حلقہ (۱)

سنّت میں امثال  کی قسمیں

سنّت میں امثال   کی تین قسمیں ہیں:

1۔  واضح وصریح مثالیں: جس میں لفظ مثل کے ذریعہ   صراحت کی گئی ہو، یا وہ تشبیہ پر دلالت کر تی ہو، جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے:

((إن مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل غيث أصاب أرضا فكان منها طائفة قبلت الماء فأنبتت الكلأ والعشب الكثير وكان منها طائفة أمسكت الماء فشرب الناس واستقوا وزرعوا وكانت منها طائفة إنما هى قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلأ وذلك مثل من فقه فى دين الله فنفعه ما بعثنى الله به من الهدى والعلم ومثل من لم يرفع بذلك رأسا ولم يقبل هدى الله الذى أرسلت به)) (1).

(حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرتے ہیں کہا   آپ صلی اللہ علیہ  وسلم  نےفرمایا): ’’اللہ تعالی ٰنےمجھے جس علم و ہدایت کےساتھ بھیجاہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر (خوب) برسے۔ بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ  اور گھاس اگاتی ہے اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہےوہ پانی کو روک لیتی ہے اس سےاللہ تعالی ٰلوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ اس سےلوگ سیراب ہوتےہیں اور سیراب کرتےہیں۔ اور کچھ زمین کے بعض خطوں پرپانی پڑتاہے جو بالکل چٹیل میدان ہوتےہیں۔ نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی سبزہ اگاتےہیں۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو دین میں سمجھ پیداکرے،  اور اس علم اور ہدایت سے نفع  اٹھائےجس کےساتھ میں مبعوث کیاگیاہوں۔ (اس نے علم دین سیکھا اور سکھایا)،اور اس شخص کی مثال ہےجس نے سر  نہیں اٹھایا  (یعنی توجّہ نہیں کی) اور جو ہدایت دےکر میں بھیجاگیاہوں اسے قبول  نہیں کیا’’۔

اور سنّت میں اس قسم کی دیگر مثالیں بھی ہیں۔

2۔ مخفی مثالیں: جس میں لفظ مثال  سے وضاحت نہ کی گئی ہو، لیکن  اختصار کے ساتھ شاندار معانی پر دلالت کرتی ہو، اور جب وہ اس چیز کی طرف  منتقل کردی جائے جو اس کے مشابہ ہو تو اچھا اثر ڈالنے والی ہو ،جیسے:     

((وخير الأمور أوساطها)) (2)،

’’سب سےبہتردرمیانی امور ہیں‘‘

و((ليس الخبر كالمعاينة)) (3)

’’سنی ہو ئی بات دیکھے ہوئے کی طرح نہیں ہو سکتی‘‘

و((لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين)) (4).

’’مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا‘‘ وغیرہ۔

3۔ مطلق مثالیں: یہ چند جملے ہوتے ہیں جن کا اطلاق لفظ  تشبیہ کی صراحت کے بغیر کیا جاتا ہے جیسے: ((سبقك بها عكاشة)) (5).

’’عکاشہ تم سے سبقت لے گیا‘‘۔

امثال کے  فائدے:

1۔مثالیں معقول   چیز کو محسوس شکل میں   ظاہر کرتی ہیں  جس کو  لوگ محسوس کرتے ہیں، اور عقل اسے قبول کرتی ہے، کیونکہ معانی معقولہ ذہن میں اس وقت تک نہیں بیٹھتی ہیں جب تک کہ انہیں محسوس شکل میں نہ ڈھال دی جائے جو ذہن کے قریب ہوں۔

2۔مثالیں حقائق   کا انکشاف  کرتی ہیں ، اور غائب کو موجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

3۔مثالیں   مختصر عبارت میں شاندار معنی   رکھتی ہیں۔

4۔اور مثال کو ممثَّل   بہ   کی   طرف ترغیب دلانے کیلئے بیان کی جاتی ہے جس کی طرف نفوس راغب ہوتی ہیں۔

5۔ اور   (کبھی) مثال کو تنکیر کیلئے بیان کیا جاتا ہے اس طور پر کہ ممثَّل بہ سے نفوس نفرت کرنے والی ہوتی ہیں۔

6۔اور مثال کو ممثَّل بہ کی مدح کے لئے بیان کیا جاتا ہے۔

7۔اور (کبھی   ) مثال   مخالف(دشمن) کی مذمّت ورسوائی کے لئے بیان کیا جاتا ہے۔

8۔مثالیں نفس    میں زیادہ اثر ڈالنے والی ہوتی ہیں، اور وعظ میں زیادہ بلیغ ہوتی ہیں، اور زجروتوبیخ میں زیادہ قوی ہوتی ہیں، اور تسلی واِطمینان دلانے کے لئے زیادہ درست ہوتی ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت میں  نصیحت وعبرت کے لئے بہت ساری مثالیں بیان کی ہیں۔

اور  ہر زمانے میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے والوں نےحق کی نصرت  اور حجت قائم کرنے کیلئے  ان(مثالوں) سے مددلی ہے،اور (آج  تک)  مربّیان حضرات اس سے مدد حاصل کرتے ہیں اور اسے توضیح وتشویق کا ذریعہ بناتے ہیں، اورترغیب وتنفیر  اور مدح  وذم  میں  تربیت کے وسائل  میں سے مانتے ہیں۔

