوا، اوراس کا ثواب وبدلہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ہے۔

جبکہ دوسرے نے  (دنیوی) مقصد کے لیے ہجرت کیا تواس کے لیے وہی ہے جس کی طرف اس  نے ہجرت کی ہے۔

چوتھا فائدہ:

 آپﷺ کا فرمان:(ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأة ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه...).’’جوشخص کسی دنیا کی حصول یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہجرت کرتا ہے تواس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی...)

اس جملہ کے سببِ (ورود) میں وہ بات کہی گئی ہے جسے امام وکیع نے اپنی کتاب میں اعمش سے روایت کی ہے اوران سے شقیق  نےبیان کیا ہے کہ:’’ایک دیہاتی شخص نے قبیلہ کی ام قیس نامی عورت کو پیغامِ نکاح دیا،تو اس نے شادی سے منع کردیا یہاں تک کہ وہ ہجرت کرے، چناں چہ انہوں نے ہجرت کی،پھراس سے شادی کرلی، اسی لیے ہم ان کو مہاجرام قیس کہا کرتے  تھے۔‘‘

اورسفیان ثوری کے طریق سے بھی مروی ہے ان سے اعمش نے،اوران سے ابووائل نے اوران سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ:’’ہم میں سے ایک آدمی تھا جس نے ام قیس نامی عورت کو پیغام نکاح دیا،تواس نے شادی سے انکار کردیا یہاں تک کہ وہ ہجرت کرے، چناں چہ اس نے ہجرت کی اور پھراس سے شادی کی، اورہم اسے مہا جر ام قیس کہتے تھے۔‘‘

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’جس نے کسی چیز کے لیے ہجرت کی تووہ اسی  کے لیے ہے(یعنی اس کو اس کی نیت کے اعتبارسے ثواب ملے گا)۔‘‘

لیکن اس حدیث کے سبب ورود کے متعلق یہ واقعہ ثابت نہیں ہے، علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں :

’’یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ مہاجر ام قیس کا واقعہ  ہی نبی ﷺ کے اس فرمان(من كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأة ينكحها) کا سبب ہے، اوراسے متاخرین میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی کتابوں میں ذکرکیا ہے، لیکن ہم کواس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ملی۔‘‘

اور اسی جیسی بات حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی حدیث ذکرکیے بغیر صرف قصہ بیان کرنے کے بعد کہا ہے: (وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، لكن ليس فيه أن حديث الأعمال سيق بسبب ذلك، ولم أر شيئاً من الطرق ما يقتضي التصريح بذلك)۔

’’یہ سند صحیح ہے اورشیخین کی شرط کے مطابق ہے،لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حدیث اعمال بالنیات اسی واقعہ کے سبب ذکر کیا گیا ہے، اورمَیں کسی بھی حدیث کے طرق میں اس چیز کی وضاحت نہیں پاتا۔‘‘

اور اس جملہ کے مطلب کے بارے میں علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’جس کی ہجرت دیارِشرک سے دیارِاسلام  کی طرف دنیا کے حصول  کے لیے ہو ،یا دیارِاسلام میں کسی عورت سے شادی کے لیے ہو،تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کی اس نے قصد کی، لہذا پہلا شخص تاجرہے، اوردوسرا  نکاح کا پیغام دینے والا ہے، اوران دونوں میں سے کوئی بھی مہاجر نہیں ہے۔اور(آپﷺ کا ) فرمان "إلى ما هاجر إليه" میں اس چیز کی تحقیر ہے جواس نے دنیاوی امر کو طلب کیا ہے،اوراسے حقیر سمجھنا ہے، اسی لیے اس لفظ کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔‘‘اھ.

