حلقہ (۲)

امثال کی کتابیں

علماء میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے سنت میں امثال کے سلسلے میں مستقل کتابیں   تصنیف  فرمائیں ہیں ،اور اِنھیں میں سے ابوالحسن رامہرمزی رحمۃ اللہ علیہ ہیں  جنہوں نے اپنی کتاب کا نام رکھا: " أمثال الحديث المروية عن النبي صلى الله عليه وسلم"،اور ابو محمد عبد اللہ بن محمدبن جعفر بن حیّان ہیں ، جنہوں نے  اپنی کتاب کا نام رکھا: " كتاب الأمثال في الحديث النبوي"،

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے امثال کیلئے  اپنی تالیف میں خاص باب یا کتاب قائم کیاہے، جیسے امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے اپنی جامع میں ایک باب  (عنوان)قائم کیا ہے جسکا نام ہے: " أبواب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم".

قاضی ابوبکر ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’میں نے ابو عیسی ٰ ترمذی کے علاوہ اہل حدیث میں سے کسی کو اپنی تصنیفات میں امثال کے لئے مستقل باب قائم کرتے  نہ دیکھا،اور اللہ ہی کے لئے تما م  خوبی ہے،  یقیناً انہوں نے ایک دروازہ کھولا، اور ایک محل یا گھر بنایا،لیکن اسکیمختصر حد بندی کی، پس ہم اس سے  مطمئن وراضی ہیں ،اور اس پر ان کا شکر ادا کرتے ہیں‘‘۔

امثال کے دراسہ کا منہج وطریقہ کار:

سنت نبوی میں امثال کی اہمیت کے پیش نظر   ہم نے  کتب ِسنّت سے چند بہترین مثالیں درج ذیل منہج کے مطابق انتخاب فرمایا ہے:

1۔ صحیح  سند  سے  ثابت  مثالوں  کے ذکر پر اکتفا کرنا، کیونکہ اسی میں کفایت وبے نیازی ہے۔

2۔ احادیث کا سنت کی معتمد کتابوں سے تخریج کرنا۔

3۔حدیث میں وارد مشکل وغریب الفاظ کی شرح کرنا، اور  بحسب  ضرورت   حدیث کی اجمالی تشریح وتوضیح  کرنا۔

4۔مثال سے مستنبط اہم فوائد کا تذکرہ کرنا۔

5۔شروح السنۃ، غریب الحدیث،کتب لغات، جیسے اہم مصادر کی طرف رجوع کرنا اور اسکی طرف حاشیہ میں اشار ہ کرنا۔

 

اسی پراکتفا کرتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اسے نفع بخش بنائے، بے شک وہ بہت ہی کرم نواز اور سخاوت والا ہے، اور ہر قسم کی تعریف اللہ تعالی ہی کےلئے ہے۔

أضف تعليق

كود امني
تحديث