زمخشری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: ’’ تمثیل کی طرف معانی کی وضاحت اور متوہم چیز کو مشاہد سے قریب کر نے کے لئے رجوع کیا جاتا ہے،پس اگر جسکی مثال بیان کی جاتی ہے وہ عظیم ہوتا ہے تو جس کے ساتھ مثال بیان کی جاتی ہے وہ بھی اسی کے مانند ہوگا، اوراگروہ حقیر وکمتر ہوگا تو جس سے مثال بیان کی جاتی ہے وہ بھی اسی طرح ہوگا۔ لہٍذا جس کے ساتھ مثال بیان کی جارہی ہے اس میں عظمت وحقارت نہیں  ہوتی ہے مگر اس حکم سے جسکا ممثل لہ کی حالت متقاضی ہے۔کیاآپ نہیں دیکھتے کہ جب حق واضح وروشن تھا تو اسکی ضیاء ونور سے مثال دی گئی، اور باطل جو حق کے مخالف تھا اسکی ظلمت سے مثال دی گئی، اسی طرح مکڑی کے گھر کو ضعف وکمزوری میں مثال بنا دیا گیا ہے ‘‘۔(6)

اور امام راغب اصبہانی  فرماتے ہیں کہ: ’’عرب کا مثالیں بیان کرنا اور علماء کا نظائر  کوپیش کرنا ایسا معاملہ ہے جو حقائق سے پردہ اٹھانے اور پوشیدہ حقائق کو ظاہر کرنے میں مخفی نہیں ہے،اوریہ مثالیں خیال کو حقیقت کی شکل میں، وہمی چیزوں کو یقینی کی صورت میں ، اور غائب کو حاضر کے طورپر دکھاتی ہیں۔ اور ضرب المثل میں شدید ترین دشمن کورسوا وذلیل کرنا ہوتا ہے، اورسرکش وخود سر شخص کی حدّت وتیزی کو مٹانا ہوتا ہے، کیونکہ مثال دلوں میں وہ تاثیر پیدا کرتا ہے جو بذاتہ کسی چیزکی وصف بیان کرنے میں نہیں اثر ڈالتا ہے،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بکثرت امثال ذکر کئے ہیں اسی طرح تمام کتب میں بھی،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام ،انبیائے کرام کے کلام اور حکماءکے کلام میں مثالوں کا ذکر عام ہے‘‘۔ (7)

اور علامہ قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: ’’مثال توضیح واثبات میں زیادتی کے لئے بیان کی جاتی ہے، کیونکہ مثال دل میں زیادہ اثر اندازہوتی ہے، اور شدید دشمن کو زیادہ مغلوب وتابع کرنے والی ہوتی ہے،اور خیال کو حقیقت  ،اور معقول کو محسوس کے طور پر پیش کرتی ہے، اسی لئے اللہ نے اپنی کتاب میں کثرت سے مثالیں بیان کی ہیں،اور یہ نبیوں وحکیموں کے باتوں میں منشر وعام ہیں‘‘۔(8)

خلاصہ یہ کہ: ضرب الامثال کے بہت سارے فائدے ہیں ، اور اُن میں سے چنددرج ذیل ہیں:

نصیحت ووعظ،ترغیب وترہیب، اعتبار وتقریر، اور معنی کو عقل سے قریب کرنا،اور معقول کو محسوس کی صورت میں پیش کرنا وغیرہ ، کیونکہ مثالیں معانی کو اشخاص کی شکل دیتی ہیں، اسلئے ان میں ذہن کا حواس سے استعانہ کرنے سے ذہن میں زیادہ ثابت رہتی ہیں،اسی وجہ سے مثال پیش کرنے کا مقصد پوشیدہ کو ظاہراور غائب کو حاضر سے تشبیہ دینا ہوتا ہے۔(9)

 

حواشی:

(1) صحیح بخاری ، كتاب العلم، باب: فضل من علم وعلّم، برقم:(79)، وصحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب: بيان مثل ما بعث به النبي صلى الله عليه وسلم، برقم: (2282).

 (2) سنن البيهقي الكبرى، 3/ 273، برقم: (5897)، اسے علامہ البانی نے ضعیف کہا ہے ، دیکھیں: ضعيف الجامع، برقم: (3177).

 (3) مسند الإمام أحمد، 1/ 215، برقم: (1842). والحديث صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين.

(4) صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب: لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين، برقم: (6133)، وصحيح مسلم، كتاب الأدب، باب: لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين، برقم: (2998).

(5) صحيح البخاري، كتاب الرقاق، باب: يدخل الجنة سبعون ألفًا بغير حساب، برقم: (6542)، وصحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب: الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة، برقم: (216).

 (6) دیکھیں: البرهان في علوم القرآن، 1/ 488.

(7) دیکھیں: الإتقان في علوم القرآن للسيوطي، 2/ 344.

 (8) دیکھیں: تفسير البيضاوي، 1/ 186.

(9) دیکھیں: الإتقان في علوم القرآن للسيوطي، 2/ 344.

 

                     

أضف تعليق

كود امني
تحديث