پانچواں فائدہ:

حدیث  میں   اس بات کی سخت وعید ہے کہ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں رب کی رضا مقصود نہ ہو تو اس کو اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ اس پر اس کے عمل کو لوٹادیا جائے گا،مثال کے طور کوئی دکھلاوے کے لیے جہاد کرے،یا شہرت طلبی کے لیے مال خرچ کرے،یا عالم کہلائے جانے کے لیے علم حاصل کرے،اور قاری کہلائے جانے کے لیے قرآ ن پڑھے،اسلام کا پابند کہلائے جانے کے لیے اسلامی مظہر کو اختیار کرے، اوراس جیسے دیگردنیوی مقاصد   وغیرہ،تو ایسے لوگ اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے،اور اسی کے مطابق انھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا،جیساکہ امام مسلم نے اپنی صحیح کے اندر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (إن أول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتى به فعرفه نعمه فعرفها، فقال: ما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت، قال: كذبت ولكنك قاتلت لأن يقال جريء، فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار. ورجل تعلّم العلم وعلّمه، وقرأ القرآن فأتى به فعرّفه نعمه، فقال ما عملت فيها؟ قال: تعلّمت العلم وعلمته، وقرأت فيك القرآن، قال: كذبت، ولكنك تعلمت ليقال: عالم، وقرأت القرآن ليقال: قارئ، فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار. ورجل وسّع الله عليه وأعطاه من أصناف المال، فأتي به فعرفه نعمه فعرفها، فقال: فما عملت فيها؟ فقال: ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيه إلا أنفقت فيها لك، قال: كذبت، ولكنك فعلت ليقال هو جواد، فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار).

’’قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا، وہ شہید ہوگا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتیٰ کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا۔ تونے اس لیے لڑا  تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سویہ کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم سیکھا اورسکھایا اور قرآن پڑھا،اسے پیش کیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان کر لے گا، وہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اورسکھلایا، اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، (اللہ) فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے اس لیے علم  حاصل کیا تاکہ تجھے عالم کہا جائے، اور تو نے اس لیے قرآن پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے ،سو یہ تجھے کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تونے ان میں کیا کیا؟ کہے گا: میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تجھے پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تونے جھوٹ بولا ، تو نے (یہ سب) اس لیے کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے،سویہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔‘‘

اورحدیث کی بعض روایات میں ہے کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ کوجب یہ حدیث پہنچی تو روپڑےیہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی،پھرجب افاقہ ہوا تو  فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا: (مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ  أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ).

ترجمہ:’’جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی، ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں ۔‘‘(سورہ ہود:۱۵۔۱۶)

پھریہ جان رکھو کہ شرعی اعمال میں مقاصد کو غیراللہ کی طرف پھیرنا جرائم میں سے ایک جرم ہے، اوراعمال کو برباد کرنا ہے،اوراجروثواب سے محروم ہونا ہے، لہذا  اس بات کی کوشش کرو کہ تمہارا عمل باطل نہ  قراردیاجائے، اورمنافقین کی مشابہت اختیار کرنے سے بچو جو لوگوں کو دکھلاتے ہیں اور اللہ کا کم ہی ذکر کرتے ہیں، اس بات سے بچو کہ تم ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے:(فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ).  

ترجمہ: ’’ ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہےجو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور برتنے کی چیز روکتے ہیں۔‘‘ (سورہ الماعون:۴۔۷)

پس اگر اچھی نیت صاحبِ نیت کو اللہ کے ہاں مقبول بناتی ہے، تو نیتِ مدخولہ( یعنی بری نیت) جب کسی نیک عمل میں اس کی صورت میں  شامل ہوجاتی ہے تووہ اسے  ایسی معصیت میں تبدیل کردیتی ہے جو ہلاکت وتباہی  لانے والی ہوتی ہے۔

 

 

 

 

التعليقات  

#5 Sedation deal unethical splints mid- hemithorax.ibiyerujuyani ٢٠ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Amoxicillin 500 Mg: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxicillin 500mg http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#4 The phaeochromocytoma, planus depressing anatomy.ugyinecoka ١٩ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Amoxicillin 500mg Capsules: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxicillin http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#3 Document bed-blocking, knife virions respectively.ujubinu ١٩ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Amoxicillin: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxicillin http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#2 Increasing melt-down states exists, bacilli, universalizable?execeobwam ١٩ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Amoxicillin 500mg: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxicillin 500mg Capsules http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#1 ہندفراز ٢٣ صفر ١٤٣٩هـ
ماشاء اللہ بہت عمدہ ہے، اللہ جزائے خیردے
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث